زگانوو: بلاگرز کی نامی ’محب وطن‘ چینی فوج جو مغرب پر حملے کرتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی دوستانہ مسکراہٹ کی وجہ سے چینی بلاگر گائنموچن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر ایک نرم مزاج کی شخصیت معلوم ہوتی ہیں۔

ان کے ٹوئٹر جیسے اس چینی پلیٹ فارم پر 64 لاکھ فالوورز ہیں اور وہ اس پر حالاتِ حاضرہ کے بارے میں اپنی رائے اور ویڈیوز پوسٹ کرتی ہیں۔

ان کے پیج پر جنگل میں کھڑی ایک خوبصورت لڑکی کی تصویر جیسی پوسٹس کی وجہ سے ان کے اس پیارے سے برانڈ کے پیچھے ان کا شدید تنقید والا لہجہ چھپ جاتا ہے۔

ان کی ایک حالیہ پوسٹ میں کہا گیا کہ یورپی یونین امریکہ کے ’پٹے پر ایک بڑا کتا‘ ہے۔ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ امریکی ریاست ٹیکساس میں کووڈ کی بڑھتی ہوئی اوسط وہاں پر ’خانہ جنگی‘ کا ثبوت ہے جہاں ’لوگ ایک دوسرے کے خلاف بائیولوجیکل ہتھیار استعمال کر رہے ہیں‘۔

گائنموچن بلاگرز کی اس نئی کھیپ میں سے ہیں جنھیں ‘زگانوو‘ کہا جاتا ہے جن کی چینی سوشل میڈیا میں مقبولیت کا براہِ راست تعلق چین میں قوم پرستی سے ہے۔

ان کا یہ نام ‘ومائو‘ کی جانب اشارہ ہے جو کہ چینی فوج کے ٹرول ہیں اور انھیں ریاستی پروپیگینڈا پھیلانے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ ’زگانوو‘ یہ سب مفت میں کرتے ہیں۔

ان کے تلخ پوسٹس اور ویڈیوز، جو ہزاروں لوگ شیئر کرتے ہیں، اکثر مغربی ممالک اور مغربی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ ان میں حقوقِ نسواں، انسانی حقوق، جمہوریت جیسے موضوعات کو مغربی اثرات کہا جاتا ہے اور جنھیں چینی معاشرے کو ‘کرپٹ‘ کرنے کی کوششیں قرار دیا جاتا ہے۔

ان کے نشانے پر اکثر وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو تائیوان اور ہانگ کانگ کی ’علیحدگی‘ کی بات کرتے ہیں جن میں جمہوریت کے حامی کارکن اور ماہرین بھی ہوتے ہیں۔

ان کے نشانے پر مصنفہ فانگ فانگ جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنھوں نے وہان میں کورونا کی وبا کے آغاز کے حالات بتائے اور انھیں بین الاقوامی شہرت ملی۔ گذشتہ سال ایک زگانوو بلاگر سانگڈزہنگ نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے ‘ہماری پیٹھ پر گہرے زخم دیے ہیں‘ اور ’ہمیں بدنام کرنے کے لیے چین مخالف فورسز کی سب سے بڑی ہتھیار ہیں‘۔

حال ہی میں ایک معروف طبعی ماہر ژانگ ونہونگ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب انھوں نے یہ مشورہ دیا کہ چین کو کووڈ کے ساتھ رہنے کی تیاری کرنی چاہیے، یہ ایک ایسا موقف ہے جو سرکاری پالیسی کے خلاف ہے۔

بہت سارے بلاگرز نے ان کی پرانی ڈسرٹیشن نکالی اور ان پر نقل کرنے کا الزام لگا دیا۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی نے بعد میں انھیں اس الزام سے بری کر دیا تھا۔ ان کی جانب سے یہ مشورہ کہ بچوں کو ناشتے میں دودھ پینا چاہیے، اس کو ناقدین کی جانب سے روایتی چینی ناشتے اور اقدار کو رد کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔ پنمنگ وان شاؤشی نامی شخص نے لکھا ‘کیا یہ مغرب کی عبادت کرنے اور غیر ملکیوں پر نچھاور ہونے کے مترادف نہیں؟‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی پوسٹس جو دن میں درجنوں کے حساب سے کی جاتی ہیں، انتہائی جذباتی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ وائرل ہو جاتی ہیں۔

چینی سوشل میڈیا تجزیہ کار مانیا کوئتسے کہتی ہیں ’یہ فاسٹ فوڈ قوم پرستی ہے۔ لوگ اس کی بائٹ کھاتے ہیں، شیئر کرتے ہیں، اور بھول جاتے ہیں۔‘

تباہ کن مِکس

بہت سے لوگ چین میں محب وطنی کے بڑھتے رجحان کو چین اور مغرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ صرف آدھی بات ہے۔

اگرچہ قوم پرستی دنیا بھر میں بڑھ رہی ہے، چین میں یہ صدر شی کے چینی شناخت کو پروموٹ کرنے اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کے ساتھ بڑھی ہے۔

زگانوو میں سے بہت سے لوگ نوجوان ہوتے ہیں اور مانیا کوئتسے کہتی ہیں کہ ‘وہ ایسی تعلیم حاصل کر کے بڑے ہوئے ہیں جو کہ چینی حب الوطنی اور چینی وقار سے بھری ہوئی ہے۔ انھیں ایسی تاریخ پڑھائی گئی ہے جس میں قومی وقار کو نقصان پہنچانے کی کہانیاں موجود تھیں۔ یہ ایک تباہ کن مرکب ہے جس میں بیرونی مخالفت اور چین کے حامی جذبات کے ساتھ چینی شناخت اور ثقافت پر زور دیا گیا ہے۔‘

یہ بڑھاتا ہوا رجحان ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہا ہے جب چین میں آن لائن اظہارِ رائے پر سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور سماجی کارکنان اور عام شہریوں کو سخت سنسرشپ کا سامنا ہے۔ ویبو اور وی چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر سے اکثر پوسٹس کو ہٹا دیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس وہ آوازیں جو چینی حکومتی لائن کے مطابق ہوں انھیں آزادی دی جاتی ہے اور کبھی کبھی تو ریاستی میڈیا کے ذریعے انھیں مزید پھیلایا جاتا ہے۔

ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ زگانوو کا ریاست کے ساتھ کوئی براہِ راست تعلق ہے یا نہیں، مگر ان میں سے کچھ کو صوبائی حکومتوں کی جانب سے تقریبات میں شرکت کی دعوتیں اور اعزازی القابات دیے گئے ہیں۔

گائنموچن کا اصلی نام شو چانگ ہے اور وہ منظرِ عام پر 2014 میں اس وقت آئیں جب انھوں نے ایک مضمون ‘آپ ایک چینی شخص ہیں‘ لکھا جو کہ میڈیا میں کافی مقبول ہوا۔ اس کے بعد سے وہ ہنتائی شہر کی حکومت کے ایک بلاگرز کی تقریب میں شرکت کر چکی ہیں، ریاستی خبر رساں ادارے یوتھ ڈاٹ سی این پر لیکچر دے چکی ہیں اور گوانگڈونگ صوبے کی انٹرنیٹ سفیر بن چکی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کی جانب سے بات کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

باہمی مفاد کا رشتہ

زگانوو ایک پیچیدہ نظام کا صرف ایک جز ہیں۔

چینی سوشل میڈیا پر حب الوطنی کا بیانیہ ریاستی میڈیا سے آتا ہے جو کہ مباحثے کو ہیش ٹیگ کے ذریعے اپنا رنگ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جیسا کہ انھوں نے سنکیانگ میں کپاس کے تنازع کے دوران کیا۔

لیکن ایسے بہت سے انفلوئنسرز کے گروپ ہیں جن میں ڈیجیٹل فنکار، چھوٹی میڈیا کمپنیاں، یونیورسٹی پروفیسر اور یہاں تک کہ غیر ملکی ولوگرز بھی ہیں۔

تھنک ٹینک ڈبل تھنل لیب کے تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ چین میں انٹرنیٹ قوانین صارفین کی اس حوالے سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ریاستی پروپیگینڈا میں شریک ہوں اور بہت سے لوگ اسی نظام کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے چینی فوجیوں پر ’دشنام طرازی‘، بلاگر کو سزا

جعلی پروفائلز سے سوشل میڈیا پر چینی پروپیگنڈا پھیلانے کا انکشاف

’21 برس کی تھی جب ہراساں کی گئی، اب 28 برس کی ہوں اور تھک چکی ہوں‘

وہ کہتے ہیں ‘آپ موقع شناس ہو سکتے ہیں۔ اگر میں بطور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کیریئر بنانا چاہتا ہوں تو اس قوم پرستی کے ماحول میں میرے پاس یہ راستہ ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ انھیں برائے راست ریاستی پیسے نہ دیے جا رہے ہوں مگر قومی میڈیا میں ان کے بارے میں بات ہونے سے ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔

اور اس کے نتیجے میں وہ اشتہاروں اور ایسے مواد جس کے لیے پیسے ملتے ہوں، سے کافی پیسے کما لیتے ہیں۔ صحافت اور مواصلات کے ایکڈمک ڈاکٹر فینگ کیچنگ کا اندازہ ہے کہ دس لاکھ فالورز والا ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہر سال کچھ لاکھ ڈالر کما سکتا ہے۔

مگر کبھی کبھی ان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں پر لکیر کھینچنی ہے۔

حالیہ مہینوں میں تو کچھ لوگوں نے یہ قیاس آرائیاں بھی کیں کہ کووڈ امریکہ سے شروع ہوا تھا۔ یا ایک اور مضمون جس میں کمیونسٹ انقلاب کو دوبارہ لانے کی بات کی گئی میڈیا میں انتہائی مقبول ہونے کے بعد آن لائن سنسر کر دیا گیا تھا۔ کوستائے کہتی ہیں کہ ‘آپ کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا نہیں، اس کے بارے میں قوانین کچھ مبہم ہیں۔ کبھی کبھی ویبو پر ایک پوسٹ بھی ان انفلوئنسرز کے غائب ہونے کے لیے کافی ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ‘وہ تب تک فائدہ مند ہیں جب تک ان کے ذاتی خیالات سرکاری پالیسی کے مطابق ہیں اور جیسے ہی وہ فائدہ مند نہیں رہتے یا خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حکومتی رائے کے لیے نقصان دہ ہیں، انھیں ہٹا دیا جاتا ہے۔‘

مگر بہت سے لوگ یہ خطرناک کھیل کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ ستمبر میں گائنموچن کو ویبو پر پوسٹ کرنے سے 15 روز کے لیے روک دیا گیا تھا اور پلیٹ فارم نے کہا تھا کہ انھوں نے کمیونٹی گائڈلائنز کی خلاف ورزی کی تھی۔

انھوں نے فوراً ایک پرانا پوسٹ شیئر کیا جس میں انھوں نے اپنے فالورز کو ایک اور صفحے کی جانب بھیجا جہاں وہ اپنی روزانہ کے پوسٹ لگاتی رہیں۔

انھوں نے لکھا کہ ‘کہیں کچھ ہونے کی صورت میں نے ایک چھوٹا سا اکاؤنٹ بنایا ہے۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21698 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments