افغان فوجیوں میں سے زیادہ تر کا وجود صرف کاغذوں میں ہی تھا: خالد پائندہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغان فوجی
Getty Images
افغانستان کے سابق وزیرِ خزانہ نے ملک میں ’فرضی فوجی‘ تخلیق کرنے اور طالبان سے رشوت لینے والے بدعنوان حکام کو سابقہ حکومت کے زوال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے پوئے خالد پائندہ کا کہنا تھا کہ حکومتی کاغذات میں موجود تین لاکھ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں میں سے زیادہ تر کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ان فرضی فوجیوں کو سرکاری فہرستوں میں شامل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مقامی جرنیل ان کے نام پر جاری کی گئی تنخواہیں خود ہڑپ سکیں۔

افغانستان میں 20 برس تعینات رہنے والی امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان نے رواں برس اگست میں تیزی سے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا تھا۔

خالد پائندہ جنھوں نے طالبان کی پیش قدمی کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا اور پھر ملک چھوڑ دیا تھا، کہا کہ وہ دستاویزات جن کے مطابق ملک میں افغان فوج کی تعداد طالبان سے کہیں زیادہ تھی، درست نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغان فوج کیوں اتنی جلدی پسپا ہوئی؟

’پاکستان کی افغان فوج کی تنظیمِ نو میں مدد کی مشروط پیشکش‘

افغانستان میں جنگ سے سب سے زیادہ پیسہ کمانے والی امریکی کمپنیاں

بی بی سی کے ایڈ بٹلر سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس طریقے سے حساب لگایا جاتا تھا وہ یہ تھا کہ آپ کسی صوبے میں (فوج یا پولیس) کے سربراہ سے پوچھتے تھے کہ وہاں سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کیا ہے تاکہ آپ تنخواہوں اور راشن کے اخراجات کا تعین کر سکیں اور وہ ہمیشہ مبالغہ آرائی سے ہی کام لیتے تھے۔‘

افغان

AFP

افغانستان کے سابق وزیر خزانہ خالد پائندہ کا کہنا تھا کہ یہ مبالغہ آرائی اس حد تک تھی کہ تعداد کو اصل سے ممکنہ طور پر چھ گنا زیادہ بتایا جاتا تھا اور ان میں ’بھگوڑے اور دورانِ لڑائی مارے جانے والے فوجی بھی شامل کیے گئے۔‘

ان کے مطابق کمانڈر مارے جانے والے فوجیوں کے بینک کارڈ اپنے پاس رکھ لیتے تھے تاکہ ان کی تنخواہیں نکلوا سکیں۔

افغان فوج کی تعداد پر ہمیشہ سوال اٹھائے گئے ہیں۔

امریکہ کے خصوصی انسپیکٹر جنرل برائے افغان تعمیرِ نور (سیگار) کی جانب سے 2016 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’امریکہ اور افغانستان دونوں کو ہی علم نہیں کہ افغان فوجیوں کی اصل تعداد کیا ہے، ان میں سے کتنے ڈیوٹی کے لیے دستیاب ہیں اور ان کی صلاحیت کیا ہے‘۔

اپنی حالیہ رپورٹ میں سیگار نے بدعنوانی کے تباہ کن اثرات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے افغان فورس کی قوت اور صلاحیت کے بارے میں فراہم کردہ ڈیٹا کی اصلیت پر سوال اٹھائے تھے‘۔

خالد پائندہ کا کہنا تھا کہ ’وہ فوجی جو موجود تھے انھیں بھی وقت پر تنخواہیں نہیں ملتی تھیں جبکہ اس کے برعکس حکومت کے حامی ملیشیا گروہوں کے لیڈر حکومت سے تنخواہ لینے کے ساتھ ساتھ طالبان سے بھی بغیر لڑے ہتھیار ڈالنے کے بدلے رقم لے رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا ’خیال یہی تھا کہ ہم یہ سب بدل نہیں سکتے۔ پارلیمان اسی طرح کام کرتی ہے اور حکومت بھی۔ ہر کوئی کہتا تھا کہ خرابی اوپر سے شروع ہوتی ہے یعنی کہ اس سب میں اعلیٰ ترین قیادت ملوث ہے۔‘

خالد پائندہ نے کہا کہ ان کے خیال میں سابق صدر اشرف غنی ’مالیاتی بدعنوانی‘ میں ملوث نہیں تھے تاہم وزارتِ خزانہ میں بدعنوانی کے سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ کسی حد تک ان الزامات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ایسا نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک افغانستان میں ناکامیوں کا ’حصہ تھے‘ اور یہ کہ ملک میں امریکہ اور ٹینو کی موجودگی ایک ’بڑا موقع تھا جسے گنوا دیا گیا۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21759 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments