سمیع چوہدری کا تجزیہ، پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: شاید وہ کیچ ٹرننگ پوائنٹ نہیں تھا۔۔۔

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہاب اور واٹسن
Getty Images
سنہ 2015 کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف وہاب ریاض کا وہ تاریخی سپیل کئی ذہنوں میں ابھی بھی نقش ہے جہاں وہ آسٹریلوی بلے بازوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنے ہوئے تھے اور جارح مزاج آسٹریلوی بیٹنگ معمول کے برعکس خوفزدہ تھی۔

اور پھر اچانک راحت علی نے واٹسن کا کیچ ڈراپ کر دیا۔ بعد ازاں واٹسن ہی دونوں اننگز میں فرق ثابت ہوئے۔

بڑے ایونٹ کے ہائی پریشر میچز میں ایک ایک گیند قیمتی ہوتی ہے۔ ہر شاٹ اہم ہوتا ہے۔ ہر فیلڈ موومنٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔ لیکن ایک کیچ پر پورے میچ کے نتیجے کی بنیاد رکھ دینا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔

کرکٹ کی روایتی دانش کا مقولہ ‘کیچز وِن میچز’ اپنی جگہ بجا ہے مگر اس پورے میچ کو اس مقولے کے وزن پہ پرکھا جائے تو اصولاً پاکستان کی جگہ آسٹریلیا یہاں شکست کا حق دار ہوتا جنہوں نے ایک نہیں، تین کیچز ڈراپ کئے۔

بلاشبہ پاکستان میکسویل کی وکٹ حاصل کرنے کے بعد میچ پہ اپنی گرفت مضبوط کر چکا تھا لیکن چالیس اوورز کے میچ کا واحد ٹرننگ پوائنٹ ایک ڈراپ کیچ کو قرار دینا شارٹ ٹرم میموری ہو گی۔

حسن علی

Getty Images

نائٹ میچز میں فیلڈنگ کے دوران استعداد کے علاوہ بھی کئی عوامل زیرِ عمل ہوتے ہیں۔ فیلڈر کی پوزیشن، گیند کا لوپ اور گیند کی رفتار سے بھی زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ فلڈ لائٹ فیلڈر کے پوائنٹ آف ویو کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ دبئی کرکٹ سٹیڈیم کی فلڈ لائٹس ویسے بھی اچھے اچھے فیلڈرز کے لئے چیلنج رہی ہیں۔

حسن علی کا یہ ٹورنامنٹ اچھا نہیں رہا مگر ہم سب جانتے ہیں کہ وہ پاکستان کے سٹار پرفارمر ہیں۔ انجریز سے لڑ کر جیسے وہ واپس آئے اور جس برق رفتاری سے نتائج دئیے، وہ بے نظیر ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ وہ برے فیلڈر ہرگز نہیں ہیں۔

سو، میچ کی اختتامی تقریب میں بابر اعظم کا یہ کہنا خاصا عجیب تھا کہ ‘شاید وہ کیچ ٹرننگ پوائنٹ تھا۔’ تھیوری میں یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اگر میتھیو ویڈ کی جگہ کوئی نیا بلے باز کریز پہ آ جاتا تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔

لیکن ان پچز پہ جیسی کرکٹ ہم نے ورلڈ کپ کے دوران دیکھی ہے، یہ امید کسی خوش خیالی سے کم نہیں کہ چار وکٹیں ہاتھ میں ہوں، بارہ کا مطلوبہ رن ریٹ ہو اور کوئی ٹیم میچ ہار جائے۔

بلاشبہ یہ ممکن ہے کہ اگر وہ کیچ ڈراپ نہ ہوتا تو صورت حال مختلف ہوتی۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ ممکن یہ ہے کہ اگر عماد وسیم، وارنر کے خلاف اپنے ریکارڈ کی روشنی میں، وہ چوتھا اوور نہ پھینکتے تو وارنر کے ہاتھ بھی یوں نہ کھلتے اور حالات یقیناً مختلف ہوتے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جب عماد اپنے سپیل کا تیسرا اوور اچھا پھینک چکے تھے تو ان کے بعد پیس کو اٹیک میں واپس لانے کی بجائے ان کا سپیل مکمل کروا لیا جاتا اور ڈیتھ اوورز میں مطلوبہ رن ریٹ بارہ کی بجائے سولہ ہوتا۔

اور یہ تو عین ممکن ہے کہ اگر بابر اعظم آصف علی کے آؤٹ ہونے پہ شعیب ملک کی بجائے محمد حفیظ کو بھیجتے جو پیس کے خلاف زیادہ بہتر سٹرائیک ریٹ رکھتے ہیں، تو انیسواں اوور یوں خالی نہ جاتا اور پاکستان کا مجموعہ دس پندرہ رنز زیادہ ہوتا۔

شعیب

Getty Images

کرکٹ ایک دلچسپ کھیل ہے۔ بسا اوقات ایک شخص ہی باقی اکیس کھلاڑیوں کی کاوش پہ بھاری پڑ جاتا ہے۔ اور کبھی دس لوگ مل کر بھی کسی ایک کی کوتاہ ہمتی کا سُود نہیں چُکا پاتے۔ جیتنے والے کے لئے سب اچھا ہو جاتا ہے اور ہارنے والے کے لئے بے شمار اگر مگر پیدا ہو جاتے ہیں۔

پاور پلے میں پاکستان نے اپنی روایت کے برعکس خاصا جارحانہ آغاز کیا۔ لیکن بیچ کے اوورز میں رن ریٹ اس معیار کا نہیں تھا جو ایسے میچ میں ہونا چاہئے تھا۔ وکٹ بیٹنگ کے لئے شاندار تھی اور اچھے اٹیک کے خلاف پاکستان نے بیٹنگ بھی خوب کی لیکن ڈیتھ اوورز میں یہ سارا مومینٹم واپس آسٹریلیا کی جانب چلا گیا۔

مزید پڑھیے

‘کیا حسن علی نے ورلڈ کپ گرا دیا۔۔۔‘

شکست کے بعد ڈریسنگ روم میں ہمت کا پیغام: ’پتہ ہے سب کو دکھ ہے، کوئی نہ گرے۔۔۔ یہ چیز ٹوٹے نہ‘

پاکستانی کرکٹ سٹارز جنھوں نے غربت کو شوق کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا

پاکستانی کرکٹ سٹارز جنھوں نے غربت کو شوق کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا

اور یہ تو یقینی تھا کہ یہ وکٹ دوسری اننگز میں بیٹنگ کے لئے آسان تر ہو جائے گی۔ اس اندازے سے پاکستان کو اپنا مجموعہ معمول کے اچھے سکور سے کچھ بہتر بنانا چاہئے تھا۔

لیکن یہ سب اگر مگر تبھی زیرِ بحث ہیں کہ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کا سفر تمام ہو چکا ہے۔ اگر کیچ ڈراپ ہونے کے بعد شاہین شاہ آفریدی کے اوسان خطا نہ ہوتے تو شاید یہاں موضوعِ بحث یہ ہوتا کہ فنچ نے پہلے اوور میں بھرپور کنٹرول فراہم کرنے والے سٹارک کو اٹیک سے کیوں ہٹایا؟

مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے ایک نوجوان ٹیم اور نوآموز کپتان کے ساتھ زبردست کرکٹ کھیل کر ان چار بہترین میں جگہ بنائی جہاں وہ واحد ایشین ٹیم تھی۔ بابر اعظم کے لئے یہ ٹورنامنٹ خاصا سبق آموز رہے گا اور گیارہ ماہ بعد آسٹریلوی سرزمین پہ جب وہ ٹائٹل کی دوڑ میں اتریں گے تو یہ تجربہ بہت کام آئے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21829 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments