پاکستان کی آسٹریلیا سے شکست پر سوشل میڈیا پر انڈین صارفین کے تبصرے:’انڈیا کی ٹرولنگ کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن اسے مزاحیہ ہونا چاہیے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسن علی
Getty Images
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں جہاں پاکستانی شائقین کو ورلڈ کپ میں آسٹریلیا سے ایک بار پھر ناک آوٹ گیم میں شکست کے صدمے نے دھچکہ پہنچایا وہیں کہیں نہ کہیں ان کے دل میں یہ اطمینان ضرور تھا کہ اس بار کم از کم انڈیا سے ورلڈ کپ میں ہر بار ہارنے کی روایت ختم ہوئی۔

لیکن اس شکست پر دل برداشتہ انڈین شائقین کرکٹ نے گذشتہ رات دل کھول کر اپنے غم کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی آسٹریلیا ہار کے بعد میمز کی بھرمار ہوئی۔

کسی نے شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر آسٹریلوی کھلاڑی میتھیو ویڈ کے ناقابل یقین سکوپ چھکے کے بعد یاد دلایا کہ ایسی ہی ایک شاٹ کھیلنے کی کوشش میں دو ہزار سات کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں مصباح الحق نے انڈیا کے خلاف میچ ہارا، تو کسی نے پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کی شکست کا بدلہ لینے پر آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

انڈین صارف آنند رانگنتھن نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا کہ ’آج ایک عشاریہ اکتالیس ارب آسٹریلوی جشن منا رہے ہیں‘ یعنی ان کے مطابق تمام انڈین شہری بھی آسٹریلیا کی جیت کے جشن میں شریک ہو چکے تھے۔

سابق انڈین کرکٹر وسیم جعفر نے محمد حفیظ کی اس گیند کا تذکرہ کیا جو پروفیسر کے ہاتھوں سے غالباً سلپ ہوئی اور ڈیوڈ وارنر نے باآسانی چھکا مار دیا۔

شاہین شاہ آفریدی کو تو انڈین سوشل میڈیا صارفین نے خاص طور پر آڑے ہاتھوں لیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ انڈیا کے خلاف میچ میں شاہین شاہ آفریدی ہی تھے جنھوں نے انڈیا کے اوپنر بلے بازوں کو شروع میں ہی پویلین کی راہ دکھا کر جیت کی بنیاد رکھ دی تھی۔

لیکن گذشتہ رات جب معاملہ الٹا ہوا اور آسٹریلوی بلے بازوں نے شاہین شاہ آفریدی کے انیسویں اوور میں یکے بعد دیگرے چھکے مار کر میچ کا پانسا پلٹ دیا تو انڈین شائقین نے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

ایک صارف نے پاکستان ٹیم کے ڈریسنگ روم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر شاہین حسن علی کو کیک کھلا دیتے تو وہ ان کی بال پر کیچ نہ چھوڑتے۔

شاہین شاہ آفریدی کے حق میں بھی چند انڈین صارفین بولے۔ سدیپو موندال نے ٹوٹر پر میچ کے نتیجے سے پہلے ہی اعلان کر دیا کہ وہ تو اس میچ میں پاکستان کے ساتھ ہیں، اس لیے گو آفریدی۔

یہ بھی پڑھیے

کرکٹ کے جنونی مداح: شائقین کا عدم برداشت کا رویہ اور کرکٹ کی کمرشلائزیشن

حریف ٹیم کے ڈریسنگ روم میں جانے کی روایت پاکستانی ٹیم نے شروع کی

پاکستانی کرکٹ سٹارز جنھوں نے غربت کو شوق کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا

انڈین سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین کی ٹرولنگ نے کہیں بد صورت شکل بھی اختیار کی اور معاملہ دونوں جانب جذبات کی شدت کے باعث ایک ایسی لڑائی میں تبدیل ہو گیا جو اب تک جاری ہے۔

میمز کی اس جنگ میں پاکستان کی جانب سے ایک صارف نے بس یہی گلہ کیا کہ ٹرولنگ کرو لیکن اس کا معیار تو بہتر ہو۔

پاکستانی صارف نے لکھا کہ انڈیا کی ٹرولنگ کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن کم از کم اسے مزاحیہ ہونا چاہیے جس پر ایک اور صارف نے جواب دیا کہ انڈیا میں حس مذاح کی کمی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ پر ہار جیت کے سلسلے کے ساتھ ساتھ ٹرولنگ کی جنگ تو آئندہ بھی جارے رہے گی لیکن ایسا بھی نہیں کہ سوشل میڈیا پر سب انڈین صارفین ہی پاکستان ٹیم کی ہار پر خوش دکھائی دیے۔

ایسے صارفین بھی تھے جنھوں نے پاکستان کی ٹیم کا بھرپور ساتھ دیا اور نیک تمناوں کا اظہار کیا۔

وے بہو وشال نے ٹوئٹر پر پیغام دیا کہ ‘میری خواہش تھی کہ پاکستان ٹیم جیت جاتی۔ اچھے کھلاڑیوں سے بھرپور ٹیم جیت کی مستحق ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں جیت ان کی ہو گی۔‘

دوسری طرف سدانند دھومے نے لکھا کہ میں تو انڈیا کی غیر موجودگی میں پاکستان کو ہی سپورٹ کرتا ہوں کیوںکہ اس ٹورنامنٹ میں وہ اچھا کھیلے۔‘

ایسے صارفین بھی ہیں جو اب تک انڈیا کی ہار بھی نہیں بھولے۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ ہمیں ہاکستان سے کھیلنا ہی نہیں چاہیے۔ ‘دونوں طرف صرف عداوت ہے اس لیے کھیل کے ذریعے تعلقات کی بحالی کی بات کرنے والوں کو اندازہ ہی نہیں۔ دونوں طرف ناپسندیدگی ہے۔‘

واضح رہے کہ جہاں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ایک بہترین ماحول میں کھیلا گیا اور تمام ٹیموں کے درمیان سخت مقابلوں کے باوجود کھلاڑیوں نے میدان میں اور میدان سے باہر سپورٹس مین سپرٹ کی نئی مثالیں قائم کیں، وہیں سوشل میڈیا پر صارفین خصوصاً پاکستان اور انڈیا کے شائقین کے درمیان میمز کی لڑائی میں کچھ حدیں پار بھی ہوئیں ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21758 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments