برٹنی سپیئرز کو والد کے کنٹرول سے 13 سال بعد رہائی مل گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برٹنی
Reuters
امریکی پاپ سنگر برٹنی سپیئرز نے 13 برس تک اپنی زندگی کے مختلف پہلووں پر قائم رہنے والے اپنے والد کے قانونی کنٹرول کے ختم ہونے پر کہا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا اب تک کا بہترین دن ہے۔

انسٹاگرام پر اپنے 35 لاکھ فالوورز کو پیغام میں برٹنی نے کہا کہ ’میرا خیال ہے میں رو دوں گی۔‘

جمعے کو لاس اینجلس کی ایک عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں برٹنی، جن کی عمر 39 برس ہے، پر عائد کنزرویٹرشپ کو ختم کر دیا۔

اس موقع پر ان کے مداح اور حامی بھی لاس اینجلس کورٹ کے باہر کھڑے تھے جن کی نظر میں کنزرویٹرشپ دراصل استحصال ہے۔

کنزرویٹرشِپ عدالت کی طرف سے ایسے افراد کے لیے ہوتی ہے، جن کی ذہنی صحت کے حوالے سے خدشات ہوتے ہیں یا جو خود اپنے فیصلے کرنے کے قابل نہ ہوں۔

برٹنی سپیئرز کے والد جیمی سپیئرز نے سنہ 2008 میں ایک عدالتی حکم نامے کے تحت اپنی بیٹی کی زندگی کے معاملات کا کنٹرول سنبھالا تھا اور اس کنٹرول کے تحت وہ بچے پیدا کرنے کے فیصلے سے لے کر کچن کی الماری کا رنگ تبدیل کرنے کا فیصلہ تک خود نہیں کر سکتیں۔

جس وقت یہ حکم نامہ جاری کیا گیا تھا برٹنی سپیئرز اپنی ذہنی صحت کے بارے میں خدشات کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھیں۔

تاہم اس تمام عرصے میں برٹنی کو کام کی کمی نہیں رہی۔ انھوں نے تین البم ریلیز کیے، ٹی وی پر متعدد شوز میں نظر آئیں، جن میں امریکی ایکس فیکٹر کی جج کا رول بھی شامل تھا۔

https://twitter.com/britneyspears/status/1459294347506028546

اس سے پہلے برٹنی کے والد جیمی نے کہا تھا کہ ایسا کرنا ضروری تھا تاہم بعد میں وہ راضی ہو گئے اور انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بریٹنی اپنی زندگی کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرے۔

عدالت میں برٹنی کی نمائندگی کرنے والے ان کے وکلا نے اس سے قبل عدالتی دستاویزات میں بتایا تھا کہ ان کی مؤکلہ جسمانی، جذباتی، ذہنی اور معاشی طور پر دباؤ کا شکار تھیں۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں برٹنی کے وکیل میتھیو روسنگارٹ نے کیس چلنے کے تمام عرصے کے دوران اپنی مؤکلہ کی جانب سے دکھائے جانے والے حوصلے کی داد دی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ فخر محسوس کر رہے ہیں کہ برٹنی نے سرپرستی یا کنزرویٹرشپ پر بات کی اور پھر ان کی گواہی کے بعد ایک نئی قانون سازی کی گئی۔

مزید پڑھیے

کروڑ پتی پاپ سٹار برٹنی سپیئرز اپنا کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتیں، مگر کیوں؟

فری برٹنی سپیئرز مہم آخر ہے کیا؟

برٹنی سپیئرز کے ایرانی نژاد منگیتر سیم اصغری کون ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ جیسی کنزویٹرشپ برٹنی کو ملی وہ کسی اور کو نہ ملے۔

عدالت کے اس فیصلے پر برٹنی کے دوست بھی بہت خوش ہوئے۔ اداکارہ پیرس ہلٹن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’اس لمحے کا بہت عرصے سے انتظار تھا۔ تمھارے بہترین دن آنے والے ہیں۔‘

پیر کو برٹنی نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ کسی چیز کے لیے دعا نہیں کی۔

جمی سپیئر سنہ 2008 سے برٹنی کے قانونی نگران تھے

Getty Images
جمی سپیئر سنہ 2008 سے برٹنی کے قانونی نگران تھے

’میں جانتی ہوں کہ میں نے غصے میں انسٹاگرام پر کچھ باتیں کہی تھیں میں معافی چاہتی ہوں لیکن میں صرف ایک انسان ہوں اور میں یقین رکھتی ہوں کہ اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ بھی ویسا ہی محسوس کر رہے ہوتے۔‘

جون میں عدالت میں پیشی کے موقع پر بریٹنی نے جج سے درخواست کی تھی کہ وہ اس ’استحصال انگیز‘ طریقہ کار کو ختم کریں۔

عدالت میں آن لائن پیشی کے دوران برٹنی نے کہا تھا کہ ’انھیں نشہ آور ادویات کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، اپنی مرضی کے بغیر کام کرنے کو کہا جاتا ہے، انھیں شادی کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مزید بچے پیدا کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔‘

جیمی سپیئرز نے بارہا خود پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔

سپیئرز کی کنزرویٹری شپ یا نگرانی دو حصوں پر مشتمل تھی، ایک ان کی جائیداد اور مالی معاملات کے لیے اور دوسرا ان کے لیے بطور فرد۔

ان کے والد نے صحت کے مسائل کی وجہ سے سنہ 2019 میں اپنی بیٹی کے ذاتی کنزرویٹر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا لیکن گلوکارہ نے رواں برس جولائی میں اپنے والد کو اپنی جائیداد کو کنٹرول کرنے سے ہٹانے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی۔

انھوں نے بعد میں کہا تھا کہ اگر ان کی یہ حیثیت قائم رہی تو وہ دوبارہ پرفارم نہیں کریں گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21829 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments