جب پینگوئن راستہ بھٹک کر اپنے مسکن سے 3000 کلومیٹر دور نیوزی لینڈ پہنچ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک پینگوئن اپنے گھر سے تقریباً 3000 کلومیٹر کی مسافت پر نیوزی لینڈ کے ساحل پر پہنچ گیا۔ اس کا اپنا قدرتی مسکن انٹارکٹکا ہے۔

یہ آیڈلی پینگوئن ہے جسے مقامی لوگوں نے پیار میں `پنگو‘ نام دیا ہے۔

ہیری سنگھ کہتے ہیں کہ پہلے تو مجھے لگا کہ یہ روئی سے بنا بچوں کا کوئی کھلونا ہے۔

آڈیلی پینگوئن تیسری مرتبہ نیوزی لینڈ کے ساحل پر دکھائی دیا ہے۔

ہیری سنگھ اور ان کی بیوی نے پینگوئن کو اس وقت دیکھا جب وہ دن بھر کام کرنے کے بعد برڈلنگز فلیٹ کے باہر ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے۔ یہ کرائسٹ چرچ کے جنوبی حصے میں موجود آبادی ہے۔

فیس بک پر ہیری سنگھ کی جانب سے پوسٹ کی گئی پینگوئن کی تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اکیلا ہے اور بھٹک گیا ہے۔

"وہ کہتے ہیں کہ بینگوئن ایک گھنٹے تک ہل ہی نہیں ایسا لگتا تھا وہ بہت تھک چکا ہے۔

ہیری سنگھ نے اس کے بعد پیگوئن کو بچانے والے کارکنان کو کال کی کیونکہ وہ پینگوئن کے لیے بہت فکرمند تھے وہ پانی میں نہیں جا رہا تھا اس کی وجہ سے وہ ساحل پر گھومتے پھرتے دیگر گوشت خور جانوروں کا ممکنہ نشانہ بن سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس کا انجام یہ ہو کہ یہ کسی بلی یا کتے کا شکار بن کر کے اس کے معدے میں چلا جائے۔

.وہ بلآخر تھوماس سٹریکی کے پاس پہنچے جو کہ گذشتہ دس برس سے نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے میں پینگوئن کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

مسٹر سٹریکی کا کہنا ہی کہ انھیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ آیڈیلی پینگوئن کی وہ قسم ہے جو صرف جزیرہ نما انٹارکٹکا میں پائے جاتے ہیں۔ مسٹر اسٹریکی نے ایک جانوروں کے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر اسی شام پینگوئن کو ریسکیو کیا۔

پینگوئن کے بلڈ ٹیسٹ لیے گئے ہیں اور اس کا وزن کچھ کم ہے اور اسے پانی کی بھی کمی ہو گئی تھی۔

اسے اس وقت سے مائع چیزیں اور کھانا خوراک کی نالی کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔

یہ پرندہ پینسلوینیا کے محفوظ ساحل پر لے جایا جائے گا جہاں کتوں کو لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ کے ساحلوں پر آڈیلی پینگوئن کا پایا جانا ملکی تاریخ میں تیسری مرتبہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے سنہ 1962 اور 1993 میں یہ پینگوئن یہاں دکھائی دیے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آڈیلی اب نیوزی لینڈ میں بہت کم دکھائی دیتے ہیں لیکن اگر یہ وہاں مستقبل میں زیادہ دکھائی دیے تو یہ خطرے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

اوٹاگو یونیورسٹی میں حیوانیات کے شعبے سے منسلک پروفیسر فلپ سیڈون نے دی گارڈین اخبار کو بتایا کہ `میرا خیال ہے کہ اگر سالانہ بنیادوں پر پینگوئن یہاں آئیں تو ہم اصل میں کچھ کر پائیں گے، کچھ ایسا ہے جو سمندر میں بدل گیا ہے اور ہمیں اسے سجھنے کی ضرورت ہے۔ ‘

مزید تحقیقات سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ پینگؤین کہاں گئے، وہ کیا کرتے ہیں ان کی آبادی کا رحجان کیا ہے،

وہ ہمیں بتائیں گے عمومی طور پر زیر زمین آبی حیات کا ماحولیاتی نظام کیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21760 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments