ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کا بی بی سی کو انٹرویو: ’یہاں کوئی مفاد نہیں، یہاں پر صرف عشق ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ثمینہ احمد اور منظر صہبائی
BBC
’ثمینہ بالکل آزاد انسان ہیں اور میں خود بھی بالکل آزاد انسان ہوں اور جب دو ایسے انسان جنھوں نے اپنی اپنی اپنی زندگیوں میں بہت کچھ سیکھا ہو، بہت کچھ کیا ہو اور اس خوبصورت لمحے میں پہنچ چکے ہوں جہاں انھیں ہلکی پھلکی اپنی سمجھ آ گئی ہو اور انھیں کسی حد تک یہ معلوم ہو کہ وہ کون ہیں، تو اگر ایسے انسان ایک دوسرے کے ساتھی بن جائیں تو زندگی میں بہت مزا ہے۔‘

یہ الفاظ ہیں منظر صہبائی کے جو انھوں نے صحافی براق شبیر کو انٹرویو میں اپنے اور اپنی اہلیہ ثمینہ احمد کے بارے میں کہے۔

پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی ان دو معروف شخصیات نے گزشتہ برس شادی کر لی تھی اور ان کی شادی کی خبر سامنے آنے پر مداحوں کی جانب سے مبارکباد کے بہت سارے پیغامات بھیجے گئے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اپنے پیار بھرے پیغامات میں شادی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

شادی کے بعد اپنے پہلے مشترکہ انٹرویو میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے منظر صہبائی نے کہا کہ ’ہم نے تو شادی کرتے وقت صرف اپنے بارے میں سوچا، ہم نے یہ نہیں سوچا کہ دنیا کیا کہے گی۔ نہایت سادہ طریقے کے ساتھ شادی کی۔‘

انھوں نے کہا کہ کووڈ کے دنوں میں جب سب لوگ گھروں میں بند تھے اور ایک خاص طرح کی صورتحال تھی تو ہمارے شادی کرنے پر لوگوں کو حیرانی ضرور ہوئی۔

منظر صہبائی نے بتایا کہ شادی بہت سادگی سے ہوئی اور اس موقع پر انھوں نے ثمینہ احمد سے تین مرتبہ پوچھا، پہلے تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور حیرت سے دیکھنے لگیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

منظر صہبائی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’میں نے ان سے کہا کہ بھئی نکاح ہو رہا ہے اس میں پوچھنا پڑتا ہے تو پھر انھوں نے جواب دیا کہ ’ان کو عادت ہے انتظار کروانے کی۔‘

’ہم نے جو کچھ بھی کیا لوگوں کے لیے نہیں کیا۔ میں کوئی سکول ماسٹر نہیں ہوں، میرا کام لوگوں کو سکھانا نہیں، لوگ خود عقلمند ہیں سمجھدار ہیں، تو ہم نے جو فیصلہ کیا وہ اپنے لیے کیا اور اچھا کیا۔‘

’تو بھائی لوگ اگر ہماری خوشی میں شریک ہوئے اور انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا تو یہ اچھی بات ہے۔‘

ثمینہ احمد نے کہا کہ ’زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، ایڈونچر ہوتے ہیں اور یہ تو بڑے مزے کا ایڈونچر ہے جس میں ہم دونوں مل کر نئی چیزیں دریافت کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ثمینہ احمد نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہوتی ہے کہ آپ جیسے بھی ہیں ایک دوسرے کو قبول کر لیتے ہیں۔ اس موقع پر منظر صہبائی نے کہا کہ وہ رشتہ ہی کیا جو ایک دوسرے سے اختلاف کو جذب نہیں کر پاتا۔

’وہ تو پھر کوئی رشتہ نہ ہوا، وہ تو مفادات کی بات ہو گئی اور یہاں کوئی مفاد نہیں، یہاں پر صرف عشق ہے۔‘

ثمینہ احمد نے بتایا کہ ان کی اور منظر صہبائی کی پہلی ملاقات ’دھوپ کی دیوار‘ نامی ٹی وی ڈرامے کے سیٹ پر ہوئی تھی۔

شادی کے فیصلے پر دونوں کے خاندان والوں اور احباب کا ردِعمل

منظر صہبائی کا کہنا تھا کہ ان کے تو کوئی خاص جاننے والے نہیں ہیں، زیادہ تر لوگوں نے ثمینہ احمد کو ہی فون کیا۔

ثمینہ احمد نے کہا کہ ان کے جتنے دوست اور جاننے والے ہیں وہ بہت خوش تھے۔

’لوگوں نے کہا کہ آپ دونوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ بچوں نے بھی کہا کہ او کے آپ کا فیصلہ ہے، اچھی بات ہے۔‘

ثمینہ احمد اور منظر صہبائی

BBC

پاکستانی ڈراموں میں سائیڈ رولز

پاکستان کے ٹی وی ڈراموں کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ثمینہ احمد کا کہنا تھا کہ زیادہ عمر کے لوگوں کے کردار پر توجہ نہیں دی جاتی۔

انھوں نے کہا کہ جو سپورٹنگ رول ہیں ان کو زیادہ گہرائی سے نہیں دیکھا جاتا۔ جو اصل کردار ہیں کہانی ان ہی کو ذہن میں رکھ کر لکھی جاتی ہے اور ان ہی پر کام کیا جاتا ہے جبکہ باقی کرداروں کو ایک ہی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔

’مجھے تو مختلف ڈراموں کے اپنے کرداروں میں کچھ مختلف کرنا اب بہت مشکل لگتا ہے۔ ایک ہی طرح کے کردار ہیں، ایک ہی طرح کی باتیں ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے یاد بھی نہیں رہتا، عجیب سی کنفیوژن ہوتی ہے کہ یہ والا جملہ تو میں نے بولا تھا اور یہ سچویشن تو پہلے ہو چکی ہے، وہ کہتے ہیں نہیں آپا اس کے اندر تو یہ نہیں ہوا لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ سچویشن ہم نے ہینڈل کی ہوئی ہے۔‘

ثمینہ احمد نے کہا کہ پھر بھی انھیں ایکٹنگ کا بہت شوق ہے اور وہ اب بھی اسے بہت انجوائے کرتی ہیں۔

’میں گزشتہ 50 سال سے اداکاری کر رہی ہوں اور آج بھی مجھے بہت لطف آتا ہے۔ بہت اچھا لگتا ہے اور میں اپنا کام بہت خوش ہو کر کرتی ہوں۔‘

اس موقع پر منظر صہبائی نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ ثمینہ کو بس یہ اچھا نہیں لگتا کہ ہر دوپہر نوکروں کو یہ بتایا جائے کہ آج کیا پکے گا۔

ثمینہ اور منظر دونوں نے بیک وقت کہا کہ ان کے درمیان گھر داری تو کوئی ایشو نہیں۔

’ڈراموں اور فلموں میں بہت سے لوگ مجبوری میں بھی کام کر رہے ہیں‘

منظر صہبائی کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کے پاس مالی سکیورٹی ہو تو لوگ اس شعبے میں اپنی مرضی کا کام کریں۔

’ڈراموں اور فلموں میں بہت سے لوگ مجبوری کے تحت بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کی کسی دوسرے ذریعے سے آمدنی نہیں ہوتی اس لیے وہ مجبوراً اپنی مرضی کا کام نہیں کر سکتے، سلیکٹیو نہیں ہو سکتے۔

ثمینہ احمد نے کہا کہ ’دوسرے کاموں کی طرح یہ بھی ایک کام ہے، مجبوری کے تحت بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ کوئی سوشل سکیورٹی نہیں، کوئی ہیلتھ کوریج نہیں، ہمیں اپنے بڑھاپے کو بھی دیکھنا ہے۔ ہمیں تو کوئی پینشن نہیں ملے گی۔ آپ نے چار پیسے بچا کر رکھنے ہیں کہ بڑھاپے میں کام آ جائیں یا کوئی بیمار ہو جائے۔‘

ثمینہ احمد نے پرانے وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب ہم لوگ پی ٹی وی میں کام کیا کرتے تھے تب تو اپنی مرضی کے کردار کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ ناراض ہو جاتے تھے کہ آپ نے رول لینے سے منع کر دیا، یہ تو بہت بری بات ہے۔ اس زمانے میں اول تو رول ملتے ہی بڑی مشکل سے تھے اور اگر آپ نے یہ کہہ دیا کہ مجھے اپنا رول اچھا نہیں لگا تو کہا جاتا تھا یہ بہت خراب بات ہے۔‘

’آج آپ کے پاس یہ چوائس ہے کیونکہ اب بہت زیادہ کام ہے اور اگر آپ کو ایک رول اچھا نہیں لگا اور آپ نے منع کر دیا تو آپ جانتے ہیں کہ دوسرا کوئی رول مل جائے گا۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21756 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments