امریکہ کی جانب سے شام میں ’شہریوں‘ کو ہلاک کرنے والے فضائی حملے کا دفاع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Aftermath of air strike in Baghuz on 18 March 2019.
Getty Images
امریکی فوج نے 2019 میں شام میں کیے گئے ایک فضائی حملے کو 'درست' قرار دیا ہے جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔
امریکی فوج نے 2019 میں شام میں کیے گئے ایک فضائی حملے کو 'درست' قرار دیا ہے جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

امریکہ کے مطابق انھوں نے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ کا اس حملے کے بعد کہنا تھا کہ انھوں نے ہلاک ہونے والوں میں سے 16 افراد کی شناخت کی ہے جو جنگجو تھے جبکہ دیگر چار افراد شہری تھے۔

البتہ حکام 60 سے زیادہ افراد کی شناخت کے بارے میں کچھ تعین نہیں کر سکے اور ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘بہت ممکن ہے’ کہ مزید شہری اس حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ان حملوں کے کبھی بھی آزادانہ تحقیق نہیں ہوئی تھی اور اخبار کی رپورٹ نے امریکی فوج پر اس واقعے کو چھپانے کا الزام عائد کیا۔

امریکہ کی جانب سے یہ فضائی حملہ 18 مارچ 2019 کو شام کے مشرقی حصے میں واقے باغوض کے قصبے میں ہوا تھا جو دولت اسلامیہ کا آخری گڑھ تھا۔

Aftermath of air strike in Baghuz on 18 March 2019.

Getty Images

نیو یارک ٹائمز کی خبر کے مطابق امریکی طیارے نے تین بم گرائے حالانکہ ڈرون سے ملنے والی فوٹیج کے مطابق جس جگہ پر بم گرائے جا رہے تھے وہاں بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔

عسکری حکام نے ان حملوں کے فوراً بعد اٹھنے والے خدشات کو نظر انداز کیا اور بعد میں جب محکمہ دفاع کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات ہوئی تو ان میں سے فضائی حملے کے ذکر کو ‘حذف کر دیا گیا’۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس حملے کی کبھی بھی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئی ہیں۔

اس واقعے پر کام کرنے والے امریکہ اہلکار جین ٹیٹ نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف انھیں ان کی نوکری سے زبردستی نکال دیا گیا، بلکہ ان کا ساتھ میں کہنا تھا کہ ‘ایسا لگا رہا تھا کہ حکام چاہتے تھے کہ بس یہ کسی طرح دفن ہو جائے اور کسی کا اس سے لینا دینا نہ ہو۔’

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ بی بی سی کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ترجمان کیپٹین بل اربن نے کہا کہ امریکی افواج کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملے کے موقع پر کوئی شہری جائے وقوع پر موجود نہیں تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ صرف حملہ کیے جانے کے بعد امریکہ کو ایک اتحادی کی جانب سے ڈرون ویڈیو کے بارے میں پتہ چلا جس سے سے لگتا ہے کہ وہاں پر شہری موجود تھے۔

اسی فوٹیج کی مدد سے امریکہ اس بات کا تعین کر سکا کہ ان کے بم سے 16 جنگجو اور چار شہری ہلاک ہوئے لیکن وہ ‘حتمی طور پر 60 مزید ہلاکتوں کے بارے میں کچھ تعین نہیں کر سکے۔’

ترجمان کے بیان کے مطابق ‘اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد خواتین اور کم از کم ایک بچہ ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے اور اس کی وجہ سے حتمی طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کس کے پاس ہتھیار ہے اور کس کے پاس نہیں۔ ممکنہ طور پر ہلاک ہونے والوں کی اکثریت جنگجو ہی تھے، لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ شاید ان دو حملوں میں مزید شہری ہلاک ہوئے ہوں۔’

ترجمان کیپٹن بل اربن کے مطابق امریکی تحقیقات کے مطابق اس بات کا تعین کیا گیا کہ ‘یہ دونوں حملے بالکل جائز اور درست تھے، انھیں دفاع کی غرض سے کیا گیا تھا اور اس پر کسی قسم کی انضابطی کارروائی کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔’

ترجمان نے نیو یارک ٹائمز کے اس الزام پر کوئی رد عمل نہیں دیا کہ انسپکٹر جنرل کے دفتر سے کی جانے والی تحقیقات کو چھپایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ باغوض پر قبضہ دولت اسلامیہ کو شکست دینے کی جنگ میں بڑا اہم مرحلہ تھا۔

باغوض

Getty Images

دولت اسلامیہ کیا ہے؟

دولتِ اسلامیہ ایک شدت پسند اسلامی گروہ ہے ہے جو کہ 2014 میں بین الاقوامی طور پر ابھر کر سامنے آیا جب انھوں نے عراق اور شام کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا۔

دولت اسلامیہ نے اس اثنا میں 80 لاکھ لوگوں پر اپنی انتہائی سخت نظام نافذ کیا اور لاتعداد مظالم کیے، ثقافتی ورثے کو تباہ کیا اور بھتے، چوری، اغوا کاری اور تیل کی مدد سے اپنے لیے اربوں ڈالر کمائے۔

پانچ سال کی خونریزی کے بعد مقامی افواج نے بین الاقوامی طاقتوں کی مدد سے دولت اسلامیہ کے قبضے سے تمام علاقے چھڑا لیے۔

تاہم دولت اسلامیہ نے گذشتہ سال دعوی کیا کہ انھوں نے شام میں 600 اور عراق میں 1400 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21760 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments