پنڈورا پیپرز: ایک وزیر، ان کی اہلیہ اور لندن کے ایک کئی ملین پاؤنڈ کے اپارٹمنٹ کا معمہ

اسد علی اور لویز اعظامو - بی بی سی لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنڈورا باکس کو کھلے ایک مہینے سے کچھ ہی زیادہ وقت گزرا ہے، جس سے دنیا کو معلوم ہوا تھا کہ امیر اور طاقتور لوگ کیسے اپنی دولت بیرون ملک جائیدادوں اور آف شور کمپنیوں میں چھپاتے ہیں۔

اس میں کم سے کم 700 بااثر پاکستانیوں کے نام بھی شامل تھے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اپنی قریبی حلقے میں شامل افراد سمیت اس لسٹ میں شامل ہر شخص کی تفتیش کریں گے۔

لیکن چار ہفتے گزر چکے تھے اور مکمل خاموشی تھی۔ بی بی سی اردو نے وزیر اعظم کے دفتر سے تفتیش کے بارے میں اپ ڈیٹ معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے وزیر اعظم انسپیکشن ٹیم کے سربراہ، احمد یار ہراج، کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم بنائی ہے جو پنڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں کے بارے میں تفتیش کرے گی۔

اس خصوصی ٹیم میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور آئی ایس آئی کے حکام شامل ہیں۔ ٹیکس کے معاملات ایف بی آر ڈیل کرے گی اور ممکنہ طور پر منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طور پر کمائی گئی دولت کے معاملات ایف آئی اے اور نیب دیکھیں گے۔ کمیشن کے سربراہ احمد یار ہراج نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی ہر روز میٹنگ ہوتی رہی ہے اور کمیٹی نے بہت سارا کام مکمل کر لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں اور اگلے چند روز میں وہ اس کے بارے میں ایک پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔ ناٹ ان دی فائرنگ لائن

سنہ 2017 میں پاناما پیپرز وزیر اعظم عمران خان کے پیش رو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے تھے۔ پاناما پیپرز کے انکشاف کے بعد سپریم کورٹ نے انھیں متحدہ عرب امارات میں اپنے کاروباری مفادات کو ڈکلیئر نہ کرنے پر پبلک آفس کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

اس کے بعد اگلے سال عمران خان کے لیے، شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کے نعرے پر، الیکشن میں کامیابی کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ اب وزیر اعظم خود تو زد میں نہیں ہیں لیکن انھوں نے پنڈورا پیپرز پر جن تحقیقات کا حکم دیا ہے اس کی خود ان کے اپنے لیے بھاری قیمت ہو سکتی ہے۔ ان کی حکومت ایک نازک سیاسی اتحاد پر قائم ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ ق سمیت کچھ چھوٹی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ وزیر اعظم کے وزیر آبی وسائل وزیر مونس الہی اس جماعت کے اہم رکن ہیں اور یہیں پر چیزیں مشکل ہو سکتی ہیں۔ مونس الہی کا نام پنڈورا پیپرز میں کئی بار آیا ہے۔ لیکن وہ دو ٹوک انداز میں انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے کچھ غلط کیا ہے۔ بی بی سی اردو کو پنڈورا پیپرز کی فائلوں تک خصوصی رسائی ملی ہے۔ ان فائلوں میں ہم نے جو دیکھا ہے وہ بظاہر کسی حد تک وزیر آبی وسائل کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کو لیک ہونے والی 12 ملین دستاویزات ملیں جس کے بعد دنیا کی تاریخ کی ایک بڑی انویسٹیگیشن ہوئی۔ آئی سی آئی جے نے بی بی سی کو مونس الہی سے متعلق دستاویزات کو پہلی بار پبلک کرنے کی خصوصی اجازت دی ہے۔ پنڈورا لیکس کیا ہیں؟

کیا پنڈورا باکس کھلنے کے بعد بند بھی ہوتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ جب پنڈورا باکس کھلا تو انسانیت کی تمام برائیاں دنیا میں پھیل گئیں اور پھر جب ڈھکن بند کیا گیا تو امید اندر ہی رہ گئی۔

مونس الہی نے اس ٹویٹ میں کہا کہ ’میری کوئی آف شور کمپنی نہیں اور نہ ہی میرے ایسے اثاثے ہیں جو میں نے ڈکلیئر نہیں کیے۔ میں اس سے متضاد تمام دعووں کو مسترد کرتا ہوں۔‘

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کو امید تھی کہ یہ ٹویٹ ان پر لگنے والے ان الزامات کو ختم کر دے گی کہ وہ ایک ایسی ڈیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خفیہ آف شور ٹرسٹ میں رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ایک تاریخی طور پر کرپٹ بزنس ڈیل ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ وہ فنڈ پاکستانی ٹیکس حکام سے چھپانے اور اپنے خاندان کے اثاثے قانون کے تقاضوں کے برعکس ڈکلیئر نہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔ تو بظاہر شواہد ہیں کیا؟

پہلی دستاویز: آف شور میمو

اپنی ٹویٹ میں مونس الہی کہتے ہیں کہ ان کی کوئی آف شور کمپنی نہیں۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کی کبھی بھی نہیں تھی۔ پہلی دستاویز جس کا ہم نے معائنہ کیا وہ 7 جنوری سنہ 2016 کی ہے۔ یہ مونس الہی کی سنگاپور کی ایک ویلتھ مینجمنٹ فرم کے ساتھ آف شور ٹرسٹ قائم کرنے کی خواہش کے بارے میں میٹنگ کا میمو ہے۔ لیک ہونے والے میمو سے اندازہ ہوتا ہے کہ مونس الہی پاکستان میں زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والے 33 ملین ڈالر سے ’ونتھروپ‘ کے نام سے خفیہ آف شور ٹرسٹ قائم کرنا چاہتے تھے۔

پلان یہ تھا کہ ونتھروپ رحیم یار خان شوگر ملز میں 24 فیصد حصص خریدے گی جس کے بارے میں مونس الہی نے ویلتھ مینیجمنٹ کمپنی کو بتایا تھا کہ وہ اس کمپنی میں پراکسی کے ذریعے 22 فیصد حصص رکھتے ہیں۔ اس دستاویز سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مونس الہی کی مالیت 20 ملین ڈالر تھی جس میں سے صرف 6 ملین ڈالر اس وقت پاکستان میں تھے۔

بی بی سی نے مونس الہی سے جاننا چاہا کہ وہ اپنا کیش آف شور ٹرسٹ میں کیوں چھپانا چاہتے تھے، لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ انھوں نے رحیم یار خان شوگر ملز میں اپنے شیئر گمنام کیوں رکھے اور اس کا بھی ہمیں جواب نہیں ملا۔

ہم نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ وہ براہ راست رحیم یار خان شوگر ملز میں مزید شیئر خریدنے کے بجائے اپنے ونتھروپ ٹرسٹ کے ذریعے کیوں خریدنا چاہتے تھے لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔ دوسری دستاویز: ٹیکس کا سوال

دوسری دستاویز بھی ایک اور میمو ہے اور یہ ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کے ایک اہلکار اور مونس الہی کے درمیان 29 اگست سنہ 2017 کی فون کال کے بارے میں ہے۔

اس میں اہم بات یہ ہے کہ اس دوسری دستاویز میں لکھا ہے کہ مونس الہی ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے بنائے گئے دو آف شور اکاؤنٹ، ونتھروپ جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور گرین ہلز، بند کرنا چاہتے تھے۔

وہاں اس کی وجہ لکھی ہے کہ ’مونس الہی کو ان اثاثوں کے بارے میں حکومت پاکستان کو آگاہ کرنے کے سی آر ایس رپورٹنگ کے تقاضوں کے بارے میں تشویش ہے۔‘

سی آر ایس یا ’کامن رپورٹنگ سٹینڈرڈ‘ ایک معاہدہ ہے جس کا پاکستان بھی حصہ ہے۔ اس کا مقصد سرحد پار ٹیکس کی عدم ادائیگی روکنا اور بین الاقوامی طور پر ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ اس دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ قانونی مشورہ ملنے کے بعد فنڈ اپنی آف شور کمپنیوں کو منتقل کرنے کی بجائے انھوں نے برطانیہ میں، جہاں ان کی اہلیہ اور بچے رہتے ہیں، ایک ادارہ قائم کیا جس کا بظاہر ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

دونوں آف شور اکاؤنٹ، ونتھروپ اور گرین ہلز، بند کر دیے گئے تھے اور مونس الہی کو سنگاپور کی ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے سات ہزار ڈالر کا بل پیش کیا گیا جو جلد ہی ایک LO89 Ltd نامی کمپنی نے ادا کر دیا۔ اس کمپنی کا آگے چل کر مزید ذکر آئے گا۔

تیسری دستاویز: لندن اپارٹمنٹ

سو اب تک ان دستاویزات سے معلوم ہوا کہ مونس الہی نے اپنے غیر ملکی اثاثوں میں پیسے نہیں ڈالے (اور نہ ہی ان کو الیکشن کمیشن میں ڈکلیئر کیا) تو پھر ان کا کیش کدھر گیا؟ اس کے بارے میں ہم یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

لیکن اب ہم لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے ایک خوبصورت اپارٹمنٹ بلاک ’رِیور لائیٹ کی‘ کا رخ کرتے ہیں۔

یہ دستاویز دکھاتی ہے کہ LO89 Ltd نے کئی ملین پاؤنڈ مالیت کی پراپرٹی سنہ 2015 میں خریدی تھی۔

L089 آپ کو یاد ہو گا کہ وہی کمپنی ہے جس نے مونس الہی کے آف شور بل ادا کیے تھے۔

چوتھی دستاویز: لندن میں چون لاکھ پاؤنڈ کا اپارٹمنٹ مفت میں؟

23 جون سنہ 2017 دریائے ٹیمز والا گھر ایک اور کمپنی JSR 81 Ltd کو منتقل ہو گیا۔

اس میں ہماری نظر دستاویز کے اس کالم پر ٹھہرتی ہے جہاں اس کی قیمت درج ہونی چاہیے جس کے عوض یہ ٹرانسفر ہوئی۔

اور اس میں لکھا ہے کہ ’یہ منتقلی پیسے یا کسی ایسی چیز کے بدلے نہیں کی گئی جس کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے۔‘یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لینڈ رجسٹری کے ایک اور دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اپارٹمنٹ کی لیزہولڈ کی قیمت سنہ 2015 میں تقریباً 54 لاکھ پاؤنڈ ہے۔ اب اندازوں کے مطابق اس اپارٹمنٹ کی قیمت تقریباً 80 لاکھ پاؤنڈ ہے۔

پانچویں دستاویز: اہلیہ کے نام

جو چیز ان دستاویزات کو ہماری کہانی کے لیے اہم بناتی ہے وہ یہ ہے کہ JSR 81 Ltd نامی کمپنی جس نے پچاس لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے لندن کے اس اپارٹمنٹ کو بغیر کسی ادائیگی کے حاصل کیا اس کمپنی کی مالک مونس الہی کی اہلیہ تہریم الہی ہیں۔

اس دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ تہریم الہی سنہ 2018 میں اس پراپرٹی کی مالک تھیں۔ برطانیہ میں کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق وہ مارچ سنہ 2017 سے اس کمپنی کے 75 فیصد شیئر کی مالک تھیں۔ لیکن 75 فیصد شیئر تو برطانیہ کے ’پی ایس سی(اہم کنٹرول والے افراد) رجسٹر‘ کے مطابق ہے، لیکن کمپنی کے انکارپوریشن ڈاکیومنٹ کے مطابق سنہ 2017 میں کمپنی کی ابتدائی ’سبسکرائبر‘(مالک) بھی وہی تھیں۔

چھٹی دستاویز: اثاثوں اور واجبات کی تفصیل

اس دستاویز میں ملنے والی معلومات اس وقت اہم ہو جاتی ہیں جب اسے کچھ اور دستاویزات کے ساتھ ملا کر پڑھا جاتا ہے جن کا عنوان ہے ’اثاثوں اور واجبات کی تفصیل‘ جس پر جون سنہ 2018 میں دستخط ہوئے اور لکھا گیا کہ یہ 30 جون سنہ 2017 تک بالکل درست ہے۔

اثاثوں کے بارے میں 30 جون سنہ 2017 کی تفصیل میں رحیم یار خان شوگر ملز کے ان حصص کا ذکر نہیں جس کے بارے میں مونس الہی نے ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کو بتایا تھا کہ وہ ایک پراکسی کے ذریعے ان کی ملکیت ہیں اور نہ لندن کی اس پراپرٹی کا جو ان کی اہلیہ کی ایک کمپنی کی تھی۔

بی بی سی نے مونس الہی سے ان اثاثوں کو ڈکلیئر نہ کرنے کے بارے میں پوچھا لیکن انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ اگر مونس الہی ان الزامات کو واپس پنڈورا باکس میں بند کرنا چاہتے ہیں تو انھیں کچھ سوالات کے جواب دینے ہیں۔ اگر سب کو نہیں بھی تو اپنے وزیراعظم کو دینے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی کمیٹی کی تفتیش کے نتائج ابھی سامنے آنے ہیں۔

اکتوبر میں پنڈورا پیپرز کی خبر آنے کے بعد الہی خاندان کے ترجمان نے ہر طرح کے الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ’ماضی میں الہی خاندان کے خلاف سیاسی انتقام کی وجہ سے نام نہاد احتساب کے تحت گمراہ کن ڈیٹا اور تشریح بدنیتی سے فائلوں کا حصہ بنائی جاتی رہی ہیں۔‘

ترجمان نے کہا تھا کہ الہی خاندان کے تمام اثاثے قانون کے مطابق ڈکلیئر کیے گئے تھے۔

پنڈورا پیپرز لیک ہونے والی ایک کروڑ بیس لاکھ دستاویزات اور فائلوں پر مشتمل ہے جن میں عالمی رہنماؤں، سیاستدانوں اور ارب پتیوں کی خفیہ دولت اور ڈیلز کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ ڈیٹا واشنگٹن ڈی سی میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹس نے حاصل کیا تھا جس نے پھر دنیا کی تاریخ کی ایک بڑی تفتیش کو لیڈ کیا۔

اس میں ایک سو سترہ ممالک سے تعلق رکھنے والے 600 صحافیوں نے دنیا کے بہت سے طاقتور ترین لوگوں کی خفیہ دولت کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21764 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments