بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان کی فتح، سمیع چوہدری کا تجزیہ: کبھی کبھار آٹھ بولرز بھی کم پڑ جاتے ہیں

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنگلہ دیش
Getty Images
عادتیں پالنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ مگر انھیں بدلنے میں اس سے بھی زیادہ۔ اور بنگلہ دیشی بلے باز پچھلے تین سال میں جو عادتیں اپنا چکے ہیں، انھیں بدلنے کے لیے صرف ایک، قدرے ’سپورٹنگ‘ وکٹ کافی نہیں تھی۔

ایشین کنڈیشنز میں پچز عموماً سست ہی ہوتی ہیں، باؤنس کم ہوتا ہے، پیسرز کو جان مار کر بھی کوئی خاص مدد نہیں ملتی، سپنرز گھاگ بلے بازوں کو انگلیوں پہ نچاتے ہیں اور، اسی لیے، بیٹنگ ٹیم کا سکورنگ ریٹ بھی معمول سے کم رہتا ہے۔

چونکہ ہر ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز میں بادشاہی کا خواب دیکھتی ہے، سو بنگلہ دیش کا بھی حق ہے کہ وہ یہ خواب دیکھے۔ اگر آسٹریلیا ایشین ٹیموں سے سڈنی اور ایڈیلیڈ میں ٹیسٹ کھیلنے سے گریز کرتا ہے تو بنگلہ دیش کو کیا پڑی کہ وہ اسے میرپور میں پرتھ جیسا باؤنس فراہم کر دیں۔

جتنے بھی ممالک نے اپنی ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی لیگ شروع کی، اسے قومی ٹیم کے لیے ٹیلنٹ کا پول بنایا اور وہیں سے اپنی کرکٹ کی تشکیلِ نو کی۔ پاکستان اس کی عمدہ ترین مثال ہے۔ حالیہ ورلڈ کپ میں سری لنکا کی کارکردگی میں بھی پچھلے ورلڈ ایونٹ سے نمایاں بہتری کی وجہ لنکن پریمیئر لیگ کا فراہم کردہ ٹیلنٹ تھا۔

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اگرچہ اپنی عمر میں پی ایس ایل اور ایل پی ایل سے بڑی ہے لیکن یہ بنگلہ دیش کرکٹ کو ویسا ٹیلنٹ فراہم نہیں کر سکی جو دیگر مثالوں میں، ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ بنیادی وجہ یہاں بھی شاید پچز کی یکسانیت ہی ہے۔

پاکستان، بنگلہ دیش، محمود اللہ، فخر زمان

Getty Images

اکثر پچز ایسی ہیں کہ شارٹ لینتھ پہ بھی گیند ڈالا جائے تو بلے باز تک 'ہاف وولی' ہی پہنچ پاتی ہے۔ اور جب امین الاسلام جیسے سپنرز بریک کرنے پہ آئیں تو عموماً گیند پچ میں گم ہو جاتا ہے، باؤنس کے بعد دوبارہ اٹھنے کی زحمت ہی نہیں کرتا۔

گذشتہ روز پچ ایسی تھی کہ میچ کے دوسرے اوور میں ہی خاک اُڑتی نظر آئی۔ اس پچ پہ بلے باز صرف صبر ہی کر سکتے تھے۔ لیکن آج کے میچ میں استعمال ہونے والی پچ، کم از کم پہلی اننگز میں، کل کی نسبت خاصی بہتر تھی۔ باؤنس بھی تھا اور بڑے شاٹ کھیلنے کے لیے ذرا سا پیس بھی مل ہی رہا تھا۔

جس طرح سے بنگلہ دیشی بیٹنگ نے اننگز کا آغاز کیا، وکٹ کی چال کے مطابق یہاں ڈیڑھ سو کا مجموعہ مسابقتی ہو سکتا تھا۔ اور اننگز کے نصف تک، یہ ممکن بھی نظر آ رہا تھا کہ اگر نجم الحسین شانتو ایسے ہی کھیلتے رہے تو بنگلہ دیش ڈیڑھ سو کے لگ بھگ کوئی قابلِ قدر ہدف تشکیل دے پائے گا۔

لیکن اگلے دس اوورز میں یہ اننگز سر کے بل الٹی گر گئی۔

یہ بھی پڑھیے

‘محمد نواز صرف بولنگ کرنا ہی نہیں جانتے’

یہ ’قسمت‘ کا ورلڈ کپ تھا: سمیع چوہدری کا تجزیہ

جب ایک بیٹسمین کی وجہ سے کرکٹ بیٹ کے قوانین بدلنے پڑے

بنگلہ دیش، پاکستان

Getty Images

جب مقابلہ پاکستانی بولنگ سے ہو تو کوئی بھی لائن اپ، خواہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک خاص حد سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ شاہین آفریدی، حارث رؤف اور شاداب خان جیسے آزمودہ کار بولر شاذ ہی کسی کو ہاتھ کھولنے کا موقع دیتے ہیں۔

نتیجتاً جس مجموعے تک بنگلہ دیشی بیٹنگ لڑکھڑا پائی، وہ ان کے بولرز کے لیے کسی کربناک سزا کے مترادف تھا۔

ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کی یہ سوچ بنگلہ دیش کو ہر سال کوئی نہ کوئی قابلِ ذکر ہوم سیریز تو جتوا دیتی ہے مگر جونہی کوئی بڑا عالمی مقابلہ آتا ہے، تو قلعی ایسے ہی کھلتی ہے جیسے حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کھلی۔

ورلڈ کپ کے بعد بھی، خفت کا یہ سلسلہ تھم تو سکتا تھا اگر محموداللہ اپنے حصے کا بوجھ ہی اٹھا جاتے۔ یہ مسلسل ساتویں شکست ٹل سکتی تھی اگر مقابل بولر شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان جیسے نہ ہوتے۔ یہ مشکل سہل ہو سکتی تھی اگر حریف بیٹنگ میں محمد رضوان اور فخر زمان جیسے صبر آزما پروفیشنلز نہ ہوتے۔

پاکستان، بنگلہ دیش

Getty Images

پاکستان کے لیے تو یہ خوش آئند ہے کہ ورلڈ کپ میں جو فاتحانہ آغاز کیا تھا، اسی ٹیم مومینٹم کو بھرپور طریقے سے برقرار رکھا اور بلا دقت یہ دوطرفہ سیریز اپنے نام کر لی۔

لیکن بنگلہ دیش کے نقطۂ نگاہ سے، جس قدر پرجوش یہ ٹیم بولنگ کے دوران تھی، اس کا نصف جوش بھی بیٹنگ کے دوران دکھا جاتی تو میچ کی کہانی کچھ اور ہو سکتی تھی۔ دراصل، پاکستان ان کے مقابلے کے لیے ایسا تگڑا حریف تھا کہ درحقیقت یہ کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی جب ہدف ہی ایسا مضحکہ خیز ہو تو آٹھ بولر بھی کم پڑ جاتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21829 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments