قصور: پولیس کی قید میں موجود خواتین پر تشدد کی ویڈیوز سامنے آنے پر مقدمہ درج

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی پولیس نے تھانہ صدر میں دو خواتین پر تشدد کے مقدمے میں ایک نجی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جو کہ پولیس کی ملازمہ نہیں ہیں۔

یہ مقدمہ 22 نومبر کو درج کیا گیا جبکہ تھانے میں دو خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے والی خاتون کو ضمانت پر رہائی بھی مل گئی ہے۔

مقدمہ تھانہ صدر کے سب انسپکٹر محمد ادریس ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تھانے کے ایڈیشنل محرر نے ایک وڈیو دکھائی ہے جس میں ایک خاتون ایک ملزمہ پر تشدد کر رہی ہے۔ ملزمہ چوری اور ڈکیتی کے ایک مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس تھی۔

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ وڈیو ملزمہ کی نگرانی پر مامور لیڈی کانسٹیبل بنا رہی تھیں اور تفتیشی افسر اور لیڈی کانسٹیبل نے ملزمہ پر پرائیوٹ خاتون سے تشدد کروا کر جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

قصور ضلع پولیس کے سربراہ شعیب اشرف نے رابطہ کرنے پر دعویٰ کیا کہ معاملہ ابھی سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوا تھا کہ اطلاع ملنے پر تمام کارروائی عمل میں لائی جا چکی تھی، اور نہ صرف یہ کہ واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا بلکہ خاتون کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

وڈیو میں کیا ہے اور خواتین کیوں گرفتار ہیں؟

سوشل میڈیا پر دو وڈیو وائرل ہوئی ہیں۔ ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک خاتون کو فرش پر الٹا لٹایا گیا ہے۔ ایک برقع پوش خاتون جنھوں نے چہرہ نہیں ڈھانپا ہوا ہے، خاتون کی پیٹھ پر جوتے برسا رہی ہے۔ فرش پر لیٹی ہوئی خاتون اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنی پیٹھ پر ہاتھ کرتی ہیں تو وہ اس کو ہاتھ ہٹانے کو کہتی ہیں۔

برقع پوش خاتون فرش پر لیٹی ہوئی خاتون پر تابڑ توڑ جوتے برساتی رہتی ہیں اور بالوں سے بھی کھینچتی ہیں۔ یہ وڈیو کوئی دو منٹ کے لگ بھگ ہے۔

اس وڈیو میں واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے کہ برقع پوش خاتون چاہتی ہیں کہ تشدد کی تمام وڈیو واضح طور پر بنے۔

یہ بھی پڑھیے

عامر مسیح پر ’تھانے، ہسپتال دونوں میں تشدد ہوا‘

پولیس کی نیک نامی کے لیے ’دال چاول‘ تیار

’ہم عادی معاشرے کے باسی ہیں، محض تماشائی‘

ایک دوسری وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس میں فرش پر اوندھے منھ دو خواتین لیٹی ہوئی ہیں جس میں ایک خاتون وہی ہیں جنھیں پہلی وڈیو میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ برقع پوش خاتون دونوں خواتین پر جوتے سے تشدد کرتی ہیں۔ دونوں وڈیوز میں نظر آنے والا جوتا بھی ایک ہی ہے۔

اس وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون باقاعدہ طور پر وڈیو بنوانے کے لیے پوز بھی کرتی ہیں۔

دونوں گرفتار ملزم خواتین لاہور لاری اڈے کی رہائشی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے قصور میں ہونے والی ایک ڈکیتی میں معاون کا کردار ادا کیا ہے۔ دونوں خواتین ڈکیتی کا نشانہ بننے والے گھر میں بحثیت ملازمہ کام کرتی رہی تھیں اور اُنھیں لاری اڈا لاہور سے ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ضلع میں پولیس کے سربراہ شعیب اشرف کے مطابق اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ اس میں تھانے کے افسران کی نا اہلی یا غفلت شامل ہو سکتی ہے مگر پنجاب اور قصور پولیس تشدد کے کسی بھی واقعہ کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے تھانے کے ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو فی الفور معطل کیا گیا جبکہ واقعے کے بارے میں ٹھوس معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو کہ آئندہ دو روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

اُن کے مطابق جو بھی اس میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کے علاوہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21829 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments