اسلام آباد میں میٹرو سٹیشن سے ملنے والی بچی کو والد نے کیوں قتل کیا اور پولیس قاتل تک کیسے پہنچی؟

حمیرا کنول - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آٹھ نومبر کی صبح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن میں موجود زیر تعمیر واش روم سے پولیس کو ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی تھی۔ نیم کھلی بے نور آنکھوں کے ساتھ سفید لباس میں ملبوس اس بچی کی گردن اور چہرے پر نشانات تھے۔

گیارہ سے بارہ سال کی اس بچی کے والد نے کئی روز بعد پولیس اور پھر اب عدالت کے روبرو اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

لیکن یہ بچی جس کی شناخت صالحہ فاطمہ کے نام سے ہوئی کون تھی اور اسے اپنے ہی والد محمد واجد نے قتل کرنے کا اعتراف کیسے کیا اور اس بہیمانہ قتل کا معمہ حل کرنے میں پولیس کیسے کامیاب ہوئی؟

پولیس حکام نے منگل کی شام ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ اگرچہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی یا نہیں اس کی تصدیق ڈی این اے رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ملزم یعنی بچی کے والد نے بتایا کہ ’بیٹی اس پر بوجھ تھی۔‘

لیڈی کانسٹیبل عنبرین کیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹھ نومبر کو انھیں ایک فون کال موصول ہوئی اور بتایا گیا کہ ’کسی خاتون کی لاش ملی ہے آپ آ جائیں، لیکن جب میں وہاں گئی تو وہ ایک چھوٹی بچی کی لاش تھی۔‘

‘آٹھ نومبر کی صبح ساڑھے آٹھ سے نو بجے کا وقت تھا جب میں وہاں گئی، میں نے دیکھا وہ بچی تھی بالکل چھوٹی، جب میں نے جائزہ لیا تو اس کی گردن کے سامنے والی ہڈی فریکچر تھی، گردن کی ایک طرف چار اور دوسری طرف پر تین ناخن اور انگوٹھے اور چاروں انگلیوں کے نشان تھے۔ اس کے علاوہ بظاہر اسے کوئی چوٹ نہیں لگی ہوئی تھی۔ اس کے کپڑے بھی بالکل صاف تھے، جائے وقوعہ پر ابتدائی تفتیش کے بعد ہم نے اس کی لاش پمز ہسپتال بھجوا دی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہی بات سامنے آئی تھی کہ گردن کی ہڈی فریکچر ہے اور دم گھٹنے سے بچی کی موت ہوئی ہے۔

لاش کی شناخت کے لیے پولیس کی سوشل میڈیا پر اپیل

اسلام آباد میٹرو

Getty Images

اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون فور کے بس سٹیشن پر پیش آنے والے اس واقعے کی ایف آئی آر دفعہ 302 کے تحت تھانہ رمنا میں درج کی گئی جو ایک کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

اسی روز اسلام آباد پولیس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’تلاش ورثا‘ کے عنوان سے ایک اپیل پوسٹ کی جس میں شہریوں سے بچی کی شناخت میں مدد دینے کو کہا گیا۔

دو روز بعد پولیس نے بچی کی تصویر کے ساتھ یہ اضافی معلومات دیں کہ بچی کی عمر 14 برس سے کم ہے اور اس نے سفید رنگ کا لباس اور سفید جرابیں پہن رکھی ہیں۔ پولیس نے پھر اپیل کی اگر کوئی شخص مذکورہ بچی کے متعلق جانتا ہو یا کوئی معلومات رکھتا ہوں تو وہ پولیس کی جانب سے دیے گئے نمبروں پر رابطہ کرے۔

پولیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل قائم مقام ڈی ایس پی فیاض شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سات تاریخ کا واقعہ ہے جو پولیس کو اگلی صبح معلوم ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسجدوں میں بھی اعلانات کیے گئے تاکہ بچی کے لواحقین کے بارے میں معلومات مل سکیں اس کی شناخت ہو سکے مگر پولیس کو زیادہ مدد تب ملی جب سوشل میڈیا پر بچی کی تصاویر شیئر کی گئیں۔

اپنی تحقیقات کے دوران پولیس کو تب تک جائے وقوعہ سے قاتل کے فٹ پرنٹس اور سگریٹ کے ٹکڑے ضرور ملے تھے۔ لیکن یہ بچی کون تھی پولیس کو اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔

جہاں سوشل میڈیا پر پولیس کی کارکردگی، دارالحکومت کے محفوظ ہونے اور سیف سٹی پر سوال اٹھ رہے تھے وہیں بچی کی تصویر دیکھ کر بچی کے خاندان کی جانب سے پولیس سے رابطہ کیا گیا۔

فیاض شنواری نے بتایا کہ ’بچی کے ایک چچا نے اس کی شناخت کر لی اور کراچی میں اپنے بھائی کو کال کی جو پہلے فوج اور اب پولیس میں ملازمت کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ پولیس تفتیش کے مطابق بچی کے والد محمد واجد کو ان کے بھائیوں نے فون کیا اور اُن سے پوچھا کہ بچی کہاں ہے تو والد نے جواب دیا کہ بچی اُن کے پاس ہے سو رہی ہے لیکن پھر خاندان والوں نے انھیں (والد) بتایا کہ بچی کی تصویریں چل رہی ہیں فوراً پولیس کے پاس جاؤ۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 15 نومبر کو بچی کی شناخت ممکن ہو سکی۔

پولیس افسر کے مطابق بچی کے دو چچا بھی پمز پہنچے اور پھر ان کے والد بھی آئے بچی کی شناخت ہوئی اور یوں ہمیں کامیابی ملی۔

اس کیس کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ جس دن والد کے بھائیوں نے انھیں فون کیا تو یہ پولیس سٹیشن آ گئے۔ ’ہم نے خون کے نمونے لیے تاکہ پتہ چلے کہ یہ بچی کا حقیقی والد ہے بھی یا نہیں۔ پھر ہم نے اسے جانا دیا۔ مگر تفتیش کے دوران ملنے والے شواہد کو دیکھتے ہوئے انھیں پھر گرفتار کر لیا گیا۔‘

لیکن پولیس کو معلوم کیسے ہوا کہ قاتل بچی کا والد ہی ہے؟

اسلام آباد

Getty Images

پولیس افسر فیاض شنواری کے مطابق ہم نے بچی کے والد کے بھائیوں کو بلایا جنھوں نے بتایا کہ ان کے بھائی نے اُن سے فون پر جھوٹ بولا تھا کہ بچی اس کے پاس سو رہی ہے۔ پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ بچی کے والد نے اس سے پہلےایک بار اپنے بھائی سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنی بیٹی کے کردار کے حوالے سے شکایت بھی کی تھی۔

پولیس کو قاتل تک پہنچنے میں اس بائیک رائیڈر کے بیان سے بھی مدد ملی جس کے بائیک پر والد نے اپنی بیٹی کے ہمراہ سفر کیا تھا۔

ڈی ایس پی فیاض شنواری نے اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم اپنی بیٹی کو قتل کرنے کے بعد آٹھ نومبر کو جی الیون میں ایک نجی دفتر گیا اور انھیں آگاہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو اس کی والدہ کے پاس چھوڑ آیا ہے اور یہ کہ اب اس کام دیا جائے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم واجد جو برسوں پہلے کراچی میں سکیورٹی گارڈ کی نوکری کرتا تھا اب ڈرائیونگ کر رہا تھا اور اس کی اپنی اہلیہ سے برسوں پہلے ہی علیحدگی ہو چکی تھی۔

پولیس کو ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم کی اہلیہ نے کراچی میں رہائش کے دوران پولیس سے مدد حاصل کی تھی کیونکہ شک کی بنا پر ان کا شوہر انھیں کمرے میں بند کر دیتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واجد کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور یہ اپنی بیٹی کو قتل کرنے کے بعد نجی دفتر کے ذریعے فتح جنگ میں کسی کے ہاں ڈرائیونگ کی نوکری حاصل کر چکا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سال سے یہ شخص اپنی بیٹی کے ہمراہ فٹ پاتھ پر بسیرا کیے ہوئے تھا اور اتنے ہی عرصے سے بچی کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ بھی رکا ہوا تھا۔

تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ بچی پہلے اپنی دادی اور چچا کے ہمراہ بھی رہی لیکن اب وہ دو سال سے والد کے ساتھ ہی تھی۔ بچی کے والد نے اس کی والدہ کو 10 برس پہلے ہی طلاق دے دی تھی بعد میں اس شخص نے دوسری شادی کی اور اسے بھی طلاق دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ریپ کے ملزم کی موت: ’آپ سڑکوں کو قتل کے میدان میں بدل کر ریپ کو نہیں روک سکتے‘

’اب بلا اپنے ڈی پی او کو، تجھے تھانے لے جا کر یہ سب ان کے سامنے کروں گا‘

اسلام آباد: دو سالہ بچی کا ریپ، ملزم گرفتار

بچی نے اپنے بہن بھائیوں کے قتل کے ملزم کو ’تصویر سے پہچان لیا‘

فیاص شنواری نے بتایا کہ ہم نے بچی کے والد کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر (کال ڈیٹیل ریکارڈ) کے ذریعے پتہ کیا۔ نجی بائیک رائیڈر کمپنی سے ریکارڈ حاصل کیا جس سے یہ معاملہ سمجھ میں آیا۔

سگریٹ کے ٹکڑے

سگریٹ کے ٹکرے

Getty Images
فائل فوٹو

پولیس کے لیے یہ اچھنبے کی بات تھی کہ والد یا خاندان کی طرف سے بچی کی گمشدگی اور ہماری جانب سے کیے جانے والے اعلانات کے باوجود کوئی رابطہ کیوں نہیں کیا جا رہا۔

انھوں نے بتایا کہ لڑکی کے والد بے تحاشہ سگریٹ پینے کے عادی تھے۔ ’ہم نے اسے بہت سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا، اس کی باڈی لینگویج غیر معمولی تھی اور بظاہر ایسے تھا کہ وہ بہت مطمئن ہے کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں لیکن پولیس کو ان پر شک تھا۔‘

پولیس کے تفتیشی افسر کے مطابق فٹ پرنٹس کے علاوہ میٹرو سٹیشن کے جس مقام پر بچی کو قتل کیا گیا وہاں کچھ اور چیزوں کے علاوہ انھیں اسی برانڈ کے سگریٹ کے ٹکڑے بھی ملے، یہ وہی برانڈ تھا جس کے سگریٹ ملزم تفتیش کاروں کے سامنے بھی پی رہا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیں بتایا کہ اس نے بچی کے بیگ کو قریبی نالے میں پھینک دیا ہے جسے پولیس نے برآمد بھی کر لیا ہے۔

بچی کے والد نے پولیس کو منگل کے روز کہا کہ میں عدالت میں بیان دینا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنی بچی کو قتل کیا ہے۔ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات پر انھوں نے ملزم کو عدالت پیش کیا جہاں اس نے اعتراف جرم کیا جس کے بعد انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21779 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments