انڈین ماں کی اپنے بچے کی تلاش کے لیے ایک سال جاری رہنے والی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں ایک ماں کی اپنے بچے کی ایک سال طویل کھوج کا اختتام بدھ کو اس وقت ہوا جب ایک عدالت نے بچے کو والدین کی تحویل میں دینے کا حکم دیا۔ سیاسی میدان میں طوفان برپا کر دینے والے اس معاملے پر بی بی سی کے سوتک بسواس اور اشرف پدانا کی رپورٹ۔

دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک یہ جوڑا جنوبی ریاست کیرالا میں ایک اڈوپشن ایجنسی کے باہر اپنے لاپتہ بچے کی واپسی کا مطالبہ کرتا رہا۔

بارشوں اور کیمرے کی آنکھوں کے سامنے انھوں نے ریاست کے دارالحکومت تھیروواننتاپورم میں خیمہ لگا رکھا تھا۔ رات ہوتے ہی یہ جوڑا سڑک کنارے پارک شدہ سوزوکی منی وین میں قیام کر لیتا تھا۔

خاتون نے ایک پلے کارڈ اٹھایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ ’میرا بچہ واپس کرو۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ان کے خاندان نے ان کی مرضی کے بغیر ان کا بچہ گود لینے کے لیے دے دیا تھا۔ تاہم ان کے والد اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

22 سالہ ماں انوپما ایس چندرن کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی لڑائی میں ہار نہیں مانیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہمیں لوٹا دیا جائے۔‘

19 اکتوبر 2020 کو انوپما نے مقامی ہسپتال میں ایک لڑکے کو جنم دیا جس کا پیدائش کے بعد وزن دو کلو گرام تھا۔

22 سالہ ماں نے اپنے پہلے سے شادی شدہ بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک بچے کو جنم دے کر اس معاشرے کی جانب سے مخالفت کا بھی سامنا کیا۔ ان کے پارنٹر 34 سالہ اجیتھ کمار بابی ایک ہسپتال میں پبلک ریلیشنز افسر ہیں۔

بچے کے والدین کے درمیان اس تعلق اور حمل نے خاتون کی زندگی میں افراتفری مچا دی تھی۔

انڈیا

BBC

انڈیا میں شادی کے بغیر بچے کی پیدائش کو بُرا سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ انوپما کا تعلق ایک اونچی ذات سے ہے اور اجیتھ دلت ہیں۔ انڈیا میں اپنی ذات یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص سے شادی پر بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انومپا اور اجیتھ دونوں کا تعلق مڈل کلاس (متوسط آمدنی والے گھرانوں) سے ہے اور ان کے خاندان کے افراد ترقی پسند ہیں۔

دونوں خاندان کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے حمایتی ہیں۔ کیرالہ روایتی طور پارلیمانی کمیونزم کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے۔

انومپا کے والد ایک بینک کے مینیجر ہیں اور مقامی سطح پر پارٹی کے رہنما بھی ہیں۔ ان کے دادا، دادی معروف ٹریڈ یونینسٹ اور بلدیاتی کونسلر رہ چکے ہیں۔

انومپا خود فزکس میں گریجویٹ ہیں۔ اپنے کالج میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ یونین کی پہلی خاتون سربراہ تھیں۔ اجیتھ پارٹی کے یوتھ ونگ کے رہنما تھے۔

بچہ دو مرتبہ اغوا کیوں ہوا

دونوں نے ایک ہی علاقے میں پرورش پائی اور کمیونسٹ پارٹی کے لیے کام کرنے کے دوران ملے تھے۔ تین سال قبل انھوں نے ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا۔

اجیتھ کہتے ہیں کہ تب وہ اپنی اہلیہ سے الگ ہوچکے تھے۔ ان کے کوئی بچے نہیں تھے۔

انومپا کہتی ہیں کہ ’یہ پہلی نظر میں محبت یا ایسا کچھ نہیں تھا۔ ہم شروع میں دوست تھے۔ پھر ہم نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔‘

گذشتہ سال انومپا حاملہ ہوئیں اور جوڑے نے فیصلہ کیا کہ وہ بچہ رکھیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ہم بچہ رکھیں گے۔ ہم والدین بننے کے لیے تیار تھے۔‘

ان کی ڈیلیوری سے ڈیڑھ مہینہ قبل جب یہ بات انھوں نے اپنے والدین کو بتائی تو وہ صدمے میں چلے گئے۔ انھوں نے اپنی بیٹی کو منانے کی کوشش کی کہ وہ گھر واپس آجائے تاکہ حمل کے حوالے سے تیاریاں کرسکیں۔ انھوں نے کوشش کی کہ وہ اجیتھ سے تمام رابطے ختم کر دے۔

جب انومپا ہسپتال سے ڈسچارج ہوئیں تو ان کے والدین انھیں اور بچے کو لینے وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی ایک دوست کے گھر رہیں گی اور اپنی بہن کی شادی کے بعد گھر لوٹیں گی جس میں ابھی تین مہینے تھے۔ انھوں نے اس کی وجہ یہ پیش کی کہ وہ آنے والے مہمانوں کے گھر میں نومولود بچے کے بارے میں سوالات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

انومپا کا دعویٰ ہے کہ ان کے والد بچے کو اپنے ساتھ کار میں ہسپتال سے لے گئے۔ ’انھوں نے مجھے کہا کہ وہ بچے کو محفوظ جگہ لے جا رہے ہیں جہاں میں بعد میں اس سے مل سکوں گی۔ میری خوشی میرا بچہ بس میرے سامنے سے اچانک غائب ہوگیا۔‘

اگلے کچھ ماہ تک ان کے خاندان نے انھیں دو بار الگ الگ گھروں میں منتقل کیا اور اس کے بعد وہ انھیں ان کی دادی کے گھر لے گئے جو شہر سے قریب 200 کلو میٹر دور ہے۔

جب وہ رواں سال فروری میں اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے گھر لوٹیں تو انھوں نے اجیتھ کو بلایا اور بتایا کہ ان دونوں کا بیٹا لاپتہ ہے۔ انومپا نے کہا کہ ان کے والدین نے ان کا بچہ گود لینے کے لیے کسی ایڈاپشن سینٹر کے حوالے کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے

گجرات: ساڑھے تین ماہ کا بچہ جو اب تک دو مرتبہ اغوا ہو چکا ہے

نیروبی کی بلیک مارکیٹ جہاں بچوں کو 300 پاؤنڈ میں بیچا جا رہا ہے

کوڑے دان کے قریب چھوڑا گیا لاوارث بچہ جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں کروڑ پتی بنا

انھوں نے مارچ میں گھر چھوڑا اور وہ اجیتھ اور ان کے والدین کے ساتھ رہنے لگیں۔ وہ اپنے بچے کی کھوج میں نکل پڑے۔

لیکن یہ ایک مشکل کام ثابت ہوا۔

ہسپتال میں انھیں معلوم ہوا کہ بچے کے برتھ سرٹیفیکیٹ پر والد کی جگہ کسی نامعلوم شخص کا نام درج تھا، نہ کہ اجیتھ کا۔ ابتدا میں پولیس نے لاپتہ بچے کی شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا۔

پولیس نے انھیں بتایا کہ وہ انومپا کے والد کی شکایت کی تحقیقات کر رہے ہیں جس میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی والدین کے گھر سے لاپتہ ہوگئی ہے۔

اگست میں پولیس نے جوڑے کو اس وقت حیرت میں مبتلا کر دیا جب انھوں نے کہا کہ انومپا کے والد نے کہا ہے کہ انھوں نے انومپا کی مرضی سے بچے کو ایڈاشپن کے لیے دیا ہے۔

پریشان حال جوڑے نے پھر حکمران جماعت، وزیرِ اعلیٰ، ایڈاپشن کے ادارے اور ریاست میں پولیس کے سربراہ کو شکایات درج کروائیں۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے ریاست کے وزیرِ ثقافت ساجی چیریان کے خلاف بھی پولیس میں شکایت درج کروائی جس میں اُنھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک نیوز کانفرنس میں یہ کہہ کر کہ ’اُس کے والدین نے وہی کیا جو سب نے کرنا تھا‘، مبینہ طور پر وزیر نے انوپما کی کردار کشی کی ہے۔

گذشتہ ماہ انوپما اور اجیت نے ٹی وی چینلز پر بھی اپنے تجربے کے بارے میں بات کی۔ سیاست دانوں اور حکام نے بالآخر نوٹس لیا۔ اپوزیشن ارکانِ اسمبلی نے ریاستی اسمبلی میں واویلا مچایا اور کہا کہ یہ ’غیرت کے نام پر جرم‘ کی مثال ہے۔

اپوزیشن کی خاتون رکنِ اسمبلی کے کے ریما نے کہا: ’یہ غیرت کے نام پر وہ جرم ہے جو اجتماعی طور پر ریاستی مشینری نے کیا۔‘

انوپما کے والد ایس جے چندرن نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہمارے گھر میں ایسا کچھ ہو تو ہم اس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟ میں نے بچے کو وہاں چھوڑا جہاں انوپما چاہتی تھی۔ اُن کے پاس بچے کے تحفظ کے لیے وسائل نہیں تھے۔ ہم بھی ایسا نہیں کر سکتے تھے۔

’انوپما کہتی ہیں کہ بچے کا باپ ایک شادی شدہ شخص ہے۔ میں اپنی بیٹی اور اس کے بچے کو ایسے شخص کے ساتھ کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ انوپما بچے کی پیدائش کے بعد بیمار تھی چنانچہ میں نے بچے کو ایک ایڈاپشن ادارے کی تحویل میں دے دیا تاکہ اس کا خیال رکھا جا سکے۔‘

انڈیا کے باغی جوڑوں کا ٹھکانہ

جے چندرن کو حیرت تھی کہ خاندان کسی ’غیر قانونی بچے‘ کو کیسے رکھ سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اُنھوں نے کمیونسٹ پارٹی اور ایک وکیل سے رائے لینے کے بعد ہی بچے کو ادارے کی تحویل میں دیا۔ جب اینکر نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی بیٹی سے کچھ کہنا چاہیں گے تو اُنھوں نے کہا کہ ’میں اس سے کچھ سننا نہیں چاہتا۔‘

اس کے بعد پولیس نے چھ افراد بشمول انوپما کے والدین، بہن اور بہنوئی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ وہ حبسِ بے جا، اغوا اور دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

عدالت نے بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا ہے۔ ایڈاپشن ادارے نے یہ بچہ رواں سال اگست میں آندھرا پردیش میں ایک جوڑے کو دے دیا تھی۔ بچی کو اس کے نگران والدین سے واپس لے کر تریوندرم لایا گیا۔ منگل کی شام انوپما اور اجیت کو بتایا گیا کہ بچے کا ڈی این اے اُن سے میچ کر گیا ہے۔ بالآخر اُنھوں نے بچے کو ایک فلاحی ادارے کے چلڈرن ہوم میں دیکھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ وہ بچے کی ’فروخت‘ میں شامل افراد کو سزا ملنے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

توقع ہے کہ عدالت بدھ کو ڈی این اے ثبوتوں پر سماعت کر کے حکم جاری کرے گی۔

بچے کی والدہ انوپما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں اپنا بیٹا جلد واپس ملنے کی اُمید ہے۔‘

اس جوڑے کے مطابق یہ بہت مشکل سال رہا ہے۔ انوپما کو اپنے بچے کے بارے میں شدید فکر لاحق رہی ہے جو اب ایک سال سے زیادہ کا ہو چکا ہے۔

’کیا یہ انتخاب میرا حق نہیں کہ میں کس کے ساتھ رہوں اور کس سے بچہ پیدا کروں؟‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21759 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments