پاکستان ٹیلی ویژن: پی ٹی وی نے جیتی ہوئی بازی کیسے ہاری؟

طاہر سرور میر - صحافی، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ٹی وی
Getty Images
سکاٹ لینڈ کے سائنسدان جان لوگی بیئرڈ کے تخلیقی ذہن میں یہ بات سما گئی کہ اگر آواز کو ہوا کے دوش پر ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچایا جا سکتا ہے تو تصویر کو کیوں نہیں۔

ان میں ایک تجسس پیدا ہوا اور انھوں نے کچھ ضروری اشیا کے ساتھ خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ اور فیصلہ کیا کہ وہ اس گتھی کو سلجھا کر ہی دم لیں گے۔

مسلسل ذہنی کاوشوں اور تجربات کے بعد بالآخر جان لوگی بیئرڈ کامیاب ٹھہرے اور انھوں نے ٹیلی ویژن ایجاد کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

26 جنوری 1926 کو وہ ٹیلی ویژن کے موجد قرار پائے جس کے بعد دیگر سائنسدانوں نے ان کی ایجاد میں اصلاحات کیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز

پی ٹی وی کو اسلم اظہر کی سربراہی میں بہترین ٹیم میسر آئی

دنیا میں ٹیلی ویژن کی ایجاد اور پاکستان میں ٹیلی ویژن کے آغاز کے درمیان 38 برس کا واضح فرق ہے۔ ٹی وی سنہ 1926 میں ایجاد ہوا مگر پاکستان میں ٹی وی نشریات 26 جنوری 1964 میں شروع ہوئی۔

اس وقت ملک میں صدر جنرل محمد ایوب خان کی حکومت تھی اور وہ اپنے ایک دورۂ جاپان کے دوران ٹیلی ویژن کی ترقی سے بے حد متاثرہوئے تھے۔ تو انھوں نے بیسویں صدی کی اس اہم ایجاد سے پاکستان کے عوام کو روشناس کروانے کا فیصلہ کر لیا۔یوں پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور ابتدائی تجربات کے بعد پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کو ٹیلی ویژن کی نشریات کے پلیٹ فارم کے لیے چُنا گیا۔

یہ وہ دور تھا جب لاہور میں فلم بھی بن رہی تھی،ریڈیو کی نشریات بھی عوام میں مقبول تھیں اور نان پروفیشنل بنیادوں پر تھیٹر پر بھی بہترین کام کیا جا رہا تھا۔اگرچہ ٹیلی ویژن ایک مختلف تکنیک کا حامل میڈیم تھا مگر سکرین کو سجانے کے لیے یہاں اداکاروں، صداکاروں، گلوکاروں، موسیقاروں، سازندوں، ہدایتکاروں اور تکنیک کاروں کی بڑی کھیپ تیار تھی۔

آغاز میں پی ٹی وی کی لانچنگ کا مقصد صوبوں کے عوام کا باہمی رابطہ، روابط اور پہچان تھا۔ اس کے علاوہ تعلیمی مقاصد کارفرما تھے لیکن جاپان اور دیگر ممالک سے آنے والی ٹیموں نے مشورہ دیا کہ اس میڈیم کو محدود کرنے کے بجائے وسیع تر مفاد کا ذریعہ بنایا جائے اور انٹرٹینمنٹ کو بھی پاکستان ٹیلی ویژن سکرین پر اہمیت دی جائے تاکہ ملک کی ثقافت کو پروموٹ کیا جا سکے جس سے عوام کو پروگرامز کے ذریعے تفریح میسر آ سکے۔

اپریل 1964 میں اس وقت کی حکومت نے ٹیلی ویژن پلاننگ سیل قائم کیا اور اسلم اظہر کو پاکستان ٹیلی ویژن کا پہلا پروگرام ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا جو ریڈیو اور تھیٹر کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ وہ ٹی وی میڈیم سے نا آشنا تھے۔

ان کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے فضل کمال، کراچی آرٹس کونسل سے ذکا درانی اور ایرانی ٹیلی ویژن پر پروڈکشن کے کام سے واقف نثار حسین کو ان کی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا۔

1964 میں ملک کے پہلے ٹی وی سینٹر کے افتتاح کے چند ہی ماہ میں اسلم اظہر کی ٹیم سرکاری ٹی وی متعارف کروانے میں کامیاب رہی۔

اگرچہ پی ٹی وی کو بے سروسامانی، تجربے اور سہولتوں کے فقدان کا سامنا رہا مگر وقت کے ساتھ کام میں پیشہ ورانہ مہارت میں بہتری آتی رہی۔

آغاز میں پی ٹی وی لاہور سینٹر کے پاس اپنی بلڈنگ تو دور کی بات ریکارڈنگ کی سہولت بھی موجود نہ تھی۔ اس وجہ سے لائیو ٹرانسمیشنز کا رسک لیا گیا۔

ٹی وی کی سکرین پر ہر پروگرام ڈائریکٹ دکھایا جا رہا تھا اور کسی بھی غلطی کا امکان موجود تھا لیکن پرفیکشن کے جذبے کے سامنے ہر روکاوٹ راہ سے ہٹتی گئی۔

پہلی ٹرانزمیشن اورنیا ٹیلنٹ

لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ پی ٹی وی کی ابتدائی ٹرانزمیشنز کے دوران لاہور میں میلے کا سا سما ہوا کرتا تھا۔

لاہوریے ’بولتی تصویروں‘ والی اس نئی ایجاد کو خوش آمدید کہنے کے لیے بے تاب تھے۔ شہر کی الیکٹرنکس مارکیٹوں میں ٹی وی سیٹس خریدنے والوں نے یلغار کر دی، گھروں کی چھتوں پر انٹینے نصب ہو رہے تھے، لاتعداد لوگ ایسے تھے جو ٹی وی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے رشتہ داروں اور محلے داروں کے ہاں جا کراس نئی ایجاد سے مستفید ہونے کا قصد کیا۔

26 جنوری کو پہلی ٹرانزمیشن کے موقع پر سہ پہر تین بج کر تیس منٹ پر صدر پاکستان نے پی ٹی وی کی ٹرانسمیشنز کا افتتاح کیا اور اس کے ساتھ ہی پی ٹی وی کی نشریات کا آغاز ہو گیا تھا۔ تلاوت کلام پاک کرنے والے قاری علی حسین صدیقی پہلے شخص تھے جو پی ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہوئے۔ ان کے بعد ذکا درانی نے پی ٹی وی کے حوالے سے معلوماتی تقریر کی جس کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے اناؤنسر طارق عزیز سکرین پر ابھرے اور پی ٹی وی کے ناظرین کو اپنے منفرد انداز میں سلام پیش کیا۔

پہلے ہی کئی پروگرام پیش کر دیے گئے۔ محدود دورانیے کی ٹرانسمیشن میں بچوں کے پروگرام، پتلی تماشا کے علاوہ لوک موسیقی کا پروگرام پیش کیا گیا جس میں سائیں اختر اور طفیل نیازی نے فن کا مظاہرہ کیا۔ کوئیز پروگرام ’بوجھو تو جانیں‘ پیش کیا گیا جس کے میزبان اشفاق احمد تھے۔ طارق عزیز کے علاوہ طفیل نیازی، سائیں اختر اور اشفاق احمد بھی پی ٹی وی کی ابتدا سے اس کے ساتھ منسلک تھے۔

لیکن اصل کام تو اب شروع ہوا تھا کیونکہ ٹی وی کی سکرین کو مسلسل چوبیس گھنٹے زندہ رکھنا اور معیاری پروگرام سے مزین کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔

پی ٹی وی کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اسے شروع میں ہی مخلص اور ٹیلنٹڈ لوگ نصیب ہوئے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ مشکل ترین ٹاسک کو بھی اپنے ہنر اور ارادوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

پی ٹی وی پٹڑی پر چڑھ چکا تھا اور ملک کا بہترین ٹیلنٹ اس کی کامیابی کے لیے کوشاں تھا۔

کمال احمدرضوی کا الف نونجو پسندیدہ پروگرام بنا

آغاز کے چند ہفتوں کے بعد ہی کمال احمد رضوی کا طنز و مزاح سے بھرپور پروگرام ’الف نون‘ عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

اس پروگرام کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ الیکٹرانکس مارکیٹس میں ٹی وی سیٹس کی خریداری میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا۔لاہور ٹیلی ویژن نے کامیابیوں کی تاریخ رقم کر دی تھی۔

لوگ آج بھی وہ وقت یاد کرتے ہیں کہ معروف پروگرامز کی نشریات کے اوقات میں گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر سناٹے طاری ہوجاتے تھے۔

لوگ اپنے فیورٹ پروگرامز دیکھنے کے لیے سارے کام چھوڑ کر مقررہ وقت پر ٹی وی سیٹس کے سامنے جمع ہو جاتے اور شہر سائیں سائیں کرنے لگتا۔

ڈرامہ سیریئل ’وارث‘ پی ٹی وی کی ایسی ہی ایک پیش کش تھی جس کو امجد سلام امجد نے تحریر کیا تھا۔ کمال احمد رضوی کے طنزیہ مزاحیہ پروگرام الف نون کی ویور شپ کا بھی یہی عالم تھا۔

پی ٹی وی نے انتہائی مختصر عرصے میں جو کامیابی حاصل کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ 1964سے 1969 تک کے مختصر عرصے میں پی ٹی وی کے چار مزید سینٹرز معرض وجود میں آ چکے تھے۔

لاہورکے بعد ڈھاکہ، راولپنڈی-اسلام آباد، کوئٹہ اور کراچی میں ٹیلی ویژن سینٹرز قائم کئے جا چکے تھے۔ لاہور کے بعد کراچی سے بھی بہترین پروگرامز کا سلسلہ شروع ہو گیا جہاں سے کاظم پاشا، بختیار احمد، محسن علی، قاسم جلالی، شعیب منصور اور اقبال انصاری نے چھوٹی سکرین کو بھانت بھانت کے رنگوں سے سجایا۔ حسینہ معین اور فاطمہ ثریا بجیا کے خوبصورت گھریلو کھیل پی ٹی وی سکرین کا سرمایہ ہیں۔

لاہور اور کراچی کے درمیان مقابلے کی فضا تن گئی

لاہور اور کراچی کے ٹی وی سینٹرز کے درمیان معیاری اور پاپولر پروگرامز پیش کرنے کی ایک دوڑ سی لگ گئی تھی۔

ایک پروگرام لاہور کا کامیاب ہوتا تو کراچی سینٹر کے لیے یہ ضروری ہو جاتا کہ وہاں سے بھی کوئی ایسا پروگرام پیش کرے جو لاہور کے ڈرامے کا پروگرام کا توڑ ثابت ہوسکے۔ اور یہی مسابقت موسیقی کے پروگراموں میں بھی جاری رہتی۔ لاہور سے کلاسیکی موسیقی، نیم کلاسیکی موسیقی، غزل اور لوک موسیقی پر مشتمل انتہائی معیاری پروگرام بھی پیش کیے گئے جن میں سنگیت بہار، شام غزل، لوک رنگ اور جھنکار نمایاں تھے۔

یہ بھی پڑھیے

نازیہ حسن: وہ سکول یونیفارم پہنے مائیک پر کھڑی ہوئیں اور برصغیر میں موسیقی کی شکل بدل دی

’طارق عزیز سٹیج پر یوں آتے تھے جیسے شیر میدان میں نکلتا ہے‘

الف نون کے رفیع خاور ننھا، جن کی موت 35 سال بعد بھی ایک معمہ ہے

’جب تک لوگ ہنسنا چاہیں گے عمر شریف زندہ رہے گا‘

ساٹھ ستر اور اسی کی دہائیوں تک پی ٹی وی نے ہر شعبے میں عروج حاصل کر لیا تھا۔

مگر اس کے بعد طویل دورانیوں کے کھیل کا آغٖاز ہوا۔ ان ٹیلی پلیز میں محمد نثار حسین نے بہت نام کمایا۔ انھوں نے اپنے ٹیلی ڈراموں میں زندگی کی بہترین کہانیوں پر مشتمل کھیل پروڈیوس کیے۔

طویل دورانیے کے ان کھیلوں کو ٹیلی فلمز بھی کہا جا سکتا ہے۔ ناظرین تو محمد نثار حسین کے ٹیلنٹ اور فنی مہارت کے قائل ہوئے لیکن ہمسایہ ملک محمد نثار حسین کے طویل دورانیے کے کھیلوں سے بالی وڈ کو آرٹ فلم بنانے کی سوجھی۔

خطے میں رائج متوازی فلم نے انٹیلکچوئلز کے دل و ذہن پر ان حقیقت سے قریب ترین کہانیوں، ڈائریکشن اور پرفارمینسز نے گہرا اثر ڈالا اور انھوں نے محمد نثار حسین کے انہی لانگ پلیز کے سلسلے سے مرعوب ہوکر انڈیا میں آرٹ یا متوازی سینما کی بنیاد رکھی۔

نصیر الدین شاہ جب لاہور آئے تو انھوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ ’ہمارے متوازی یا آرٹ سینما کا آئیڈیا پاکستان ٹیلی ویژن کے طویل دورانیے کے کھیلوں سے لیا گیا تھا جن میں محمد نثار حسین کے کھیل نمایاں تھے۔‘ بلاشبہ انڈیا کے ایک معتبر اداکار کی جانب سے اس حقیقت کا اقرار پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔

کون جانتا تھا کہ آج جہاں فن پارے تخلیق ہو رہے ہیں کل وہاں دھول اُڑے گی

پچھلی صدی کے آخری عشرے میں نہ جانے پی ٹی وی کو کس کی نظر کھا گئی۔

پی ٹی وی لاہور سینٹر کی عمارت، راہداریاں، پروڈیوسرز کے کمرے، میک اپ رومز اور سٹوڈیوز فنکاروں سے بھرے ہوا کرتے تھے۔ ایک ایک سٹوڈیو میں دو سے تین پروگرامز کے سیٹس لگے ہوتے تھے۔ ایک کے بعد دوسرے پروگرام کی ریکارڈنگز ہورہی ہوتیں۔

لیکن یہ کیا ہوا کہ جہاں یاور حیات، راشد ڈار، اعظم خورشید، محمد نثار حسین، ایوب خاور جیسے پروڈیوسر بیٹھا کرتے تھے وہاں اب نامعلوم اصحاب براجمان ہیں جن کے کریڈٹ پر کوئی بڑا پروگرام نہیں ہے۔

وقت کی ستم ظریفی ہے کہ منظر یوں بھی بدل جایا کرتے ہیں۔ راہداریوں میں کوئی بڑا آرٹسٹ دکھائی دے بھی جائے تو کسی پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے نہیں بلکہ سابقہ برسوں کے معاوضے کے چیکس کے حصول کے لیے وہاں آیا ہوتا ہے۔

فنکاروں کے معاوضوں کے سالہا سال کے چیکس رُکے ہوئے ہیں جس سے فنکار بد دل ہو کر پی ٹی وی پر کام کرنے کو گھاٹے کا سودا سمجھتے ہوئے ادھر کا رُخ ہی نہیں کرتے۔

دوسری جانب عوام نے اپنے پہلے من پسند ٹی وی چینل کو اس کی گھٹیا کارکردگی پر نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کا واضح جھکاؤ نجی چینلز کی جانب ہے۔

دوسری جانب حکومتیں پی ٹی وی کی تباہی کا ذکر کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتیں۔ پی ٹی وی ڈرامہ، موسیقی، سٹیج پروگرام اور مزاحیہ پروگرام سب ایک ساتھ زوال پا ہیں۔

پی ٹی وی جیتی ہوئی بازی جیت کر ہار گیا۔ اس نے یہ جنگ انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں جیتی تھی اور ہارا وہ اس وقت ہے جب اس کے پاس وسائل بھی ہیں اور اگر وہ چاہے تو موجودہ ٹیلنٹ سے استفادہ کرسکتا ہے لیکن اگر وہ چاہے تو۔۔۔

پی ٹی وی جیتی ہوئی بازی کیوں کر ہارا، کوئی راز داں بھی اس راز سے پردہ اٹھانے کو تیار نہیں کیونکہ یہ راز فاش کر کے وہ خطرات کو مول نہیں چاہے گا لیکن ہم قیاس آرائیاں تو کر سکتے ہیں کہ

1 – پی ٹی وی پہلے انڈین ٹی وی ڈرامے اور بعد ازاں پاکستانی نجی ڈرامے سے ہارا ہے؟

2 – سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) پر دکھایا جانے والا مواد وقت کی رفتار، ضروریات، جمالیات اور موضوعات ناظرین کو اپنے ساتھ باندھنے میں بُری طرح ناکام ہوا۔

3- ایک خیال یہ بھی ہے کہ حکومت کا پی ٹی وی کی کامیاب پیش قدمی کو روکنا پرائیویٹ چینلز کی بقا کا معاملہ ہے۔

4 – سیاسی پارٹیوں نے پی ٹی وی میں ایسے افراد کو ملازمتیں دلوائیں جس کے وہ اہل نہیں تھے۔

5 – کیا پی ٹی وی کے پرانے اور تجربہ کار پروڈیوسرز کی ریٹائرمنٹ سے معیار برقرار نہیں رہ سکا؟

6 – فنکاروں کے معاضوں کی ادائیگی کو روک دینا کیا فنکاروں کو حکومتی ٹی وی چینل سے بد دل کرنے کی سازش نہیں؟

سرکاری ٹی وی مستقبل کی طرف تیز گام زندگی سے پیچھے رہ جائے گا؟

یوں کہہ لیں کہ پی ٹی وی کی چمک کو مانند کرنے میں بہت سے عوامل کارفرمار ہیں۔ معیار کی پستی میں مندرجہ بالا حقائق کو رد نہیں کیاجاسکتا۔

لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پی ٹی وی سکرین کو زوال سے ہمکنار کرنے میں سب سے زیادہ قصور ان سیاسی اور آمری حکومتوں کا بھی ہے جنھوں نے پی ٹی وی کی نیشنل سکرین کی حفاظت کی ذمہ داری نہ نبھائی۔

حکومتوں کا فرض تھا کہ وہ پی ٹی وی کے سابقہ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرتیں اور سفارشی عناصر کو مسترد کرتی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ پی ٹی وی میں ایسے افراد کو نوکریاں دی گئیں جو نہ تعلیمی معیار پر پورا اترتے تھے بلکہ ان کا ذہنی میلان بھی پی ٹی وی پروڈکشنز سے میل نہ کھاتا تھا۔

علاوہ ازیں حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے ادارے میں ان افراد یا فنکاروں کے معاوضوں کی ادائیگی کو روک دینا بھی حکومتوں کا نالائقی اور مجرمانہ فعل تھا۔

اس خیال کو بھی تقویت حاصل رہی کہ اگر پی ٹی وی کے معیار کو برقرار رکھا جاتا تو پرائیویٹ چینلز کے پنپنے کے مواقع مفقود ہو جاتے کیونکہ نئے چینلز کا براہ راست مقابلہ پی ٹی وی جیسے حکومتی چینل سے ہوتا جس کے تجربے اور ریاضت میں کوئی شک نہ تھا اور ہر پرائیویٹ ٹی وی چینل کے پیچھے وہ افراد موجود ہوتے ہیں جن کا براہ راست تعلق حکومتوں اور فیصلہ کرنے والی قوتوں سے ہوتا ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن، فلم اور ریڈیو کے فنکار عرفان کھوسٹ کا ایک مضبوط فنی بیک گراؤنڈ ہے اور اداکاری کا فن ان کو اپنے والد سلطان کھوسٹ مرحوم سے ملا جو اپنے وقت کے نامور فنکار تھے۔

اس وقت عرفان کھوسٹ کے بیٹے سرمد کھوسٹ بھی اپنے خاندانی شعبوں سے منسلک ہیں اور ڈرامے کی ترویج کے لیے کام کر رہے ہیں۔

عرفان کھوسٹ سے پی ٹی وی کے زوال کی بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا ہے جو اس سے پہلے ہماری فلم ٹریڈ کے ساتھ ہو چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قیام پاکستان کے بعد ملکی فلم ٹریڈ کو جو ٹیلنٹ ملا وہ ہندوستان کی بڑی فلمی صنعت میں کام کرنے کا تجربہ رکھتا تھا، وہ نہ صرف اپنے کام کے دھنی تھے بلکہ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ تھے۔ ان فلم میکروں نے قیام پاکستان کے بعد کام تو بہت کیا لیکن وہ اپنے بعد ان کے فن کو پرموٹ کرنے والی سیکنڈ لائن نہ بنا سکے جو ا نکے بعد ان کے فن کو پرموٹ کرنے کے قابل بن سکتی۔‘

انہوں نے کہا کہ کمال احمد رضوی کے تخلیق کار کمال احمد رضوی ’فنکار کو کیمرے کی آنکھ کے مقابل اس وقت لاتے جب تک یک بعد دیگرے کئی ریہرسلز نہ کروا لیتے۔‘

’وہ سکرپٹ ریڈنگ سے لے کر آخری کیمرہ ریہرسل تک اداکار کو تربیت دے رہے ہوتے تھے لیکن جب یہ کام نالائقوں اور سفارشی لوگوں کے ہاتھ لگا تو تو ریڈنگ رہی نہ ریہرسلز ڈرامہ اپنے مقام سے گر گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’اسلم اظہر، نثار حسین، کنور آفتاب، محمد نثار حسین، فضل کمال اپنے اپنے کام کے ہیرو تھے۔ یہ تمام لوگ انتہائی پڑھے لکھے تھا۔ کوئی بیرون ممالک سے فلم پڑھ کر آیا تھا، کسی نے بین الاقوامی تھیٹر پر عبور حاصل کر رکھا تھا اور ان کے اندر کام کرنے کا کمال جذبہ تھا جو ان کی تعلیم اور تربیت سے مزید نکھر گیا تھا۔‘

’اب تو لوگ آرام فرماتے فرماتے ٹی وی سینٹر چلے آتے ہیں۔ ان سے کسی تخلیق کی امید رکھنی ہی نہیں چاہیے۔‘

عرفان کھوسٹ نے کہا کہ معاوضے کی بروقت ادائیگی بھی فنکار کو مزید بہتر کام کرنے میں مددگار ہوتی ہے اور پی ٹی وی کے آغاز میں ساری ٹرانسمیشن لائیو ہوتی تھی اور جو گلوکار یا اداکار اپنے فن کے مظاہرہ کرتے ان کومعاوضہ اسی وقت نقد ادا کر دیا جاتا تھا۔ ’آج کا فنکار اپنے معاوضے کے چیک کے لیے مارا مارا پھرتا ہے ایسے میں پی ٹی وی کیا خاک ترقی کرتا۔‘

انھوں نے کہا کہ تب آرٹسٹ کا ایک مقام ہوتا تھا وہ آج کے ’سفارشی ایکٹر کی طرح پروڈیوسر کے گھر کا سودا سلف لے کر نہیں آتا۔‘

’دیسی گھی چھوڑ کر بناسپتی پر اکتفا کر لیں گے تو یہی حال ہو گا‘

معروف اداکار، کمپیئر اور دانشور نور الحسن نے سوال سن کر برجستہ کہا کہ ’جب آپ دیسی گھی چھوڑ کر بناسپتی سے کمپرومائز کر لیں گے حال یہی ہو گا جو اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم کو اس بات کا احساس بہت بعد میں ہوا کہ ہم نے کیا کھو دیا ہے۔ درحقیقت یہ ایک ریاستی ادارہ ہے، حکومتی ادار نہیں۔‘

بانو قدسیہ کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آپا کہا کرتی تھیں کہ جس چیز کو ختم کرنا چاہو تو اس میں سے خامیاں تلاش کرنا شروع کر دو۔۔۔ میں نہیں سمجھتا کہ انڈیا کی ٹی وی سکرین نے ہم کو پچھاڑ دیا ہے کیونکہ وہ ہم سے آگے نکلے ہی نہیں، ہم خود پیچھے آئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا المیہ ہے کہ جو چیز ہم کو میسر آجائے ہم اس کی قدر نہیں کرتے اور یہی ہمارا ڈرا بیک ہے۔‘

نور الحسن کے مطابق ’اگر ہمارا ماضی درخشاں تھا تو ہم اپنا مستقبل بھی روشن کر سکتے ہیں لیکن کوئی ایسا کرنا چاہے تو تب ہے ناں۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21829 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments