ایران جوہری معاہدہ کیا تھا اور کیا عالمی طاقتیں اسے دوبارہ قائم کر سکتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

An Iranian technician works at the Isfahan Uranium Conversion Facilities (UCF), 420km south of Tehran,
Getty Images
ایران اور دنیا کی بڑی عالمی طاقتوں کا ایک گروپ اگلے ہفتے سوموار (29 نومبر) کو ویانا میں اہم جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کرنے والا ہے۔

حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل نے اپنی مسلح افواج کو ملک کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے 1.5 بلین ڈالر مختص کیے ہیں۔

ادھر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی خبردار کر رہی ہے کہ وہ اہم تنصیبات کے معائنے کے حوالے سے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایران نے ہمیشہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششوں سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ پرانے ​​معاہدے کی بحالی کا خیرمقدم کرے گا جس میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اس کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا گیا تھا۔

اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں اور مستقبل میں ممکنہ طور پر خطرناک جوہری مواد کی پیداوار کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو یہ مشرق وسطیٰ کو خطرناک راستے پر ڈال سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ پرانے جوہری معاہدے میں کیا تھا؟

یہ معاہدہ پی فائیو پلس ون (اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ جرمنی) اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔

ایران نے اپنی یورینیم افزودگی اور ذخیرہ اندوزی پر پابندیاں قبول کرنے، متعدد جوہری مقامات پر تنصیبات کو بند کرنے یا ان میں ترمیم کرنے اور بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو تنصیبات کے دوروں کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بدلے میں، ایران پر سے کئی بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں ہٹا دی گئیں تھیں۔

پی فائیو پلس ون کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دے گا۔ ایران کو امید ہے کہ پابندیوں کے خاتمے سے اس کی مشکلات کی شکار معیشت کو بڑے پیمانے پر فروغ ملے گا۔

طویل مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ جنوری 2016 میں طے پایا تھا۔

معاہدہ ختم کیوں ہوا؟

Donald Trump sat at a desk pointing

Reuters

اس سوال کا مختصر جواب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔

اس معاہدے پر براک اوباما کے دورِ صدارت میں دستخط کیے گئے تھے، لیکن ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پہنچنے سے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ‘بدترین ڈیل‘ ہے اور بار بار اسے ‘خوفناک‘ اور ‘مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے طنز کیا۔

ان کا خیال تھا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر کنٹرول بہت کمزور ہے، اور اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں بھی شامل ہونی چاہیے تھیں اور یہ کہ معاہدے کی شرائط زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہیں گی۔

صدر ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں۔

اس کے جواب میں، ایران نے یورینیم کی افزودگی اس مقررہ حد سے زیادہ کرنا شروع کی جس کی اسے معاہدے میں اجازت تھی اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ساتھ اپنا تعاون کم کر دیا۔

معاہدے کو بحال کون کرنا چاہتا ہے؟

Joe Biden speaking from a podium

EPA

دیکھا جائے تو ہر وہ فریق جس نے پہلے معاہدے پر دستخط کیے تھے اب اسے بحال کرنا چاہتا ہے۔

ایران کبھی نہیں چاہتا تھا کہ معاہدے کو ختم کیا جائے اور پی فائیو پلس ون میں سے صرف امریکہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران اسے ختم کرنا چاہتا تھا۔

جب صدر بائیڈن ملک کے نائب صدر تھے تو انھوں نے اس معاہدے کی حمایت کی تھی اور ان کے موجودہ ایران کے حوالے سے مشیروں میں سے زیادہ تر ایسے لوگ تھے جنھوں نے 2015 میں معاہدے کی شرائط پر مذاکرات میں مدد کی تھی۔

تو کیا حالیہ مذاکرات کامیاب ہوں گے؟

Ebrahim Raisi speaking from a podium

EPA

ان مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹیں ہیں۔ ایران اس معاہدے کے خاتمے پر امریکہ سے ناراض ہے اور اسے ’بے لگام حکومت‘ کا نام دے رہا ہے۔

ایران کی ضرورت ہے کہ امریکہ پابندیاں ہٹائے، جب کہ واشنگٹن کی توجہ اس بات پر ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی روکے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دوسرا فریق پہلے آگے بڑھے۔ ان مسائل کی وجہ سے امریکہ مذاکرات کے دوران ایران سے براہ راست ملاقات نہیں کر سکتا۔

ایرانی عوام نے جون میں ابراہیم رئیسی کو نیا صدر منتخب کیا ہے، جنھیں خارجہ پالیسی پر قدرے سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔ صدر رئیسی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ویانا میں ہونے والے مذاکرات کو وقت ضائع نہیں کرنے دیں گے۔

انھوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی علاقائی پالیسیوں پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کے امکان کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس میں متعدد ممالک میں مسلح گروپوں کی حمایت بھی شامل ہے، تاہم متعدد مغربی ممالک کی جانب سے ویانا میں طے پانے والے کسی بھی نئے معاہدے میں ان شرائط کو حصہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان عوامل کی وجہ سے بظاہر معاہدے کو دوبارہ قابلِ عمل بنانا زیادہ مشکل بنا سکتے ہیں۔

کیا ہر کوئی اس معاہدے کی واپسی سے خوش ہو گا؟

ایران کے بڑے علاقائی حریف سعودی عرب نے محتاط انداز میں پرانے معاہدے کی حمایت کی تھی۔

Israeli F15 jet fighters refuelling from a tanker aircraft

AFP

لیکن اسرائیل (جسے مشرق وسطیٰ کی واحد جوہری طاقت سمجھا جاتا تھا، حالانکہ اس نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی) اصل معاہدے پر بہت تنقید کرتا تھا۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ یہ اب بھی ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی طرف بڑھنے کی اجازت دے گا۔

اسرائیل اس سے قبل خطے کے دو دیگر ممالک کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کر چکا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21760 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments