مبشر حسین رحمانی: دنیا کے ایک فیصد بہترین محققوں میں شامل پاکستانی کمپیوٹر سائنسدان کون ہیں؟

عارف شمیم - بی بی سی اردو سروس، لندن


حال ہی میں ایک خبر آئی کہ دنیا کے بہترین محققوں کی فہرست میں پاکستان کے ایک کمپیوٹر سائنسدان مبشر حسین رحمانی کا نام بھی شامل ہے۔ بس اس خبر کا آنا تھا کہ ہر طرف مبشر رحمانی کا نام گونجنے لگا اور کبھی پاکستان کی وزارتِ سائنس اور کبھی پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے مبشر رحمانی کو مبارک بادیں ملنا شروع ہو گیئں۔

آئرلینڈ میں رہائش پذیر مبشر رحمانی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ میں فیس بک پر نہیں ہوں اس لیے مجھے تو پتہ بھی نہیں چلا کہ لوگ فیس بک پر مجھے مبارک باد دے رہے ہیں۔ ’کچھ دوستوں نے بتایا کہ تمہارا وہاں بہت ذکر ہو رہا ہے۔ مبارکباد دینے والوں میں تو سابق کرکٹر شاہد آفریدی بھی شامل تھے۔ ہاں میں تھوڑا بہت ٹوئٹر ضرور استعمال کرتا ہوں اور جن لوگوں نے مجھے مبارکباد دی میں نے ان کا وہاں شکریہ بھی ادا کیا ہے۔‘

اب سوال یہ ہے کہ انھیں کس چیز کی مبارکباد مل رہی ہے۔ انھوں نے کیا کیا ہے؟

یہ فہرست کیا ہے؟

رحمانی کہتے ہیں کہ یہ ان محققین کی ایک لسٹ ہوتی جن کا کام بہت زیادہ جگہ پہ چھپا اور سراہا گیا ہوتا ہے۔ اصل میں لسٹ چھپنے کے بعد یہ ایک سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے جس پر اس شخص کا نام ہوتا ہے۔

رحمانی کے مطابق یہ لسٹ ’کلیریویٹ‘ کا ایک ادارہ جاری کرتا ہے جو کہ ریسرچ کے اندر ایک قسم کی ریگولیٹری باڈی ہے۔ ’دنیا میں جتنی بھی ریسرچ ہوتی ہے چاہے وہ کہیں پبلش ہو، یہ ادارہ ان پبلیکیشنز یا جرنلز کو مانیٹر کرتا ہے اور صرف کوالٹی کو یقینی بنانے کے بعد ہی فہرست بناتا ہے۔‘

مبشر رحمانی کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں سائنس کے 18 سے 20 ہزار کے قریب جرنل ہیں۔ کلیریویٹ انھیں کنٹرول کرتا ہے اور ہر سال ان کا امپیکٹ فیکٹر بھی ایشو کرتا ہے کہ ان کی کوالٹی کیسی ہے۔ ’اس سال جو انھوں نے پوری دنیا میں آج سے لیکر پچھلے دس سال تک جتنے بھی محققین اور سائنسدان ہیں جو کہ تقریباً 80 لاکھ بنتے ہیں، ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا اور پھر دیکھا کہ انھوں نے 10 سال کے اندر کیا کیا ریسرچ کی ہے، کون کون سے ریسرچ آرٹیکل پبلش کیے ہیں۔ ان سب میں سے جو سب سے اچھے یعنی ’ٹاپ ون پرسنٹ‘ تھے ان کو فیلڈ وائز رکھا اور پھر ہر فیلڈ کے حساب سے ٹاپ ایک فیصد کو چنا۔‘

اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مبشر بتاتے ہیں کہ مثال کے طور پر سنہ 2020 میں پوری دنیا میں صرف 124 کمپیوٹر سائنسدان اس کیٹیگری میں آئے جو ٹاپ ون پرسٹنٹ کے اندر آتے تھے، یعنی دسیوں ہزاروں کمپیوٹر سائندانوں میں سے ٹاپ ایک فیصد۔ وہ یہ بھی چیک کرتے ہیں کہ سائنسدان دو نمبری تو نہیں کر رہا، کوئی غلط کام تو نہیں کر رہا۔ اور اس کی ریسرچ ایک یا دو سال پر محیط نہ ہو بلکہ اس نے بہت زیادہ ریسرچ آرٹیکل اور زیادہ عرصے تک لکھے ہوں اور وہ آرٹیکل بھی بہت زیادہ سائیٹڈ آرٹیکلز ہوں یعنی کہ ان کا بہت جگہ ذکر ہوا ہو۔

ہائیلی سائیٹڈ ریسرچرز کی لسٹ اور پانچ نوبیل پرائز

مبشر رحانی کے مطابق اس مرتبہ جن پانچ افراد کو نوبیل پرائز ملے ہیں وہ بھی اس ہائیلی سائیٹڈ ریسرچرز کی لسٹ میں ہیں جس میں ان کا نام بھی شامل ہے۔ ’میں نہیں کہتا کہ کمپیوٹر سائنس کی ریسرچ بھی نوبیل پرائز کے برابر ہو گئی ہے اور وہ ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ نوبیل پرائز کمپیوٹر سائنس کی فیلڈ میں ہوتا ہی نہیں۔ لیکن یہ اعزاز کی بات ہے کہ جہاں ان بڑے سائنسدانوں کو رکھا جا رہا ہے وہاں پر ہم جیسے بھی ان سے کچھ دور رکھ لیے گئے ہیں۔ میرے لیے یہ ایک بڑ اعزاز ہے۔ میری ایک ٹیکسٹ بک آئرلینڈ میں یونیورسٹی کے اندر پڑھائی بھی جا رہی ہے۔‘

مبشر کی ریسرچ کیوں اہم ہے اور یہ فیلڈ ہے کیا؟

مبشر کے بقول سادہ زبان میں تو یہ کمپیوٹر نیٹ ورک ہے اور اگر اسے تھوڑا وسیع کر لیں تو یہ ہر قسم کے کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے متعلق ہے۔ ’مثال کے طور پہ موبائل فون نیٹ ورک، 4 جی، 5 جی، 6 جی ان پہ میں نے کام کیا ہے، اس کے علاوہ (بیہائنڈ دی اینیمی لائنز) جو دشمن کے صفوں کے پیچھے کام کرنے والے کوگنیٹیو ریڈیو نیٹ ورکس ہو تے جیسا کہ فوج جب کسی ملک پہ حملہ کرتی ہے تو اس نے وہاں جا کے اپنی کمیونیکشن قائم کرنا ہوتی ہے، کیونکہ دشمن پیچھے ہٹتا ہوا کمیونیکشن نیٹ ورک کو تباہ کر دیتا ہے۔ وہ بہت اعلیٰ پیمانے کا ہونا چاہیئے جسے ہیک نہ کیا جا سکتا ہو۔ وہ کمیونیکیشن سافٹ ویئر ڈیزائنڈ ریڈیو ہوتے ہیں۔ ملٹری میں تو یہ ٹیکنالوجی بہت عرصے سے استعمال ہو رہی ہے مگر اسے کمرشل طور پر عوام کے استعمال کے لیے کیسے بنایا جائے، اس پہ میرا کافی کام ہے۔‘

اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جس طرح ایک موبائل فون میں جب آپ سم ڈالتے ہیں تو آپ ایک نیٹ ورک سے کنیکٹ ہو جاتے ہیں۔ سو سم میں ایک چپ ہوتی ہے جو آپ کو بی ٹی ایس ٹاور سے کنیکٹ کراتی ہے اور پھر آپ ایک خاص فریکویسنی پہ کمیونیکیٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ کوگنیٹیو ریڈیو والا موبائل ایسا موبائل ہو گا جس کے اندر ذہانت ہو گی اور وہ اس ذہانت کی بنا پہ فریکیونسیز کو چیک یا ہیک کر لے گا اور جو اس کو خالی ملیں گی اس پہ اپنی کمیونیکشن قائم کر دے گا۔ اسی طرح کوگنیٹیو ریڈیو والے موبائل میں کوئی سم نہیں ہو گی، وہ خود ہی خالی فریکوینسی ڈھونڈے گا اور اس پہ کنیکشن قائم کر دے گا۔ میں نے اس کے قوائد اور طریقے پہ بہت کام کیا ہے۔‘

کراچی سے آئرلینڈ تک کا سفر

مبشر حسین رحمانی کراچی میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ والدین سہارنپور اتر پردیش کے رہنے والے تھے۔ کراچی میں ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی اور پھر مہران یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو سے کمپیوٹر سسٹمز انجینیئرنگ میں سنہ 2004 میں ڈگری مکمل کی۔

سکالرشِپ کے لیے فارم بھرتے ہوئے کن پانچ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

ملالہ کے لیے نیا اعزاز ‘میسینجر آف پیس’

عاطف میاں ’آپ سے معافی تو ہمیں مانگنی چاہیے‘

ڈیانا ایوارڈ جیتنے والے پانچ پاکستانی نوجوان

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے بعد ایک سال کراچی میں جاب کی، لیکن آگے پڑھنے کی جستجو کم نہیں ہوئی۔ کیونکہ معاشی طور پر اتنا سکھی نہیں تھا کہ خود باہر جا کے اعلیٰ تعلیم حاصل کروں اس لیے کوشش کرتا رہا ہے کہ کسی طرح کوئی سکالر شپ مل جائے۔ اس کے بعد اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مجھے حکومت پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ایک سکالرشپ مل گیا۔ جس میں باہر ماسٹرز کے بعد پی ایچ ڈی کر سکتا تھا۔ فرانس سے ایک پروفیسر آئے اور انھوں نے ایک لمبا انٹرویو لیا۔ اگرچہ وہ بہت مشکل تھا لیکن خدا کے فضل سے اس میں بھی کامیاب ہوا۔

’میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ایک مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کو سکالرشپ ملے گا۔ میں نے سنہ 2007 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس کی سرزمین پر قدم رکھا۔ لیکن اس سے پہلے کراچی میں فرانسیسی زبان کا چھ ماہ کا کورس کرایا گیا جس کا وہاں جا کر کافی فائدہ ہوا۔ میں نے فرانس کے سب سے زیادہ معروف انجیئرنگ سکولوں میں سے ایک سپیلیک انجینیئرنگ سکول سے نیٹ ورک اینڈ ٹیلی کام میں ماسٹرز کیا اور اس کے بعد پی ایچ ڈی میں فرانس کی صفِ اول کی ریسرچ یونیورسٹی پیئخ اینڈ میری کیوری میں داخلہ لیا۔ وہاں میں نے تین سال اور تین مہینے میں پی ایچ ڈی مکمل کر لی اور مجھے خدا کے فضل سے ’ویری ہانرایبل‘ ٹائٹل کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا۔‘

فرانس سے پیار اور وہاں مستقل رہنے کی خواہش

رحمانی کہتے ہیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے کوشش کی کہ فرانس میں مستقل سکونت اختیار کر لی جائے۔ ’مجھے پیرس بہت پسند ہے اور یہ کہنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔ کیونکہ میں نے وہاں ہائیر ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی تھی اس لیے میں پاسپورٹ کے بھی اہل تھا۔ میں وہاں مستقل نوکری کرنے ہی والا تھا کہ حکومتِ پاکستان نے مجھ سے رابطہ کیا کہ بھئی آپ تو پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور ٹیکس پیئرز کے پیسوں سے پڑھنے گئے ہیں اس لیے آپ واپس آئیں اور پانچ سال کا بانڈ پورا کریں جو آپ نے سائن کر کے دیا ہوا ہے۔

’میں نے دوستوں سے مشورہ کر کے انھیں لکھا کہ بانڈ میں دو شقیں ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ میں پاکستان آ کے پانچ سال ملک کی خدمت کروں گا اور دوسری شق یہ ہے کہ میں آپ کے پیسے جرمانے کے ساتھ لوٹا دوں گا۔ کیونکہ مجھے یہاں پہ اپنا مستقبل نظر آتا ہے اس لیے میری نیت اب بدل گئی ہے تو میں پیسے لوٹانے کے لیے تیار ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے مگر آپ نے وہ سارے پیسے ایک یا دو قسطوں میں ہی لوٹانے ہیں، جو کہ ایک اچھی خاصی رقم تھی۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن مجھے ہر مہینے ساڑھے نو سو یورو دیتی تھی اور چار سال میں یہ رقم لاکھوں روپوں میں چلی گئی تھی۔ میں نے انھیں کہا کہ ابھی تو مجھے جاب ملے گی اس لیے میں آپ کو اتنے زیادہ پیسے ایک یا دو قسطوں میں میں لوٹا سکتا۔ پھر میں نے علماء اکرام اور گھر والوں سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ نہیں یہ تو جھوٹ ہو جائے گا۔ آپ اپنی جاب کی آفر چھوڑیں اور فوراً واپس آ جائیں۔ دل تو بہت دکھا لیکن میں نے سوچا کہ وعدہ نہیں توڑنا اس لیے میں 2012 میں واپس آ گیا۔ اور واپس آ کر کراچی سے واہ کینٹ کے اندر کامسیٹس کے ڈیپارٹمنٹ آف الیکٹریکل انجینیئرنگ میں 19 ویں گریڈ میں اسسٹنٹ پروفیسر لگ گیا۔ اور پانچ سال وہاں کام کرتا رہا۔‘

مبشر کو وہاں بھی مسلسل بہترین محقق کا ایورڈ ملتا رہا۔ اگرچہ ان ایوارڈز کی کوئی انٹرنیشنل حیثیت نہیں ہوتی تھی لیکن یونیورسٹی لیول پر ان کی کارکردگی کو سراہا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ انھیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے بھی تقریباً ہر سال بہترین ریسرچ پیپر کا ایوارڈ ملتا رہا۔ ’میں نے اور میرے ایک ریسرچر دوست نے مل کر بھی ایک پیپر لکھا جس پر ہم دونوں کو بہترین ریسرچ پیپر کا ایوارڈ ملا۔‘

مبشر کہتے ہیں کہ مجھے اب بھی فرانس سے بہت پیار ہے، میں نے وہاں بہت کچھ سیکھا ہے، لیکن اب میری شادی ہو چکی ہے اور میری اہلیہ فرانسیسی زبان نہ تو بولتی ہیں اور نہ ہی اب سیکھنا چاہتی ہیں۔ ’وہ کہتی ہیں کہ کسی ایسے ملک میں رکھیں جہاں انگریزی بولی جاتی ہو۔ سو پسند تو بہت ہے لیکن مجبوری ہے۔‘

آئرلینڈ کب آئے؟

مبشر رحمانی پاکستان میں بانڈ کے مطابق اپنا وعدہ پورا کرنے کے بعد 2017 میں آئرلینڈ آئے اور اب وہاں پڑھا رہے ہیں۔ انھوں نے پہلے جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک سال پوسٹ ڈاکٹریٹ جاب کی اور پھر اس کے دوسرے سب سے بڑے شہر کورک میں واقع منسٹر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس میں بطور اسسٹنٹ لیکچرر پڑھانے لگے۔

مذہب اور سائنس

ڈاکٹر رحمانی پہلے فرانس میں رہے جہاں مسلمانوں کو شکایت ہے کہ وہاں ان کے خلاف قوانین سخت بنائے جا رہے اور پاکستان میں تو مذہبی جماعتیں اس کے خلاف مظاہرے بھی کرتی رہتی ہیں اور اب ڈاکٹر رحمانی آئرلینڈ میں ہیں جو کہ مغربی یورپ میں ایک ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جس میں سب سے زیادہ کٹر عیسائی مذہبی آبادی رہتی ہے، تو کیا کبھی انھیں اپنے مذہب یا حلیے کی وجہ سے کوئی پریشانی تو ہوئی۔ ڈاکٹر رحمانی کا جواب بہت سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کے ذہن میں صرف ریسرچ سوار ہوتی ہے تو باقی چیزیں چھوٹی لگتی ہیں۔

’دیکھیں اگر آپ اپنی فیلڈ میں ماہر ہیں، اپنے کام سے کام رکھ رہے ہیں اور مذہب کو فضول میں ایکسپلائٹ نہیں کر رہے تو کوئی آپ کو کیوں ڈسٹرب کرے گا۔ جیسے آئرلینڈ، فرانس میں نناوے فیصد تو اچھا ماحول ہی ہے اور اگر ایک دو ایسے کیس ہوتے ہیں تو آپ ان کو سر پر سوار تو نہیں کرنا چاہیئے۔ میں فرانس میں 2007 سے 2012 تک تھا تو مجھے تو کبھی ایسا احساس نہیں ہوا کہ مذہب یا میرے حلیے کی وجہ سے مجھے سائیڈ لائن کیا گیا ہو۔ میں بہت اچھی طرح معاشرے میں سمو چکا تھا۔ ویسے تو کچھ چیزیں ہر جگہ ہوتی ہیں لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ ان معاشروں میں اتنی برداشت ہے کہ وہ آپ کو قبول کر لیتے ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24094 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments