ایک حادثہ، جسے روکا جا سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس تن لاگے وہ تن جانے۔ اگرچہ اس کے معنی معلوم تھے لیکن تحت المعنی تک پہنچے میں کئی سال لگے۔

بطور فوٹو جرنلسٹ ایسے دلخراش مناظر سے پالا پڑتا رہا ہے جو اچھے خاصے کٹھور دل کو بھی غش کے کنویں میں دھکیل دیں، مگر کبھی جھرجھری تک نہیں آئی، کبھی دل زیر و زبر ہوا بھی تو اسی کشمکش میں کہیں پیچھے رہ گیا کہ کہیں کسی دوسرے ادارے کا ساتھی پہلے تصویریں فائل نہ کر دے۔

مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں پر گرنے والے جہاز میں چیختے انسانوں سے لے کر، نتھنوں سے ٹکراتی انسانی گوشت کے جلنے کی بو، قتل کے مہینوں بعد ہونے والی قبر کشائی کے موقع کی تصویروں، کسی حادثے کے فوراً بعد پہنچنے اور کئی سال تک مسلسل ہونے والے دھماکوں کی کوریج تک بہت کچھ دیکھ رکھا ہے، تاہم جذبات کبھی ابھرتے بھی تو ان پر ’ہندسے‘ غالب آ جاتے۔ جلے، پھٹے، کٹے اجسام دیکھتے برس بیت گئے لیکن دل میں جانے کیوں کھٹک سی تھی جو ایک ایسی خبر پر کھٹاک سے کھلی، گویا بند ٹوٹ گئے، حالانکہ وہ حادثہ کہیں دور ہوا تھا، جسے میں نے کور بھی نہیں کیا، نہ میرے کسی پیارے کی جان گئی، محض اخبار میں تصویریں دیکھیں اور سطور پڑھیں۔

2011 میں کلر کہار میں بچوں کی سکول بس کو حادثہ پیش آیا بس میں گنجائش سے زیادہ بچے سوار تھے۔ جس میں 33 بچوں سمیت 36 افراد جان سے گئے، جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس بھی لیا، کیس بھی چلا، لواحقین کو ادائیگی کے احکامات بھی جاری ہوئے، اس بس کی حالت بھی تسلی بخش نہیں تھی اور اس بس کو فٹنس سرٹیفکیٹ دینے والے موٹر وہیکلز ایگزامینر کے خلاف کارروائی کی گئی تھی مگر یہ خبر دل سے نہ نکل سکی۔

دل ہمیشہ ڈرتا رہا کہ کہیں بچوں کا کوئی سانحہ کور نہ کرنا پڑ جائے، وقت گزرتا رہا، بچے سکول داخل ہوئے، جن کو قریبی سکول میں خود چھوڑتا اور لے کر آتا رہا۔

بہرحال اب بیٹی کو اسلام آباد کے جس کالج میں داخل کرایا ہے وہ تقریباً گھر سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اس لیے کالج کی ہی بس کے ذریعے بچی کو بھجوانے کا ارادہ کیا گیا، جس کے لیے کالج انتظامیہ نے چار ہزار روپے سال کے وصول کیے۔ گھر کیونکہ گلی میں ہے، تو مسئلہ کھڑا ہوا کہ بچی ہائی وے بس سٹاپ تک کیسے جائے گی۔

اس کے لیے پانچ ہزار روپے مہینے کے حساب سے رکشہ لگوایا گیا۔

اب وہ رکشے پر روڈ تک جاتی ہے جہاں سے بس پر سوار ہوتی۔ پہلے روز واپسی پر بچی سے پوچھا کہ کیسا رہا دن، تو بتایا گیا کہ بہت اچھا، ماسک کے بغیر سکول میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا، گیٹ پر مونچھوں والے انکل کھڑے ہوتے ہیں جو سب کا ٹمپریچر چیک کرتے ہیں۔ میڈم بھی کلاسز کا دورہ کرتی رہتی ہیں کہ کہیں ایس او پیز کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی۔ کلاس میں بھی ایک دوسرے سے دور بیٹھنے کا کہا جاتا ہے۔

میں کافی خوش تھا اور دل ہی دل میں حکومت کو سراہ رہا تھا۔ دو چار روز بعد بیٹی نے بتایا کہ وہ بس میں نہیں جانا چاہتی، جو کچھ عجیب سی بات تھی۔

اس روز میں خود بچی کو بس تک لایا وہ اتنی بھری ہوئی تھی کہ دروازہ بھی مشکل سے کھلا، میری بیٹی پائیدان میں بیٹھی تو بیگ کی وجہ سے دروازہ بند نہیں ہو پا رہا تھا اور ڈرائیور نے گاڑی چلا دی۔ جس کے بعد بے تحاشا وسوسے دل میں ابھرتے رہے۔

اگلے روز بیٹی نے بس کے اندر کا جو نقشہ بتایا اس نے ہلا کے رکھ دیا

’میرے بعد کئی لڑکیوں کو بس والے انکل نے بہت مشکل سے سوار کیا۔ سیٹوں کے درمیان فرش پر لڑکیاں بیٹھی تھیں جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سانس لینا مشکل ہو گیا، جس پر ڈرائیور انکل نے شیشے کھولے تو سرد ہوا اندر آنے لگی تو شیشے بند کیے گئے، میرا دل گھبرا رہا تھا اور میں اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالنا چاہ رہی تھی لیکن رش کی وجہ سے ایسا نہیں کر پا رہی تھی۔ اس کے بعد ایک چیخ ابھری کہ ایک لڑکی بے ہوش ہو گئی ہے، لڑکیوں نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی تو ایک اور بے ہوش ہو گئی۔ ’

اس کے بعد میرے منہ سے صرف یہی نکل سکتا تھا کہ ’اب میں خود چھوڑ کے آیا کروں گا

چونکہ چھوٹی سی گاڑی رکھتا ہوں اس لیے اب خود چھوڑنے جاتا ہوں
کالج انتظامیہ کو بس ایشو کے بارے میں بتانے کی بھی کوشش کی لیکن کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لڑکیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ چونکہ ہر لڑکی سے سالانہ چار ہزار روپے لیے جاتے ہیں اس لیے سرکاری کالج کی انتظامیہ بھی لالچ میں پڑ گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ پیسے اکٹھے کرنے کے لیے لڑکیوں کو بس کی سہولت تو مہیا کی گئی مگر دراصل وہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ کالج میں کورونا کے ایس او پیز پر جو عمل ہو رہا ہے، وہ اچھی بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بس میں سفر کے لیے کوئی طریقہ کار یا اصول نہیں؟ کیا وائرس نے کوئی قسم کھا رکھی ہے کہ بس میں کسی کو نہیں لگنا صرف کالج جا کر ہی انہیں بیمار کرنا ہے، یا پھر انتظامیہ نے کوئی ایسی قسم کھا رکھی ہے تمام ایس او پیز پر عمل صرف کالج میں ہو گا اور بس میں جو مرضی ہوتا رہے۔

یہ خوشی کی بات ہے کہ زیادہ بچیاں سکولوں کو جا رہی ہیں لیکن کیا ان کو ایک ہی یا چند بسوں میں ٹھونسنا ہی ضروری ہے۔ کیا حکومت کے پاس اتنے بھی وسائل نہیں کہ مزید بسوں کا بندوبست کر لے یا پھر حکام کو معلوم ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے یا پھر معلوم ہی نہیں کرنا چاہتے۔ یہ کہاں کا اصول ہے کے 75 سیٹوں والی بس میں 179 بچیوں کو ٹھونسا جائے کیا قانون نام کی کوئی چیز ہے وفاقی دارالحکومت میں کوئی کیوں نہیں سمجھ رہا کہ کورونا سے تو شاید بچے بچ جائیں لیکن خدانخواستہ اوور لوڈنگ کے باعث حادثہ ہو گیا تو شاید بڑی قیمت ادا کرنا پڑے کیونکہ ایسی گاڑیوں کے حادثات کا امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

میں تو جیسے تیسے کر کے بچی کو اپنی گاڑی میں پہنچا رہا ہوں لیکن ان بچیوں کے بارے میں سوچ کے دل دکھتا ہے کہ جن کے پاس ایسی سہولت نہیں۔

سوچ سوچ کے دماغ شل ہو رہا ہے کہ جب انتظامیہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر کالج کے اندر سختی سے عمل کرا رہی ہے تو بس کے اندر یہ صورت حال کیسے ہے؟

اس کا جواب کالج انتظامیہ کو دینا چاہیے لیکن ظاہر ہے وہ نہیں دے گی اس لیے سپریم کورٹ، جس نے کلر کہار واقعے کا نوٹس لیا تھا، وزیر تعلیم شفقت محمود و دیگر متعلقہ حکام سے فقط اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے نوٹس لینا بعد کے نوٹس سے بہرحال بہتر ہے، میرے خیال میں اس کے لیے حادثے کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

قاضی عثمان حسین انجم کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments