نیشنل ہیلتھ سروے-5: کیا انڈیا میں واقعی مردوں کے مقابلے خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے؟

دویہ آریا - نمائندہ بی بی سی، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب حکومت ہند کی طرف سے خواتین اور بچوں کی صحت کے حوالے سے کیے گئے سب سے جامع سروے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (5) کے نتائج جاری کیے گئے تو ایک بات نے سب کو حیران کر دیا۔

سروے سے پتا چلا ہے کہ ہر 1000 مردوں کے لیے 1,020 خواتین ہیں۔ اس سے قبل سنہ 2011 کی مردم شماری میں، ہر ایک ہزار مردوں کے لیے 943 خواتین کا شمار تھا۔

خواتین کے تناسب میں اس اضافے کو سمجھنے کے لیے، سب سے پہلے یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ موازنہ گمراہ کن ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ایک ’سیمپل سروے‘ ہے اور مردم شماری مکمل ’گنتی‘ ہے۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (5) میں تقریباً چھ لاکھ خاندانوں کا سروے کیا گیا، جبکہ مردم شماری میں ملک کی سوا ارب آبادی کا شمار ہوتا ہے۔

ممبئی میں صحت سے متعلق مسائل پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’صحت‘ (سی ای ہیچ اے ٹی) کی کنوینر سنگیتا ریگے کا یہی کہنا ہے اور وہ ایک دوسری وجہ کی طرف بھی توجہ مبذول کراتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘نیشنل فیملی ہیلتھ سروے اپنے نتائج میں نقل مکانی کو مدنظر نہیں رکھتا کیونکہ جب گھروں میں سروے کیا جاتا ہے تو کسی دوسرے گاؤں یا شہر میں کام کرنے والے مردوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے خواتین کی تعداد زیادہ نظر آ سکتی ہے۔’

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سروے کے اعداد و شمار غلط ہیں؟

یہ سروے حکومت کی جانب سے ‘انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن سائنسز’ نے کیا ہے۔

انسٹیٹیوٹ میں ‘مائیگریشن اینڈ اربنائزیشن سٹڈیز’ کے پروفیسر آر بی بھگت کا خیال ہے کہ مردم شماری مردوں اور عورتوں کی جنس کا تناسب جاننے کا ایک زیادہ قابل اعتماد طریقہ ہے۔

انھوں نے کہا: ‘سیمپل سروے میں نمونے لینے کی غلطی کا امکان ہمیشہ رہتا ہے جسے آبادی میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ جب اگلی مردم شماری ہو گی تو جنس کا تناسب 2011 سے بہتر ہونا چاہیے لیکن مجھے اتنا زیادہ اضافہ ہوتا نظر نہیں آتا۔’

سنجے کمار سینٹر فار سٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔ سنجے کمار بھی سروے کے نتائج سے حیران ہیں لیکن اس کے کام کرنے کے طریقے کے قائل ہیں۔

سنجے کمار کا کہنا ہے کہ ‘سیمپل سروے ایک خاص طریقے سے کیا جاتا ہے اور اگر سیمپل کو احتیاط سے منتخب کیا جائے تو یہ چھوٹا ہونے کے باوجود درست نتائج دے سکتا ہے۔’

ان کے مطابق، 1020:1000 کے تناسب کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کو سمجھنے کے لیے مختلف ریاستوں اور دیہی-شہری کے نتائج کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

تو پھر سروے میں خواتین کا تناسب مردوں سے زیادہ کیوں ہے؟

سنگیتا ریگے کے مطابق اس کی ایک وجہ خواتین کی متوقع عمر ہے۔

انڈیا کے محکمہ مردم شماری کے سنہ 2013-17 کے تخمینے کے مطابق ملک میں خواتین کی پیدائش کے بعد سے موت تک متوقع عمر 70.4 سال ہے جب کہ مردوں کی عمر 67.8 سال ہے۔

اس کے ساتھ حاملہ ہونے اور ولادت کے فوراً بعد ہونے والی اموات کے تناسب میں بھی بہتری آئی ہے۔

Short presentational grey line

کیا واقعی خواتین مردوں سے زیادہ تعداد میں ہیں؟

گیتا پانڈے، نیو دہلی

انڈیا کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ایسا انڈیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مردوں کی آبادی خواتین سے زیادہ ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت کی طرف سے ومین ایمپاورمنٹ یعنی خواتین کی خودمختاری کی مہم کا نتیجہ ہے۔

میڈیا اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر بیان کر رہا ہے اور اسے آبادیاتی تبدیلی کہہ رہا ہے۔ ایک صحافی لکھتے ہیں کہ انڈیا اب ‘ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آگیا ہے۔‘

لیکن ایکٹیوسٹ اور کیمپینرز کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوے سمجھ سے باہر ہیں اور یہ نہ صرف ‘مضحکہ خیز، ہیں بلکہ ہی ‘ناممکن، بھی ہیں۔

خواتین

محقق اور کارکن سابو جارج کہتے ہیں 'سو برس تک ہماری مردم شماری نے بار بار یہ دکھایا ہے کہ مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے۔ 2011 میں کی گئی آخری مردم شماری میں ہر 1000 مردوں کے مقابلے میں 940 خواتین تھیں۔ اور بچوں کی جنس کی شرح بھی خاصی پریشان کن تھی کیونکہ اس میں ہر 1000 لڑکوں کے مقابلے میں صرف 918 لڑکیاں موجود تھیں۔ اتنی زیادہ تبدیلی صرف دس سال میں کیسے آسکتی ہے؟

انڈیا کو بہت عرصے سے ‘اے کنٹری آف منسنگ ومین، یعنی کہ لاپتہ خواتین کا ملک کہا گیا ہے۔ اس جملہ کے بانی نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتا سین ہیں، جنھوں نے 1990 میں پہلی بار اس کا استعمال کیا۔ اس وقت جنس کی شرح اپنی کم ترین سطح پر تھی اور ہر 1000 مردوں کے مقابلے میں صرف 927 خواتین تھیں۔ امرتا سین نے لاپتہ خواتین کی تعداد تین کروڑ ستر لاکھ کے قریب بتائی۔

انڈیا میں بیٹوں کو ترجیح دینے کی وجہ ان کی ثقافت میں موجود نظریہ ہے جس کے مطابق نر بیٹے خاندان کا نام آگے بڑھائیں گے اور والدین کی دیکھ بھال کریں گے، جب کہ بیٹیوں کو جہیز بھی دینا پڑے گا اور پھر شادی کے بعد وہ اپنے سسرال چلی جائیں گی۔

اس کے خلاف مہم چلانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ لڑکی مخالف سوچ اور 1970 میں اینٹی نیٹل سکریننگ کی آسان دستیابی کے باعث کروڑوں کی تعداد میں پیدائش سے پہلے ہی بچیوں کی جنس معلوم ہو جانے پر ابارشن کروایا گیا۔

اس عمل کو فیمیل فیٹیسائڈ کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے جنس کی شرح میں زبردست تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

میڈیکل کے شعبے میں اینٹی نیٹل سکریننگ پیدائش سے پہلے بچے کی جنس معلوم کرنے کے طریقے کو کہا جاتا ہے۔

1994 میں پری نیٹل سکریننگ ٹیسٹ ایکٹ میں جنس کے انتخاب کی بنیاد پر ابارشن کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ 2002 میں ترمیم کے بعد حاملہ ہونے سے پہلے جنس کے انتخاب کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔ لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنس کی بنیاد پر اسقاط حمل اب بھی غیر قانونی طریقے سے جاری ہے۔

جارج کہتے ہیں کہ ‘1020 کا ہندسہ ممکن ہی نہیں ہے۔اگر تیس یا چالیس سال کے عرصے میں ہم نے تیس سے چالیس کروڑ لڑکیوں کو ختم کیا ہے تو ہمارا خسارا 2021 میں اور بھی زیادہ ہونا چاہیے۔ اور اگر اتنا ہی زیادہ خسارا ہے تو اس طرح کے اعداد و شمار کو آپ قابلِ یقین کیسے کہہ سکتے ہیں؟‘

آبادیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو تو جنس کی مثالی شرح 952 ہونی چاہیے لیکن آخری مردم شماری میں یہ 929 تھی۔ جارج کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے ‘مثالی صورتحال اور حقیقیت میں اب بھی 23 پوائنٹ یا دو فیصد کا فرق ہے۔

‘یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اب بھی لاکھوں لڑکیوں کا قتل ہو رہا ہے۔ اگر انڈیا میں ہر سال چھبیس کروڑ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے تو پانچ برسوں میں یہ ایک سو تیس کروڑ ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے پانچ سالوں میں ڈھائی کروڑ لڑکیوں کا قتل کیا ہے۔ یہ ملک کے لیے شرم کی بات ہے نہ کہ آپ اس پر جشن منائیں۔‘

Short presentational grey line

انڈیا

لوک سبھا میں وزارت صحت کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق ان کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ یہ شرح سنہ 2014-16 میں ہر ایک لاکھ بچوں کے لیے ماں کی 130 اموات سے کم ہو کر 2016-18 میں 113 رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریاستی وزیر کے بیان پر تنقید: ’یہاں کنوارہ مرد سب برداشت کرتے ہیں، لیکن کنواری لڑکی برداشت نہیں’

’میں عورت سے مرد تو بن گیا ہوں لیکن اب کوئی بھی مجھے قبول نہیں کر رہا‘

انڈیا میں 70 برس میں مختلف مذاہب کی آبادی کے تناسب میں کوئی فرق نہیں پڑا: پیو سروے

پروفیسر بھگت کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ خواتین کے بارے میں سروے میں زیادہ معلومات دی گئی ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ‘پہلے، خاندانوں میں خواتین کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی، لیکن پچھلی دہائیوں میں خواتین پر توجہ مرکوز کرنے والی متعدد سرکاری سکیموں کی آمد سے، باقاعدہ طور پر ان کے ناموں کا اندراج کرنے کے رواج میں اضافہ ہوا ہے، جس سے کم رپورٹنگ میں کمی آئی ہے۔ اور وہ اب ان کی گنتی میں شامل ہوتی ہیں۔’

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ صنفی جانچ اور جنین قتل میں کمی آئی ہے؟

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (5) میںکل جنس کے تناسب 1020:1000 کے ساتھ پیدائش کے وقت جنس کا تناسب 929:1000 بھی دیا گیا ہے۔

پیدائش کے وقت جنس کا تناسب پچھلے پانچ سالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کے جنسی تناسب کی پیمائش کرتا ہے۔

پروفیسر بھگت کے مطابق، ‘SRB’ جنسی سکریننگ اور جنین قتل کے اثر کو سمجھنے کے لیے کل جنس کے تناسب سے بہتر معیار ہے، اور چونکہ یہ ابھی تک بہت کم ہے اس لیے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سمت میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

جبکہ سنگیتا ریگے کچھ اور سائنسی وجوہات کی طرف بھی توجہ مبذول کراتی ہیں کیوں کہ پیدائش کے وقت لڑکیاں لڑکوں سے کم ہوتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ‘بہت سی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تاریخی طور پر پہلا بچہ لڑکا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور لڑکا پیدا ہونے پر اسقاط حمل کرانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں بہتری آئی ہے، چھوٹے خاندان زیادہ مقبول ہو گئے ہیں۔ اور مانع حمل ادویات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اکثر نوزائیدہ بچوں میں لڑکوں کا تناسب بھی بڑھ رہا ہے۔

اعداد و شمار کے اس جال میں یہ بھی یاد رکھیں کہ سنہ 2011 کی مردم شماری میں چھ سال تک کے بچوں کا جنسی تناسب اب تک کا سب سے کم یعنی 919 تھا۔

انڈیا

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے کل جنسی تناسب کے اعداد و شمار سے تمام ماہرین حیران ہیں لیکن انھیں آنے والے وقت سے بھی امیدیں وابستہ ہیں۔

صحت اور آبادی پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘پاپولیشن فرسٹ’ کی ڈائریکٹر اے ایل شاردا نے اسے ‘ٹو گڈ ٹو بی ٹرو’ یعنی اتنا اچھا ہے کہ سچ نہیں ہوسکتا کہتے ہوئے کہا کہ سماجی سوچ میں بھی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ‘میں سنہ 2031 کی مردم شماری سے بہت پر امید ہوں۔ جو نسل اب سکول میں ہے، وہ شادی کرے گی، والدین بن جائے گی، اور مساوی سوچ کی بات کرنے والی بہت سی سکیموں اور کمپین کی وجہ سے بھی اس میں بڑا فرق آئے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22517 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments