کیا فوج تائب ہو گئی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ آف پاکستان ان دنوں ایک دلچسپ مگر انتہائی اہم از خود کیس کی سماعت میں مشغول ہے۔ یہ مقدمہ ملٹری اراضی کی حیثیت تبدیل کر کے اس کے کمرشل استعمال کے بارے میں ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کی جو تفصیل 27 نومبر 2021 کے اخبارات میں رپورٹ ہوئی ہے اس کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی بینچ نے ملٹری لینڈ کنورژن ایشو یعنی عسکری زمینوں پر فوج کی جانب سے کمرشل سرگرمیوں کے کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد ہلال حسین کی سخت سرزنش کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے اور معزز عدالت نے اس امر پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ دفاعی اور قومی سلامتی کے مقاصد کے پیش نظر مختص کی گئی اراضی کو فوج سینما ہاؤسز، شادی ہالز اور پلازے سوسائٹیاں بنا کر منافع بخش کاروبار میں ملوث کیوں ہو رہی ہے۔

کراچی رجسٹری میں مقدمے کی سماعت تین رکنی بنچ نے کی جو چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل ہے۔ بنچ کے سربراہ چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو زمین آپ کو دفاعی اور سٹریٹجک مقاصد کے لئے ملی تھی وہ آپ سینما گھر، شادی ہال اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے میں استعمال کر رہے ہیں۔ کیا یہ سینما گھر، شادی ہال اور ہاؤسنگ سوسائٹیز قومی دفاع کے مقاصد پورے کرتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ تمام عسکری ہاؤسنگ پراجیکٹس جو کہ ڈیفینس اور عسکری کالونیوں کے ناموں سے مشہور ہیں وہ کنٹونمنٹ بورڈز کی زمینوں پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا سیکریٹری دفاع صاحب یہ کیا ہو رہا ہے؟ سینما اور رہائشی منصوبے چلا رہے ہیں آپ؟ سیکریٹری دفاع آپ اسلام آباد میں بیٹھتے ہیں جب کہ یہاں بیٹھے ایک کرنل اور میجر کو آپ کنٹرول نہیں کر سکتے وہ یہاں کنگ بنے ہوئے ہیں۔ آخر دفاعی مقاصد کے لئے ملنے والی زمین کی حیثیت کی تبدیلی کا کیا جواز ہے؟

سیکریٹری دفاع نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اس نقطے پر متفق ہیں کہ ایسی کمرشل سرگرمیاں نہیں ہونی چاہئیں اور مسلح افواج نے فیصلہ کیا ہے کہ کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملٹری لینڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اس کے کمرشل استعمال پر نظر رکھی جائے گی اور اس کو روکا جائے گا۔ مجھے کہا گیا کہ عدالت کو یقین دہانی کرائیں کہ مزید کوئی کمرشل سرگرمی نہیں ہو گی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہی بیان تحریری جمع کرائیں۔

جسٹس گلزار نے پوچھا کہ کہ جو کچھ ہو گیا ہے اس کا کیا ہو گا؟ سیکریٹری دفاع نے کہا کہ جو ہو چکا ہے اسے ٹھیک کرنے کے لئے کچھ وقت درکار ہے۔ اس موقع پر امیر علی بھائی نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ مسلسل زمینوں کی حیثیت تبدیل کر رہا ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا سیکریٹری دفاع صاحب یہ سن لیں اور تحریری بیان دیں۔ بنچ نے ملٹری لینڈ پر جاری کمرشل سرگرمیوں سے متعلق پالیسی پیش کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا بتایا جائے کمرشل سرگرمیاں ختم کرنے کی کیا پالیسی ہے؟ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ پالیسی بتائیں اور ہمیں یہ بھی بتائیں کہ ملٹری لینڈ کی حیثیت بدلنے کا کیا جواز ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ بعض اوقات تو لگتا ہے عدالت کے احکامات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ عسکری فور کے بڑے بڑے اشتہار لگا دیے گئے ہیں۔ مسرور بیس اور فیصل بیس کراچی میں تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور جب بڑے بڑے ہورڈنگ بورڈز ہٹانے کا کہا گیا تو مزید اونچی عمارات تعمیر کی گئیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ملٹری لینڈ کی حیثیت میں تبدیلی کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 اور کنٹونمنٹ لینڈ رولز 1937 کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ اور متعدد آئینی پروویژنز اور حیثیت تبدیلی کا ایشو عدالتی توجہ اور فیصلے کا متقاضی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جائیے اور تمام چیفس کو آگاہ کیجئے کہ جو زمین دفاعی مقاصد کے لئے ہے اسے تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جائیے اور تمام کنٹونمنٹس بورڈز کو کہیے کہ عسکری اراضی کو صرف سٹریٹیجک مقاصد کے لئے ہی استعمال کیا جائے گا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مسلح افواج کے سربراہوں کے دستخطوں کے ساتھ پالیسی اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ سپریم کورٹ بنچ نے ڈائریکٹر کنٹونمنٹ اینڈ ملٹری لینڈ کراچی ریجن عادل رفیع صدیقی پر بھی کنٹونمنٹ بورڈز کے دائرہ کار میں جاری کچھ سرگرمیوں پر خفگی کا اظہار کیا اور ان سے بھی ڈیفینس فیز ون کے ایک پارک میں دیوار کی تعمیر کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔ اس کیس کی آئندہ سماعت تیس نومبر 2021 کو اسلام آباد میں ہو گی۔

پاکستان کے قیام کے تین برس بعد 1950 میں فوج کے ویلفیئر بورڈ کی جانب سے ریٹائرڈ فوجی افسران کی دلجوئی کے لئے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن وکی پیڈیا کے مطابق اب سول خاندانوں کی اکثریت ڈیفینس ہاؤسنگ سوسائٹیز میں رہائش پذیر ہے گو ان کا انتظام و انصرام فوج کے ہی حاضر سروس افسران کے ذمے ہے اسی لئے ان کا حدود اربعہ اب اتنا پھیلتا چلا جا رہا ہے کہ یار لوگ ڈی ایچ اے کو واہگہ بارڈر کراس کر کے انڈیا میں سری نگر تک در انداز ہونے کے لطیفے گھڑتے ہیں۔

گوگل پر ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی سرچ کریں تو اسے پاکستان آرمی کا ملکیتی بہت بڑا رہائشی منصوبہ دکھایا جاتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق ڈیفینس ہاؤسنگ پاکستان آرمی کی ایک بہت بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی ہے جس کے کامیاب پراجیکٹ لاہور، کراچی، اسلام آباد، ملتان، گوجرانوالہ، بہاولپور، کوئٹہ اور گوادر کے بعد اب دیگر شہروں تک بھی پھیلائے جا رہے ہیں کیونکہ یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ اس کے لئے گاؤں کے گاؤں خرید کر انہیں ڈیفینس کی حدود میں مختلف نئے فیز بنانے کے بہانے شامل کیا جاتا ہے۔ اور تھوڑی سی ڈیویلپمنٹ کے بعد تمام تر کمرشل اور رہائشی پلاٹ ہاتھوں ہاتھ مہنگے داموں فروخت ہو جاتے ہیں۔

معروف سکالر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے پاکستان آرمی کے روز افزوں بڑھتے منافع بخش تجارتی منصوبوں اور ان کے ملک کے سیاسی اور معاشی حالات پر گہرے اثرات کو اپنی کتاب ملٹری انکارپوریٹڈ مطبوعہ 2007 میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ 292 صفحات کی اس کتاب سے ملکی معیشت کے تمام اہم شعبوں میں فوج کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔

حالیہ چند برسوں میں فوج کے کچھ حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر بیرون ملک شاندار جائیدادوں اور اربوں ڈالر کے کاروبار کی ملکیت کے مبینہ سکینڈل اور فسانے کثرت سے موضوع بحث بنائے گئے ہیں۔ گو متعلقہ افراد ان کی تردید کرتے نظر آئے مگر کسی غیر جانبدار ادارے کی جانب سے اس بارے میں کسی قسم کی کوئی تحقیقات نہیں کی جا سکیں الٹا یہ خبریں دینے والے صحافیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات درپیش ہوئے۔

حال ہی میں امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی جو جرنیلوں کی امریکہ میں جائیدادوں کی خبریں نکالنے کی وجہ سے مشہور ہیں اور جن پر خود اسلام آباد میں 27 اکتوبر 2017 کو قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور ابھی حال ہی میں انہوں نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو گفتگو لیک کی تھی جس میں انہیں ماتحت جج پر اپوزیشن رہنماؤں کو سزائیں دینے کے بارے میں دباؤ ڈالتے سنا جا سکتا ہے، کی صحافی بیوی عنبرین فاطمہ کی کار پر نامعلوم افراد نے لاہور میں حملہ کیا ہے۔

پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی دیرینہ کھلی مداخلت اور حکومتوں کے اتار چڑھاؤ میں عسکری ہاتھ کی کارفرمائیاں کوئی ڈھکی چھپی داستان نہیں اس لئے اب فوج پر آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض کی ادائیگی کا مطالبہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی جانب سے شد و مد کے ساتھ پیش ہوتے دیکھا جا رہا ہے اور اس پر 2018 کے انتخابات کے نتائج نے بھی گہرے اثرات مرتب کیے جب الیکشن کمیشن کا رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم، آر ٹی ایس کا لنک ڈاؤن ہو گیا اور راتوں رات نتائج تبدیل ہو گئے۔

اپوزیشن کے مسلسل واویلے کی وجہ سے اب عام لوگ بھی فوج کے سیاست میں کردار اور اکانومی میں حصہ داری پر کھل کر باتیں کرنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ملٹری لینڈ کی حیثیت تبدیلی ایشو پر نوٹس اس امر کا غماز ہے کہ فوجی معاملات اب انصاف کے اعلی ایوانوں تک جا پہنچے ہیں۔ موجودہ سپریم کورٹ کے بارے میں ایک عمومی رائے پرو اسٹیبلشمنٹ ہونے کی پائی جاتی ہے مگر اس ایک ایشو پر اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان بشمول جناب چیف جسٹس کے جو ریمارکس سامنے آئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانونی اور سنجیدہ حلقے بھی فوج کے مالی اور تجارتی امور کی انجام دہی میں متعلقہ قوانین کو نظر انداز کرنے یا بلڈوز کرنے کے بارے میں تشویش محسوس کرتے ہیں۔ اگر عدلیہ اس معاملے پر کسی دو ٹوک نتیجے پر پہنچتی ہے تو یہ نا صرف قانون کی بالا دستی کے لئے نہایت بروقت اور احسن اقدام ہو گا بلکہ اس سے سول سپریمیسی کے تصور موہوم کو بھی زبردست تقویت ملے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments