خان عبدالصمد خان اچکزئی کی کہانی: ’مجھے نوکری نہیں چاہیے بلکہ اپنے عوام کی آزادی چاہیے‘

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر ’چمن کے ریلوے سٹیشن پر انگریز فوجیوں کے جوتوں کو صاف کرنے کے واقعے‘ نے غلامی کے خلاف انھیں ایک طویل جہدوجہد شروع کرنے پر مجبور کر دیا۔

برطانوی راج کے خلاف ان کے عزائم کو دیکھ کر انگریز افسر نے انھیں نوکری اور سرداری کی پیشکش کردی مگر انھوں نے اس کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نوکری نہیں چاہیے بلکہ اپنے عوام کی آزادی چاہیے۔‘

یہ کہانی ہے خان عبدالصمد خان اچکزئی کی جن کی زندگی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ محققین کے مطابق جیلوں میں گزرا۔ اور، ماہرین کے مطابق، قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ پابند سلاسل رہنے کا اعزاز بھی ان سے کوئی چھین نہ سکا۔

ان کے صاحبزادے اور سیاسی جانشین محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ‘انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے، ان کے انسانی اور سیاسی حقوق اور ان کی مساوی حیثیت کے لیے مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں جیل جانے کی وجہ سے وہ اپنے والد کو صحیح معنوں میں نہیں دیکھ سکے۔’

وہ کہتے ہیں کہ شعور سنبھالنے کے بعد انھیں اپنے والد کو ان کی زندگی میں صرف چھ ماہ دیکھنے کا موقع ملا اور یہ چھ ماہ وہ تھے جب وہ گھر پر نظر بند تھے۔

عبدالصمد خان اچکزئی کا خاندانی پس منظر

عبدالصمد خان اچکزئی قیام پاکستان سے قبل جولائی 1907ء میں افغانستان سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ میں اپنے آبائی گاﺅں عنایت اللہ کاریز میں پیدا ہوئے۔

وہ علاقے کی معروف شخصیت نور محمد خان اچکزئی کے دوصاحبزادوں میں چھوٹے تھے۔ عبدالصمد خان کا تعلق پشتونوں کے قبیلے اچکزئی کے شاخ حمیدزئی سے تھا۔

پروفیسر فیض اللہ پانیزئی اپنی کتاب ‘خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی شخصیت اور علمی و ادبی خدمات’ میں لکھتے ہیں کہ ان کے والد نور محمد خان علاقے کے ایک نامور مذہبی عالم تھے۔ عبدالصمد خان نے مذہبی تعلیم اپنے والد اور دیگر عالم دین افراد سے حاصل کی تھی۔

‘وہ صرف سات سال کی عمر میں عربی اور فارسی سے بخوبی واقف ہوگئے ۔وہ امام غزالی کی عربی اور فارسی کی کتابوں کا بخوبی مطالعہ کرسکتے تھے۔’

وہ دس برس کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا جس کے بعد ان کی تربیت کی ذمہ داری ان کی والدہ اور ماموں کے ذمے آگئی۔

ممتاز دانشور ڈاکٹر عبدالرﺅف رفیقی کے مطابق وہ بہت ذہین تھےاور اسی وجہ سے انھیں گلستان کے مڈل سکول میں پہلی کی بجائے تیسری جماعت میں داخلہ دیا گیا تھا۔

وظیفے کے امتحان میں برٹش بلوچستان میں ٹاپ کیا

ڈاکٹر رفیقی کے مطابق عبدالصمدخان اچکزئی نے سکول میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا صرف ایک سال تین مہینے کے قلیل عرصے میں تیسری اور چوتھی جماعت کو پاس کیا۔

محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ اس وقت وظیفے کا امتحان چوتھی جماعت میں لیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹاپ پوزیشن کے لیے صرف چار طالب علموں نے کوالیفائی کیا تھاجن میں سے ایک خان عبدالصمد ، دوسرے سابق سیکریٹری فریداحمد زئی کے والد عظیم خان اور دو سکھ بھائی تھے ۔

انھوں نے بتایا کہ چاروں امیدواروں میں سے عبدالصمد خان پہلے نمبر پر آئے اور ان کو ماہانہ 12روپے وظیفہ ملنے لگا۔

پروفیسر فیض اللہ خان کے مطابق اس خوشی میں مڈل سکول گلستان کو ایک روز کی چھٹی دی گئی اور مباحثے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

‘چونکہ انھوں نے بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کیا تھا اس لیے جب بھی کوئی انگریز افسر یا محکمہ تعلیم کا افسرآتا تو ہیڈ ماسٹر انھیں ہی ان کے سامنے پیش کرتے تو افسران ان کی لیاقت سے متاثر ہوتے اور ان کی تعریف کرتے۔’ لیکن انگریزوں کے ساتھ ان کا اس طرح کا تعلق عارضی ثابت ہوا۔

انگریزسپاہیوں کے جوتوں کی صفائی کے واقعے کا مشاہدہ کہاں کیا؟

پشتو زبان کے معروف لکھاری سید خیر محمد عارف کے مطابق افغان حکمران ‘غازی امان اللہ خان جب 10 دسمبر 1927 کو بیرونی ممالک کا دورہ کرنے کے لیے افغان صوبے قندھار سے چمن پہنچے تو استقبال کرنیوالوں میں عبدالصمد خان اچکزئی بھی شامل تھے۔’

محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ اس موقع پردو واقعات نے ان کے والدکو بہت زیادہ متاثر کیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ‘چمن ریلوے سٹیشن پر جب انگریز فوجی غازی امان اللہ خان کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے لیے آئے تو اس وقت بارش ہو رہی تھی۔بارش کی چھینٹوں سے جب ان کے جوتے خراب ہوجاتے تو تولیہ پکڑے ملازمین ان کے جوتوں کو صاف کرتے رہتے۔اس واقعے نے انھیں غلامی کے خلاف جدوجہد کے لیے کھڑا کیا۔’

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ‘عبدالصمد خان نے کہا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ امان اللہ خان کو سلامی دینے والے یہاں کے پشتون ہوتے۔ اگر پشتون نہ ہوتے توکم ازکم ہندوستانی ہوتے لیکن ہندوستانی تھے مگر وہ انگریز سپاہیوں کے جوتے صاف کر رہے تھے۔’

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی وجہ سے وہ کئی روز تک بے چین رہے تھے۔

خیر محمد عارف کے مطابق ‘وہاں جو لوگ آئے تھے ان کی افراتفری اور غیر منظم صورت حال کو دیکھ کر انھیں بہت دکھ ہوا۔ جس کے باعث امان اللہ خان تقریر نہ کر سکے۔عبدالصمد خان کئی دنوں تک سوچتے رہے کہ اس صورت حال کا مداوا کس طرح ممکن ہے۔’

سکول میں تعلیم کے دوران ہی انگریزوں کے خلاف جلوس کی قیادت کی

خیر محمد عارف کا کہنا ہے کہ عبدالصمد خان کا شمار برصغیر پاک و ہند کے صف اول کے رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ ایک دانشور اور مدبر سیاستدان تھے جو اپنے لوگوں کو غلامی سے چھٹکارا دلانے کے لیے زندگی کی آخری سانس تک انگریز سامراج اور اس کے استحصالی نظام کے خلاف ڈٹے رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘عبدالصمد نے زمانہ طالب علمی کے دوران 1918 میں سکول سے نکالے گئے جلوس کی قیادت کی جس سے ان کے سیاسی شعور اور آئندہ کے عزائم کا پتہ چلتا ہے۔’

خیر محمد عارف کا کہنا ہے کہ ‘عبدالصمد خان لکھتے ہیں کہ جس وقت امان اللہ خان نے مکمل خود مختاری کے لیے انگریزوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ تو ہمارے ہاں بہت سے لوگ افغانستان میں لڑنے کے لیے جا رہے تھے جس سے میں بہت متاثر ہوا۔’

خیر محمد عارف کے مطابق رونما ہونے والے تمام واقعات سے عبدالصمد خان پر شدید اضطراب کا شکار تھے۔جس کا حل یہ نکالا گیا کہ فروری 1930 میں انھوں نے اپنے گلی کی مسجد میں کلام پاک کی تلاوت کے بعد زندگی کے دیگر امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ ‘عبدالصمد خان نے یہ طے کیا کہ وہ علاقے کی مسجد میں اکٹھے ہوا کریں گے اور یہاں سے اپنی سرگرمیوں کے بارے میں سوچ بچار کریں گے۔

‘لیکن انگریزوں کی مخبری کا نظام اس قدر تیز تھا کہ پتہ چلنے کے بعد ایک انگریز افسر خصوصی طور پر انھیں تنبیہ کرنےگلستان گیا اور بعد میں انھیں ان سرگرمیوں پر سزا بھی دلوائی گئی۔’

گاندھی سے ملاقات

خیر محمد عارف کا کہنا ہے کہ ‘جولائی 1931 میں عبدالصمد خان نے ہندوستان کا رخ کیا۔ دو اگست 1931 کو ان کی احمد آباد میں گاندھی سے ملاقات ہوئی۔ اور گاندھی کی دعوت پر ان کے ساتھ ممبئی جانے کا فیصلہ کیا۔’

خیر محمد عارف کے مطابق تین اگست کو ممبئی پہنچنے کے بعد سے عبدالصمد خان اس دورے کے دوران 15دن تک گاندھی کے ساتھ رہے۔ اور ہندوستان کے بہت سے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انھیں بلوچستان میں انگریزوں کی بربریت اور لوگوں کی محرومیوںسے آگاہ کیا۔

خیر محمد عارف کے مطابق ‘یہ عجیب اتفاق ہے کہ عبدالصمد خان اور خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کی پہلی ملاقات ممبئی میں گاندھی کے ہاں ہوئی جو بعد ازاں طویل ترین رفاقت میں بدل گئی۔’

‘کھدر زیب تن کرنے پر گاندھی کی حیرانی’

محمود خان اچکزئی بتاتے ہیں کہ ‘گاندھی کے ساتھ ملاقاتوں اور وہاں اجلاسوں میں شرکت کے دوران خان عبدالصمد نے کھدر پہننے کا فیصلہ کیا کیونکہ کھدر انگریزوں کے دور میں حزب اختلاف کی علامت بن گئی تھی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب گاندھی نے انھیں کھدر میں دیکھا تو حیران ہوئے اور انھیں بتایا کہ اگر آپ کسی کے مرضی کے مطابق کھدر پہنیں گے تو ان کے مرضی کے مطابق کل اسے اتاریں گے۔’

محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ‘اس پر والد نے انھیں بتایا کہا انھوں نے صرف اپنی مرضی سے کھدر پہنا ہے۔اس کے بعد وہ زندگی بھر کھدر ہی پہنتے رہے۔’

اگرچہ گاندھی اور وہاں کانگریس کے رہنماﺅں سے ملاقاتوں سے پہلے ہی برطانوی راج کے خلاف جدوجہد پر وہ گرفتار ہوتے رہے لیکن ان ملاقانوں کے بعد ان کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا۔

وہ مجموعی طور کتنی مرتبہ گرفتار ہوئے اور دوسری گرفتاری پرکیسا رد عمل ہوا؟

مصنف اور دانشور پروفیسر شوکت ترین کے مطابق عبدالصمد خان اچکزئی زندگی میں پہلی مرتبہ اپریل1929ءمیں غازی امان اللہ خان کی مدد کرنے افغانستان جانے کی کوشش میں اپنے خاندان کے پندرہ خانوں سمیت کوئٹہ بلا کر گرفتار کیے گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ 16 مئی 1930 کو عبدالصمد خان کی دوسری مرتبہ گرفتاری کے وقت ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ماہ رمضان میں نماز تراویح کے بعد قرآن کی مقدس آیتوں کی تشریح کی تھی۔ اس مرتبہ انگریز پولیٹیکل ایجنٹ وینگیٹ اُنھیں متنبہ کرنے کے لیے بذات خود گلستان گئے تھے۔

25جولائی1930 کو سنڈےمن جرگہ ہال کوئٹہ میں انھیں دو سال قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ اس دوران چار جون 1930کو ان کے گرفتاری کے رد عمل کے طور پر تین انگریز مردوں اور ایک خاتون کو اغوا کیا گیا تھا مگر اغوا کاروں نے انھیں بے حد عزت و احترام سے رکھا تھا۔

پروفیسر شوکت ترین کا کہنا ہے کہ عبدالصمد خان کو زندگی میں مجموعی طور پر گیارہ مرتبہ گرفتار کیا گیا۔

‘انھیں پانچ مرتبہ انگریزوں کے دور میں چھ مرتبہ قیام پاکستان کے بعدگرفتار کیا گیا۔’

پاکستان کی تاریخ کے پہلے سیاسی قیدی

پروفیسر شوکت ترین کے مطابق عبدالصمد خان اچکزئی برطانوی بلوچستان میں ایف سی آر کے تحت سزا پانے والے پہلے سیاسی قیدی تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘برطانوی بلوچستان میں ڈیفینس آف انڈیا رولز کا پہلا مقدمہ خان عبدالصمد خان اچکزئی کے خلاف ہوا۔پاکستان کی تاریخ کے پہلے سیاسی قیدی خان عبدالصمد خان اچکزئی تھے۔آپ واحد سیاسی قیدی تھے جنھوں نے ایوب خان کا مکمل دور جیل ہی میں گزارا۔ وہ سب سے پہلے قیدی بنے اور سب سے آخر میں رہا ہوئے۔’

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ عبدالصمد خان کو مجموعی طور پر مختلف ادوار میں 35سال سے زائد کی سزاﺅں کے احکامات سنائے گئے مگر یا تو الزامات ثابت نہیں ہوئے یا مروجہ قوانین کے تحت چھوٹ ملتی رہی جس کے باعث مکمل سزا کاٹنے کی بجائے انھوں نے مجموعی طورپر 22 سال ایک ماہ اور21دن جیل میں گزارے۔ جو ان کی 66 سالہ زندگی کا 33فیصد حصہ تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی رہنما کا اپنی زندگی کا 33فیصد حصہ جیل میں گزارنا بھی ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

گریجوایشن تک تعلیم جیل ہی میں حاصل کی

تقسیم ہند کے بعد ان کو ایوبی مارشل لا کے دوران 10اکتوبر 1958کو گرفتار کیا گیا 24جون کی مختصر ٹرائل کے بعد چار نومبر کو فیصلہ محفوظ کر کے آٹھ دسمبر 1958 کو انھیں 14سال قید بامشقت کی سزا خصوصی فوجی عدالت نے دی تھی۔

دانشور اور محقق انجینیئر ملک اسد خان ترین کے مطابق عبدالصمد خان نے دوران جیل آٹھ امتحان پاس کیے۔ پشتو ادب اور فاضل فارسی ادیب فاضل وغیرہ اور پھر ایف اے اور بی اے انگریزی میں پاس کیا۔

خان عبدالصمد اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں ‘میں نے دوران قید انگریز افسر سے درخواست کی کہ مجھے جیل میں پڑھنے کے لیے کتابیں فراہم کی جائیں اس نے مجھے بتایا کہ جیل میں قانون کے مطابق تمہیں صرف دو کتابیں دی جاسکتی ہیں البتہ کچھ مذہبی کتابیں رکھنے کی اجازت ہے، تب میں نے اپنے بڑے بھائی کو کتابیں فراہم کرنے کے لیے کہا۔’

جیل میں تعلیم کی وجہ سے ان کو مجموعی طور پر سزا میں چار سال کی رعایت مل گئی تھی۔

قیام پاکستان سے پہلے انگریز کی نوکری اور بعد میں گورنری کی پیشکش

پروفیسر فیض اللہ خان پانیزئی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب انگریزوں نے محسوس کیا کہ عبدالصمد خان اچکزئی کو دبایا نہیں جاسکتا تو انھوں نے انھیں پشتون قوم کے اچکزئی قبیلے کے سردار بننے کی پیشکش کی۔

انھوں نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں تو گلستان کی ایک غریب بیوہ کا بیٹا ہوں اور سردار نہیں بننا چاہتا۔’

سنہ 1937 میں کرنل شاہ نے انھیں اسسٹنٹ کمشنر بنانے کی پیشکش کی اور آپ نے وہ پیش کش بھی رد کردی تاکہ آپ اپنی سرزمین کی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھ سکیں۔

ممتاز دانشور پروفیسر عبدالغنی خان غنو، اپنی کتاب بابائے پشتون اور پشتونخوا کی جلد سوئم میں عبد الکریم بریالئی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے 70کی دہائی کے آغاز میں انھیں گورنر بنانے کی پیشکش کی۔

’ساتھیوں سے صلاح و مشورہ کے بعد انھوں نے کہا کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گورنری قبول نہیں کروں کیونکہ مرکزی حکومت اور بلوچوں کے درمیان چپقلش ہے۔یہاں خانہ جنگی ہوگی اور بمباری ہوگی اور بلوچوں کی تلاشی ہوگی اور میں مرکزی حکومت اور بلوچوں کے درمیان لڑائی میں فریق نہیں بنناچاہتا اور نہ ہی کسی قوم کی بے عزتی میں ملوث ہونا چاہتا ہوں اس لیے میں اس پیشکش کو ٹھکرانا چاہتا ہوں۔’

‘جب بابا کو ہتھکڑیاں پہنائی گئیں تو ہم بچے رونے لگے’

پروفیسر عبد الغنی نے بابائے پشتون اور پشتونخوا میں عبد الصادق اچکزئی کے حوالے سے لکھا کہ ‘سنہ 1958 میں بابا پر کوئٹہ میں مارشل لا کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔ موجودہ میونسپل کارپوریشن کوئٹہ کی بلڈنگ میں ایک میجر تھے۔ایک نچلے رینک کا افسر اور ایک سول جج مولوی محمود تھے۔ہم بھی دیدار کے لیے ہر پیشی پر آتے تھے۔آخری پیشی پر بابا کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی اور ہتھکڑیاں پہنائی گئیں۔ہم بچے پاس کھڑے تھے تو ہم رونے لگے۔بابا ہمارے پاس آئے اور سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ ایسے مصائب تو ہوں گے۔ میں ان کا عادی ہوں، میں ان کے آقاﺅں (انگریزوں) کی جیل میں کافی عرصہ رہ چکا ہوں۔اس آزادی سے وہ جیل بہت بہتر تھی۔’

عبدالصمد خان اچکزئی بطور ادیب اور صحافی

انجینیئر ملک اسد خان ترین خان کا کہنا ہے کہ عبدالصمد کی تحریروں میں وہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک اعلیٰ نثرنگار میں ہونے چاہیے۔

ایک ادبی تاریخ کے مطابق خان عبدالصمد خان نے غزالی کی کیمیائے سعادت، شبلی نعمانی کی سیرت پاک، اور ابو کلام آزاد کے ترجمان القرآن، شیخ سعدی کی ‘گلستان’ اور ‘فیوچر آف فریڈم’ کا پشتو اور اردو میں ترجمہ کیا۔

وہ ایک صحافی بھی تھے۔انھوں نے صوبے میں صحافت کی بنیاد ڈالی اور صوبے میں بابائے صحافت کا لقب پایا۔سنہ 1938 میں استقلال اخبار کا اجرا ہوا اس سال آپ جرنلسٹ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ یہ اخبار تقریباً 12 سال تک شائع ہوتا رہا لیکن 1950 میں حکومت نے اس کی اشاعت پر پابندی عائد کی اس کے بعد خان عبدالصمد نے ہفت روزہ ‘پیغام جدید’ اور بعدازاں پشتو رسالے کا اجراء کیا لیکن حکومت نے اس پر بھی پابندیاں لگائیں۔ جس کے بعد آپ نے پشتو رسالے گلستان کا اجرا کیا یوں وہ مسلسل اپنی قوم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔

چندہ اکٹھا کر کے پرنٹگ پریس لگوایا

خیر محمد عارف کے مطابق حکومت نے 1936 میں پریس ایکٹ کو بلوچستان میں بھی نافذ کر دیا۔ وسائل دستیاب نہ ہونےکی وجہ سے یہاں پریس لگانا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔

لہذا عبدالصمد خان نے اس قومی فریضے کو ادا کرنے کے لیے چندہ اکھٹا کیا۔ اس کے بعد پریس لگایا اور پریس کو اپنے ساتھی اور تحریک آزادی کے مبارز یوسف عزیز مگسی کے نام سے موسوم کیا۔

پریس لگانے کے بعد انھوں نے سب سے پہلے اردو اور پشتو میں ہفت روزہ اخبار استقلال کا اجرا کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اظہار رائے کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے جس کے لیے ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہے۔

علامہ اقبال کی نظم پر زندگی کو ڈھالنے کی کوشش

ڈاکٹر رﺅف رفیقی کے مطابق عبدالصمد خان اپنی خودنوشت کے جلد اول کے صفحہ نمبر 151 اور صفحہ نمبر 152 پر گلستان کورنیکلر مڈل سکول کے زمانہ طالبعلمی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’دو چیزوں نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے جن میں علامہ اقبال کی نظم بچے کی دعا مجھے یاد تھی۔ کئی برسوں تک میں اس دعا کو دن میں دو بار دہراتا رہتا تھا تاکہ اپنی زندگی میں اس کے اثرات پا لوں ۔ اور دوسرا وہ جملہ جو میرے سینیئر طلبا نے میری لیاقت کو جانچنے کے لیے مجھے املا لکھنے کو کہا تھا ‘ایک نامی گرامی سپیکر ہونے کے لیے نیک چلن ہونا ایسا ہی ضروری ہے جیسا آئینہ کے لیے صفائی’۔ میرا یقین ہے اگر یہ دو چیزیں میرے سامنے نہ آتیں تو میں ہرگز یہ نہ بنتا جو میں ابھی ہوں۔‘

ان کے قتل کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

خان عبدالصمد خان ایک بڑے پائے کے رہنما تھے لیکن انھوں نے ذاتی محافظ نہیں رکھے اور سادگی ان کا شعار رہا۔

پروفیسر فیض اللہ نے بلوچستان یونیورسٹی کی شعبہ ابلاغیات کی سابق چیئرپرسن پروفیسر سیمی نغمانہ کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘قابل تعریف بات یہ تھی کہ سیاسی مخالفت میں انھوں نے ہر حالت میں سیاسی رویہ اور سوچ اختیار کیا۔انھوں نے کبھی کسی مرحلے میں تشدد کی راہ اختیار نہیں کی۔’

وہ لکھتی ہیں کہ ‘وہ اسلحہ اور باڈی گارڈز سے ہمیشہ بے نیاز رہے۔ وہ ہر شام اپنے گھر سے پیدل چل کر جناح روڈ آتے اور یہاں فرح ہوٹل کے کونے میں عام افراد سے گھل مل جاتے۔ دوست و احباب سے گفتگو کرتے اور لوگ ان کے قہقہے سنتے۔’

ان کو رات کی تاریکی میں قتل کیا گیا اور اس مقصد کے لیے دو دسمبر1973 کی شب اس چھوٹے سے گھر میں سوتے ہوئے ان پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا تھا۔

محمود خان اچکزئی کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری دو سال عبدالصمد خان اگرچہ جیل سے باہر رہے لیکن لوگوں کی بھلائی کی جدوجہد ان کا مشن تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22446 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments