پاکستان میں مہنگائی عالمی منڈیوں کی وجہ سے ہو رہی ہے یا حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے؟

شجاع ملک - بی بی سی اردو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہنگائی
رواں ہفتے بدھ کو پاکستان میں جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں ملک میں مہنگائی کی شرح یعنی افراطِ زر 11.5 فیصد رہی جبکہ اکتوبر میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی۔

اس 9 فیصد اور 11 فیصد کا کیا مطلب ہے اور ان میں کتنا فرق ہے؟ کیا اس سے میری موٹر سائیکل کا پیٹرول مہنگا ہو گا یا میرے کچن میں پڑی آٹے کی بوری (یا تھیلا)؟ ان نمبروں کی چکر بازی کا کیا مطلب ہے، یہ تو صرف ماہرِینِ معاشیات کو ہی سمجھ آتا ہو گا۔

یہ اعداد و شمار کتنے اچھے یا کتنے برے ہیں یہ عموماً لوگوں کو سمجھ نہیں آتا مگر عام شہریوں کو یہ ضرور سمجھ آتا ہے کہ انھیں بل جمع کرانے کی قطار میں، سبزی گوشت کی دکان پر، پیٹرول سٹیشن پر کن پریشانیوں کا سامنا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا شاید خیال یہ ہے کہ معاملات اتنے برے نہیں ہیں۔ نومبر کے ماہ میں وزیراعظم عمران خان نے ایک پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر رہا ہے۔

حال ہی میں ملک میں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی چینل پر صحافی کاشف عباسی کے شو میں کہا کہ ہاں مہنگائی ہوئی ہے اور اس کا تنخواہ دار طبقے پر اثر بھی پڑا ہے مگر پھر میں ہمارے ملک میں بجلی، تیل، گھی کی کھپت بڑھ رہی ہے۔ ‘اس کا مطلب یہ ہے کہ مہنگائی کی بات تمام طبقات کے لیے یکساں نہیں۔‘

لیکن افراطِ زر یا مہنگائی کی یہ لہر اس وقت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں کیونکہ دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح گذشتہ کچھ سالوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

امریکہ میں اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں گذشتہ سال کے مقابلے میں کنزیومر پرائس انڈیکس 6.2 فیصد بڑھی۔

سنہ 1990 کے بعد سے یہ قیمتوں میں تیز ترین اضافہ ہے۔ یورپ میں بھی جاری کردہ اعداد و شمار اکتوبر میں سالانہ افراطِ زر 4.1 فیصد رہی جو کہ گذشتہ 13 سال میں بلند ترین سطح ہے۔

https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1457240690648395777

عالمی منڈیوں میں مہنگائی کی وجہ کیا ہے؟

عالمی سطح پر اس مہنگائی کی وجوہات میں سب سے اوپر کورونا وائرس کی وبا کے اثرات بتائے جاتے ہیں۔

اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کے گلوبل اکانومسٹ میتھیو شیروڈ نے خبر رساں ادارے وکس کو بتایا کہ ‘ہر ملک میں مہنگائی کی مخصوص وجوہات اور وہاں کے مخصوص معاملات ہیں مگر ایک عنصر جو سب جگہ کچھ نہ کچھ وجہ بن رہا ہے وہ عالمی سپلائی چین (یعنی عالمی سطح پر اشیا کی آمدورفت اور مواصلات کا نظام) میں خرابی ہے جو کورونا وائرس کی وبا کا نتیجہ ہے۔‘

یونیورسٹی آف میری لینڈ میں فنانس کے شعبے کی پروفیسر سبنم کلیمی نے بھی وکس کو بتایا کہ مہنگائی ہر جگہ ہے مگر مختلف سیکٹرز میں مختلف اوقات پر سپلائی چینز میں مسائل آ رہے ہیں اور اس کا انحصار اس چیز پر ہوتا ہے کہ وبا کس ملک میں کب قابو میں آتی ہے۔‘

سپلائی چین میں مسائل کے علاوہ عالمی منڈیوں میں مہنگائی کی دو اور وجوہات بھی ہیں۔

ایک تو یہ کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ایندھن کی طلب میں کمی ہوئی تو تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کر دی۔

اب دنیا میں لاک ڈاؤنز ختم ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے تیل اور گیس کی طلب بڑھ گئی ہے۔ تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک خاص طور پر روس اپنی پیداوار کو اتنی تیزی سے بڑھا نہیں پا رہا جس کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

دوسری وجہ گندم کی پیداوار میں کمی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں موسمِ گرما میں شدید گرمی کی ایک لہر کے بعد ان ممالک کی پیداوار کو اس سال تباہ کن قرار دیا گیا ہے۔ روس میں گندم کی پیداوار میں ایک تخمینے کے مطابق 10 ملین ٹن کمی آئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں گندم کی قیمت 2012 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔

مہنگائی

دنیا بھر میں مہنگائی کی اس لہر نے پاکستان میں حکومتی حلقوں کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ دیکھیں یہ تو عالمی منڈی کی مہنگائی کہ وجہ سے ملک میں مہنگائی ہورہی ہے، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔

اوپر سے حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بڑی غریب دوست حکومت ہے کہ انھوں نے عالمی سطح پر خوردنی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا اور عالمی سطح پر ہونے والے اضافے کو برداشت کر کے صارفین کو قیمتوں میں بہت زیادہ ہونے والے اضافے سے بچایا ہے۔

مگر کیا پاکستان میں واقعی مہنگائی عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ سے ہو رہی ہے؟

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکانامکس کے محقق شاہد مہمند کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔

شاہد مہمند کا کہنا تھا کہ ’عالمی منڈیوں میں مہنگائی کا اثر تو خطے کے دوسرے ممالک پر بھی آیا ہے، جیسے بنگلہ دیش، انڈیا، دوسرے خطوں میں بھی آیا ہے امریکہ میں یورپ میں بھی مگر زیادہ تر ممالک میں یہ شرح چار یا پانچ فیصد ہے۔‘

مہنگائی

شاہد مہمند کہتے ہیں کہ بیرونی جھٹکے پاکستان میں مہنگائی لاتے ہیں مگر ملک میں مہنگائی کی بنیادی وجوہات یہ نہیں ہیں۔

تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں یہ شرح 10 فیصد کو چھونے لگی ہے؟

شاہد مہمند کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں مہنگائی کو سمجھنے کے لیے آپ کو صرف بیرونی وجوہات کو جیسے تیل مہنگا ہوگیا یا کوئی اور بیرونی جھٹکا آ گیا، صرف ان کو نہیں دیکھنا ہوا، آپ کو مہنگائی کی داخلی عناصر بھی سمجھنے پڑتے ہیں۔‘

شاہد مہمند کا کہنا تھا کہ ’مہنگائی بڑھنے میں ایک اہم عنصر جسے ہمیں دیکھنا ہوگا وہ ہے ‘منی سپلائی‘ کا یعنی پیسے کی رسد یا مارکیٹ میں روپے کی موجودگی۔‘

‘حکومت نے گذشتہ تین برسوں میں تین سے چار ٹریلین روپے اپنی معیشت میں متعارف کروا دی ہے۔ پھر آپ نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ملک کی ایگریگیٹ سپلائی (مجموعی رسد) وہ اس اضافے پر کیا ردعمل دیکھاتی ہے۔‘

ایگریگیٹ سپلائی یعنی مجموعی رسد سے مراد یہ ہوتی ہے کہ معیشت میں کسی بھی مصنوعات یا سروس کی طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کہا جاتا ہے۔ آپ نے گاڑی لینی ہے یا گندم، جو چیز آپ کو آپ کی معیشت فراہم کرتی ہے اس سب کو مجموعی طور پر ایگریگیٹ سپلائی کہا جاتا ہے۔

پاکستان

شاہد مہمند کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے معیشت میں پیسے کی رسد بڑھا کر اتنی زیادہ قوتِ خرید بڑھا دی مگر پاکستان میں اشیا کی طلب پورا کرنے کی صلاحیت کو اتنا نہیں بڑھایا جس کی وجہ سے حکومت کا یہ اقدام مہنگائی کو بڑھانے کی وجہ بنتا ہے۔

آسان الفاظ میں بات کرتے ہیں۔

فرض کریں کہ ملک میں ہر کسی کی جیب میں دس روپے ہیں اور ملک میں 100 ٹی وی موجود ہیں (بنائے گئے یا برآمد کیے گئے) اور ہر ٹی وی کی قیمت بھی دس روپے ہے۔ اس صورت میں ہر کوئی ٹی وی خرید سکتا ہے۔

اب اگر حکومت ہر کسی کی جیب میں دس دس روپے اضافی ڈال دے مگر ملک میں ٹی وی رہیں صرف 100 تو ان کی قیمت بڑھے گی کیونکہ خریدار کے پاس قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے لیکن مطلوبہ اشیا کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔ ہاں اگر حکومت ساتھ میں کوئی ایسی پالیسی لائے کہ ملک میں 200 ٹی وی آ جائیں تو پھر شاید قیمت دس روپے ہی رہے۔

اسی طرح اگر حکومت کے امدادی پیکجز اگر پیداواری کاموں میں استعمال نہ ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ہم عام الفاظ میں مہنگائی کہتے ہیں۔

تو پاکستان میں منی سپلائی بڑھانے سے پیداوار کیوں نہیں بڑھتی؟

شاہد مہمند کہتے ہیں کہ ‘پاکستان میں یہ جو ہماری مجموعی رسد ہے وہ طلب کے مقابلے میں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتی نہیں ہے۔‘

’مثال کے طور پر ہم نے کاروں کی صنعت کو پروٹیکشنسٹ پالیسیوں کے ذریعے فائدہ دیے ہوئے ہیں کہ یہ صنعت ابتدائی مراحل میں ہے۔ کوئی ابتدائی مراحل میں نہیں، یہ لوگ اربوں بناتے ہیں۔ ہمارے زراعت کے شعبے میں درجنوں تحقیقی ادارے ہیں مگر ہماری آبادی میں اضافے کے تناسب سے ہماری زراعت کی پیداوار تقریباً ایک دہائی سے ساکن ہے۔ ادھر آپ تین کھرب کی قوتِ خرید بڑھا دیں، ادھر آپ کی مجموعی رسد ساکن ہے تو افراطِ زر تو بڑھے گی۔‘

مگر تقریباً گذشتہ دو سال سے تو دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور پاکستانی حکومت ایسے میں ملک کی معیشت میں پیسے نہ ڈالے تو اور کیا کرے؟ دنیا بھر میں حکومتوں نے اپنے شہریوں کو ایسے ہی ریلیف پیکج دیے ہیں۔

اس سوال کے جواب پر صحافی خرم حسین کہتے ہیں کہ اس میں اہم بات یہ ہے کہ آپ پیسے کی رسد کتنی بڑھاتے ہیں اور کتنے عرصے تک اسے بڑھانے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔

مہنگائی

ان کا کہنا تھا کہ ‘پیسے کی رسد کو درست انداز میں بڑھانا اہم تھا۔ اس کے علاوہ بات یہ بھی ہے کہ آپ نے کووڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے کو اقدامات کیے ہیں وہ کس قدر سخت تھے۔ ‘

’جن ممالک میں طویل لاک ڈاؤن تھے اور پھر انھوں نے امدادی پیکج دیے وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی اور راستہ نہیں تھا مگر پاکستان میں تو کووڈ کے لاک ڈاؤن چند ہفتوں کے بعد ہی ختم ہونا شروع ہو گئے تھے، ایک ایک کر کے صنعتیں کھلا شروع ہو گئی تھیں اور باوجود اس کے کہ اس وقت ہم کورونا وائرس کی پہلی لہر کے عروج پر تھے، جون کے آخر تک زیادہ تر چیزیں کھل چکی تھیں۔‘

خرم حسین کا کہنا ہے کہ ‘پاکستان میں شاید اتنے بڑے امدادی پیکج کا جواز نہیں بنتا تھا۔ دوسرا یہ کہ آپ کے پاس امدادی پیکج کے لیے غیر ملکی فنڈنگ بھی موجود تھی۔ تیسرا یہ کہ آپ نے اس امداد پیکج کو بہت طویل عرصے تک جاری رکھا، یہاں تک کہ افراطِ زر کی شرح میں اضافے کا عمل شروع ہونے کے بعد بھی یہ جاری رہا۔‘

خرم حسین کہتے ہیں کہ ‘ایک وقت آیا کہ یہ کووڈ کا امدادی پیکج ہونا بند ہوگیا اور حکومت نے اس کو گروتھ بڑھانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ حکومت کو اس چیز کی لت لگ گئی تھی، کاروباری برادری تالیاں بجانے لگیں، معیشت کے پہیہ چلانا شروع ہوگئے اور وہ خوش ہوتے رہے۔ انھیں یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ سب تو امدادی پیکج کی وجہ سے ہو رہا ہے۔‘

‘جب مانیٹری پالیسی کی وجہ سے پیسے کی رسد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے تو پہلے اسسے گروتھ بڑھتی ہے، پھر آپ کی کرنسی کی قدر پر دباؤ بڑھتا ہے اور پھر مہنگائی پہلے ان اشیا پر اثر انداز ہوتی ہے جو درآمدات پر منحصر ہوں اور پھر آخر میں پوری معیشت میں افراطِ زر بڑھتی ہے۔ آج ہم آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22517 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments