شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعہ اہل اسلام کے ہاں بہت مبارک دن خیال کیا جاتا ہے۔ اس دن سارا سوشل میڈیا فیس بک میسنجر، واٹسایپ، ٹویٹر اور انسٹاگرام جمعہ مبارک کے سجے سجائے پیغامات سے بھرے ہوتے پیں۔ مسلمانوں کے گھروں میں خاص ماحول بنا ہوتا ہے۔ بچے بڑے سب نہا دھو کر اجلا سفید لباس پہن کر مساجد کا رخ کرتے ہیں۔ اور ایک خاص پر تقدیس ماحول بنا ہوتا ہے۔

مگر مورخہ 3 دسمبر 2021 کو شہر اقبال سیالکوٹ میں جمعہ ایک مختلف طریقے سے منایا گیا۔ سیالکوٹ کے نواحی علاقے اگوکی میں ایک بڑی سپورٹس فیکٹری راجکو انڈسٹریز جس نے گزشتہ ٹی ٹونٹی کپ کے موقع پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہری جرسی اور گیئر تیار کیے تھے کے بزنس مینجر جنہیں ایک سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے نام سے شناخت کیا گیا ہے کو توہین مذہب کا بہانہ بنا کر فیکٹری کے اندر غنڈہ عناصر نے جنہیں فیکٹری ورکرز کا نام دیا جا رہا ہے، دفتر سے نکال کر لوہے کے راڈ اور ڈنڈے جو بھی کسی کے ہاتھ لگا مار مار کر قتل کیا اس کے بعد نا جانے کس یزیدی فقہ کے مطابق لاش کے کپڑے اتار کر برہنہ کیا گیا اور پھر شیطان کے پیروکار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے لاش کو گھسیٹ کو فیکٹری سے باہر مین وزیر آباد روڈ پر لا کر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ کچھ عینی شاہدین کے مطابق اس وقت تک متوفی کے جسم میں ابھی کچھ جان باقی تھی مگر اس ہجوم میں انسانیت باقی نا تھی لہذا انتہائی بیدردی کے ساتھ شعلوں کو مزید پٹرول بہم پہنچایا جاتا رہا۔

وہاں لگی آگ سے دھوئیں کے بادل نہیں پاکستانیوں کی بطور وحشی جاہل قوم دنیا بھر میں ذلت رسوائی اور نفرت و حقارت کے اشتہار بلند ہو رہے تھے۔ باقی ہجوم بے حسی کا بدبودار اور گھناؤنا مظاہرہ کرتے ہوئے سمارٹ فونز کے ذریعے اس ہولناک منظر کی عکس بندی میں مشغول تھا تا کہ اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اسے اپلوڈ کیا جا سکے۔

وحشت اور بربریت کا یہ کھیل جو فیکٹری میں کام کرنے والے جواں سال کارندوں اور کاریگروں نے شروع کیا تھا بہت جلد اس میں فون کالز کے ذریعے ارد گرد کے علاقوں سے مذہبی سیاسی تنظیم تحریک لبیک کے کارکنوں اور حامیوں کو بھی طلب کر لیا گیا اور یوں یہ ہجوم بڑھتا چلا گیا۔

یہ دلخراش وحشیانہ اور ہولناک موت کا کھیل دو گھنٹے تک جاری رہا اور آدھ کلومیٹر پر موجود پولیس تھانہ کے اہلکار حسب معمول کسی خاص مصروفیت میں مگن رہے اور بروقت موقع واردات پر نا پہنچ سکے اور جب پہنچے تو وہ بھی خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہے کیونکہ پولیس کچھ عرصہ قبل ہی اسی کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے وفاداروں کے ہاتھوں اپنے بھائی بند شہید کروا چکی ہے جن کے قاتلوں کا سراغ تک حکومت نہیں لگا سکی تھی بلکہ ذلت آمیز طریقے سے پہلے اس تنظیم سے کالعدم کا لیبل واپس لیا گیا پھر اس کے تمام فورتھ شیڈول میں گرفتار کیے گئے کارکنوں کو بھی باعزت بری کیا گیا مزید ذلت اس وقت سامنے آئی جب حکمران جماعت کے پنجاب کے سربراہ اس تنظیم کے امیر کی رہائی کے بعد اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کرنے اس کے ہاں حاضر ہوئے۔

اس طرح قاتل ہجوم پورے مذہبی جوش و جذبے اور ایمان کی قوت کے ساتھ بڑے اطمینان اور سکون سے اپنی وحشتوں کو جلا بخشتا رہا۔ ایک بے گناہ غیر ملکی اس ملک کی سڑک پر سوختہ ہو گیا اور اس کے ورثا کی بجائے اس کا انتم کریا کرم خود مسلمانوں نے کر دیا۔

اس کے بعد معمول کے حکومتی ڈرامے شروع ہو گئے۔ وزیر اعظم کا ٹویٹ جو ایسے ہر موقع پر لازم آتا ہے جیسے ساہیوال سانحے پر بھی آیا تھا اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے دعوے اور مذمتی بیان داغے جانے لگے اور معاونین کی پریس کانفرنسیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے کھوکھلے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ دو چار دن میڈیا ایسے واقعات پر توجہ دیتا ہے مگر پھر لوگ بھول جاتے ہیں۔ کچھ حلقے وزیر اعظم کی مذمت کو قابل مذمت قرار دے رہے ہیں کیونکہ انہی وزیر اعظم کی حکومت نے حال ہی میں ایک کالعدم مذہبی جماعت کو نا صرف دوبارہ قانونی قرار دیا ہے بلکہ ان کے ریاست کے خلاف کیے گئے تمام جرائم سے بھی صرف نظر کیا ہے۔

سیالکوٹ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے پندرہ اگست دو ہزار دس کو تقریباً اسی وقت سیالکوٹ کے ایک نواحی موضع بٹر کے قریب دو حافظ قرآن بھائیوں منیب اور مغیث بٹ کو ہجوم نے انتہائی اذیت ناک طریقے سے قتل کیا تھا اور نعشوں کی بے حرمتی کی تھی ٹریکٹر ٹرالی کے پیچھے باندھ کر گاؤں گاؤں گھمایا گیا تھا۔ تب ایس پی سیالکوٹ وقار جب اطلاع ملنے پر جائے واردات پر پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ لوگوں نے دو ڈاکووں کو واردات کے بعد پکڑ لیا ہے۔

جس پر ایس پی نے ہجوم کو شاباش دی۔ اور اس شاباش کے بعد انتہائی بہیمانہ طریقے سے جسمانی تشدد کر کے دو نوجوان سگے بھائیوں کو محض شک کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کی بھی ملک بھر میں شدید مذمت ہوئی تھی اور اخبارات میں مضامین اور اداریے لکھے گئے تھے۔ تب بھی ہجوم میں سے کچھ زیادہ متحرک لوگوں کو شناخت کر کے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے ایک عرصہ تک مقدمات عدالتوں میں چلتے رہے۔ ایس پی وقار چوہان پہلے برطرف ہوا پھر بحال بھی ہو گیا۔ اسی طرح دوسرے ملزمان کو بھی کوئی خاص سزا نہیں ہو سکی ہے۔

اس تازہ واقعے میں مذہب کا عنصر شامل کیا گیا ہے حالانکہ واقعہ ذاتی رنجش کا نتیجہ تھا ایک کاریگر کے ساتھ مینجر کی کام کے حوالے سے کچھ تلخ کلامی ہوئی تھی جسے اس کاریگر نے کامیابی سے مذہبی رنگ دے کر ذاتی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔ ذاتی جھگڑوں کے بعد مذہب کا سہارا لینے کا بھی یہ کوئی اولین واقعہ نہیں۔ مشہور و معروف آسیہ کیس بھی اسی نوعیت کا تھا جس میں کچھ مسلمان ساتھی عورتوں نے پانی کا گلاس پیش کرنے پر اسے چوڑی کہہ کر مخاطب کیا اور بعد میں الٹا اسی کو توہین مذہب کے مقدمے میں پھنسا دیا۔ جس نے ملکی تاریخ میں بھونچال برپا کیے رکھا اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر ایک بے گناہ کی ہمدردی کی سزا اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بھگت چکے۔ بعد ازاں پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملزمہ آسیہ کو الزامات سے بری کیا تو سپریم کورٹ کے خلاف بھی اسی مذہبی سیاسی تنظیم نے احتجاج کیا۔

اسی طرح 15 مارچ 2015 کو یوحنا آباد لاہور میں مشتعل غیر مسلم ہجوم نے دو راہگیر مسلمانوں کو سڑک پر تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا تھا۔ ان کی سوختہ لاشیں بھی مذاہب کی انسان دوستی کے دعووں پر زبردست طمانچہ دکھائی دیں۔ اس واقعے کے ذمہ داران کو بھی تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔

پنجاب کی دھرتی جو کبھی مادھو لعل حسین اور اور وارث شاہ، میاں میر اور گورو نانک جیسے سپوتوں پر فخر کیا کرتی تھی اور مذہبی رواداری اور ہم آہنگی دیہی ثقافت کا جزو خاص ہوا کرتی تھی آج مذہبی انتہا پسندی کے چنگل میں پھنس چکی ہے خصوصاً رورل پنجاب مذہبی عدم برداشت اور انتہا پسندانہ رویوں کا شکار ہو چکا ہے۔ فرقہ واریت عروج پر ہے۔ نوجوان اس تبدیل شدہ سماج کے سب سے بڑے متاثرین ہیں۔ جنہیں تمام مذہبی اور سیاسی گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے آئے دن استعمال کرتے ہیں۔

پنجاب کے لوگ آج بھی ثقافتی طور پر باہم جڑے ہوئے ہیں۔ لوگ آج بھی ایک دوسرے کا حتی کہ اجنبیوں کا بھی خاص دھیان رکھتے ہیں آپ سڑک پر اکثر یہ منظر دیکھتے ہوں گے کہ کسی کو اگر اپنی موٹر سائیکل کا سٹینڈ اٹھانا یاد نا رہے تو ہر کوئی آواز دے کر اسے سٹینڈ اٹھا لینے کا یاد دلاتا ہے مبادا اسے کوئی حادثہ نا پیش آ جائے۔ کسی خاتون کا دوپٹہ یا برقع موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے ہوئے لٹک رہا ہو تو آس پاس سے گزرنے والے اسے پلو اٹھانے کا بولتے ہیں۔

کسی کے ساتھ کوئی معمولی سا حادثہ بھی پیش آ جائے تو فوراً لوگ دوڑے دوڑے مدد کو چلے آتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ یہی لوگ کسی زندہ انسان کو وحشیانہ طریقے سے پہلے ماریں قتل کریں پھر لاش کو نذر آتش بھی کریں۔ راقم نے گہرے مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ منیب مغیث برادران کا قتل ہو، مشعل خان کا المناک واقعہ ہو یا یہ حالیہ واقعہ ہو مرکزی ملزمان مخصوص اور چنیدہ ہوتے ہیں۔ وہی ہجوم کو مشتعل بھی کرتے ہیں وہی خود تشدد میں پیش پیش ہوتے ہیں اور وہی چند لوگ ایسے دلخراش واقعات کے خالق بھی ہوتے ہیں۔

اگر ریاست ان چند لوگوں کو ان کے منتقی انجام تک پہنچا دے اور عبرت کا نشانہ بنا دے تو آئندہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ آج تک نا مشعل خان کے کسی ایک قاتل کو انجام تک پہنچایا گیا نا منیب مغیث کا کوئی قاتل کیفر کردار کو پہنچا۔ قانون اور ریاست کے ان نرم اور لچکدار رویوں نے ایسے وحشی عناصر کے حوصلے بڑھائے ہیں اب ہر کوئی قانون کو مذاق سمجھتے ہوئے اس سے لاپروا ہو کر جرم کا کھلے عام ارتکاب کرتا ہے۔

ریاست پاکستان اپنے غیر واضح اور مبہم بیانیوں کا شکار ہو کر کمزوری اور ناتوانی کا ثبوت دے چکی ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل نمودار ہونے والی سنی عقیدہ کی حامل تحریک لبیک نے ایک انتہائی حساس اور جذباتی مذہبی نعرہ لبیک یا رسول اللہ اپنا کر اپنے گرد بہت انبوہ کثیر جمع کر لیا ہے جو جذبات کی آخری حدود کو چھوتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے ریاستی ادارے پولیس کے اہلکاروں کو قتل تک کرنے سے نہیں چوکتا۔ اس سے پہلے ستر سالہ تاریخ میں یہ منظر کبھی دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔

ریاست سنی مذہبی جماعتوں کے جارحانہ انداز سیاست سے شدید خائف نظر آتی ہے۔ اور اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے دھرنوں سے طاقت کی بجائے مک مکا کے ذریعے نبٹنے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ لیکن اپنی کمزوریاں اجاگر کرتے ہوئے ریاست انتہا پسند جتھوں کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو ریاست کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ سمجھنے سے قاصر نظر آتی ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایک حیران کن تبدیلی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے والوں کی اکثریت نے سیالکوٹ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ ٹویٹر پر سری لنکا، سیالکوٹ، دہشت گردی بند کرو ٹی ایل پی اور سعد حسین رضوی نامی ٹرینڈز پر لاکھوں سوشل میڈیا صارفین نے سیالکوٹ واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے اور شاید ہی کسی نے اس کی حمایت میں ٹویٹ کیا ہو۔ یہ ایک واحد پہلو ہے جو حوصلہ افزا امید پرور اور مثبت دکھائی دیتا ہے۔

عوام کی اکثریت نے حسب معمول مذہبی انتہا پسندی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے بہت متوازن رائے کا اظہار کیا ہے۔ انتہا پسندی کو کبھی بھی بطور سماج پاکستانی معاشرے نے نہیں سراہا اور ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے۔ پاکستانی عوام میں سری لنکا کے حوالے سے ویسے بھی اچھے جذبات پائے جاتے ہیں۔ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر جب لاہور میں حملہ ہوا تھا اس پر بھی پوری قوم نے یک آواز ہو کر اس دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کی تھی اور پھر جب سب کرکٹ کھیلنے والے ممالک نے سیکورٹی تحفظات کے نام پر پاکستان آنے سے اور کرکٹ کھیلنے سے معذرت کی تھی تب سری لنکن ٹیم نے پاکستان کا دورہ کر کے کرکٹ شائقین کے ساتھ پوری قوم کے دل جیت لئے تھے مگر پنجاب میں زہر آلود شدت پسند نظریات کی حامل مذہبی جماعتیں بدستور پاکستان کی نا صرف داخلی سلامتی کے لئے مستقل خطرہ بن کر منڈلا رہی ہیں بلکہ ایسے ہر واقعے سے دنیا بھر میں نا صرف مذہب اسلام بلکہ ملک و قوم کی شدید بدنامی اور ذلت ہو جاتی ہے جس کا براہ راست اثر ملکی برآمدات پر پڑتا ہے۔

لوگ ایک غیر مہذب غیر انسانی وحشیانہ حرکات میں ملوث لوگوں کے ملک کے ساتھ کاروباری روابط رکھنا پسند نہیں کرتے عام آدمی کے بیرون ملک جانے اور تعلیم و ترقی کے چانسز عنقا ہو جاتے ہیں۔ اگر ریاست نے اپنی ڈھیلی ڈھالی پالیسی ترک نا کرتے ہوئے ان جماعتوں کا قلع قمع کرنے میں ابھی بھی سستی دکھائی تو پھر خاکم بدہن نتائج خوش کن ظاہر نہیں ہوں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments