گوادر میں احتجاجی دھرنا جاری، پانچ ہزار سکیورٹی اہلکار علاقے میں پہنچ گئے

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پورٹ کی تعمیر کے لیے چینی کارکنوں کی آمد کے بعد سے وہاں کے لوگوں کے لیے سخت سیکورٹی کے حوالے سے اقدامات غیرمعمولی بات نہیں تھیں لیکن اب حکومت نے وہاں دھرنے اور احتجاج کے پیش نظر پولیس کی پانچ ہزار سے زائد کی نفری بھیج دی ہے۔

گوادر شہر اور اس کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ کسی احتجاج کے تناظر میں پولیس اہلکاروں کی یہ سب سے بڑی تعیناتی ہے۔

گوادر کے مقامی صحافی سلیمان ہاشم نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری آنے سے شہر اور دھرنے کے مقام پر بظاہر خوف کا کوئی ماحول نہیں ہے۔

گوادر کے ایک اور شہری نثار مراد نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری بھیجنے سے یوں لگتا ہے کہ یہاں کے لوگ حکومت کی ترجیح نہیں ہیں ۔

تاہم بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میرضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری بھیجنے کا مقصد وہاں کسی کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکاءکے مطالبات تسلیم کیئے گئے ہیں اس لیے دھرنے کو ختم کیا جانا چائیے ۔

تاہم حق دو تحریک، جس کے زیر اہتمام یہ دھرنا دیا جا رہا ہے کے قائد مولانا ہداہت الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت مطالبات کے حوالے سے عملی اقدامات کرے تو ہم دھرنے کو ختم کرنے میں ایک منٹ کا بھی تاخیر نہیں کریں گے ۔

یہ بھی پڑھیئے

سی پیک کو ’پنجاب، چین اقتصادی راہداری‘ قرار دینے والے مولانا اور گوادر دھرنا

گوادر کی مچھلیوں کے گرد گھومتی معیشت اور ماسی مہاتون کی کہانی

باہر کے علاقوں سے بھیجی جانے والی پولیس کی گوادر کے مختلف علاقوں میں تعیناتی

محکمہ پولیس کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق گوادر میں باہر سے مجموعی طور پر 5500 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ان میں سے 2200اہلکاروں کا تعلق بلوچستان کانسٹیبلری سے ہے جبکہ باقی اہلکاروں کا تعلق ریگولر پولیس سے ہے۔

ریگولر پولیس کے اہلکار جعفرآباد ، مستونگ ،زیارت، پنجگور، خضدار، تربت، نصیرآباد ،قلات ،کچھی ، خاران ،سبی اور لسبیلہ سے بھیجے گئے ہیں۔گوادر شہر اور ضلع گوادر کے دیگر علاقوں میں ان کی تعیناتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

سماجی رابطوں کی میڈیا پر ایک ویڈیو میں کراچی اور گوادر کے درمیان اورماڑہ میں باہر سے بھیجے جانے والے پولیس کے اہلکاروں میں بعض کی رہائش کا انتظام ایک سرکاری سکول میں کیا گیا ہے اور یہ اہلکار سکول کے کمروں میں نظر آرہے ہیں۔

گوادر کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میںہوتا ہے جہاں اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی تعطیلات گرمیوں میں ہوتی ہیں۔

گوادر شہر کے مشرق میں 25کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سربندن کے علاقے سے تعلق رکھنے والے نصیب اللہ نوشیروانی نے بتایا کہ جب وہ گزشتہ شب دھرنے میں شرکت کے بعد واپس اپنے گھر جا رہے تھے تو انہوں نے ساحلی شاہراہ پر پولیس کی گاڑیوں کو گوادر شہر کی جانب جاتے دیکھا۔

پولیس کی بھاری نفری آنے کے بعد گوادر شہر بالخصوص دھرنے کا ماحول کیسا ہے؟

گوادر کے مقامی صحافی سلیمان ہاشم نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری کی آمد اور ان کی تعیناتی سے عام لوگ اور دھرنے کے شرکاخوفزدہ نہیں ہیں۔

‘گوادر میں اس وقت جو دھرنا چل رہا ہے وہ انتہائی پرامن ہے ۔نہ صرف گزشتہ 21روز سے یہ دھرنا جاری ہے بلکہ ’حق دو ‘کی تحریک کی کال پرتین بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں بچوں اور خواتین کی تاریخی ریلیاں بھی شامل تھیں’۔

انہوں نے بتایا کہ دھرنے کے باجود شہر میں معمول کی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ دکانیں کھلی ہیں بلکہ دھرنے کے قریب دکانداروں کی کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنے اور اس کے حوالے سے ریلیوں کے دوران شہر میں ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا لیکن اس کے باوجود یہاں پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کی گئی جو کہ سممجھ سے بالاتر ہے۔

سلیمان ہاشم کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئٹہ کے قریب کسی علاقے سے آنے والے ایک پولیس اہلکار سے یہ پوچھا کہ وہ کس لیے یہاں آئے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ انہیں یہاں کیوں لایا گیا کیونکہ یہاں بظاہر ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔

دھرنے میں شریک نصیب اللہ نوشیروانی نے بتایا کہ دھرنے کے شرکا پولیس کی اضافی نفری کی تعیناتی سے کسی طرح بھی خوفزدہ نہیں ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے خلاف کسی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر گزشتہ شب مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے کے شرکا سے کہا تھا کہ اگر کوئی جانا چاہتا ہے تو انہیں ان کی طرف سے اجازت ہے لیکن وہ خود مطالبات پر عملدرآمد تک دھرنا ختم نہں کریں گے خواہ اس کے لیے انہیں اکیلا ہی کیوں بیٹھنا نہ پڑے ۔

‘مولانا کے اس اعلان کے بعد لوگ مزید جذباتی ہوگئے اور انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی یہاں سے نہیں جائے گا’۔

گوادر شہر کے علاقے سادھو بند کے رہائشی 33سالہ نثار مراد نے بتایا کہ گزشتہ شب پولیس اہلکار دھرنے کے بہت زیادہ قریب نہیں بلکہ تھوڑے فاصلے پر آئے تھے لیکن آج صبح جب وہ آئے تو دھرنے کے قریب پولیس اہلکاروں کو نہیں دیکھا۔

‘پولیس کے آنے سے ہمیں کوئی خوف نہیں ہے ہم اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج جاری رکھیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج تین ہفتوں سے جاری ہے لیکن یہاں کے لوگوں کی چیخ و پکار کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں وزیروں اور سرکاری حکام کے وفود آئے اور انہوں نے بتایا کہ گوادر کے عوام کے جو مسائل ہیں وہ دوتین دن میں حل کیے جائیں گے لیکن حل کے لیے اقدامات نظر تو نہیں آئے مگر پولیس کی بھاری بھیج دی گئی۔

‘ پولیس کی بھاری نفری بھیج کر یہ باور کرایا جارہا ہے کہ گوادر کے لوگ حکومت کی ترجیح نہیں ہیں’۔

گوادر، دھرنا، ہدایت الرحمان

مولانا ہدایت الرحمان کہتے ہیں کہ نوٹیفیکیشنز کے اجرا کے باوجود عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے عوام کو اپنے معاش کے لالے پڑ گئے ہیں لیکن معاش کے حوالے سے مسائل کو حل تو نہیں کیا گیا لیکن صرف ایک مطالبے پر عمل نظر آیا جو کہ شہر میں شراب کی دکانوں کی بندش کا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام نے عزم کیا ہے کہ وہ تمام مطالبات پر عملدرآمد کے بعد ہی احتجاج کو ختم کریں گے ۔

پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے حوالے سے سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

سینیچر کے روز بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کیے تھے ۔

مذاکرات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ پولیس کی نفری یہاں کسی کے خلاف کاروائی کے لیے نہیں بھیجی گئی ہے بلکہ اضافی نفری یہاں حفظ ماتقدم کے طور پر بھیجی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت دھرنے کو زبردستی اٹھانا چاہتی تو پہلے دن اٹھاسکتی تھی اورحکومت کے لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیس دنوں سے لوگ یہاں دھرنے پر بیٹھے ہیں ۔’ جب لوگ یہاں بیٹھے ہیں تو کچھ اور بھی ہوسکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گوادر نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کا ایک اہم علاقہ ہے ۔کل خدانخواستہ یہاں کچھ ہوجائے تو لوگ پھر یہی کہیں گے کہ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

مکران ریجن کے پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی نے بتایا کہ جہاں تک دھرنے کی بات ہے وہ تو پر امن ہے لیکن کوئی بھی شرپسند اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اس لیے پولیس کی اضافی نفری یہاں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرے گا تو اس وقت کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی ۔

دھرنا کیوں ختم نہیں کیا جارہا ہے؟

گوادر میں ’حق دو‘ تحریک کے زیر اہتمام جو دھرنا اور احتجاج کیا جارہا ہے اس کی جانب سے مجموعی طور پر 19مطالبات پیش کیے گئے ہیں ۔

ان میں سب سے اہم مطالبات بلوچستان کی سمندری حدود سے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کے خاتمے اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر عائد پابندی کے خاتمے کے مطالبات پر مشتمل ہیں ۔

جہاں 15نومبر سے ان مطالبات کے حوالے سے دھرنا جارہی ہے وہاں شہر میں تین ریلیاں نکالی گئیں جن میں مردوں کے کفن پوش جلوس کے علاوہ خواتین اور بچوں کی ریلیاں شامل تھیں ۔

بچوں اور خواتین کی جو ریلیاں نکالی گئیں مبصرین کی مطابق وہ نہ صرف گوادر بلکہ بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلیاں تھیں۔

مشیر برائے داخلہ سے قبل وزراءکے دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کے جو دور ہوئے تھے ان میں اہم مطالبات کو تسلیم کرنے کے حوالے سے چار نوٹیفیکیشن جاری کیئے گئے تھے ۔ان میں سے ایک نوٹیفیکیشن بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے زریعے ماہی گیری پر پابندی اور ان کے خلاف کاروائی ، دوسرا سرحد پر نقل وحمل کی مانیٹرنگ فرنٹیئر کور کی بجائے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے، کوسٹ گارڈ کی تحویل میں لوگوں کی جو گاڑیاں ہیں ان کو چھڑانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معاونت فراہم کرنے اور گوادر میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شراب کی دکانوں کو تاحکم ثانی بندکرنے سے متعلق تھے ۔

ان نوٹیفیکیشنز کے اجراءکے بعد دھرنے کے شرکا نے شاہراہوں کی بندش کے اعلان پر عملدرآمد کے فیصلے کو موخر کرنے کا اعلان تو کیا مگر دھرنے کو ختم نہیں کیا ۔

ان نوٹیفیکشنزکے اجرا کے بعد وزراءکی جانب سے شرکاسے دھرنے کو فوری طور پر ختم کرنے کا کہا مگر دھرنے کے شرکا نے کہا کہ وہ تین دن تک ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد دھرنے کو ختم کرنے یا جاری رکھنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے ۔

ان وزراء کے بعد گزشتہ جمعہ کے روز مشیر برائے داخلہ نے بھی دھرنے کے شرکاسے مذاکرات کیے اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ جب مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں تو دھرنے کو ختم کیا جائے مگر دھرنا ختم نہیں کیا گیا۔

نوٹیفیکشن کے باوجود دھرنے کو کیوں ختم نہیں کیا گیا؟

دھرنے کے ختم نہ کرنے سے متعلق سوال سینیچر کو مولانا ہدایت الرحمان نے بتایا کہ مطالبات تسلیم کرنے اور عملدرآمد میں فرق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی وزراء یہ کہتے ہیں کہ مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں لیکن ہمارا یہ کہنا ہے کہ مطالبات پہلے بھی تسلیم کیے گئے تھے لیکن عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہاں مزاکرات کے لیے آنے والوں کو بتایا کہ جو ٹرالر مافیا اور بارڈر مافیا ہے وہ ان سے زیادہ طاقتور ہیں اس لیے مطالبات پرعملدرآمد نہیں ہورہا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی ماہی گیری اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر پابندیوں سے گوادر اور مکران کے لوگوں کے معاش اور روزگار کے ذرائع ختم ہوگئے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکا عملی اقدامات اور عمل درآمد چاہتے ہیں یہ لوگ عملدرآمد کرائیں تو ہم دھرنے کو ختم کرانے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کریں گے ۔

دھرنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے کوئٹہ میں جو اجلاس ہوا اس میں کمشنر مکران نے گوادر دھرنے سے متعلق صورتحال پر بریفنگ دی۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔

حکومت نے دیگر آپشن ہونے کے باوجود صبر تحمل کے ساتھ دھرنے کے شرکا سے مزاکرات کا عمل جاری رکھا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی وزراءاور اعلیٰ حکام نے گوادر دھرنے کے شرکاءکے ساتھ مزاکرات کے چار راﺅنڈ کیئے اور مزاکرات میں طے پائے گئے امور پر عملدرآمد کا سلسلہ شروع ہے ۔

محکمہ ماہی گیری نے کوسٹ گارڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف موثر اقدامات کیے ہیں اور غیر قانونی ٹرالنگ کا بہت حد تک سد باب کیا ہے اور اس میں ملوث افراد کو قید و جرمانے کی سزائیں دی جارہی ہیں ۔

اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈرز سے باہمی اعتماد کی فضا میں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے تاہم دھرنے کے مطالبات میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ مناسب عمل نہیں ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوشش اور خواہش ہے کہ تمام امور کو باہمی اتفاق رائے سے حل کر لیا جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں تربت میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بارڈر ٹریڈ کھولنے کے لیے تمام امور طے پا گئے جن پر جلد عملدرآمد کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور اسکا فائدہ تربت گوادر پنجگور اور واشک کے عوام کو پہنچے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ بیروزگاری تمام مسائل کی جڑ ہے اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو ملک دشمن بیروزگار لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوامی خواہشات کے احترام میں شاہراہوں پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا گیا ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22494 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments