کیا عورتیں آپ کو دیکھ کر دوپٹہ درست کرتی ہیں


مجھے ذاتی طور پر سر پر دوپٹہ لینا پسند ہے اور خالصتاً اپنی مرضی سے۔ مجھے رنگ برنگے، ہلکے بھاری، لمبے چوڑے پھولوں اور بیلوں والے دوپٹے بھی بہت پسند ہیں اور سب سے پسندیدہ امر یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کسی بھی انداز سے دوپٹہ لیا جائے اور کسی کی ناگوار نگاہوں کے خوف کے بنا لیا جائے۔ ایک وقت تھا جب اس طرح کی باتیں بہت عام تھیں جو کہ آج بھی ویسی ہی عام ہیں کہ جو لڑکی لڑکے کو دیکھ کر دوپٹہ درست کرے وہ بہت خراب لڑکی ہوتی ہے۔ ایک جانب بچیوں کو ہر پل دوپٹہ درست رکھنے کی چٹنی چٹائی جاتی تھی تو دوسری جانب اس چیز کی بھی خوب مانگ بڑھائی گئی کہ جو لڑکیاں یوں دوپٹہ درست کرتی ہیں وہ لڑکوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی نیت سے کرتی ہیں، گویا وہ لڑکیاں ”خراب“ ہو جاتی ہیں۔

دوسری جانب کم عمری سے ہی لڑکیوں کی سمجھ بوجھ کو یہ رٹایا جاتا ہے کہ ان کی دوسروں کے سامنے حرمت اور توقیر تب ہی بڑھتی ہے جب وہ اپنی پارسائی کا برملا اظہار کریں گی۔ دوسروں کی نظر میں خود کو پارسا اور نا خراب لڑکی کی حیثیت جتوانے کی غرض سے کم عمر لڑکیوں کو زندگی میں اپنا دوپٹہ درست کرنے کے سوا اور کوئی فکر ہی نہیں ہوتی۔ اسکول اور کالجز میں کم عمر لڑکیاں ہر دوسرے پل میں اسکول کی وردی کے دوپٹے کو ہی دائیں بائیں سے درست اور سامنے سے بل دیتی نظر آتی ہیں۔ آپس میں بھی گفتگو کے دوران بھی دوپٹے میں مزید سے مزید سلوٹیں ڈالتی نظر آئیں گی۔ یہ ہم نے بھی کیا ہے، ہمارے سامنے ہماری ہم جماعتوں نے بھی اور آج بھی خوب دیکھنے کو ملتا ہے۔ غیر تحفظ کا جو احساس ہلکا سا دوپٹہ سرکنے اور سلوٹ کھلنے سے ہوتا تھا، وہ آج بھی یادوں میں تازہ ہے۔ اس سب کی وجہ معاشرتی قبولیت اور شعور میں بٹھایا گیا وہ خوف ہے جو کہیں ان کے کردار کو اساتذہ، عزیز و اقارب، اور ہم جماعت لڑکوں کے سامنے داغدار نہ کر دے۔ افسوس کہ بچیوں کو اسکول میں قبولیت کے حصول کے لئے امتیازی نمبر اور مقابلے ہی نہیں جیتنے پڑتے بلکہ دوپٹوں کی معاشرتی طور پر مقبول ساخت کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔

ادب میں موجود کہانیوں اور ٹی وی پر دکھائے جانے والے ان ڈراموں نے بھی اس سوچ کی عمارت میں خوب اینٹیں لگائی ہیں اور لڑکے کے سامنے لڑکی کے دوپٹے کی درستگی کو رومان اور پاکبازی کا رنگ دیا ہے۔ ایک کم عمر لڑکے کی سوچ ویسی کیوں ہے جس کے خوف سے اس کی ہم عمر بچی کو پل دو پل دوپٹہ درست کرنا پڑے؟ دوپٹہ درست کرنے میں کوئی برائی نہیں مگر اس کو ہم پر ایک بیماری کی طرح لاگو کرنا کہیں کی انسان دوستی بھی نہیں۔ ان محرکات سے جڑے نفسیاتی مسائل کی تو بحث بھی سرے سے موجود نہیں۔ ہماری زندگیاں آنے والے وقت میں ان مسائل سے کیسے متاثر ہوتی ہے کسی کو ادراک تک نہیں اور حجابوں اور آنچلوں کے پار دیکھنے والے ان مسائل کو کبھی ٹھیک ہونے بھی نہیں دیتے۔

یہ بھی انہونی بات نہیں کہ گھر میں شروع سے ترکیب بھی یہی دی جاتی ہے کہ لڑکے اسی لڑکی کی عزت کرتے ہیں جو ان لڑکوں کے اخلاقی معیارات کی مطابقت سے زندگی بسر کرتی ہو یعنی ہر پل دیوانوں کی طرح دوپٹے کو بل دے، درست کرے، حجاب خراب نہ بھی ہو رہا ہو پھر بھی اس کو درست کرتی رہے، حجاب سے بال نہ بھی نظر آرہے ہوں تب بھی ہر دو منٹ بعد ماتھے میں حجاب کے اندر ہاتھ لگا کر بال پیچھے کرے۔ جو کم عمر لڑکی سر پر دوپٹہ یا حجاب نہ لیتی ہو یا گستاخانہ انداز میں آنکھوں میں کاجل کی لکیر کھینچ آتی ہو، انگشتوں میں ایک آدھ انگوٹھی پہنتی ہو، اس کے کردار کی دھجیاں لڑکے تو اڑاتے ہی ہیں، اس میں بھرپور کردار ایک دو استاد بھی خوب نبھاتے ہیں۔ خود لڑکیوں کی نظر میں یہ لڑکیاں آوارہ قرار پاتی ہیں۔ اطفال اسکولوں اور کالجوں میں وہی رویہ روا رکھتے ہیں جو عین معاشرتی ہو۔

چونکہ معاشرے میں عورت کی خوشی اور مرضی سے کچھ کرنا ویسے ہی گناہ ہے تو بچوں کی علم گاہیں بھی ان منفی اور عورت تلف رویوں سے قطعی محفوظ نہیں۔ بالغ خواتین ایک جانب، نابالغ کم عمر معصوم بچیوں کو بھی گوشت کے ٹکروں کے سوا نہیں سمجھا جاتا جب ہی ان کی زندگی ابتداء سے عدم تحفظ کے احساس سے دوچار کر دی جاتی ہے۔

اب آتے ہیں بالغان کی جانب، جن کے رویوں کی بدولت اطفال کے رویے نہیں بدل پاتے۔ وہ بالغان جو اپنی کم عمری کی غلطیوں سے نہیں سیکھتے، نہ ہی علم کی جستجو اور علم ان کی شخصیات پر کچھ اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر جامعات کا صحیح معنوں میں تصور کیا جائے تو یہاں ملنے والا اعلی علم اس قابل ہونا چاہیے جو انسان دوست رویوں کی بود و باش کرے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ علم بھی بہت حد تک کسی خاص علم کی تعلیم تک ہی محیط ہے۔ تاریخ، معاشرت، سیاست جیسے مضامین کے طلبہ بھی انسان دوستی جیسے رویوں سے بے زار نظر آتے ہیں۔ ان کے وعظ اور الفاظ تو عورت دوستی پر منحصر ہوں گے مگر رویے اور بالخصوص نگاہیں عورت کو وقتاً فوقتاً گوشت کے چلتے پھرتے ٹکرے سے زیادہ نہیں گردانے گے۔

کم عمری سے لڑکی کو اعصابی طور پر تیار کر دیا جاتا ہے کہ اب اس کو زندگی اپنی عزت نفس کو مار کر گزارنی ہے، گھر سے باہر کسی کی کوئی حرکت ناگوار بھی گزرے تو خاموشی سے سہ لینی ہے۔ کسی سے لڑائی مول نہیں لینی، غلطی سے اپنے حق کے لئے نہیں بولنا، اپنی سہولت کی کوئی لکیر نہیں کھنیچنی۔ وہیں اس کو شعوری طور پر ایک بے جان پرزہ بھی بنا دیا جاتا ہے کہ معاشرے میں بالخصوص مردوں کی نظر میں توقیر پانی ہے تو جتنا ہو سکے اپنا دوپٹہ درست رکھنا ہے۔ بس لڑکی عمر بھر اپنا آنچل ہی سمیٹتی رہتی ہے اور دوسری جانب، یہی لوگ جن کی نگاہوں میں وہ ایک باوقار عورت بننا چاہتی ہے وہ اس کے آنچل درستی کے عمل کو بد کرداری سے تشبیہ دیتے نہیں تھکتے۔

ہمارے خاندانوں میں کسی بزرگ کی آمد پر پہلا کام جو بیٹیاں کرتی ہیں وہ لباس اور آنچلوں کی درستی ہے۔ ایسے لوگ گھر کی دہلیز ہی کیوں پار کریں جن کی نگاہوں کی پرواز بیٹیوں کے دوپٹوں پر وارد ہو؟ ہاں میں روایتی عزت کے اس محرک کو جانتی ہوں جب بیٹیاں بزرگوں کو دیکھ کر سر ڈھانپنے کی جستجو میں محو ہوتی ہیں؟ اس کو ہماری روایات کا سنہری باب سمجھا جاتا ہے اور تماشا تو یہ ہے کہ بیٹیوں پر نگاہیں رکھنے والوں کو ان کی عزت سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ سب بزرگ بری نگاہ نہیں رکھتے، سب بزرگ اچھی نگاہ بھی نہیں رکھتے۔

آخر سر میں ایسا کون سا جزو ہے جو غلط ہے؟ سر ہی ہے نا؟ ابلیس کو پورا پاکستان چھوڑ کر پاکستانی عورت کا سر ہی ملا ہے جس کو ذرا بھر کھلا پاکر وہ ادھر لپک پڑتا ہے۔ پھر کیا وہ تمام لوگ بھی ابلیس ہی ہوئے جو خاتون کے سر کے آنچل کو دیکھ کر اس کے نظر آتے گیسوؤں کی طرف لپک پڑتے ہیں؟ ایسے عزیز عزیز نہیں اور ایسے نام نہاد دوست دوست نہیں جو لڑکی کے سرکے آنچل کا فائدہ اٹھا کر اس کے بدن کے خدو خال کا معائنہ کریں اور بھر پور جائزہ لیں۔ ایک بار نہیں بلکہ بار بار وہیں نظریں گھمائیں۔ ایسے انسانوں کو ذرا بھر لجاجت بھی محسوس نہیں ہوتی جو خواتین کے برابر انسان ہونے پر باتیں تو کرتے ہیں مگر عورت کے بدن کا مکمل جائزہ بھی لیتے ہیں۔ آگر آپ ایسے ہیں تو ہم سے تعلق خود بخود ختم کر دیں وگرنہ ہم کہیں گی تو الزام ہمارے حقوق نسواں کے مچانوں پر عائد کر دیا جائے گا۔ میں چند ایسے نفوس کو بھی جانتی ہوں جو نظر بھر کر کسی غیر کو دیکھتے بھی نہیں۔ ان صرف چند گنے جانے والے نفوس کو دیکھ کر ہم راستہ بدلتی ہیں نہ دوپٹہ درست کرتی ہیں مگر یہ چند ہیں جو ہاتھ میں گنے جا سکتے ہیں۔

آپ ہمارے دوست یا عزیز نہیں اگر ہم سے گفتگو کے دوران آپ خواتین کے سینوں کی طرف دیکھتے ہوں، آپ کو شرم نہیں آتی وہ ہم جانتی ہیں۔ آپ انسان دوست ہونے کے حقدار نہیں اگر آپ کا ہدف عورتوں کا بدن ہے۔ آپ ہمیں برابر سمجھتے ہیں جب ہی ہم پر تاک بھی لگائے رکھتے ہیں؟ آپ آنچلوں سے ڈھکے شانوں کے پار بھی دیکھتے ہیں۔ ہم خواتین بیسیوں بار آپ کی نگاہوں کی گندگی اپنی نگاہوں سے پکڑتی ہیں، آپ کو تب بھی شرم نہیں آتی۔ سڑک پر چلتے ایک اوباش کم تعلیم یافتہ مرد اور ان اعلیٰ جامعات میں انسانی شعور کی تعلیم حاصل کرتے روشن خیال مردوں میں کوئی فرق نہیں اگر ان کا ہدف عورت کا سینہ ہی ہے۔ آپ میں اور ان سازشی عناصر میں قطعی فرق نہیں جو عورت مارچ میں کیمرے لا کر خواتین کے جسموں پر کوسنے دے کر ریٹنگ لے کر حرام کی روزی کماتے ہیں۔

ایسے تمام افراد جو کتنے ہی عزیز اور قریب کیوں نہ ہوں، اگر ان کی موجودگی سے لڑکیوں کو دوپٹے ڈھونڈنے اور درست کرنے کی نوبت آئے، وہ عزیز ہونے کا درجہ رکھ سکتے ہیں نہ قریب ہونے کا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments