جنرل بپن راوت کی ہلاکت پر پاکستانی فوج کی تعزیت، سوشل میڈیا پر انڈین مسلمان تنقید کی زد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل بپن راوت
انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف کے عہدے پر فائز جنرل بپن راوت، اُن کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور دیگر اہلکاروں کے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستانی فوج نے بھی اس واقعے پر تعزیت پیش کی ہے۔

انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جنرل بپن راوت ایک ’زبردست سپاہی اور سچے محبِ وطن‘ تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ جنرل راوت نے مسلح افواج اور سکیورٹی نظام میں جدت لانے کے لیے بڑا کردار ادا کیا ہے اور اُن کی وفات سے وہ گہرے دکھ کا شکار ہیں۔

https://twitter.com/narendramodi/status/1468566007086137346

انڈیا کے وزیرِ داخلہ امِت شاہ نے اسے انڈین قوم کے لیے ‘نہایت افسوس ناک دن’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے عزم اور اُن کی خدمات کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی جنرل بپن راوت اور اُن کی اہلیہ سمیت ‘قیمتی جانوں کے ضیاع’ پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/1468572994557472768

سابق انڈین کرکٹر وریندر سہواگ نے لکھا کہ اُنھیں بپن راوت، اُن کی اہلیہ اور 11 دیگر فوجی اہلکاروں کی ہلاکت سے صدمہ پہنچا ہے اور وہ جنرل راوت کی قوم کے لیے زبردست خدمات کے لیے اُن کے شکر گزار ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل بپن راوت اس سے قبل فروری 2015 میں ریاست ناگالینڈ میں بھی اپنا ہیلی کاپٹر کریش ہونے پر بال بال بچے تھے۔

جماعتِ اسلامی ہند نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جنرل بپن راوت کے لیے تعزیتی پیغام شائع کیا۔

جماعت نے لکھا کہ وہ اس وقت غم زدہ خاندانوں اور قوم کے ساتھ اس افسوسناک ہلاکت کے غم میں شریک ہیں۔

https://twitter.com/JIHMarkaz/status/1468577105336094721

مگر اسی موقعے پر کئی لوگ ایسے بھی تھے جو انڈین مسلمانوں پر تنقید کرتے نظر آئے۔

بعض لوگ انڈین نیوز ویب سائٹس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جنرل راوت کی ہلاکت کی خبر کے نیچے ‘ہنسنے’ والے افراد کو انڈین مسلمان قرار دے رہے ہیں۔

لیکن کچھ لوگ اس کی تردید کرتے نظر آئے اور دعویٰ کیا کہ یہ اکاؤنٹس انڈین مسلمانوں کے نہیں ہیں بلکہ سرحد پار (یعنی پاکستان) کے ہیں۔

کپل نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘انڈین مسلمانوں کے خلاف جھوٹ پھیلانا بند کریں۔ اس افسوس ناک خبر پر ہنسنے والے تمام پروفائلز غیر ملکی ہیں۔’

ہمانشو سوجترا نے لکھا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہماری قوم پر حملہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ‘مودی ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بدلہ نہیں لیں گے تو مضبوط وزیرِ اعظم کا اُن کا تشخص زائل ہو جائے گا۔ اوم شانتی۔’

ایک اور صارف نے لکھا کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ حادثہ نہیں ہے بلکہ ’سوچا سمجھا قتل‘ ہے۔

اُنھوں نے لکھا کہ ’ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ انڈیا کے چیف آف ڈیفینس سٹاف کی موت سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہو گا۔‘

ایک اور اکاؤنٹ نے لکھا کہ ’وہ اُڑی اور پلوامہ کے واقعات، منوہر پاریکر کی ہلاکت، انڈیا کی پاکستان کے ہاتھوں شکست اور جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کریش پر ہنسے۔ وہ کون ہیں؟ وہ انڈیا میں رہنے والے مسلمان ہیں۔‘

اتل مشرا نے لکھا کہ ‘ہاہا والے ایموجیز سے پتا لگتا ہے کہ آپ کو اس ملک میں حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ دکھانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔’

اُن کا اشارہ انڈین مسلمانوں کی جانب تھا جنھیں دائیں بازو کی انڈین جماعتوں کی جانب سے اکثر پاکستان کا حامی اور انڈیا کا مخالف قرار دیا جاتا ہے۔

اُن کی اس ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے لکھا کہ ’’ہاہا’ ایموجیز والے کئی اکاؤنٹس پاکستان سے ہیں اور کچھ اکاؤنٹس ایسے ہیں جن کی پروفائل معلومات پرائیوٹ ہیں۔‘

اُنھوں نے لکھا کہ ’اگر یہ جعلی اکاؤنٹس ہوں تو حیران مت ہوں‘۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22494 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments