کیا آپ فنکار گل بہار بانو کے بارے میں فکرمند تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے ’ہم سب‘ پر گل بہار بانو کے بارے میں ایک کالم لکھا اور فیس بک پر ان کی مدد کرنے والوں کا تعاون چاہا تو مجھے ان گنت دوستوں اور کرم فرماؤں کے پیغامات آئے کہ وہ اس سلسلے میں میری مدد کرنا چاہتے ہیں۔

پہلے کرم فرما ڈاکٹر سجاد صدیقی تھے جنہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ جب وہ انگلستان سے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے لوٹے تو انہوں نے ملتان میں ایک کلینک کھولا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جب ہمیں گل بہار بانو مل جائیں تو وہ ان کا علاج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور درخواست کی وہ چند دن رکیں تا کہ ہم جان سکیں کہ وہ کہاں ہیں۔

دوسرے کرم فرما رانا عدنان تھے جو گل بہار بانو کے ہمسائے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ گل بہار کے رشتہ داروں سے بات چیت کریں گے۔ رانا عدنان نے مجھے بتایا کہ انہیں بچپن کے وہ دن یاد ہیں جب ان کی والدہ زبیدہ زیدی غزلیں لکھا کرتی تھیں اور گل بہار بانو وہ غزلیں گایا کرتی تھیں۔ میں نے رانا عدنان سے ان کی والدہ کے بارے میں مزید پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ان کی والدہ رات کو اپنے تکیے کے نیچے ایک ڈائری اور قلم رکھ کر سوتی تھیں۔ ایک رات جب رانا عدنان پانچ سات برس کے تھے وہ اپنی والدہ کے ساتھ سو رہے تھے۔ جب وہ آدھی رات کو جاگے تو ان کی والدہ اپنی ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھیں۔ رانا عدنان نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ آپ کیا لکھ رہی ہیں تو انہوں نے فرمایا

’بیٹا زمین کی سات تہوں کے نیچے کچھ راز بستے ہیں۔ وہ راز آدھی رات کو باہر آتے ہیں۔ وہ راز شاعر کے لیے تحفے لاتے ہیں۔ اگر شاعر ان رازوں اور ان تحفوں کو رقم نہ کریں تو وہ واپس زمین کی سات تہوں کے نیچے چلے جاتے ہیں اور دوبارہ غائب ہو جاتے ہیں۔ میں اسی لیے یہ ڈائری اور قلم رکھتی ہوں تا کہ وہ راز اور اشعار کے وہ تحفے رقم کر لوں۔

میں نے رانا عدنان سے ان کی والدہ کے اشعار مانگے تو وہ کہنے لگے میرے پاس ان کی ڈائری تو نہیں ہے لیکن چند اشعار جو یاد رہ گئے ہیں وہ حاضر ہیں۔ آپ بھی سن لیجیے

اس نے بھی مجھ کو مورد الزام کر دیا
جذبوں کو سارے شہر میں بدنام کر دیا
زیدیؔ کو یوں غموں کی لحد میں اتار کر
مرنے سے پہلے ہی میرا انجام کر دیا

رانا عدنان نے جب گل بہار کے رشتہ داروں سے بات کی اور درخواست کی کہ ڈاکٹر خالد سہیل گل بہار بانو سے بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ کہنے لگے کہ ایسا کرنے کے لیے انہیں خطیر رقم ادا کرنی ہوگی۔ رانا عدنان اس بات سے بہت دلبرداشتہ ہوئے۔

جب رشتہ داروں کی وساطت سے گل بہار بانو تک پہنچنے کا راستہ بند گلی دکھائی دیا تو میں نے دیگر راستے تلاش کرنے شروع کیے۔

میں نے اپنے مزاح نگار ’ڈرامہ نگار اور جرنلسٹ دوست مرزا یاسین بیگ سے دوبارہ رابطہ قائم کیا کیونکہ انہوں نے ہی میرا گل بہار بانو کی موسیقی سے تعارف کروایا تھا۔ یاسین بیگ نے مجھے بتایا کہ ان کی ملاقات گل بہار بانو سے پہلی بار 1987 میں ہوئی تھی جب وہ نئی نئی بہاولپور سے کراچی آئی تھیں اور ابھی نووارد تھیں۔ مرزا یاسین بیگ ان دنوں کئی اخباروں میں کالم لکھا کرتے تھے۔ ایک دن موسیقار افراہین مرزا یاسین بیگ کو گل بہار بانو سے ملوانے کراچی کی دست گیر سوسائٹی لے گئے۔

اس شام مرزا یاسین بیگ کی گل بہار بانو اور ان کے استاد افضل حسین سے ملاقات ہوئی۔ مرزا یاسین بیگ نے ان کا انٹرویو لیا جو کئی اخباروں میں چھپا اور گل بہار بانو کا کراچی کے موسیقی کے حلقوں میں بھرپور تعارف کا باعث بنا۔ اس کے بعد گل بہار بانو کو ٹی وی اور ریڈیو کے علاوہ نجی محفلوں میں بھی دعوتیں آنے لگیں۔ مرزا یاسین بیگ نے کچھ عرصہ تو گل بہار کی موسیقی کی محفلوں میں شرکت کی لیکن پھر وہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ مرزا یاسین بیگ نے کہا کہ اب کئی برسوں سے انہیں کوئی خبر نہیں کہ گل بہار کس شہر اور کس کیفیت میں زندہ ہیں۔

یاسین بیگ کے بعد میں نے اپنی ڈینٹسٹ دوست ڈاکٹر سارہ علی سے رابطہ قائم کیا کیونکہ وہ بھی گل بہار بانو کی شخصیت اور موسیقی کی مداح ہیں اور ملتان کے قریب بہت سے ادیبوں ’دانشوروں‘ موسیقاروں اور سوشل ورکرز کو جانتی ہیں۔ میری درخواست سن کر ڈاکٹر سارہ علی نے وعدہ کیا کہ اگر مجھے کہیں گل بہار بانو مل گئیں تو وہ اپنے دوستوں سے کہہ کر انہیں۔ دارالامان۔ پہنچانے میں میری مدد فرمائیں گی۔

مرزا یاسین بیگ اور ڈاکٹر سارہ علی کی ملاقاتوں کے بعد بھی میں نے ہمت نہ ہاری اور گل بہار بانو کی تلاش جاری رکھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ جلد یا بدیر میرا گل بہار بانو سے رابطہ ہو جائے گا اور ان کی اچھی یا بری خبر مل جائے گی۔

دو دن بعد جب میں نے اپنے دانشور دوست فیاض باقر سے مدد مانگی تو انہوں نے میرا رابطہ گل بہار بانو کے علاقے کے گدی نشیں خواجہ کلیم کوریجا سے کروایا۔ کوریجا صاحب نے مجھ سے بڑی محبت ’خلوص اور اپنائیت سے بات کی اور اس سلسلے میں میری بہت مدد فرمائی۔ انہوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی مدد سے گل بہار بانو کے بارے میں تحقیق کی تو پتہ چلا کہ وہ آج کل بہاولپور میں ہیں اور ان کی ڈپریشن کا علاج کراچی کے آغا خان ہسپتال کے ایک ماہر نفسیات کر رہے ہیں۔

گل بہار کی ڈپریشن اس علاج سے بہتر ہو رہی ہے۔

کوریجا صاحب نے میری تسلی کے لیے اپنے چند دوستوں کو گل بہار کے پاس بھیجا تا کہ ان کے کرم فرماؤں کے لیے ان کا ایک مختصر وڈیو بنایا جائے۔ دوستوں نے ملاقات کے دوران بڑے احترام سے گل بہار بانو سے گانے کی درخواست کی تو انہوں نے بڑی اپنائیت سے اپنے چاہنے والوں اور پرستاروں کے لیے ان کی پسندیدہ غزل کے ایک مصرعے کا مختصر وڈیو بھیجا۔ میرے لیے وہ تحفہ بہت قیمتی تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے اس تحفے سے ہم سب کو اپنی محبت اور محنت کا اجر مل گیا ہو۔ اس وڈیو کا لنک حاضر ہے

میں اس کالم کی وساطت سے اپنے ان سب دوستوں اور فنکار گل بہار کی صحت اور سلامتی کے بارے میں فکر کرنے والے کرم فرماؤں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس سلسلے میں میری مدد فرمائی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ قوم کے ادیب اور شاعر ’فنکار اور دانشور ہم سب کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا خیال رکھنا ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے۔

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ۔ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں۔ جو دل کی گہرائیوں سے اپنے پسندیدہ فنکاروں کا خیال رکھنے اور بے لوث خدمت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 498 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail