کرپٹو کرنسی فراڈ: پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا غیر قانونی لین دین فراڈ کی وجہ بن رہا ہے؟

زبیر اعظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بٹ کوائن
Getty Images
’کچھ انویسٹمنٹ ویب سائٹس ہوتی ہیں۔ وہاں کہا جاتا ہے کہ آپ جتنے پیسوں کی سرمایہ کاری کریں گے، وہ دگنی ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر 100 ڈالر دیں گے، تو ایک ہفتے بعد 200 ڈالر ملیں گے۔ مختلف آفرز ہوتی ہیں۔ میرے ساتھ 50 ڈالر کا فراڈ ہوا۔ اس کے بعد کبھی دوبارہ پیسے نہیں لگائے۔‘

یہ موسیٰ (فرضی نام) ہیں جنھوں نے کرپٹو کرنسی کے لین دین کے ذریعے منافع کمانے کے چکر میں ایک ڈیجیٹل ’ڈبل شاہ’ کے جھانسے میں آ کر اپنے کچھ پیسے گنوا دیے۔ لیکن اس تجربے کے بعد انھوں نے سبق سیکھا۔

وہ اکیلے نہیں بلکہ ایسے ہزاروں لاکھوں افراد ہیں جن کے اصل اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں جو پاکستان میں پابندی کے باوجود کرپٹو کرنسی کے لین دین کا حصہ بنتے ہیں۔ کچھ پیسے کماتے ہیں، کچھ گنواتے ہیں۔

حال ہی میں ایف آئی اے نے ایک آن لائن فراڈ کی نشان دہی کی جس میں کرپٹو کرنسی کا لین دین کرنے والی کئی کمپنیاں ہزاروں پاکستانی افراد کے پیسے کھا گئیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے 2018 کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار کا رجحان گزشتہ سالوں میں تیزی سے بڑھا ہے۔

لیکن لین دین کے اس رجحان کے ساتھ ہی آن لائن دھوکہ دہی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس میں ہزاروں افراد جھانسے میں آ کر کرپٹو کرنسی کے ذریعے جلد اور با آسانی پیسے کمانے کے لالچ میں آ جاتے ہیں۔

ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پر ادائیگی یا پیمنٹ کا طریقہ کار ہے۔ اس سے آپ خریداری کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں 4000 سے زائد کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ سنہ 2009 میں متعارف کروائے جانے کے بعد سے بِٹ کوائن کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

18 ارب روپے کا آن لائن کرپٹو کرنسی فراڈ کیسے ہوا؟

ایسے ہی ایک آن لائن فراڈ کی تحقیقات پاکستان کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کر رہا ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر لگایا جانے والا 18 ارب روپے یا 10 کروڑ ڈالر کا مجموعی سرمایہ اچانک غائب ہو گیا۔

ایف آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار احمد خان کی جانب سے چھ جنوری کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق اس فراڈ کے ذمہ دار تقریبا 11 ایسے اکاؤنٹ تھے جو کرپٹو کرنسی میں لین دین کے لیے استعمال کیے جاتے تھے اور بین الاقوامی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنینس سے منسلک تھے۔

واضح رہے کہ بائنینس دنیا میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی سب سے بڑی ایکسچینج ہے جو 2017 میں قائم ہوئی اور کیمین آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ہے۔ ایسی ایکسچینج کے ذریعے لوگ کرپٹو کرنسی خریدتے ہیں اور اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے لین دین کے ذریعے منافع کماتے ہیں۔

عام طور پر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ لگانے والوں کے لیے یہ ایکسچینج ایک پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں وہ اپنا اکاوئنٹ کھول کر لین دین کر سکتے ہیں۔ لیکن کئی لوگ اس لین دین کے لیے موبائل فون ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس بھی استعمال کرتے ہیں جس میں براہ راست سرمایہ کاری کے بجائے کسی اور کے ذریعے سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ اس فراڈ میں بھی ایسا ہی ہوا۔

ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار احمد خان کے مطابق بائنینس کے کراچی میں نمائندے حمزہ خان کو بھی طلب کیا گیا اور بائنینس کے مرکزی دفتر کو بھی ان تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔

ایف آئی اے کے سندھ سائبر کرائم کے سربراہ عمران ریاض کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنینس نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رابطے کے بعد کرپٹو کرنسی کے دو ماہر جو امریکی محکمہ خزانہ کے سابق ملازم رہ چکے ہیں نامزد کیے ہیں۔

ان کے مطابق بائنینس کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ بائنینس بلاک چین ایڈریس استعمال کرتے ہوئے 11 ایپس کے فراڈ کی تحقیقات میں ایف آئی اے سے مکمل تعاون کرے گی اور اُنھیں امید ہے کہ مجرموں کی شناخت کی جا سکے گی۔

’چونا اُنھیں لگا جو کچھ سمجھے بنا کروڑوں کمانا چاہتے تھے‘

کرپٹو کرنسی کے لین دین کا کام کرنے والی کمپنی کرپٹو برادرز کے سید عون کے مطابق اس آن لائن فراڈ میں ان لوگوں کو زیادہ نقصان ہوا جو کرپٹو کرنسی کو سمجھے بغیر لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانا چاہتے تھے۔

کرپٹو کرنسی

Reuters

سید عون کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے لوگوں نے اس طرح پیسے ضرور کمائے لیکن یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اس کو سمجھا اور خود لین دین کیا۔

’فرض کریں کہ آپ کے پاس ایک کروڑ روپے ہیں اور آپ پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ لگانا چاہتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ ریسرچ کریں گے کہ کہاں پیسہ لگانا ہے اور آپ کوئی پلاٹ یا گھر خرید لیں اور کچھ عرصے کے بعد منافع پر بیچ دیں۔ دوسرا طریقہ ہے کہ آپ کے پاس ڈیلر آتا ہے جو کہتا ہے کہ آپ اپنا سرمایہ اسے دے دیں اور وہ کہتا ہے کہ جہاں آپ چھ ماہ میں 20 یا 30 لاکھ کمائیں گے وہیں وہ آپ کو ایک کروڑ سے زیادہ منافع کما دے گا۔’

’زیادہ تر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی کو پیسے تھما دیں اور وہ شخص اُنھیں پیسے کما کر دے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کرپٹو کوئین: وہ خاتون جس نے اربوں لوٹے اور غائب ہو گئی

کرپٹو کرنسی کے ذریعے کالا دھن سفید کرنے کا طریقہ جس نے حکام کو پریشان کر رکھا ہے

کرپٹو کرنسی سے پاکستان کا قرض اتارنے کا دعویٰ: ’وقار ذکا بھی سمارٹ ہیں، ایک چانس تو بنتا ہے‘

عون بتاتے ہیں کہ اس فراڈ میں چند لوگوں نے موبائل فون ایپلیکیشنز بنائیں جو کرپٹو کرنسی کی ایکسچینج نہیں تھی۔ ’لوگوں نے ان کو پیسے بھیجے جو بائنینس میں لگائے گئے لیکن پھر اُنھوں نے وہاں سے پیسے نکلوا لیے یا ٹرانسفر کروا لیے۔‘

عون کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کیا ہوتا تو یہ فراڈ ہونا مشکل تھا۔ ’اگر پاکستان میں قانون ہوتا تو پھر پاکستان کی جانب سے بائنینس کو اپنی شرائط دی جاتیں کہ اگر پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کھولے جائیں تو کن شرائط پر کھولے جائیں اور کیا معلومات لی جائیں جو حکومت کو بھی مہیا کی جائیں۔‘

کرپٹو کرنسی

Getty Images

’جب یہ گروپ پاکستان کے 10 یا 18 ارب روپے بائنینس کے والٹ میں ڈال رہا تھا تو ان کے کان کھڑے ہوتے اور وہ پاکستان کے ایف آئی اے کو بتاتے کہ آپ کے ملک سے فلاں شہری جو یہ کام کرتے ہیں اور جنھوں نے اتنی آمدنی بتائی ہوئی ہے وہ یکدم اتنے پیسے جمع کروا رہے ہیں۔ تب گارنٹیز ہوتیں اور ایسے فراڈ نہیں ہوتے۔‘

’کرپٹو کرنسی کے رسک فوائد سے کہیں زیادہ ہیں‘

پاکستان میں اب تک کرپٹو کرنسی کا کاروبار غیر قانونی ہے۔ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں وقار ذکا کی جانب سے درخواست کی گئی کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو قانونی بنایا جائے۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے پاکستان کا قرضہ اتارا جا سکتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے اس ضمن میں سٹیٹ بینک سمیت وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا تھا جس کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، وفاقی وزارت خزانہ اور فائنینشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے نمائندوں پر مشتمل کرپٹو کرنسی کمیٹی قائم ہوئی جس کی رپورٹ بدھ کے دن سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اس رپورٹ کی دستاویزات میں کمیٹی کی جانب سے سفارش دی گئی ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ ملک میں اس وقت لوگوں کو کم مدت میں زیادہ منافع کمانے کی ترغیب دے کر پھانسا جا رہا ہے۔

کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح ملک سے ناجائز پیسہ بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے یعنی منی لانڈرنگ ہو سکتی ہے۔ اس سفارش کی ایک اور وجہ زرِ مبادلہ ذخائر کی ممکنہ طور پر بیرون ملک منتقلی بھی بتائی گئی ہے۔

اس کے ساتھ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پاکستان میں بلااجازت کام کرنے والی بائنینس جیسی کرپٹو ایکسچینج کمپنیز کو فی الفور بند کردینا چاہیے اور ان پر جرمانہ عائد کرنا چاہیے۔ کمیٹی کی رپورٹ میں حال ہی میں سامنے آنے والے کرپٹو کرنسی فراڈ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین میں رسک پاکستان کے لیے فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کر چکے ہیں جن میں چین، بنگلہ دیش، مصر، مراکش، ترکی، نائجیریا، ویت نام، سعودی عرب، بولیویا اور کولمبیا شامل ہیں۔

کرپٹو کرنسی

BBC

’کچھ نہ کرنا تو کوئی پالیسی نہیں‘

اس کیس کی سماعت کرنے والے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد کریم خان آغا نے حکم دیا کہ کرپٹو کرنسی کمیٹی اپنی رپورٹ وفاقی وزارت خزانہ اور وفاقی وزارت قانون کو ارسال کرے جنھیں کیس کی آئندہ سماعت تک ایک مشترکہ اجلاس کے بعد فیصلہ کرنا ہے کہ آّیا پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کی اجازت دینی ہے یا نہیں۔

جسٹس کریم آغا نے لکھا کہ موجودہ صورت حال میں ایسے افراد جو پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا لین دین کر رہے ہیں انھیں ایف آئی اے کی جانب سے تفتیش اور بینک اکاؤنٹ منجمد ہونے کی شکل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اگلی سماعت پر وفاقی وزارت قانون کے نمائندے عدالت کو اپنی رپورٹ پیش کریں۔

ماہر معیشت عمار حبیب خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی بھی معاشی سرگرمی پر پابندی عائد کرنا جمہوری معاشرے کے لیے اچھا نہیں۔ اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔‘

عمار کے مطابق قانونی شکل دینا اور پابندی عائد کرنا دو مختلف صورتیں ہیں۔ ’پاکستان میں بہت سے کام قانونی نہیں لیکن ان پر پابندی بھی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی جیسے ادارے مل کر بیٹھیں اور سوچیں کہ اس انڈسٹری کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں کرپٹو سے ٹیکس کمایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کام کیسے کرنا ہے، یہ حکومت کو سوچنا ہو گا۔ لیکن کسی سے رائے لیے بغیر پابندی عائد کرنا غلط ہو گا۔‘

کرپٹو کرنسی فراڈ سے کیسے بچا جائے؟

سید عون کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی بھی ویب سائٹ یا موبائل ایپلی کیشن کہتی ہے کہ آپ اپنا پیسہ ہمیں دیں اور ہم منافع کما کر دیں گے تو جانچ پڑتال ضرور کرنی چاہییے کہ یہ کب بنی، کس نے بنائی اور کہاں رجسٹرڈ ہے۔‘

عون کے مطابق اس طرح کے فراڈ سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اگر کوئی کرپٹو کرنسی کا لین دین کرنا چاہتا ہے تو وہ کسی سے معلومات ضرور لے لیکن کام خود کرے کہ کہاں اور کیسے پیسہ لگانا ہے۔

کرپٹو کرنسی

Reuters

عمار حبیب خان کا ماننا ہے کہ ’دنیا میں ہر کاروبار میں فراڈ ہوتا ہے اور نئے کاروبار میں زیادہ فراڈ ہوتا ہے۔ لیکن اس سے بچنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے سمجھ کا استعمال۔‘

عمار حبیب کے مطابق ایسا نہیں کہ کرپٹو میں فراڈ ہی ہو رہا ہے لیکن یہ ایک ہائی رسک انڈسٹری ضرور ہے۔ ’جیسے سٹاک میں لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں، ویسے ہی کرپٹو میں بھی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ لیکن اپنی سمجھ اور استعداد کے حساب سے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔‘

موسیٰ جن کے ساتھ خود بھی کرپٹو کرنسی میں فراڈ ہوا کہتے ہیں کہ اُنھوں نے کم پیسے لگائے اور اس تجربے سے سیکھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آن لائن فراڈ سے بچنے کا بہترین طریقہ آگاہی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر لوگوں کو دی جانی چاہیئے۔

’لوگوں کو بتائیں کہ کرپٹو کرنسی کیا ہے۔ اس کا استعمال کیسے ہونا چاہیے۔ معلومات جتنی عام ہوں گی، دھوکہ دینا اتنا مشکل ہو گا۔ لوگوں کے لیے ٹریننگ کا انتظام کریں تاکہ وہ اس سے پیسے کما سکیں۔‘

موسیٰ کا ماننا ہے کہ مستقبل میں کرپٹو کرنسی کی اہمیت بڑھ جائے گی کیونکہ اس کے پیچھے جو ٹیکنالوجی کام کر رہی ہے اس کے کئی اور فوائد بھی ہیں۔

’اس وقت تو لوگ صرف یہی سمجھتے ہیں کہ کرپٹو سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں لیکن آنے والے دنوں میں احساس ہو گا کہ کرپٹو صرف ٹریڈنگ کا نام نہیں۔ آئندہ آنے والی ٹیکنالوجی بلاک چین پر منحصر ہو گی۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 22476 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments