انڈیا پاکستان سمیت چار ملکوں کی سیریز، کیا رمیز راجہ کا خواب سچ ہو پائے گا؟

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


رمیز راجہ
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ آئی سی سی کے آئندہ اجلاس میں چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تجویز پیش کرنے والے ہیں، جس میں پاکستان، انڈیا، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں شامل ہوں اور یہ سیریز سالانہ بنیاد پر منعقد کی جائے۔

رمیز راجہ جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ہیں ان کے اقدامات اور بیانات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ پاکستان کی کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر بلند مقام پر دیکھنے کے لیے غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہیں۔

چار ملکی سیریز کا آئیڈیا کیا ہے؟

رمیز راجہ نے اس مجوزہ چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی جو تفصیلات بیان کی ہیں ان کے مطابق یہ سیریز ہر سال منعقد ہو۔

اسے قابل عمل بنانے کے لیے وہ ایک کمپنی رجسٹر کرنے کی بات کرتے ہیں جو آئی سی سی کے ماتحت کام کرے جس کا اپنا چیف ایگزیکٹیو ہو اور اس سیریز کی آمدنی تمام رکن ملکوں میں تقسیم ہو۔

رمیز راجہ کو اس چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سب سے پُرکشش بات پاکستان اور انڈیا کی موجودگی نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایشیز کی دو روایتی ٹیموں کے علاوہ روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کے ہونے سے یہ سیریز شائقین کی غیر معمولی دلچسپی حاصل کرے گی۔

رمیز راجہ نے اس سیریز کا خیال چند روز قبل اپنی ٹویٹ میں بھی پیش کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کی دو طرفہ سیریز کے مقابلے میں تین چار ملکوں کے درمیان ہونے والی سیریز زیادہ دلچسپ ثابت ہوسکتی ہے۔

https://twitter.com/iramizraja/status/1480961596197384192?s=20

کیا انڈیا یہ تجویز مانے گا؟

ایسی کوئی بھی تجویز جس میں پاکستان انڈیا کرکٹ کا ذکر ہو، ہمیشہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن جایا کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے کرکٹ شائقین ان دونوں ملکوں کی کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس کی تازہ ترین مثال حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا میچ ہے جسے دنیا بھر میں لوگوں کی ریکارڈ تعداد نے دیکھا۔

بدقسمتی سے دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات دو طرفہ کرکٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور شائقین صرف آئی سی سی کے ایونٹس میں ان دونوں ٹیموں کو مد مقابل ہوتا دیکھنے پر مجبور ہیں۔

رمیز راجہ کی چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی اس تجویز میں سب سے حیران کن پہلو بھی یہی ہے کہ یہ سیریز کس طرح ممکن ہو گی؟

یہ بات یقیناً رمیز راجہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انڈیا کو شامل کر کے کسی بھی سیریز کا انعقاد موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔

انڈیا کے سینیئر سپورٹس صحافی پردیپ میگزین بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سیریز فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتی ہے۔

انھیں نہیں لگتا کہ انڈیا کی حکومت اس پر رضامندی ظاہر کرے گی کیونکہ انڈیا میں پاکستان کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔

پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے کرکٹ بورڈز کی باگ ڈور دو کرکٹرز رمیز راجہ اور سورو گنگولی کے پاس ہے اور پاکستان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر عمران خان کی بھی حکومت ہے لیکن اس کے باوجود فوری طور پر کرکٹ روابط کا شروع ہونا نظر نہیں آتا۔

گنگولی

سورو گنگولی انڈین کرکٹ بورڈ کے موجودہ صدر ہیں

پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ انڈین وزیرداخلہ امت شاہ کے بیٹے ہیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے طاقتور سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ خود جے شاہ کی بی سی سی آئی میں پوزیشن اہم ہے۔

پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ روابط اچانک ہی بحال ہوئے۔

’ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہو جائے لیکن یہ اسی وقت ہو گا جب دونوں حکومتیں اس بارے میں متفق ہوں گی کیونکہ یہ کرکٹ بورڈز سے آگے کا معاملہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’کم آن جیجا جی!‘

رمیز راجہ: انڈر 19 کرکٹ سے پی سی بی کی چیئرمین شپ تک کا سفر

ʹلوگ کہتے ہیں ہروا دیا کوئی یہ نہیں کہتا میچ آخری اوور تک میں ہی لایا تھاʹ

پاکستانی سرزمین پر اولین ٹیسٹ: ’میچ کھلانے کی خوشخبری سنا کر بارہواں کھلاڑی بنا دیا گیا‘

گنگولی کی تجویز میں پاکستان شامل نہیں

رمیز راجہ وہ پہلے شخص نہیں ہیں جو چار ٹیموں کی شرکت کے ساتھ ایونٹ کی تجویز کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔

دسمبر 2019 میں انڈین کرکٹ بورڈ کے صدر سورو گنگولی نے بھی چار ٹیموں کے ایک ایونٹ کا آئیڈیا پیش کیا تھا، جس میں انھوں نے انڈیا کے ساتھ انگلینڈ اور آسٹریلیا کا نام لیا تھا لیکن چوتھی ٹیم کا نام شامل نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کرکٹ کے ہیوی ویٹ ممالک کے ساتھ ایک سپر سیریز کا انعقاد 2021 سے کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پہلا ایونٹ انڈیا میں ہو۔

سورو گنگولی کی اس تجویز کو اُس وقت پذیرائی نہیں ملی تھی اور اسے بِگ تھری کے تناظر میں دیکھا گیا تھا، جس کا مقصد کرکٹ کھیلنے والے اکثر ممالک کو تنہا کرنا تھا۔

اس تجویز کی مخالفت کرنے والوں میں پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف بھی شامل تھے جن کا کہنا تھا کہ بِگ تھری کی طرح یہ آئیڈیا بھی ناکامی سے دوچار ہوگا کیونکہ اس سے بڑے ممالک دوسرے رکن ممالک کو تنہا کر دینا چاہتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24129 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments