اتر پردیش میں بی جے پی رہنما اہم اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

دلنواز پاشا - بی بی سی ہندی، نئی دہلی


یوگی ادتیہ ناتھ
کیا بی جے پی لیڈر یوگی سے ناراض ہیں
انڈین ریاست اتر پردیش میں اہم اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی حکومت میں شامل بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں شامل ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کسانوں اور پسماندہ ذات کے لوگوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔

ایک کے بعد ایک استعفوں نے بی جے پی حکومت میں سیاسی اتھل پتھل پیدا کر دی ہے۔ گذشتہ 48 گھنٹوں میں اتر پردیش حکومت کے دو بڑے رہنماؤں نے استعفیٰ دیا ہے، پہلے سوامی پرساد موریہ اور دوسرے دارا سنگھ چوہان۔

جمعرات کو اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اور ایم ایل اے نے استعفیٰ دے دیا۔ شکوہ آباد سے بی جے پی ایم ایل اے مکیش ورما نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ مستعفی ہونے کے بعد مکیش ورما نے کہا کہ سوامی پرساد موریہ ان کے لیڈر ہیں، وہ جہاں بھی جائیں گے وہ ان کا ساتھ دیں گے۔

میڈیا میں ان کے علاوہ کئی ناموں کا ذکر ہے جن کے پارٹی چھوڑ کر جانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

ریاست میں حزبِ اختلاف سماجوادی پارٹی کے ذرائع سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور صحافیوں کو ایسی اطلاعات دے رہے ہیں کہ اگلے کچھ دنوں میں بی جے پی کے متعدد رہنما سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیں گے۔

سماج وادی پارٹی کے ترجمان عبدالحفیظ گاندھی کا کہنا ہے کہ ’سماجوادی پارٹی بہت سے رہنماؤں سے رابطے میں ہے جو بی جے پی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ہم ان سب کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ اور بھی کئی ایسے نام ہیں جو بی جے پی چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں شامل ہوں گے۔‘

ایسے میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے کہ کیا بی جے پی سے بڑے رہنماؤں کے جانے کا سلسلہ ابھی جاری رہے گا اور کیا پارٹی میں اس بات پر کوئی تشویش ہے یا نہیں۔

اترپردیش میں 10 فروری سے سات مارچ کے درمیان سات مرحلوں میں الیکشن ہونے والے ہیں۔

سوامی پرساد موریہ

بی جے پی سے استعفیٰ دینے والے سوامی پرساد موریہ ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ سنہ 2017 کے انتخابات سے ٹھیک پہلے وہ بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو کر وزیر بن گئے تھے۔ اُنھیں پسماندہ ووٹ کا بڑا رہنما تصور کیا جاتا ہے۔

موریہ بی جے پی میں آئے تو وہ کئی رہنماؤں کو ساتھ لائے تھے۔ خیال ہے کہ اب بھی وہ کئی لیڈروں کو ساتھ لے کر نکل رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موریہ اور دیگر رہنماؤں کے بی جے پی چھوڑنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ پارٹی میں پسماندہ طبقے کے لیڈروں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کے لوگوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

بی جے پی میں بھگدڑ؟

سینیئر صحافی شرت پردھان کہتے ہیں، ’موریہ اور دیگر رہنماؤں کے استعفے ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ بی جے پی ایک اعلیٰ ذات (اونچی ذات) کی پارٹی بن گئی ہے۔ خاص طور پر جس طرح پانچ سال کے اپنے دورِ حکومت میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ٹھاکر طبقے کو اہمیت دی ہے۔ جس سے دیگر پسماندہ طبقوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اب جو حالات ہیں اور جس طرح سے لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں، خاص طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے لیڈر، اس سے بی جے پی میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بی جے پی کا فرقہ پرستی کارڈ ناکام ہو رہا ہے۔

دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ’بی جے پی میں کوئی کھلبلی نہیں ہے۔ بدھ کو دو ایم ایل اے اپنی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ بی جے پی میں کسی قسم کی بھگدڑ مچ گئی ہے۔’

پارٹی میں بھگدڑ کے سوال پر بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی میں آنے والے رہنماؤں کی تعداد پارٹی چھوڑنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ترپاٹھی کہتے ہیں کہ ’ایک مہینے کے اندر بی جے پی نے کانگریس، بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے ایم ایل ایز کو اپنی پارٹی میں شامل کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر لیڈر پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔’

او بی سی رہنماؤں میں غصہ؟

او بی سی یا دیگر پسماندہ طبقات (ادر بیک ورڈ کاسٹس) کا لفظ انڈیا میں مجموعی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو معاشرتی یا تعلیمی اعتبار سے کم ترقی یافتہ شمار ہوتے ہیں۔

انڈیا میں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری نہیں کروائی گئی لیکن خیال ہے کہ اتر پردیش میں دیگر پسماندہ طبقات کی بڑی آبادی ہے۔ سنہ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے اور 2017 کے اتر پردیش انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے پیچھے دیگر پسماندہ طبقات کی حمایت کو اہم وجہ سمجھا جاتا تھا۔

ایسے میں سوامی پرساد موریہ کے باغی لہجے کی وجہ سے او بی سی کے زمرے میں بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی کے پاس کوئی ایسا چہرہ ہے جو او بی سی کو پارٹی کے ساتھ رکھ سکے۔

شرت پردھان کہتے ہیں ’بی جے پی کے پاس صرف ایک ہی چہرہ ہے نریندر مودی۔’ وزیر اعظم نریندر مودی نے سال 2014 میں او بی سی کو بی جے پی کی جانب راغب کیا تھا۔ بڑی تعداد میں او بی سی بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ لیکن اب یوگی حکومت کے اس رویے سے او بی سی بکھر گئے۔

دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ بلاشبہ یوپی میں پسماندہ طبقات کے سب سے بڑے رہنما ہیں۔

ترپاٹھی کہتے ہیں ’اب اتر پردیش میں ذات پات یا ووٹ بینک کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے ترقی کو ایک اہم موضوع بنا دیا ہے۔ آج کوئی بھی کسی ذات کا ٹھیکیدار نہیں ہے۔ بی جے پی کے سابق ریاستی صدر اور یوپی میں موجودہ نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ بلاشبہ ریاست میں پسماندہ طبقے کے بڑے لیڈر ہیں۔ لیکن یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ وہ بی جے پی میں پسماندہ طبقات کے نمائندے ہیں کیونکہ بی جے پی میں پہلے ہی موریہ، شاکیہ، سینی، کشواہا برادری کی کافی تعداد میں قیادت موجود ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مسلمان بی جے پی کی جیت کا کیا مطلب نکالیں؟

کیا بی جے پی کے دعوے سچ ثابت ہوں گے؟

کیا یوگی آدتیہ ناتھ براہ راست مودی اور امت شاہ کو چیلنج کر رہے ہیں؟

بھارتیہ جنتا پارٹی اس دعوے کی بھی تردید کرتی ہے کہ پارٹی میں کسی خاص طبقے میں کوئی ناراضگی ہے۔ پارٹی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ صرف وہی لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں جنھیں پارٹی میں اپنا مستقبل نظر نہیں آتا۔

سوامی پرساد موریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پارٹی کو اکیلا نہیں چھوڑ رہے بلکہ ان کے ساتھ اور بھی کئی ایم ایل اے ہیں۔ اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے راکیش ترپاٹھی کہتے ہیں کہ ’سوامی پرساد موریہ کے ساتھ ساتھ بی جے پی میں شامل ہونے والے ان کے قریبی ایم ایل اے انل موریہ تک نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔‘

بی جے پی مضبوط ہو رہی ہے تو پھر بڑے رہنما کیوں جا رہے ہیں؟

راکیش ترپاٹھی کہتے ہیں ’اگر ہم گذشتہ چند سالوں کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں، خاص طور پر 2014 کے بعد تو بی جے پی میں شامل ہونے والے لیڈروں کی تعداد پارٹی چھوڑنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بی جے پی کا سیاسی قد بھی بڑھا ہے۔ پارٹی ریاست اور مرکز میں برسراقتدار ہے اور اگر ارکان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بی جے پی دنیا کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس وقت اپنی سیاسی تاریخ میں سب سے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ تجزیہ کاروں کی بھی رائے ہے کہ اتر پردیش انتخابات میں بی جے پی مضبوط پوزیشن میں ہے۔‘

اگر پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے، وسائل اور اثر و رسوخ پر نظر ڈالی جائے تو ریاست میں مقابلہ کرنے والی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بی جے پی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ ایسے حالات میں بھی اگر وزرا اور ایم ایل اے پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ اُنھیں احساس ہو گیا ہے کہ پارٹی کے اندر سب ٹھیک نہیں ہے اور آئندہ انتخابات میں پارٹی کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

اس سوال پر راکیش ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ’اتر پردیش میں بی جے پی کا گراف لگاتار بڑھ رہا ہے، پچھلی بار 2017 میں جب ہم الیکشن میں گئے تھے تو پارٹی کے ایک کروڑ 87 لاکھ ارکان تھے، اب جب ہم الیکشن میں جا رہے ہیں تو ہمارے پاس 3 کروڑ 80 لاکھ ارکان ہیں۔ اب ہمارے پاس زیادہ پارٹی ممبرز ہیں، ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پچھلی بار سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی ہے’۔

پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں کے بارے میں بی جے پی کی دلیل یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے۔

پارٹی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی کہتے ہیں کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر ایک جمہوری عمل ہے، ایم ایل ایز کی رائے لی جاتی ہے اور اس کی بنیاد پر ٹکٹوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پارٹی موجودہ ایم ایل ایز کا سروے کرتی ہے۔ جہاں پارٹی پچھلے الیکشن میں جیت نہیں پاتی وہاں دوسرے امیدوار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اب جن لوگوں کو پارٹی میں ان کی پوزیشن مضبوط نہ ہونے کے اشارے ملے ہوں گے، وہ دوسرے مواقع دیکھ رہے ہیں لیکن اس سے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بی جے پی کے اندر جن کا فائدہ نہیں کہیں اور جا کر ان کا کیا فائدہ ہوگا‘۔

کیا یہ مانا جا سکتا ہے کہ پارٹی چھوڑنے والوں کو بی جے پی میں اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آیا اور وہ صرف اپنے سیاسی مستقبل کے لیے پارٹی چھوڑ رہے ہیں؟ یا وہ واقعی اپنے ووٹروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟

شرت پردھان کہتے ہیں کہ ’اب سیاست بدل چکی ہے۔ وہ دن گئے جب لیڈر کسی سیاسی نظریے پر قائم رہتے تھے اور اس کے لیے اپنا سیاسی کریئر داؤ پر لگا دیا کرتے تھے۔ اب لیڈر اپنے سیاسی مفادات کو پہلے دیکھتے ہیں۔‘

’اصل بات یہ ہے کہ جب کسی بھی لیڈر کو لگتا ہے کہ ان کی سیاست کے لیے خطرہ ہے وہ جماعت بدل لیتے ہیں۔ ایسے رہنما بہت کم ہوں گے جو ابھی تک سیاسی نظریے کے پابند ہوں اور ایک ہی پارٹی سے وابستہ ہوں۔ سوامی پرساد موریہ یا اور بھی رہنما ہیں اپنے مفاد کا خیال کر رہے ہوں گے۔

’سیاسی حلقوں میں یہ خبر ہے کہ موریہ اپنے بیٹے کے لیے پارٹی سے ٹکٹ مانگ رہے تھے اور بات نہیں بنی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ آج کی سیاسی صورتِ حال پھانپتے ہوئے محسوس کر رہے ہیں کہ اس وقت ان کا سیاسی کریئر بی جے پی کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔’

یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر سوال

اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں بی جے پی کے ساتھ اپنی ایک الگ اور مضبوط شناخت بنائی ہے۔ یو پی حکومت کو بی جے پی حکومت سے زیادہ یوگی حکومت کہا جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا پارٹی چھوڑنے والے لیڈر خاص طور پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ناراض ہیں؟

صحافی شرت پردھان کہتے ہیں ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ناراضگی خاص طور پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ہے۔ اگر ہم گذشتہ پانچ سالوں کے ان کے دور حکومت کو دیکھیں تو اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ نے خود کو سب سے اوپر رکھنے اور اسے سب کے سامنے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔

’بار بار یہ پیغام دیا جاتا رہا ہے کہ یوپی میں یوگی ہی سب کچھ ہیں۔ لکھنؤ کے سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یوگی اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں سے آسانی سے نہیں ملتے۔ غیر سرکاری طور پر کئی وزرا کو شکایت ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنا آسان نہیں ہے۔’

شرت پردھان کہتے ہیں’یوگی آدتیہ ناتھ نے بھلے ہی اپنی ایک بڑی اور بہت مضبوط شناخت بنائی ہو، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ صرف بی جے پی کا حصہ بن کر وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر یوگی آدتیہ ناتھ کو لگتا ہے کہ وہ پارٹی سے بڑے ہیں تو یہ ایک بچگانہ سوچ ہے۔ اگر پارٹی چھوڑنے والے لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ سے ناراض ہیں تو اس کا نقصان بی جے پی کو ہی ہوا ہے۔’

پی جے پی کی اپیل کہ موریہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں

سوامی پرساد موریہ کے پارٹی سے استعفیٰ دینے کے بعد کیشو پرساد موریہ نے انہیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بی جے پی کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر وہ واپس آنا چاہیں تو ان کا خیر مقدم ہے۔

ترپاٹھی کہتے ہیں’بی جے پی کا خیال ہے کہ سوامی پرساد موریہ نے وزیر کے طور پر ریاست میں اچھا کام کیا ہے۔ پارٹی سے باہر جانے کے بعد بھی وہ وہی کام گنوا رہے ہیں۔ اگر وہ پارٹی سے بات کرنا چاہتے ہیں تو یہ خوش آئند ہے۔ ہم چاہیں گے کہ وہ پارٹی میں رہیں لیکن اگر وہ کسی دوسرا راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ آزاد ہیں۔’

ترپاٹھی کہتے ہیں ’بی جے پی کسی ایک خاندان کی پارٹی نہیں ہے بلکہ پارٹی ایک خاندان ہے۔ اگر کنبے کے اندر کوئی ناراضگی یا ٹوٹ پھوٹ ہے، تو آپس میں بات چیت کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر مسائل کو پارٹی کے اندر بیٹھ کر ہی حل کرنا چاہیے، اس کے باوجود اگر کسی کی ناراضگی اتنی ہے کہ وہ پارٹی چھوڑنا چاہتا ہے تو وہ اپنا راستہ خود منتخب کرنے کے لیے آزاد ہے کسی کو قید کر کے نہیں رکھا جا سکتا۔’

یوپی کا سیاسی درجہ حرارت

سوامی پرساد موریہ اور دیگر وزرا اور ایم ایل ایز کے استعفوں نے یو پی کا سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ بی جے پی ڈیمیج کنٹرول میں مصروف ہے۔ دوسری جانب سماجوادی پارٹی اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بی جے پی کمزور ہو رہی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ ڈرامے پردے کے پیچھے ہو رہے ہیں جو کہ عام لوگوں کی نظروں سے دور ہیں۔

شرت پردھان کہتے ہیں ’پچلے دو دنوں کے واقعات نے الیکشن کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ بی جے پی کے سینیئر لیڈروں وزرا کے پارٹی چھوڑنے سے یہ اشارے جا رہے ہیں کہ بی جے پی انتخابات میں کمزور پوزیشن میں ہو سکتی ہے۔

’حقیقت جو بھی ہو الیکشن میں اس طرح کے اشارے بہت اہمیت رکھتے ہیں اور یہ انتخابات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بی جے پی کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ جو نقصان ہوا ہے اسے کیسے پورا کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی ایسا کر پائے گی۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24129 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments