ہومی جہانگیر بھابھا: انڈین ایٹمی سائنسدان کی طیارہ حادثے میں ہلاکت جو آج بھی سازشی نظریات کا جنم دے رہی ہے

نیاز فاروقی - بی بی سی، نئی دہلی


 

بھابھا

وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی وفات کو ابھی تیرہ روز ہی گزرے تھے اور انڈیا اپنی نئی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی تقریب حلف برداری کی تیاریوں میں مصروف تھا جب 24 جنوری 1966 کی دوپہر یہ خبر موصول ہوئی کہ نیو یارک جانے والی ایئر انڈیا کی ایک پرواز جنیوا پہنچنے سے چند منٹ پہلے گر کر تباہ ہوگئی ہے۔

طیارے میں سوار عملے کے 11 اراکین سمیت 106 مسافر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس طیارے میں انڈیا کے معروف ایٹمی سائنسدان ہومی جہانگیر بھابھا بھی شامل تھے جو ایٹمی توانائی کانفرنس میں شرکت کرنے ویانا جا رہے تھے۔

تاشقند میں ملک کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی ناگہانی موت کے محض 13 دن بعد پیش آنے والا یہ طیارہ حادثہ انڈیا کے لیے ایک چونکا دینے والی خبر تھا۔ معروف ایٹمی سائنسدان کی ہلاکت ناصرف لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر رہی تھی بلکہ طرح طرح کے سازشی نظریات بھی سامنے آ رہے تھے۔

اتفاق کی بات یہ تھی کہ جس مقام پر ایئرانڈیا کا یہ طیارہ گِر کر تباہ ہوا تھا وہ اُس مقام سے زیادہ دور نہیں تھا جہاں اس حادثے سے 16 سال قبل ہی ایئر انڈیا کا ایک اور طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا جس میں سوار تمام 48 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بعدازاں فرانسیسی حکام کے انکوائری ریکارڈ سے یہ معلوم ہوا کہ جہانگیر بھابھا جس طیارے میں سوار تھے اُس کا پائلٹ حادثے سے چند سیکنڈ قبل تک سوئس ریڈار سسٹم سے رابطے میں تھا۔

تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ فلائٹ کا ایک ’وی او آر‘ (طیارے میں سمت بتانے والا آلہ) کام نہیں کر رہا تھا۔ مزید معلومات اس لیے سامنے نہیں آ سکیں کہ اس بدقسمت فلائیٹ کا ‘بلیک باکس’ کبھی نہیں مل سکا جس کے باعث یہ پتہ نہیں چل پایا کہ گِرنے سے قبل آخری لمحات میں فلائیٹ میں کیا ہو رہا تھا۔

جائے وقوعہ سے ملنے والا ایک ڈپلومیٹک بیگ
جائے وقوعہ سے ملنے والا ایک ڈپلومیٹک بیگ

تاہم انکوائری رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ حادثے کی ممکنہ وجہ کنٹرولر کے ذریعے دیے گئے ایک پیغام کو سمجھنے میں غلط فہمی تھی۔

اس حادثے کے برسوں بعد تک لوگ سوال اٹھاتے رہے اور اس مبینہ نظریے کو قبول عام ملا کہ ’یہ غیر ملکی قوتوں کی طرف سے انڈیا کی جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کی گئی تخریب کاری تھی۔‘

اپنی ہلاکت سے کچھ عرصہ قبل جہانگیر بھابھا انڈیا اور ایشیا کا پہلا ایٹمی ری ایکٹر بنا چکے تھے۔

فروری 1965 کی ایک ڈی کلاسیفائیڈ امریکی دستاویز کے مطابق انھوں (جہانگیر بھابھا) نے امریکی انڈر سیکریٹری آف سٹیٹ کو بتایا تھا کہ ’اگر انڈیا پوری طرح کوشش کر لے تو وہ 18 ماہ میں ایک جوہری ڈیوائس تیار کر سکتا ہے۔ اور امریکی بلیو پرنٹ دستیاب ہو تو یہ کام چھ ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے۔‘

اُن کی اچانک موت سے ان مقاصد میں تاخیر ضرور ہوئی لیکن انڈیا بالآخر چند برسوں میں ہی جوہری صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

ایک غیر معمولی فعال بچہ

جہانگیر بھابھا بمبئی (اب ممبئی) کے ایک امیر اور مغربی طور طریقوں والے پارسی خاندان میں پیدا ہوئے، اس خاندان کا تعلق ملک کے مشہور صنعتکار خاندان ’ٹاٹا‘ سے تھا۔

اُن کے قریبی رشتے داروں کے مطابق وہ بچپن سے ہی کافی متجسس طبعیت کے مالک تھے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران جہانگیر بھابھا نے پیراشوٹ کے بارے میں سُنا۔ وہ اس وقت صرف چھ یا سات سال کے تھے مگر وہ بضد ہوئے کہ وہ پیراشوٹ کو آزما کر دیکھیں گے۔

ان کے ایک رشتے دار کے مطابق ’ایک دفعہ وہ اور رستم (اُن کا کزن)، جو عمر میں بھابھا سے بھی چند ماہ چھوٹے تھے، دو چھتریاں لے کر اپنے گھر کی پہلی منزل کی بالکونی پر چھلانگ لگانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اتفاق سے ان کے بڑے کزن دنشا نے یہ سب کچھ دیکھ لیا اور انھیں واپس کھینچا۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان دنیا کے سب سے خطرناک آدمی تھے؟

کلاشنکوف سمیت وہ چار ’تباہ کن‘ ایجادات جن کے موجد احساس جرم کا شکار ہوئے

سٹنگر میزائل: افغان جنگ کا فیصلہ کن ہتھیار جو روسی افواج پر قیامت بن کر ٹوٹا

ان کی اس نوعیت کی سرگرمیاں بعض اوقات اُن کے والدین کو پریشان کرتی تھیں۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ وہ کافی مشکل سے سوتے تھے، لہذا پرشان ہو کر والدین انھیں پیرس کے ایک مشہور چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس لے گئے۔

یہ کہانی بھابھا کے ایک قریبی عزیز نے محقق اندرا چودھری کو بتائی تھی۔

’تھوڑی دیر کے بعد ایک نرس باہر آئی اور انتظار کرنے والے دوسرے مریضوں کو بتایا کہ اُن کی اپائنٹمنٹ منسوخ ہو گئی ہے کیونکہ کمرے میں موجود ڈاکٹر جہانگیر بھابھا کے ساتھ اور زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ بھابھا کے والدین پریشان ہو گئے لیکن ڈاکٹر نے انھیں تھوڑی دیر بعد اندر بلایا اور بتایا کہ بچے کا دماغ غیر معمولی طور پر فعال ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ سو نہیں پاتا۔‘

محقق اندرا چودھری کے مطابق ’ڈاکٹر نے انھیں مزید مشورہ دیا کہ اگر اس بچے کو موافق ماحول دیا جائے تو وہ بڑا ہو کر کافی عقلمند ہو گا۔‘

’آپ سقراط سے انجینیئر بننے کے لیے تو نہیں کہیں گے‘

جہانگیر بھابھا کو ان کے والدین نے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج یونیورسٹی بھیجا تھا۔ اُن کے والد کی خواہش تھی کہ وہ تعلیم کے حصول کے بعد انڈیا واپسی پر ٹاٹا کمپنی کے معاملات سنبھالیں لیکن جہانگیر کو اس شعبہ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

یونیورسٹی کے پہلے سال کے دوران کو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے جو ان کے گریڈز سے واضح تھا۔

کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کے والدین ناراض ہوئے اور انھیں تنبیہ کی کہ وہ ان کو واپس انڈیا بلا لیں گے۔ جہانگیر بھابھا نے جواب دیا کہ ’میں اس شرط پر فرسٹ کلاس مارکس لاؤں گا کہ آپ مجھے ریاضی کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مزید دو سال کی مالی امداد دیں۔‘

اپنے والد کے نام اُن کا خط چھوٹی عمر میں ہی اُن کے تجسس اور ذہانت کو ظاہر کرتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’میں آپ سے سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ انجینیئر کی حیثیت سے کاروبار یا نوکری میرے لیے نہیں ہے۔۔۔ فزکس میری لائن ہے۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ میں اس میں بہت اچھا کروں گا کیونکہ آدمی اسی شعبے میں بہترین کام کرتا ہے اور سبقت لینے میں کامیاب ہوتا ہے جس کا اسے شوق ہو۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’مجھے ایک کامیاب آدمی یا کسی بڑی کمپنی کا سربراہ بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ بیتھوون (مشہور کمپوزر) سے یہ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ آپ کو سائنسدان ہونا چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑی چیز ہے، یا سقراط کو انجینیئر بننے کے لیے نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ذہین آدمی کا کام ہے۔‘

معروف کمپوزر بیتھوون کے بارے میں والد کو لکھے گئے خط میں اُن کا حوالہ اُن کے بچپن اور جوانی کے شوق کا اظہار تھا اور ایک بار تو انھوں نے موسیقی ترتیب دینے کی کوشش بھی کی، اور اپنے شہرت کے دنوں میں بھی وہ چھٹیوں میں اپنے پسندیدہ شہر ویانا میں کنسرٹس دیکھنے جایا کرتے تھے۔

وہ پینٹنگ بھی کرتے تھے جو کہ معروف پینٹر ایم ایف حسین کو اتنا زیادہ پسند تھیں کہ وہ کہتے تھے کہ ’بھابھا اگرچہ پیشے سے سائنسدان تھے لیکن فطرتاً وہ ایک مصور تھے۔‘

انھوں نے بھابھا کے لیے کہا تھا کہ ’ان کی ڈرائنگ تقریباً لیونارڈو دا ونچی (مشہور اطالوی پینٹر اور انجینیئر) کی طرح ہیں۔‘

ایف ایم حسین
ایف ایم حسین

انڈیا کا لیونارڈو دا ونچی

کیمبرج سے آنے کے بعد انڈیا کی سائنسی برادری سے وہ اتفاقاً منسلک ہوئے۔ دوسری عالمی جنگ کی شروعات سے پہلے چھٹیوں میں وہ انڈیا آئے ہوئے تھے لیکن جنگ شروع ہونے کی وجہ سے انڈیا میں ان کا قیام مجبوری بن گیا۔

سنہ 1944 میں وہ بمبئی منتقل ہو گئے جہاں ٹاٹا ٹرسٹ کی مالی مدد سے جس عمارت میں وہ پیدا ہوئے تھے اسی میں ‘ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ’ نامی ادارہ قائم کیا جو کہ مستقبل میں نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں کام کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوا۔

اس کے چند ہی برسوں میں انڈیا آزاد ہو گیا لیکن آزادی سے پہلے ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ساتھ جہانگیر بھابھا کے تعلقات کافی اچھے تھے۔ نہرو سائنس اور اس کے استعمال سے انڈیا کی ترقی کے سخت حامی تھے۔

وہ انڈیا کے سٹیل پلانٹس، تحقیقی مراکز اور اس طرح کی سائنسی کامیابیوں کو ‘جدید ہندوستان کا مندر’ کہتے تھے۔ نہرو کے ساتھ بھابھا کی قربت نے انھیں دنیا بھر سے بہترین انڈین سائنسدانوں کو راغب کرنے میں مدد ملی اور خود کو خالص سائنس سے انڈیا کے جوہری پروگرام کی تعمیر اور اس کی قیادت کرنے میں۔

بھابھا کا کہنا تھا کہ انڈیا کی اپنی مہارت ’کامیابی کا انجن‘ ہے اور غیر ملکی تعاون صرف ’بوسٹر‘ ہیں۔ انھوں نے اپنی موت سے چند ہفتے پہلے جریدہ سائنس میں لکھا کہ ‘اگر ہندوستانی صنعت کو آگے بڑھنا ہے اور آزاد پرواز کے قابل ہونا ہے تو یہ ضروری ہے اس کی تقویت ملک میں موجود سائنس اور ٹیکنالوجی سے حاصل ہو۔’

نہرو کا ان پر بھروسہ اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فوری طور پر ان کی خطوط کا جواب دیا کرتے تھے اور بھابھا چھوٹی چھوٹی درخواستوں کے لیے بھی نہرو تک پہنچنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔

بھابھا نہرو سے 20 سال چھوٹے تھے اور وہ اپنے خطوط میں نہرو کو ’مائی ڈیئر برادر‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

ایک بار انھوں نے نہرو کو بمبئی کے رہائشی علاقہ مالابار ہلس میں درختوں کی کٹائی بند کرانے کے لیے خط تحریر کیا تھا۔

ایک دفعہ بھابھا نے نہرو کو خط لکھا کہ انھیں دو کاریں فراہم کی جائیں تاکہ سائنسدانوں کو 24 گھنٹے اپنے کام کے حساب سے آنے جانے کی آزادی ہو کیونکہ وہ جس نئی ایٹمی لیب میں کام کر رہے تھے وہ شہر کے مرکز سے بہت دور تھی۔

یہ ایک عجیب مطالبہ تھا خاص طور پر اس لیے کہ نئی نئی بننے والی حکومت کے پاس پیسوں کا فقدان تھا اور حکومت اس نوعیت کی مراعات کی اجازت نہیں دیتی تھی، لیکن اس کے باوجود نہرو نے اس تجویز کو اسی دن منظور کر لیا۔

بھابھا اور نہرو موجود اعتماد کے اسی رشتے کے نتائج بھی جلد ہی نظر آنا شروع ہو گئے۔

اس خط کے صرف تین دن بعد ہی اس ایٹمی لیب میں انڈیا کا پہلا ’سوئمنگ پول ری ایکٹر‘ شروع ہوا۔

دوسروں کے نظر میں بھی ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور صنعت کار جے آر ڈی ٹاٹا نے سنہ 1985 میں بھابھا پر ایک کتاب کا اجرا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہومی بھابھا میرے لیے ان تین سب سے قابل ذکر آدمیوں میں سے ایک تھے جنھیں مجھے اپنی زندگی میں جاننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایک جواہر لعل نہرو، دوسرے مہاتما گاندھی اور تیسرے ہومی بھابھا۔‘

بلکہ انھوں نے بھابھا کو ان تینوں میں سے سب سے اعلی مقام دیا۔ انھوں نے کہا ’درحقیقت میں جتنے بھی آدمیوں کو جانتا ہوں، بشمول باقی دو کے جن کا میں نے ذکر کیا ہے، ہومی بھابھا واحد شخص تھے جنھیں میں ایک مکمل شخصیت کہوں گا۔‘

’اگر طیارہ 15 میٹر اور اوپر ہوتا تو جہاز چٹان سے بچ جاتا‘

جہانگیر بھابھا کو شیڈول کے مطابق کسی اور فلائیٹ سے جانا تھا لیکن اچانک انھوں نے وقت سے پہلے ہی جانے کا فیصلہ کیا۔

اُن کے چوٹے بھائی جے جے بھابھا بتاتے ہیں کہ ’میری والدہ کو اس بات کا بہت غم تھا، انھوں نے اپنے طے شدہ شیڈول سے پہلے جو پرواز لی، وہ کریش ہو گئی۔‘

اس وقت تک ملک میں وہ ایک معروف شخصیت کا رتبہ حاصل کر چکے تھے۔ معروف سائنسدان اور نوبل انعام یافتہ سی وی رمن نے انھیں لیونارڈو دا ونچی کا جدید ہم عصر قرار دیا تھا۔

پرواز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 8.02 بجے اپنے منزل جنیوا پہچنا تھا لیکن اس میں تھوڑی تاخیر ہوئی۔ تاہم سنہ 1966 کی بی بی سی رپورٹ کے مطابق وہ طیارہ صبح آٹھ بجے فرانسیسی آلپس پہاڑیوں میں غائب ہو گیا۔

مزید پڑھیے

اوجڑی کیمپ: جب 33 برس قبل راولپنڈی، اسلام آباد پر قیامت ٹوٹ پڑی

شاہنواز بھٹو کی ’پراسرار‘ موت جس نے بھٹو خاندان کو ہلا کر رکھ دیا

لال بہادر شاستری: وہ انڈین وزیر اعظم جن کی میت کو صدر ایوب خان نے کندھا دیا

کریش کے مقام پر پہنچنے والے پہلے لوگوں میں سے ایک گائیڈ جیرارڈ ڈیووسکس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر طیارہ فقط 15 میٹر اور بلند ہوتا تو جہاز چٹان سے ٹکرانے سے بچ سکتا تھا۔ طیارہ ٹکرانے سے پہاڑ میں ایک بہت بڑا گڑھا بن گیا تھا۔‘

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پائلٹ نے طیارے کی اونچائی کا غلط اندازہ لگایا تھا اور بوئنگ 707 ممکنہ طور پر ایک چوٹی کے بالائی حصے سے ٹکرایا تھا۔ ریڈار کنٹرولر نے پائلٹ کی غلطی کو دیکھ کر طیارے کی پوزیشن درست کرنے کے لیے پیغام بھیجا۔ رپورٹ کے مطابق ’بدقسمتی سے کپتان کی طرف سے غلط فہمی ہوئی جس نے غلطی سے یہ سوچ کر کہ وہ چوٹی عبور کر چکا ہے، نیچے کی جانب اڑان جاری رکھی۔‘

جائے وقوعہ پر پہنچنے والے گائیڈ نے مزید بتایا کہ ’سب کچھ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ چند خطوط اور پیکٹ کے علاوہ کچھ بھی قابل شناخت نہیں تھا۔‘

جائے وقوعہ یعنی پہاڑ کی چوٹی پر جیسے جیسے برف پگھلی ویسے ویسے اس طرح کے خطوط، پیکٹ، جوہرات، اور طیارے کی باقیات سامنے آنا شروع ہوئیں۔ ہر نئی پیش رفت اور سامنے آنے والی خبر کے ساتھ ساتھ اس طیارے کے حادثے سے متعلق شک وشبہات بھی گہرے ہوتے چلے گئے۔

بعض افراد نے دعویٰ کیا کہ طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا چند نے تو یہ تک کہہ دیا کہ طیارے ایک دوسرے چھوٹے طیارے سے ٹکرا گیا تھا۔

اخبار
ڈینیئل روشے تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے سے ملنے والا اخبار کا ٹکڑا دکھا رہے ہیں

سازشی نظریے

’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق سنہ 2008 میں گریگوری ڈگلس نامی ایک امریکی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس رابرٹ کراؤلی نامی سی آئی اے کے ایک افسر کی ریکارڈنگ ہے جس میں وہ اشارہ کرتے ہیں کہ اس حادثے میں امریکی خفیہ اداروں کا کردار تھا۔

’دی اکانومسٹ‘ کے مطابق حادثے کی جگہ کو سیل کرنے کے بعد فرانسیسی صحافیوں کی ایک ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا۔ انھیں وہاں ملبے کے ایک ٹکڑے پر ’یکم جون 1960‘ کی مہر لگی ہوئی ملی جبکہ بوئنگ کا یہ طیارہ 1961 میں سروس میں شامل ہوا تھا۔ جائے وقوعہ سے ایک دھات کا مرکب بھی ملا تھا جو کہ ایک بکتر کی طرح لگ رہا تھا اور جس پر ’کیموفلاج‘ پینٹ تھا۔

ٹیم نے اپنے طور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بوئنگ ایک دوسرے طیارے سے ٹکرا گیا تھا، لیکن حکام نے اس رپورٹ سے ناراض ہو کر ان صحافیوں کی طرف سے جائے وقوعہ سے لائے گئے ملبے کو ضبط کر لیا۔

اسی نوعیت کے سازشی نظریے کے تحت یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس جگہ سے ملنے والی ایک پلیٹ پر ‘یو ایس اے ایف’ یعنی یو ایس ایئرفورس لکھا ہوا تھا۔ یہ نظریہ آج بھی آن لائن بلاگز پر نظر آ جاتا ہے۔

جین ڈینیئل روشے نامی ایک شخص کئی برسوں تک پہاڑ کی چوٹی سے طیارے کا بکھرا ہوا ملبہ اکٹھا کرتے رہے تھے۔ بعدازاں انھوں نے بھی دعویٰ کیا کہ ایئرانڈیا کا طیارے ایک دوسرے طیارے سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوا تھا۔

مگر دوسری جانب ایوی ایشن بلاگر ڈیوڈ سینسیوٹی اس دعوے کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب انھوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ’ایئر انڈیا کو پیش آنے والے حادثے کے ایک روز بعد ایک اطالوی طیارہ واقعی گر کر تباہ ہوا تھا، لیکن وہ ایئر انڈیا کے جائے حادثہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور تھا۔‘

اس نوعیت کے اور بہت سے دعوے اور جوابی دعوے سامنے آئے تاہم کسی کی بھی تصدیق ممکن نہ ہو سکی۔

زندگی کا احساس

جہانگیر بھابھا نے ایک مرتبہ اپنے دوست جیسی ماویر کو لکھا تھا کہ ’زندگی کا دورانیہ محدود ہے۔ موت کے بعد کیا آتا ہے، کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی مجھے اس کی پرواہ ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’فن، موسیقی، شاعری اور ہر وہ چیز جو میں کرتا ہوں اس کا ایک ہی مقصد ہے، زندگی کے احساس کی شدت کو بڑھانا۔‘

حادثے کے وقت ان کی عمر فقط 56 برس تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24794 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments