داؤد ابراہیم: 40 سال پہلے بمبئی کے مِل مزدوروں کے بچے جرائم کی دنیا کے بادشاہ کیسے بنے؟

میانک بھاگوت - نمائندہ بی بی سی، دہلی


انڈیا کے معروف شہر ممبئی میں سوتی کپڑے بنانے کی مِلوں کی مشینیں تو اپنی جگہ پر موجود تھیں لیکن اُن کے پہیوں نے گھومنا بند کر دیا تھا۔ سائرن بجنا بند ہو گئے تھے اور چمنیوں سے دھواں نکلنا بھی بند ہو گیا تھا۔

چالیس سال پہلے بمبئی (آج ممبئی) کی ٹیکسٹائل صنعت، جسے ہندوستان کا مانچسٹر کہا جاتا تھا، تباہ ہو چکی تھی۔

جب ممبئی کی کئی ٹیکسٹائل ملیں طویل ہڑتال کے بعد بالآخر بند ہو گئیں تو اُن میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کا روزگار چھن گیا۔ ملازمت سے ہاتھ دھونے کے بعد اِن خاندانوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔

بے روزگاری اور بے بسی کی وجہ سے محنت کش خاندان کے کئی نوجوانوں نے پیسہ کمانے کے لیے ممبئی کی ’تاریک دنیا‘ میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔

سینیئر صحافی پربھاکر پوار کا کہنا ہے کہ ’جب ملیں بند ہوئیں تو مل مزدوروں کے بچوں کی پڑھائی لکھائی چھوٹ گئی۔ لوگوں کے پاس گھر کی کفالت کے لیے پیسے نہیں تھے۔ اسی وجہ سے کچھ نوجوان جرائم کی دنیا میں داخل ہو گئے۔‘

جرائم کی دنیا

مل مزدوروں کے خاندانوں سے نکل کر جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے والے دو نوجوان بعد میں ممبئی انڈر ورلڈ کے نمایاں چہرے بن گئے۔ ایک ارون گاولی جو بائیکولہ کی ڈگڈی چال (کچی بستی) سے نکلے تھے اور دوسرے امر نائیک جو دادر نامی علاقے سے نکلے تھے۔

ممبئی کے سابق پولیس کمشنر راکیش ماریا نے اپنی کتاب ’لیٹ می سے اٹ ناؤ‘ میں لکھا ہے کہ ’ارون گاولی اور امر نائیک دونوں کا تعلق عام مل مزدوروں کے خاندان سے تھا۔ لیکن دونوں نے جلد ہی انڈر ورلڈ کی دنیا میں اپنی جگہ بنا لی۔‘

بدنام گینگسٹر بننے سے پہلے ارون گاولی مہالکشمی مل میں کام کرتے تھے۔ مل مزدوروں کی ایک بڑی تعداد وسطی ممبئی کے علاقوں جیسے پربھادیوی، چنچ پوکلی، ستارا، ماجےگاؤں، دادر، بائیکولہ، اگیرپاڑا اور سات راستا میں رہتی تھی، جنھیں اجتماعی طور پر گرانگاؤں کہا جاتا تھا۔

سوتی کپڑوں کی ملوں میں ٹریڈ یونینز بھی تھیں۔ رفتہ رفتہ ٹریڈ یونینوں پر سماج دشمن عناصر کا قبضہ ہو گیا۔ اگری پاڑا کے ایک بدمعاش بابو ریشم کا سنہ 1980 کی دہائی میں ان یونینوں پر کنٹرول تھا۔

ممبئی پولیس میں 35 سال تک کام کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے اے سی پی ایشاک بھگوان نے مل کے علاقوں میں ہونے والی غنڈہ گردی اور پھر مل مزدوروں کے بچوں کے جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے کو قریب سے دیکھا ہے۔

انھوں نے کہا: ’بابو ریشم نیشنل مل ورکرز آرگنائزیشن میں سرگرم تھا۔ اس نے مزدوروں کو دھمکی دی اور ہڑتال میں خلل ڈالا۔ اسے بائیکولہ کے راما نائک سے بھی مدد مل رہی تھی۔‘

اس دور میں اگری پاڑا میں بابو ریشم، بائیکولہ میں راما نائک، ممبئی سنٹرل میں والاجی پالاجی اور راکسی تھیئٹر کے علاقے میں نریندر نارویکر کا گینگ کام کرتا تھا۔

گینگسٹر داؤد ابراہیم

بھگوان بتاتے ہیں کہ ’ابتدا میں مل مزدوروں کے بچوں نے سنیما کے ٹکٹ بلیک میں فروخت کرنا شروع کر دیے اور پھر وہ لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور چھرا گھونپنے جیسے چھوٹے جرائم میں ملوث ہوتے گئے۔‘

جرائم اور غنڈہ گردی صرف مل کے علاقوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ حاجی مستان، یوسف پٹیل اور کریم لالہ جیسے انڈر ورلڈ کھلاڑیوں کے قبضے میں سمندری علاقے اور بندرگاہیں بھی آنے لگی تھیں۔ ڈونگری کے داؤد ابراہیم کو حاجی مستان کا رائیٹ ہینڈ یعنی دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

چھوٹے شہر کا لڑکا ممبئی کا ڈان کیسے بن گیا

ڈان کریم لالہ جنھیں داؤد ابراہیم نے کبھی نشانہ نہیں بنایا

حاجی مستان سے لے کر کریم لالہ تک ممبئی میں انڈرورلڈ کا اثرو رسوخ کیسے قائم ہوا؟

سینیئر صحافی پربھاکر پوار نے بتایا: ’کونکن کے علاقے سے آنے والے مسلم گینگسٹر داؤد ابراہیم ہمیشہ مراٹھی لڑکوں کے ساتھ رہتے تھے۔ اس وقت مل مزدوروں کے بچوں کی بڑی تعداد داؤد کے گینگ میں شامل ہو گئی تھی۔ وہ لوگ ڈان کے ساتھ تھے۔ کام کرنے کا جذبہ تھا۔ سنہ 1997 میں علاقے میں چلنے والی کچھ کاٹن ملوں کے بند ہونے کے بعد مزدوروں کے بچے گینگ میں سرگرم ہو گئے۔‘

بابو ریشم کو پانچ مارچ سنہ 1987 کو گینگز کی آپسی لڑائی میں قتل کر دیا گیا۔ رام نائیک نے اُن کے گینگ کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ بائیکولہ، اگری پاڑا سے لوئر پریل تک بڑھا دیا۔ ان علاقوں میں رہنے والے مل مزدوروں کے بچے اس گینگ میں شامل ہوتے گئے۔

رام نائیک اگری پاڑا کے ہاؤسنگ بورڈ کی عمارت میں رہتے تھے۔ یہ مل مزدوروں کی دگڑی چال کے سامنے واقع ایک عمارت تھی۔ اس چال میں ایک مل مزدور کا بیٹا ارون گاولی اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔

ریٹائرڈ پولیس افسر ایشاک بھگوان نے کہا: ’ارون گاولی اس وقت زیادہ فعال نہیں تھے۔ انھوں نے جرائم کی دنیا میں آہستہ آہستہ اپنے قدم جمائے۔‘

انڈر ورلڈ گینگ وار

یہ وہ دور تھا جب ممبئی کے انڈر ورلڈ میں باہمی گینگ وار نے خونریزی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ گلیوں میں دن دہاڑے گینگ کی بالادستی کے لیے گولیاں چلنے لگیں۔ داؤد اور ارون گاولی کے درمیان ہونے والے گینگ وار میں کئی نوجوان مارے گئے۔

رام نائیک کے پولیس مقابلے میں مارے جانے کے بعد ارون گاولی نے گینگ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ارون گاولی نے بائیکولہ، اگری پاڑا، سات راستہ میں اپنے گینگ کو مضبوط کیا۔ دوسری طرف دادر سے امر نائیک کے روپ میں انڈر ورلڈ میں ایک نیا گینگسٹر سامنے آیا۔ اس گینگ میں مل مزدوروں کے خاندانوں کے چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔

کارخانے

ان نوجوانوں کو کس طرح کا کام کرنا تھا، اس کے بارے میں پربھاکر پوار بتاتے ہیں: ’کچھ نوجوانوں کو عدالت کے احاطے پر نظر رکھنے کے لیے کہا جاتا تھا۔ کچھ کی ذمہ داری تھی کہ وہ علاقے میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ کچھ کو بھتہ وصولی کے لیے ڈرانے دھمکانے کی ذمہ داری دی گئی، جبکہ کچھ نوجوان شارپ شوٹر کے طور پر مخصوص تھے۔‘

پوار کے مطابق ارون گاولی اور امر نائیک نے کئی سالوں تک ان نوجوانوں کی دیکھ بھال کی۔ دونوں دھڑوں کے درمیان باہمی بالادستی کی جنگ بھی مشہور تھی۔ امر نائیک کے بھائی اشونی نائیک کو 18 اپریل 1994 کو ممبئی کی ٹاڈا عدالت میں پیش کیا گیا اور جب وہ عدالت سے باہر نکل رہے تھے تو وہاں وکیل کے لباس میں ملبوس ایک شوٹر نے انھیں گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

بھگوان کا کہنا ہے کہ ’رویندر ساونت، جس نے اشونی نائیک کو گولی ماری، وہ بھی ایک مل مزدور کا بیٹا تھا۔‘ رویندر ساونت کا خاندان جوگیشوری میں رہتا تھا اور ساونت اس قتل سے چند دن پہلے ارون گاولی کے گینگ میں شامل ہوا تھا۔

تب کھٹاؤ مِل بائیکولہ کے علاقے میں تھی۔ اس مل کے مالک سنیل کھٹاؤ کے ارون گاولی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ رام نائیک کی موت کے بعد ارون گاولی کے پاس پیسوں کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

ممبئی

پربھاکر پوار بتاتے ہیں ’سنیل کھٹاؤ نے اپنی مل میں ارون گاولی گینگ کے سینکڑوں نوجوانوں کو نوکریاں دی تھیں۔ اس طرح کھٹاؤ ارون گاولی کی مالی مدد کر رہے تھے۔‘

یہی بات اُن کے قتل کی وجہ بھی ثابت ہوئی۔ سنیل کھٹاؤ کو سات مئی 1994 کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا۔ امر نائیک کو شک تھا کہ کھٹاؤ گاولی کی مالی مدد کر رہا ہے۔ پوار بتاتے ہیں کہ پھر ’امر نائیک نے سنیل کھٹاؤ کو مار ڈالا۔‘

راکیش ماریا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’سنیل کھٹاؤ کے قتل کے بعد، میں نے نوجوانوں کو انڈر ورلڈ سے مایوس ہوتے دیکھا۔ گرانگاؤں کے نوجوانوں نے محسوس کیا کہ ان کا انڈرورلڈ میں صرف استحصال کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ نوجوان تھے جو آسانی سے پیسے حاصل کرنے اور دیگر پرکشش مراعات کی وجہ سے انڈر ورلڈ سے منسلک ہوئے تھے۔

اس کی ایک وجہ گینگ وار بڑھنے کے بعد ممبئی پولیس کی مہم بھی تھی۔ ممبئی پولیس نے امر نائیک اور ارون گاولی کے گینگز کے خلاف سخت مہم چلائی تھی۔ سنہ 1994 تک ممبئی پولیس نے امر نائیک گینگ کے 14 بدمعاشوں کو انکاؤنٹر میں ہلاک کیا۔ اس کے بعد یہ گینگ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ ارون گاولی گینگ کے اہم شوٹر بھی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے جس کی وجہ سے یہ گینگ ہمیشہ کے لیے غیر فعال ہو گیا۔

بعد میں ارون گاولی سیاست کی دنیا میں آ گئے اور سنہ 2004 میں وہ ممبئی کے چنچ پوکلی انتخابی حلقے سے ایم ایل اے بنے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24154 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments