تہذیبیں، آغاز، تصادم، انجام


تہذیبیں بھی طبعی عمر کو پہنچتی ہیں۔ سکرات سے دو چار ہوتی، عبرت و حسرت کا نشان یا نئی ابھرتی تہذیبوں کے لیے آئیڈیل کا نصیب پاتی ہیں۔

سدومی، عاد و ثمود، پومپے ثقافتیں اپنے خوفناک انجام اور غیر انسانی مبتذل رویوں میں ثقافتی پیش رفت کرتے ہوئے عبرتوں کا سامان تاریخ کے حوالے کر کے پیوند زمین ہو گئیں۔ البتہ یونان و روم کی تہذیبیں اپنی علمی روش سائنسی مزاج اور نسبتاً بہتر اخلاقیات کی بنا ہر بہت سا علمی و سائنسی سرمایہ اور سامان رشک چھوڑ گئیں، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ تہذیبوں کا انجام آئیڈیل نہیں ہوتا۔ ان کی مثال حسین عورت کی سی ہوتی ہے۔ جس کے بڑھاپے کو بجھے ہوئے آتش فشاں سے تشبیہ دی گئی ہے، تہذیبوں کی ثروت مندی کا معیار یہ ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے کیا سرمایہ چھوڑ جاتی ہیں۔

تہذیبوں پہ بات کرتے یا سوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ تہذیبیں کن خصائل کی بنیاد پر عروج سے آشنا ہوتی ہیں اور کون سے عوامل انھیں زوال پذیری کی راہ پر ڈالتے ہیں۔ تہذیبوں کے پروان چڑھنے کا لوازمہ تاریخی ضرورت بھی ہوتی ہے اور کچھ عبقری خاص طور پر پیغمبر اور پیغمبرانہ مشن کے حامل افراد بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ تہذیبوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ علم و ہنر کے اصول طے کرتے ہیں۔ اپنی بلند آدرشوں کی تکمیل و تشکیل کے لیے اپنے شب و روز حتی کہ جانیں قربان کر دیتے ہیں۔ یوں ان نابغان زمین و زمان کی وجہ سے ایک تہذیب ابھرتی ہے اور اپنے اثرات کئی ثقافتوں پہ چھوڑتی اور جغرافیائی حدیں عبور کرتے ہوئے کئی خطوں تک پھیلا دیتی ہے۔

وقت کے گزرنے کے ساتھ جب اس تہذیب کو جواب دعویٰ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کرتی ہے۔ اس دوران اپنی سہل کوشی اور مرض عیش کی وجہ سے وہ قحط الرجال کا شکار ہو چکی ہوتی ہیں۔

اچھے لوگوں کی ناقدری اس تہذیب کو تیسرے درجہ ذہانت کے نالائقوں کے حوالے کر دیتی ہے جو علم و ہنر اور فراست کی بجائے جبر و ستم سے اپنے کلچر اور تہذیب کو بچانا چاہتے ہیں۔ اس عرصہ میں اس تہذیب یا اس قوم کی اشرافیہ کرپٹ اور بد کردار، افواج ظالم اور عوام لہو لعب کے بھی اسیر ہو چکے ہوتے ہیں، بس یہ لمحہ ہوتا ہے زوال کا۔ ایسے میں ان کے ہر حربے اور حیلے ان کے خلاف جاتے ہیں ان کے پاس بس کچھ عبرت و حسرت کے قصے رہ جاتے ہیں، لیکن قانون قدرت کے تحت ایک استثنا ان لمحات مرگ میں بھی موجود ہوتا ہے اگر اس وقت کوئی طباع ہستی اس قوم کا نصیب ہو اور اسے اس کی قدر کا کچھ سلیقہ بھی ہو تو ایسا شخص اپنی تہذیبی باقیات کو وقار سے اپنے سے قریب کسی تہذیب کی وراثت میں دے دیتا ہے۔ اپنی تہذیب کی تجسیم و تشکیل جدید بھی کر جاتا ہے۔ مذہبی تہذیبیں اور روم و یونان کی علمی وجاہت کی حامل تہذیبیں اس کی بہترین مثال ہیں۔

اس موضوع پہ اب ہم ایک اور جہت سے نگاہ ڈالتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں جب مختلف تہذیبیں موجود ہوں تو ان کے درمیان کشمکش لازمی ہے، اس کا انجام فتح و شکست، سرد جنگ اور اضطراب کی ڈوبتی ابھرتی لہروں کی صورت میں دکھائی دیتا اور تاریخ کے صفحات کا حصہ بنتا جاتا ہے۔

تاریخ کا سینہ اس کشمکش کا بڑا مدفن ہے، یونان و روم، مشرق و مغرب، عیسائیت و یہودیت اور پھر اسلام یہودیت و عیسائیت، کچھ آگے بڑھیں تو سیکولر ازم، کیپیٹل ازم اور اسلام ازم یہ سب مناقشے اصل میں کافی حد تک تہذیبی تصادم ہیں۔

اگرچہ کچھ اور عوامل بھی ان نزاعات اور اس ٹکراؤ کا باعث بنتے ہیں۔ جن میں جنس، زبان اور سرمایہ یا معیشت زیادہ موثر اور اہم ہیں۔ یہ کشمکش اکثر دھیمے سروں میں رہتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ریاستوں کی ضرورتوں کے تحت معرکہ آرائی اور جنگ و جدل کے قہر بھی ٹوٹ پڑتے ہیں۔ تہذیبی تصادم میں زبان، لباس، خوشی، غمی کے مواقع کی روایات، خاندانی اور عائلی زندگی کی رسومات متاثر ہوتی ہیں، غالب تہذیب کی زبان اور لباس مقامی اور مغلوب کلچر پر حملہ آور ہوتا ہے اور کمزور ثقافتی پس منظر کی اقوام جلد ہمت ہار کر غالب تہذیب میں گم ہو جاتی ہیں۔ لیکن مضبوط و توانا تہذیبی ماضی رکھنے والی قومیں اپنی لباس زبان اور روایات میں دخل اندازی کی شدید مزاحمت کرتی ہیں اور بہت کم ثقافتی جبر کو قبول کرتی ہیں۔ یوں اپنا بہت سا تہذیبی و ثقافتی ورثہ بچا لیتی ہیں

چند دہائیاں قبل یک قطبی دنیا کی تشکیل کی بڑی کوشش کی گئی۔ لیکن یہ چیز انسانی فطرت کے خلاف ہے، کائنات اور انسانی سماج میں وحدت و تنوع کا حسین امتزاج ہے، یہی انسانی تمدن و ثقافت کی اصل روح ہے۔ اس تنوع کے خلاف ہر طرز عمل نے ناکام ہونا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج کثیر ثقافتی دنیا کے لیے بہترین مواقع ہیں۔ تاریخ کے خاتمے کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے شوشے دم توڑ چکے ہیں۔ یک قطبی دنیا کثیر قطبی ہو چکی ہے، تہذیبی تصادم کی کہانی پینٹاگان کی مرضی کی نہیں رہی۔ اب تہذیبوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے مواقع دینا پڑ رہے ہیں، کائنات میں جاری تنوع کو انسانی معاشروں کے لیے بھی ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

ایک خوبصورت کم مقابلہ آرا اور قوت برداشت کی حامل دنیا کی تشکیل از بس ضروری ہے۔ اہل فکر و دانش کو اس کا بہتر ادراک ہوتا جا رہا ہے جو اس مرحلے پر بہت حد تک ابھی بھی ثقافتی عدم برداشت اور مناقشوں کا شکار دنیا کے لیے روشنی کی کرن اور امید کا چراغ ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments