میں ہر دور میں یزید کے ساتھ ہی تھا


بھائی آپ تو بہت خوش ہوں گے کپتان جا رہا ہے؟ یہ سن کر جی خوش ہو گیا۔ آپ غلط سمجھے خوشی کی وجہ کچھ اور تھی۔ اس سوال کے ساتھ ہی تین دوستوں کی ایک فوٹو ذہن میں آئی تھی۔ یہ وزیر اعظم ہاؤس میں کپتان کی وہی تقریر سن کر نکلے تھے۔ جو وہ دن میں درجنوں بار کرتا ہے۔ لٹکے منہ کھڑے ان دوستوں کو کپتان نے چائے شربت کا نہیں پوچھا تھا۔

ہنسی اس بات پر آئی تھی کہ ہمارے گھر مہمان بہت آتے تھے۔ ہم بھائیوں کے دوست ہی ہوتے تھے۔ شربت اکثر ختم ہوتا تھا۔ ہم چچا کو سیمپل میں ملی کیلشیم کی گولیاں گھول کر ان کا شربت اپنے دوستوں کو پلا دیتے۔ اک آدھ دوست کہتا بھی تھا کہ لا وہ دوائی پلا۔ عجیب منحوس سا شربت ہے لیکن کہیں اور نہیں ملتا۔ جب کپتان کسی کو چائے نہیں پوچھتا تو کیلشیم والا یہ شربت یاد آتا ہے اور بہت کمینی سے خوشی ہوتی ہے۔

کمینی خوشی بھی آپ غلط سمجھے ہیں۔ یہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ بھائی کچھ کماتا کوئی کام کرتا تو ہی کسی کو شربت پلاتا۔ سڑ گئے نا؟

جب باتیں کرنی ہی بے تکی اور بے ترتیب سی ہیں۔ تو اک اور سنیں۔ اک دوست ہے جو بہت اچھے کھانے کھلاتا ہے۔ پانچ آٹھ دوستوں کو مہنگی سی جگہ پر کھانا کھلاتے اسے نہ فرق پڑتا نہ وہ اس سے بھاگتا ہے۔ وہ ایک اچھی کمپنی ہے اس کی باتیں اچھی ہیں۔ لیکن اس کی باتیں اس کا کھانا اور وہ خود بھی خاصا زہر لگتا ہے۔ اس نے ایسے ہی ایک کھانے پر اپنی کہانی سنائی تھی۔

کرایہ نہ ہونا پیدل چلنا۔ بسیں بدلنا، راستے میں تھک کر بیٹھ جانا یا چلتے رہنا۔ ابا کی کم تنخواہ ہونا، اپنا بیمار ہونا۔ ماں کا تسلیاں دینا۔ ماؤں کا تسلی دینا، صبر کرنا، پیسے نہ ہونا۔ یہ سب باتیں اتنی ملتی جلتی ہیں کہ کوئی سنائے اپنی لگتی ہیں۔ ہسپتال کا بستر نہ ہونا، آپ کا بیمار ہونا۔ دھکے تکلیف انتظار اور ماں۔ کوئی اپنا دکھ سنائے ہمیں اپنے یاد آتے ہیں۔

یاد خوشی لاتی ہے۔ سر میسی سے ڈنڈے کھاتے تھے اور میرٹ پر ہی کھاتے تھے۔ لیکن وہ کٹ یاد آتی ہے تو خوشی جیسے بانہیں کھولے دوڑی آتی ہے ساتھ بچپن کے یار آتے ہیں۔ جن سے لڑتے تھے جن سے پٹتے تھے۔

یاد بہت عجیب طرح آتی ہے۔ کنٹرول اس پر ہمارا کوئی ہوتا نہیں، اس کی مرضی جیسے آئے، خوشی سے عید یاد آئی اور عید کے ساتھ مولانا مفتی محمود چلے آتے ہیں۔ مولانا مفتی محمود کو کبھی نہیں دیکھا، دیکھا ہو گا تو یاد نہیں۔ لیکن ان سے جڑی یاد کپڑوں کا نیا جوڑا ہے۔ کوہستان دیامر کے مولانا عبدالباقی کے بیٹے ہمارے ہمسائے تھے۔ مفتی محمود ان کے گھر آئے۔ جو ہمیں یاد رہا وہ بچوں کا نئے کپڑے پہن کر پھرنا، جیسے عید کی خوشی ہو۔ تو ان کے نام کے ساتھ عید کا حوالہ جڑا رہ گیا۔

بے نظیر بھٹو شہید کو دو چار بار قریب سے دیکھا۔ ان کی شہادت سے کچھ دن پہلے بھی دیکھا۔ ان سے جڑی یاد میں پھول ہیں ان کی مہک ہے اور خوشی ہے۔ ہمارا ہمسایہ تھا، پشاور کا نہیں تھا کے پی کے کا بھی نہیں تھا۔ روزگار کے لیے پشاور آن بسا تھا۔ کام اس کا چلتا نہیں تھا۔ نہ مکان کا کرایہ دے پاتا تھا نہ اپنی دکان کا۔ دونوں جگہ پر مالکان ہمارے ہی ہم جماعت تھے۔

دکان کے مالک نے ایک دن بتایا کہ کیسے اس غریب کو کرایہ نہ دینے پر اس کی دکان کے غسل خانے میں بند کر دیا تھا۔ وہ اندر بیٹھا روتا رہا۔ جب مالک دکان کو ترس یا شرم آئی تو اسے چھوڑ دیا ٹائم بھی دے دیا کہ جب ہو تب دے دینا کرایہ۔ بے نظیر جب جونیجو دور میں پشاور آئیں تو گھر کے سامنے سے پیپل ہاؤس گئی تھیں۔ اسی ہمسائے نے ان کی گاڑی پر آٹھ دس کلو پھول پھینکے تھے۔ قسم سے اس کی اوقات نہیں تھی لیکن ان پھولوں کی مہک بی بی کا ہنسنا اور ہمسائے کی خوشی سب یاد ہے۔

بیگم نسیم ولی خان یاد آئی ہیں۔ ان سے بہت طویل انٹرویو بھی کیا۔ ان کا بچوں کی طرح سمجھانا ڈانٹنا چائے پلانا۔ یہ انٹرویو اتنا یاد نہیں جتنا یہ یاد ہے کہ ہمارے فلیٹ کے نیچے کھڑی تھیں۔ کسی کے گھر جانے کا راستہ پوچھ رہی تھیں۔ اور میں ان کو لے کر تین سو قدم دور گیا تھا۔ راستے کی گپ شپ، وہی ماؤں والی باتیں کہ کس کلاس میں ہو، نقل تو نہیں کرتے، پاس ہو جاتے ہو، سیدھے گھر جانا اب۔

خان عبدالولی خان فوت ہوئے تو مجھے ایمرجنسی میں کیمرہ دے کر ان کے جنازے کی ریکارڈنگ پر بھجوا دیا گیا۔ کیمرہ چلانا نہیں آتا تھا۔ ہجوم میں دھکے کھا رہا تھا۔ اسفندیار ولی خان کے نزدیک پہنچ گیا۔ وہ ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کہ بی بی سہ شو یعنی بیگم نسیم ولی خان کدھر گئیں۔ زہ التہ زڑوند دے ( جا وہاں لٹکی ہوئی ہیں ) ۔ میت گاڑی کے پائدان پر کھڑی تھیں۔ لیلی وطن مجنون ولی کے نعرے بھی تھے لیکن جو مجھے یاد ہے وہ محبت جیسے اس پائدان پر اس جوڑے کے احترام میں ہاتھ باندھے کھڑی ہو۔

موروثی سیاست یہ ہمیں سنائی جاتی ہے اس کا طعنہ دیتے ہیں۔ جب ویگو والے لے گئے تھے۔ مجھے لگا تھا کہ آج دن آخری ہے۔ تب کہیں ہماری گپ شپ شروع ہو گئی تھی، انہیں شاید تسلی دینی تھی اپنا خوف جاتا رہا تھا۔ مولانا اور آصف زرداری کو تب تقریباً زندہ ولی بتا یا شاید ثابت کر دیا تھا۔ تو سڑ کر حوالدار بشیر نے پوچھا تھا کہ تمھیں تو موروثی سیاست بھی اچھی لگتی ہو گی۔ اس پر دو سسر دو داماد پہلے چار خلیفہ، یہ کہا تھا۔ پوچھا تھا کہ اس کا موروثی سیاست سے کوئی تعلق ہے؟ وہ حیران پریشان اٹھ کر چلا گیا تھا۔

آصف زرداری کا نام آیا تو جیسے سندھ دھرتی سامنے آ کر بہہ گئی ہے۔ اگر میں وہیں سندھ میں ہی رہتا پشاور نہ آتا تو کیا کرتا؟ دل نے جو جواب دیا ہے سنانے کا نہیں ہے لیکن آپ سے کیا پردہ۔ چور ہوتا اور آصف زرداری کے فارم سے ان کے گھوڑے بکریاں یا اونٹ چراتا۔ اور وہ کہتے کہ اسے ڈھونڈو اور لے کر آؤ میرے پاس۔

مجھے قوم قبیلہ اختیار کرنے کی چوائس ملتی تو جانگلی ہوتا۔ ساندل اور نیلی بار کے علاقے کا ہر ڈنگر اپنا ماتحت ہوتا۔ جدھر سے مرضی کھولتا جدھر مرضی باندھتا یا باڈر پار کسی سردار کو بھیج کر بدلے میں دیسی منگوا کر اپنے گھوڑے کو پلا دیتا۔ فاٹا میں آفریدی ہوتا تو ٹرانزٹ کا کام کرتا جسے آپ سمگلنگ کہتے۔ آگے افغانستان میں کہیں پیدا ہوا ہوتا تو روز اپنی بندوق پکڑ کر روڈ کنارے بہہ جاتا۔ اور جس طرف کو کوئی حملہ کرنے جا رہا ہوتا ان کے ساتھ چل پڑتا۔

ویسے آپس کی بات ہے، دنیا کے حالات دیکھیں اور میرے خیالات دیکھیں، گھر میں بیروزگار بیٹھے جو واحد کام کرنے کا خیال آتا ہے وہ حوالہ ہنڈی ہے کہ ساری دنیا کی پولیس میرے پیچھے ہوتی۔

کپتان کی والدہ کا تعلق جس پنڈ سے ہے۔ وہاں سے ہمارے بزرگ لیلپور آئے تھے۔ جب بھی اس بستی کو یاد کرتا ہوں نیٹ کھولتا ہوں۔ سامنے جو تفصیل لکھی ہوتی ہے وہ اس گاؤں کے رہنے والوں کے کانی کرم وزیرستان سے تعلق کی ہے۔ وزیرستان سے اپنا عزیز ترین دوست پی ٹی ایم والے خیالات کے ساتھ تحصیل ناظم کا الیکشن لڑ رہا ہے۔ اب بندہ کدھر جاوے ویگو ڈالا تو پھر آوے ای آوے۔

ہمارے اس لیل پوری پنڈ میں چوری نہیں ہوتی۔ اس پر آپ نے پنجاب پولیس زندہ باد کا نعرہ نہیں لگانا۔ پنڈ والوں کا چوروں سے ہی تین نسلوں تک ایسی حرام پائیاں نہ کرنے کا معاہدہ ہے جس پر عمل ہو رہا۔ وہ شاید نظر انداز کرتے کرتے بھول ہی گئے کہ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ پنڈ والوں نے خود بھی ایک چوری کرائی۔ بھلا کس کی وہ انکل مائی لارڈ تھے یعنی چلیں چھوڑیں، ان کے کزن مائی گارڈ بنتے بنتے رہ گئے۔

اب چوروں سے اپن ہمدردی نہ کرے تو کیا کرے۔ کپتان کو برادری کا غدار نہ سمجھے تو کیا کرے۔ اچھا آپ سب لوگ کپتان کی طرح بہت نیک لوگ ہیں ایسے خیالات صرف مجھے ہی آتے ہیں۔ کپتان کی ایک بات پر اپن کو باقاعدہ فخر ہے۔ وہی اپنی ہی جیت پر ساری میچ فیس کا سٹہ لگا دینے والی۔ آپ کو کیا لگا کہ ریاست مدینہ والی بتاؤں گا۔ بھئی دیسی بندہ ادھر دیس میں دیسی باتوں میں ہی خوش ہے۔

ریاست مدینہ اور قانون پر اپنا جواب وہی ہے جو گورے کو قبائل نے دیا تھا کہ شریعت بہت بھاری اور احترام کے قابل ہے۔ تمھارا قانون ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ہم رواج ہی کریں گے۔ اسی پر چلیں گے۔

بات شروع ہوئی تھی کہ کپتان کے جانے سے میں خوش ہوں کہ نہیں۔ تو خفا ہوں اور بہت خفا ہوں۔ وجہ حامد میر ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں اور بات ساری سمجھ آ گئی۔ بلوچستان کے بیس میں سے سولہ سترہ ارکان اپوزیشن سے جا ملے ہیں۔ بند کمرے میں صرف خالد مگسی بولے ہیں۔ پیسوں کا حساب کیا ہو گا میرے کتنے اور تیرے کتنے۔ پیسوں سے آگے کا اگر آپ سوچ سکتے ہیں تو ان سب کا اکٹھے ہونا۔ اک چانس پھر ملا ہے۔

آگے مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا اور کیسے لکھوں۔ ہماری ریاست اللہ نذر سے بات کرنے میں ناکام ہے۔ ہر ڈیزائن کا سیاسی نمائندہ اپوزیشن سے آن ملا ہے۔ ان سب نے اک بڑا رسک لیا ہے۔ مسئلہ بڑھ جائے گا اگر توقعات پوری نہ ہوئیں۔ کپتان اپنے ہی خیالات کا اسیر ہے۔ بلوچستان کی ایک بڑی آبادی کا واحد روزگار ایران سے تجارت ہے جسے آپ اسمگلنگ کہتے ہیں۔ کپتان نے وہ بند کرا رکھی ہے۔ سر جی کے کہنے کے باوجود۔ بلوچستان کے اعلی ترین افسر کے چاہنے کے باوجود۔

نتیجہ بلوچستان میں عسکریت بڑھ چکی۔ غریب کے پیٹ پر سیدھی لات ماری۔ اب بیروزگار ہو کر یہ غریب لڑے مرے نہ تو کیا کرے؟ لوگوں کے معاملات بلیک اینڈ وائٹ میں نہیں ہوتے۔ جدھر زراعت نہیں صنعت نہیں معدنیات نہیں روڈ نہیں۔ قانون نہیں۔ وہاں حرام حلال قانون لاقانونیت کی بحث عیاشی ہی ہو سکتی۔ لوکل ڈائنامکس ہیں جو اگنور ہو گئی ہیں کہ جو فیصلے کرتا اس کا زمین سے کچھ لینا دینا ہی نہیں کہ وہ زمین کیسی وہ  لوگ کیسے ہیں۔ کپتان کی باتیں اچھی ہونگی زمینی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں ۔ اس کے ساتھ چلیں تو مریں دور ہٹیں تو پھسیں ۔ نہیں یقین تو کسی وزارت خارجہ کے افسر سے پوچھیں ۔

بات یاد کی ہو رہی تھی۔ امام یاد آئے ہیں۔ لگتا ہے کہ میں ان کے خلاف یزید کے ساتھ تھا۔ ان کے ساتھ جو بہتر تھے وہ آپ سب تھے ہر دور میں انہیں کے ساتھ رہے۔ اب بھی ہیں۔ میں تب بھی یزید کے ساتھ تھا اب بھی ہوں۔ امام تو معاف کر دیں گے، آپ لوگوں کو پوچھتا کون ہے۔ لگے رہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 404 posts and counting.See all posts by wisi

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments