روس، یوکرین تنازع: ایک روسی میزائل حملے کی کہانی جس نے ایک ہی خاندان کی تین نسلوں کا خاتمہ کر دیا

کیرولائن ڈیویز - بی بی سی نیوز


یوری گلودان اپنے فلیٹ میں موجود اپنے اہلخانہ کو چھوڑ کر مارکیٹ جانے کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ انھوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سُنی۔

یہ آواز سُنتے ہی وہ مارکیٹ سے واپس اس عمارت کی طرف لپکے جہاں موجود بہت سے فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ اُن کا بھی تھا۔ عمارت کے داخلی دروازے پر انھوں نے پولیس سے چیخ کر استدعا کی کہ انھیں جلتی ہوئی عمارت کے اندر داخل ہونے دیا جائے۔ پولیس نے انھیں اندر تو جانے دے دیا مگر جب وہ اپنے فلیٹ میں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ اب وہ اکیلے رہ گئے ہیں۔ اندر ان کی اہلیہ اور والدہ کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

اتوار کو یوری کی اہلیہ اور والدہ ایک روسی میزائل کا نشانہ بنیں جو ان فلیٹس والے بلاک کی بالائی منزل پر آ کر گرا تھا۔

ابھی یوری پر شاید جیسے پوری قیامت ٹوٹنا باقی تھی کیونکہ کچھ دیر بعد اُن کے تین ماہ کی بچی کیرا کی لاش بھی فلیٹ کے ایک کونے سے ملی۔

اس روسی میزائل حملے میں ایک ہی خاندان کی تین نسلوں کی موت نے دو ماہ سے جنگ کے شکار ملک یوکرین میں ایک نئے غم و غصے کی لہر کو ہوا دی ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی تین ماہ کی بچی کیرا کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے پریشان نظر آ رہے تھے۔ یوکرینی قوم سے رات کو اپنے خطاب میں صدر زیلنسکی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیسے اس ننھی بچی نے روس کو دھمکی دی ہو گی؟ انھوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بچوں کو مارنا روسی فیڈریشن کا ایک نیا نظریہ بن گیا ہے۔

انھوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور پھر اس کارروائی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والوں کو بُرا بھلا کہا۔

خیال رہے کہ روس کی طرف سے کیے گئے اس میزائل حملے میں پانچ دیگر افراد بھی مارے گئے تھے۔

یوری گذشتہ اتوار کو اپنے تباہ شدہ فلیٹ میں گئے تاکہ اپارٹمنٹ سے جو کچھ بھی بچا سکے وہ واپس لا سکیں۔ اس دوران انھیں ایک فوٹو البمز، شوگر ساشے کولیکشن، ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں بھی ملیں۔ یوری کو اپنی بچی کا ’سٹرولر‘ بھی کئی ٹکڑوں میں بٹا ہوا ملا۔

یہ بھی پڑھیے

’روسی فوجیوں نے مجھے ریپ کیا اور میرے شوہر کو مار دیا‘

روس کے ڈوبتے جنگی جہاز کی ڈرامائی تصویر اور یوکرین کا میزائل حملے کا دعویٰ

’شام کا قصائی‘ کہلائے جانے والے روسی جنرل اب یوکرین میں روسی فوج کی قیادت کریں گے

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر میں فلیٹ میں یہ چیزیں چھوڑ دوں گا تو یہ کچرا بن جائیں گی اور لوگ پھر ان کو پھینک دیں گے۔ میں اس سب چیزوں کو ایک یاد کے طور پر رکھنا چاہتا ہوں۔‘

اس حملے میں ہلاک ہونے والی یوری کی اہلیہ والیریا کی ان سے شادی نو برس قبل ہوئی تھی۔

یوری نے اپنی اہلیہ کے بارے میں بتایا کہ ’وہ ہر چیز میں خوشی تلاش کر سکتی تھیں۔ اوڈیسا ان کا پسندیدہ شہر تھا۔ انھوں نے تعلقات عامہ کے شعبے میں کام کیا ہوا تھا اور وہ بہت سے لوگوں سے بات کر سکتی تھیں اور انھیں سمجھ سکتی تھیں۔‘

یوری نے بتایا کہ میں نے اُن کی تعریف کی تھی کیونکہ وہ بہت اچھی لکھاری تھیں۔

ان کے مطابق وہ تمام خوبیاں رکھنے والی ایک عظیم ماں اور دوست تھیں۔

یوری کا کہنا ہے کہ ‘میرے لیے ویلیریا جیسی کسی اور خاتون کا ملنا ناممکن ہو گا۔ وہ ایک مکمل شخصیت کی مالک تھیں۔ ایسا شخص آپ کو زندگی میں صرف ایک بار دیا جا سکتا ہے اور یہ خدا کی طرف سے میرے لیے تحفہ تھا۔‘

کیرا کی پیدائش یوکرین پر روس کے حملے کے آغاز سے صرف ایک ماہ قبل جنوری کے آخری دنوں میں ہوئی تھی۔

اس کے چند ہفتے بعد والیریا نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تھا کہ وہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ‘خوشی کے ایک نئے لیول پر زندگی بسر کر رہی ہیں۔‘

والیریا نے مزید لکھا کہ ہماری بچی اب ایک ماہ کی ہو گئی ہے اور یہ (ان کی زندگی کے) بہترین 40 ہفتے رہے۔

یوری نے بی بی سی کو اپنے فون پر کیرا کی تصاویر دکھائیں جو انھیں ان کی اہلیہ گاہے بگاہے بھیجتی تھیں۔

‘جب وہ پیدا ہوئی تو ہم بہت خوش تھے۔ میں ہسپتال میں تھا جب والیریا نے بچی کو جنم دیا۔ میرے لیے اب یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ میری بیٹی اور بیوی اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ میری ساری دنیا کل ایک روسی میزائل سے تباہ ہو گئی۔‘

یوری چاہتے ہیں کہ دنیا یہ جان لے کہ ان کے خاندان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

مزید پڑھیے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی بیٹیاں جن کے بارے میں وہ بات نہیں کرتے

ولادیمیر پوتن : سرکاری کوارٹرز میں رہنے والے سابق جاسوس صدر کیسے بنے؟

کیا روس پر یوکرین میں نسل کشی کرنے کے الزامات درست ہیں؟

‘جو کچھ ہو رہا ہے وہ میرے خاندان کے لیے، ہمارے شہر کے لیے، یوکرین کے لیے، پوری تہذیب کے لیے ایک صدمے کا باعث ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہماری کہانی اس جنگ کو روکنے میں مدد دے گی۔‘

یوری نے آخر میں بی بی سی کی ٹیم کو اپنے فلیٹ سے بازیافت ہونے والی چیزوں میں سے ایک بی بی بیگ میں سے کچھ نیپیز دیں اور کہا کہ ‘براہ کرم انھیں لے لو۔ انھیں خیرات میں دے دو۔ مجھے اب ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24061 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments