پرانے پاکستان میں نئے خواب، نیا نصاب


جناب خالد سہیل اور محترمہ مقدس مجید کی کتاب کے حوالے سے کچھ بھی کہنے سے پہلے اپنے دو اشعار اس کتاب کی نذر کروں گی۔

بچپنا رخصت طلب ہے حضرت انسان کا
اب جوانی آ رہی ہے اوج ہے اذہان کا
کب تلک ظالم رخ طوفان پہ باندھے کا بند
سوچ کی ہر موج ہی پیغام ہے طوفان کا

یہ کتاب واقعی سوچ کی وہ بڑی موج ہے جو نئی نسل میں پنپتے شعور کے طوفان کی آمد کا پتا دے رہی ہے۔ سوال اٹھانا ایک زندہ معاشرے کا چلن ہوتا ہے۔ یہی کچھ اس کتاب کے ذریعے مقدس مجید اور خالد سہیل نے بھی کیا ہے۔ یہ کتاب شروع ہی مقدس مجید کی اس تحریر سے ہوتی ہے کہ کیا آپ سوال پوچھنا بھول گئے ہیں؟

انتیس خطوط پہ مشتمل اس مکالمے میں کم و بیش ہر معاشرتی مسئلے پہ سوال اٹھایا گیا ہے اور مشرقی اور مغربی معاشروں کے تناظر میں ان اٹھائے گئے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پہلے بات کرتے ہیں اس مکالمے میں شامل نئی نسل کی نمائندہ مقدس مجید اور ان کی تحاریر کی۔ مقدس سماجیات کی طالبہ ہیں اور بقول ان کے، وہ چاہتی تھیں کہ گریجویشن مکمل کرنے سے پہلے وہ اپنی ایک کتاب لکھ سکیں۔ ان کا یہ خواب تعبیر کی صورت ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ جو ان کے ارادوں کی پختگی کی دلیل ہے کہ ناصرف وہ بروقت اپنے خواب کو تعبیر دینے میں کامیاب ہوئیں بلکہ یہ کتاب صرف تعبیر کو مادی شکل دینے کا نام نہیں بلکہ ایک بھرپور مقصدیت کی حامل کتاب ہے جو کہ نہ صرف موجودہ نوجوانوں بلکہ آئندہ بھی کئی نسلوں تک نوجوانوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

مقدس مجید نے اپنے ان خطوط جو کہ انہوں نے خالد سہیل صاحب کو لکھے ان میں پاکستانی معاشرے اور نئی نسل کے کئی مسائل کی نشاندہی کی اور اہم لیکن منفی رویوں پہ سوال اٹھائے۔ مقدس نہ صرف اپنی بات کو جامع انداز میں کہنے کا ہنر جانتی ہیں بلکہ وہ اس کا اظہار خوبصورت علامات و تشبیہات کے ذریعے سے کرتی ہیں۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ مسائل اور ان کے اثرات کو کئی زاویوں سے دیکھ اور پرکھ کے اسے پر اثر انداز میں تحریر کی صورت پیش کر سکتی ہیں اور اپنے مشاہدے کے گرد ایک عمدہ کہانی تخلیق کر سکتی ہیں۔ وہ فی الحال عمدہ شاعرہ ہیں لیکن ان تحاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر وہ کبھی افسانہ نویسی کی طرف آئیں تو بہت خوبصورت فکشن تخلیق کریں گی۔

آپ کو مقدس کی تحاریر میں پاکستان اور پاکستان جیسے دوسرے مشرقی معاشروں میں تعلیمی سے لے کر طبقاتی، صنفی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل پہ بہت جامع انداز میں تجزیہ اور سوالات ملیں گے۔ یہ وہ سوال ہیں جو ہر باشعور شخص کے ذہن میں ابھرتے ہیں۔

ان خطوط میں دوسری جانب ڈاکٹر خالد سہیل ہیں جو معروف ماہر نفسیات ہیں اور چالیس سے زائد فکشن اور نان فکشن کتب کے خالق ہیں۔ خالد سہیل آپ کو مقدس مجید کے پاکستانی/مشرقی معاشرے کے تناظر میں اٹھائے سوالوں کا اپنے تجربے اور آج وہ جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یعنی مغربی معاشرے کے تناظر میں دیتے نظر آتے ہیں۔ آپ کو ان کے کسی خط میں یہ تاثر نہیں ملے گا کہ دیکھو میں تم سے کتنا زیادہ جانتا ہو اور آج کی نئی نسل کو تو کچھ پتا ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔

مجھے یہ بات اس لیے بہت پسند آئی کیوں کہ ہمارے بزرگوں یا گزشتہ نسلوں کو اگلی نسلوں سے شکایت یہی رہتی ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتے لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ آپ بزرگ ہمیں اپنے سامنے کچھ بولنے دیں تو آپ کو پتا چلے کہ آج کی نسل کیا کچھ جانتی ہے۔ خالد صاحب نے مقدس کے شروع کیے مکالمے کا جس مثبت اور جامع لیکن آسان فہم انداز میں جواب دیا وہ ناصرف معلومات سے بھرپور ہے بلکہ یہ خوبصورتی سے یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایک اچھا عالم و معلم اپنا علم دوسروں تک کیسے پہنچاتا ہے۔ یہاں آپ کو ادبی شخصیات کی مثالیں ملیں گی، پاکستانی اہم ادبی خواتین کی جدوجہد کی داستان پڑھنے کو ملے گی۔ مغربی دنیا میں بدلتی معاشرے کی قدروں کے تناظر میں پاکستانی معاشرے کے مسائل کی گرہیں کھولی جائیں گی۔

یہ مکمل کتاب بتدریج ایسے موضوعات سے شروع ہوتی ہے جو ہمارے معاشرے میں کسی قدر قبولیت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور ان پہ بات کرنا آسان ہے اور پھر آہستہ آہستہ بہت سنجیدہ مسائل تک قاری کو لے کر جاتی ہے جو اگر ایک دم سامنے آئیں تو شاید اکثر قاری بدک جائیں لیکن اس کتاب میں موجود ہر خط اور جوابی خط بتدریج قاری کی شعوری نشوونما کرتا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں موجود مسائل کو جہاں انفرادی طور پہ سمجھا جائے وہیں اجتماعی انداز میں ان کی مکمل تصویر بھی نظر آئے کہ ہمارا معاشرہ ان تمام مسائل کے ہوتے ہوئے کہاں کھڑا ہے۔ یہ کتاب قاری کے نظریات یک دم بھلے نہ بدلے لیکن یہ قاری کو مسلسل سوچنے پہ مجبور ضرور کرے گی جو بالآخر نظریات کی مثبت تبدیلی میں مددگار ہو گا۔

جس مکالمے کی ابتداء مقدس مجید میں خالد سہیل نے کی ہے میں امید کرتی ہوں کہ یہ مکالمہ ہمارے یہاں عام ہو سکے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 110 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments