کیا آپ انسانی جارحیت کی نفسیات سے واقف ہیں؟


انسان ظلم کیوں کرتے ہیں؟

انسان جنگیں کیوں لڑتے ہیں؟

کیا جارحیت انسان کی فطرت کا حصہ ہے؟

کیا قتل کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے؟

انسانوں کی جارحیت ماہرین بشریات‘ نفسیات اور سماجیات کے لیے ایک سوال ہے، ایک معمہ ہے، ایک بجھارت ہے ، ایک پہیلی ہے اور ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اگرچہ جارحیت کے سوال کا کوئی تسلی بخش جواب اور اس مسئلے کا کوئی تسلی بخش حل ابھی تک نہیں ملا لیکن ایرک فرام نے، جو ماہر نفسیات بھی ہیں اور ماہر سماجیات بھی، اپنی کتاب THE ANATOMY OF HUMAN DESTRUCTIVENESS میں مختلف ماہرین کی پیچیدہ اور گنجلک آرا کو یکجا کیا ہے اور اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ چونکہ اس کتاب کا مطالعہ دشوار ہے اس لیے میں ان نظریات کو عام فہم اور آسان زبان میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

جارحیت کے موضوع پر بیسویں صدی میں پہلی اہم کتاب کونریڈ لورنز نے 1966 میں لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب کا نام ON AGGRESSION تھا۔  جارحیت کے موضوع پر دوسری اہم کتاب ڈیزمنڈ مورس نے 1967 میں لکھی۔ یہ کتاب بھی بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب کا نام THE NAKED APE تھا۔

Erich Fromm

ان دونوں ماہرین کاموقف تھا کہ جارحیت انسان کی جبلت میں شامل ہے اور اسی جبلت کی وجہ سے انسان ظلم بھی کرتا ہے اور جنگیں بھی لڑتا ہے۔ لورنز اور مورس نے انسانی جارحیت کو اس کی فطرت اور جبلت سے جوڑا۔

ایرک فرام ان دونوں ماہرین کے نظریے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ لورنز اور مورس دونوں ماہرین بشریات ہیں۔ انہوں نے مچھلیوں ، پرندوں اور جانوروں پر تحقیق کرنے کے بعد جو نتائج اخذ کیے انہیں انسانوں پر بھی لاگو کر دیا۔ ایرک فرام کا کہنا ہے کہ انسان کی فطرت کو سمجھنے کے لیے ہمیں جبلت کے علاوہ اور بھی بہت سے محرکات کو سمجھنا ہوگا۔

ایرک فرام نے جس تیسرے ماہر کا نظریہ پیش کیا ان کا نام بی ایف سکنر تھا جو ایک بیہیورسٹ تھے۔ سکنر کا کہنا تھا کہ انسانی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے اعمال پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ ہم اس کے اعمال کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ سکنر نے انسانی نفسیات کی تحقیق میں جذبات، خیالات اور نظریات کو نظر انداز کیا کیونکہ ہم انہیں ٹیسٹ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا انسان کی داخلی زندگی سے تعلق ہے۔ ایرک فرام سکنر سے بھی اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر انسان کا ایک مخصوص کردار ہوتا ہے اور اس کردار کو سمجھے بغیر ہم اس کے اعمال کے محرکات کو پوری طرح پرکھ نہیں سکتے۔

ایرک فرام نے جس چوتھے ماہر کے خیالات اور تصورات پیش کیے ان کا نام سگمنڈ فرائڈ ہے۔ فرائڈ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آخری دور میں لکھا کہ انسان کی دو جبلتیں ہیں۔

زندگی کی جبلت اور موت کی جبلت

اور انسان کی جارحیت کا تعلق اس کی موت کی جبلت سے ہے۔

Sigmund Freud

فرائڈ کا موقف تھا کہ انسان ساری عمر اپنی ذات کی شعوری اور لاشعوری جبلتوں اور خواہشوں میں تضاد محسوس کرتا ہے اور اپنی ذہنی صحت اور بلوغت کے حوالے سے فیصلے کرتا ہے۔ فرائڈ نے انسانوں کے شعوری فیصلوں کے ساتھ ساتھ اس کے لاشعوری محرکات کو بھی اہمیت دی اور انسانی جاحیت کی تفہیم میں گرانقدر اضافے کیے۔

اس کتاب میں پانچواں نظریہ خود ایرک فرام کا اپنا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ انسان حیوان سے بہت مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں میں دو طرح کی جارحیت پائی جاتی ہے۔

پہلی قسم کی جارحیت بینائن جارحیتBENIGN AGGRESSION  ہے۔ اگر کسی انسان پر کوئی حملہ آور ہو تو وہ اپنی جان بچانے لیے جارحیت کا اظہار کر سکتا ہے۔ یہ جارحیت جانوروں کی جارحیت کی طرح ہے، جانور جب بھوکا ہو تو وہ شکار کرتا ہے اور اس پر حملہ ہو تو وہ بھی جوابی کارروائی کے طور پر اپنی جان بچانے کے لیے حملہ آور ہوتا ہے۔ لیکن شیر سیر ہو چکا ہو اور اسے جنگل میں کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تو وہ بھی بہت پرسکون رہتا ہے اور بے وجہ خون نہیں بہاتا۔

انسان کی دوسری قسم کی جارحیت زیادہ خطرناک جارحیت ہے اس لیے ایرک فرام اسے میلگننٹ ایگریشن MALIGNANT AGGRESSIONکا نام دیتے ہیں۔ اس جارحیت کا انسان کی بقا سےکوئی تعلق نہیں۔ اس جارحیت کا تعلق انسان کی طاقت سے شہوت سے ہے۔ اس جارحیت کی وجہ سے وہ تشدد کرتا ہے۔

اس تشدد سے وہ دوسرے انسانوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی انا کی خاطر بدلہ لینا چاہتا ہے۔ اپنے دشمن کو تباہ و برباد اور ذلیل و خوار کرنا چاہتا ہے۔ وہ اسے نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔ وہ دوسرے انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔

ایرک فرام کا کہنا ہے کہ انسان نے کچھ ایسے نظریات تخلیق کیے ہیں جو جارحیت کو ایک آئیڈیل کے حصول کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ انسان نے ایسے آدرش بنائے ہیں جن کی خاطر وہ بڑے فخر سے نہ صرف اپنی جان دیتا ہے بلکہ اوروں کی جان لیتا بھی ہے۔ ایرک فرام کی نگاہ میں ایسے مذہبی نظریات اور سیاسی آدرش انسانیت کےمستقبل کےلیے خطرناک ہیں کیونکہ وہ جارحیت اور تشدد کو محترم، معزز اور مقدس بنا دیتے ہیں۔

ایرک فرام نے دو طرح کے انسانی کرداروں کا نظریہ پیش کیا۔

ایک کردار کو انہوں نے نیکرو فلس کردار NECRO-PHILOUS CHARACTER  کا نام دیا۔ ایسا کردار موت سے محبت کرتا ہے۔ اسے ظلم جبر اور تخریب کاری سے خوشی ملتی ہے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ظلم کرتا ہے اور سماجی زندگی میں ظالمانہ سوچ اور جابرانہ طرز زندگی کے مقناطیس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ وہ فاشسٹ نظام کا حصہ بن جاتا ہے اور اپنے ظالم ہونے پر فخر کرتا ہے۔

دوسرے کردار کو انہوں نے بایوفلس کردار  BIO-PHILOUS CHARACTER کا نام دیا۔ ایسا کردار زندگی سے محبت کرتا ہے۔ وہ آشتی کے قریب جاتا ہے اور دوسرے پرامن انسانوں کے ساتھ مل کر پرامن معاشرے تعمیر کرنےکی کوشش کرتا ہے۔

ایرک فرام کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے گھروں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایسا ماحول تعمیر کرنا چاہیے تا کہ ہمارے بچے جوان ہو کر نیکروفلس کردار اپنانے کی بجائے بایوفلس کردار اپنائیں تا کہ ہم سب اس کرہ ارض پر پرامن معاشرے قائم کر سکیں۔ انسانی ارتقا کا سفر ایک سست رو سفر ہے جس کے لیے ایک میراتھون رنر کی صبر و استقامت کی ضرورت ہے۔

انسانوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے موت سے محبت کرنی ہے اور ظلم اور جبر و تشدد کو گلے لگانا ہے یا زندگی سے محبت کرنی ہے اور امن و آشتی سے بغلگیر ہونا ہے۔ اسی فیصلے پر انسانیت کے مستقبل کا دارومدار اور انحصار ہے۔

ایرک فرام کی کتاب میں انسانی نفسیات کا ایک قیمتی خزانہ چھپا ہے۔ اسے پڑھ کر قاری انسانی ذات کے نہاں خانوں میں چھپی بہت سی بصیرتوں سے متعارف ہوتا ہے۔ یہ کتاب جارحیت کی نفسیات کے مطالعے کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 548 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments