روس یوکرین جنگ: یورپی یونین کا روسی تیل کی درآمد ختم کرنے، اہم شخصیات پر پابندیوں کا منصوبہ

پال کربی - بی بی سی نیوز


یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن
یورپی یونین نے روس کے خلاف بعض سخت ترین اقدامات کی تجویز دی ہے جن میں روسی تیل کی درآمد پر مکمل پابندی اور جنگی جرائم کے ملزمان پر پابندیاں شامل ہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن نے کہا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا اور یورپ میں ہونے والے نقصان کو کم رکھنا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ روسی خام تیل کی درآمد کو چھ ماہ کے عرصے میں مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔

یوکرینی علاقوں بوچا اور ماریوپل میں مبینہ جنگی جرائم میں ملوث فوجی افسران پر نئی پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔

انھوں نے بدھ کو یورپی پارلیمان کو بتایا کہ ’یہ کریملن کی جنگ میں ملوث تمام مجرموں کو ایک اور اہم پیغام دے گا: ہمیں معلوم ہے آپ کون ہیں اور آپ کا احتساب کیا جائے گا۔‘

یورپی یونین گذشتہ کئی ہفتوں سے اس بات پر غور کر رہی ہے کہ وہ روسی تیل اور گیس سے کیسے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ اس نے 2022 کے اواخر تک گیس کی درآمد کو دو تہائی حصہ تک کم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اب اس کا منصوبہ ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران خام تیل کی درآمد کو مرحلہ وار ختم کیا جائے جبکہ سال 2022 کے آخر تک ریفائنڈ مصنوعات کی درآمد ختم کی جائے۔

یورپی کمیشن کی صدر نے کہا ہے کہ ’ہم یقینی بنائیں گے کہ روسی تیل کو ترتیب کے ساتھ مرحلہ وار ختم کریں۔‘

اس منصوبے کو سب سے پہلے یورپی سفیروں کی منظوری درکار ہو گی اور اس پر آئندہ چند دنوں میں دستخط ہو جائیں گے۔

موجودہ صورتحال میں روسی تیل پر انحصار کرنے والے سلوواکیہ اور ہنگری کو ایک اضافی سال دیا جائے گا تاکہ وہ متبادل ذرائع ڈھونڈ سکیں۔ ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیارتو نے کہا ہے کہ بڈاپیسٹ منصوبے کی موجودہ شکل میں حمایت نہیں کرسکے گا جبکہ سلوواکیہ کے وزیر برائے معیشت نے کہا کہ ان کے ملک کو تین سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

سلوواکیا تقریباً تمام خام تیل روس سے درآمد کرتا ہے

سلوواکیا تقریباً تمام خام تیل روس سے درآمد کرتا ہے

گذشتہ سال روس نے یورپی یونین کو ایک تہائی تیل فراہم کیا جبکہ اس میں جرمنی سب سے بڑا خریدار تھا۔ تاہم جرمنی بڑے پیمانے پر روسی تیل کی درآمد کم کر چکا ہے، 35 فیصد سے 12 فیصد۔ برطانیہ، جو کہ اب یورپی یونین کا رکن نہیں، روسی تیل کی درآمد کو مرحلہ وار کم کر رہا ہے۔ یہ اس کی درآمدات کا آٹھ فیصد حصہ بنتی ہے۔

جمہوریہ چیک کے وزیر صنعتی امور نے بتایا کہ یورپی کمیشن کا منصوبہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ تیل کی قلت کی صورت میں یورپی یونین کے ممالک میں اسے کیسے تقسیم کیا جائے گا۔

کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ماسکو منصوبے کے تحت لگنے والی پابندیوں کے جواب میں کئی راستوں پر غور کر رہا ہے۔ یورپی اور دیگر ممالک کے لیے یہ پابندیاں دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ ان سے یورپی شہریوں کے لیے دن بدن قیمتیں بڑھیں گی۔

روسی بینک اور ٹی وی چینل بھی نشانے پر

یوکرین پر روسی مداخلت کے فوری بعد یورپی یونین نے دو روسی میڈیا اداروں آر ٹی اور سپوتنک کی نشریات معطل کر دیں۔ ان اداروں کی سروسز انگریزی، جرمن اور ہسپانوی زبانوں میں نشریات دے رہی تھیں۔ اب یورپی یونین نے روس کے تین سب سے بڑے سرکاری نشریاتی اداروں کی کیبل، سیٹلائٹ، سمارٹ فون یا آن لائن سروسز کو نشانہ بنایا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے نشاندہی کی ہے کہ یہ ٹی وی چینلز پوتن کے جھوٹ اور پروپیگنڈا کی جارحانہ تشہیر کرتے ہیں۔‘ اگرچہ ان تین نیٹ ورکس کے نام نہیں لیے گئے تاہم خیال ہے کہ ان میں روسی زبان کے روسیا اور آر ٹی آر پلینیٹا کے سرکاری آپریٹر وی جی ٹی آر کے شامل ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ روسی کمپنیوں کو بطور اکاؤنٹنٹ، وکیل یا دیگر سہولیات دینے پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

روس یوکرین جنگ کے باعث کیا ہم خوراک کے عالمی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

روسی حملے کے بعد یوکرین کے لوگ نقل مکانی کر کے کہاں جا رہے ہیں؟

صدر پوتن کی قریبی ساتھی جن کے کپڑے بتاتے ہیں کہ روسی معیشت کس سمت جائے گی

یوکرین جنگ: ’میں جس روس کو جانتا تھا وہ نہیں رہا‘

24 فروری کو یوکرین میں روسی افواج کی مداخلت کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور مغربی ممالک کی جانب سے روس پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کی گئیں

24 فروری کو یوکرین میں روسی افواج کی مداخلت کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور مغربی ممالک کی جانب سے روس پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کی گئیں

اس سے قبل پابندیوں میں روسی بینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا مگر سب سے بڑے بینک سبیر بینک کو فہرست میں شامل نہ کیا گیا کیونکہ اسے روسی گیس خریدنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ سبیر بینک روس میں بینکاری کے شعبے کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے اور اب اسے عالمی مالیاتی نظام سوئفٹ سے ہٹانے کی تیاری ہورہی ہے۔ اس منصوبے میں دو مزید روسی بینکوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ماضی کی پابندیوں میں بھی ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کریملن کے قریبی حلقے میں شامل ہیں اور یوکرین میں مداخلت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق روسی قدامت پسند چرچ کے سربراہ پیٹرایارک کیریل اور کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف کے خاندان کے افراد کو بھی تازہ فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

’ہم یوکرین کی جیت چاہتے ہیں‘

یورپی کمیشن کی صدر نے اس حوالے سے بھی تفصیلات دیں کہ کیسے جنگ میں یوکرین کے اخراجات اور معاشی اثرات پر تعاون کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ یورپ کی یوکرین کی صورتحال پر بڑی ذمہ داری بنتی ہے اور اس صورتحال میں معاشی مدد اور تعمیر نو کے منصوبوں کی امداد ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی معیشت میں کمزوریوں سے نمٹا جائے گا اور کرپشن کے خاتمے میں مدد کی جائے گی۔ ’ہم اس جنگ میں یوکرین کی جیت چاہتے ہیں لیکن ہم جن کے بعد یوکرین کی کامیابی کے لیے سازگار حالات بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘

دریں اثنا یورپی یونین نے کہا ہے کہ یوکرین کے ہمسایہ ملک مالڈووا کی فوجی امداد بڑھائی جائے گی کیونکہ اسے روسی فوجیوں کی طرف سے خطرہ درپیش ہے۔ یورپی کونسل کے صدر چارلز میچل نے یورپی یونین کی صدر سے کہا ہے کہ ’ہم آپ کے ساتھ اپنی شراکت کو بہتر بنائیں گے اور آپ کے ملک کو یورپی یونین کے مزید قریب لائیں گے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24055 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments