میر جعفر کو برا بھلا کہنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ لیں


ایک طویل مدت سے رواج ہے کہ کسی سیاسی یا تاریخی شخصیت کو برا بھلا کہنے کا موڈ ہو تو سیدھا میر جعفر پر تبرے بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے اور پھر اپنے مخالف کی اس سے نسبت ملائی جاتی ہے۔ اقبال تک اس رسم سے خود کو بچا نہ پائے، کہہ دیا ”جعفر از بنگال و صادق از دکن/ ننگ آدم، ننگ دین، ننگ وطن“ ۔ چلیں کم پڑھے لکھے افراد ایسا کہیں تو بات سمجھ میں آتی بھی ہے، لیکن اگر حکیم الامت بھی ایسا کہہ گزریں تو تعجب ہوتا ہے۔ یعنی میر جعفر کا معاملہ کچھ گڑبڑ ہی لگتا ہے۔

وطن عزیز میں رواج ہے کہ سادات کو نبی ﷺ کی اولاد ہونے کی وجہ سے خاص عزت دی جاتی ہے۔ ان کی توہین کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ عام محفلوں کا تو ذکر ہی کیا، بعض علاقوں میں تو خلوت میں بھی ان کی جانب پیٹھ کرنے سے انکار کرنے کی روایت ہے کہ نہ شاہ جی، ایسی گستاخی کرنے جرات نہیں کی جا سکتی۔ ایسے میں میر جعفر کو یوں برا کہنا ریت رواج کے خلاف لگتا ہے۔ آخر میر جعفر کا شجرہ کچھ کم مقدس تو نہیں۔

ہماری رائے میں تو بہتر ہے کہ میر جعفر کو برا بھلا کہنے سے پہلے لوگ سوچ لیں کہ سیدوں کو یوں برا بھلا کہنے کے بعد کہیں ان کی دنیا و عاقبت خراب نہ ہو جائے۔ لوگ جب ایک نجیب الطرفین سید بنام سید میر جعفر علی خان کے نام کو گالی کی طرح استعمال کریں تو کیا آسمان سے عذاب نازل نہیں ہو گا؟

اب آپ حیران ہوں گے کہ ایک آدمی جس کے نام میں میر آتا ہے وہ سید کیسے ہوا؟ وسطی ہند میں سادات کو ازراہ احترام میر کہنے کا رواج ہے۔ آپ کو سادات کے مشہور مرثیہ گو میر ببر علی انیس یاد ہی ہوں گے۔

سید میر جعفر علی خان کے خاندان کا کچھ تذکرہ ہو جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ بادشاہ غازی حضرت اورنگ زیب عالمگیر نے نجف اشرف کے مجتہد سید حسین طباطبائی نجفی کا شہرہ سنا تو انہیں ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی اور پھر وہ اور ان کی آل اولاد دہلی اور بنگال میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

میر جعفر کی اولاد میں سے صدر پاکستان بننے والے اسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا اپنی کتاب ”پلاسی سے پاکستان تک“ میں کہتے ہیں کہ سید حسین طباطبائی نجف کے گورنر تھے۔ وہ امام حسنؓ کے بیٹے حسن مثنیٰ کی اولاد سے تھے اور حضرت علیؓ کے روضہ مبارک کے کلید بردار تھے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دربار میں وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بیٹے سید احمد نجفی گوالیار اور اڑیسہ کے گورنر رہے۔ ان کے پوتے سید میر جعفر علی خان نے نواب علی وردی خان کے زمانے میں بنگال کا رخ کیا اور رفتہ رفتہ نواب کی فوج میں سپہ سالار بن گئے۔

میر جعفر کو برا بھلا کہنا درست ہے یا غلط؟ کچھ تاریخ دان کہتے ہیں کہ ”منصور الملک، سراج الدولہ، میرزا محمد شاہ قلی خان، ہیبت جنگ“ ایک قابل حکمران تھے اور میر جعفر اور دیگر امرا نے اس سے غداری کی۔ دوسرے کہتے ہیں کہ ان امرا کی جان خطرے میں تھی، انہوں اقتدار اور پیسے کے لیے متلون مزاج نواب سراج الدولہ سے غداری نہیں کی بلکہ اپنی جان بچانے کی خاطر انگریزوں کو پیسہ دے کر خریدا تاکہ سراج الدولہ کو تخت سے اتار کر اپنی جان بچائیں۔

اور ہاں، پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کے لشکر کا سپہ سالار میر جعفر نہیں تھا، میر مدن تھا۔ اس جنگ میں کئی جرنیل تھے جو مختلف دستوں کی کمان کر رہے تھے، ان میں میر مدن، راجہ موہن لال، خواجہ عبدالہادی، فرانسیسی ڈی سینٹ فریس، یار لطف خان، میر جعفر، اور رائے دلب رام شامل تھے۔ نواب کی فوج کی تعداد پچاس سے ساٹھ ہزار تھی اور انگریز فوج کی تین ہزار۔

اگلے مضمون میں ہم نہایت سنجیدگی سے مختلف تاریخ دانوں کے بیانات آپ کے سامنے رکھیں گے، فیصلہ آپ خود کریں کہ میر جعفر غدار تھا یا ایک خوفزدہ شخص جو اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

میر جعفر: نمک حرام غدار یا اقتدار کی جنگ کا ایک مجبور کردار؟

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1502 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments