’کوہ پیما جب کسی مہم پر جاتے ہیں گھر والوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں‘

محمد زبیر خان - صحافی


’کینچن جونگا کو سر کرتے ہی میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ کوئی اتنا آسان نہیں تھا۔ میں نے اپنی پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کچن بوائے کی حیثیت سے کیا تھا۔ دنیا کے نامی گرامی مانے ہوئے کوہ پیماوں کو سروس فراہم کرتے ہوئے میں ہمیشہ کامیاب ترین کوہ پیما بننے کے خواب دیکھتا تھا مگر اس کے لیے میرے پاس کوئی وسائل نہیں تھے تاہم انتھک محنت، جذبہ اور جوش موجود تھا۔‘

یہ کہنا ہے مایہ ناز پاکستانی کوہ پیما سرباز خان کا، جو وہ پہلے پاکستان ہیں جنھوں نے دنیا کی آٹھ ہزار میڑ بلندی کی دس کی دس چوٹیاں سر کر لی ہیں۔

گلگت بلتستان کے سنٹرل ہنزہ سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ سرباز خان نے یہ اعزاز حال ہی میں نیپال میں دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کینچن جونگا کو سر کر کے حاصل کیا ہے۔

سرباز خان نے اس چوٹی کو سر کرنے سے قبل کے ٹو، ناگا پربت، براڈ پیک، لوہٹسے، مناسلو چوٹی، اناپورنا، ماونٹ ایوریسٹ، گیشربرم ٹو اور داولاگیری کو سر کیا تھا۔

سرباز خان کہتے ہیں ’مجھے تو خوشی ہوئی ہی تھی مگر سب سے زیادہ خوشی میری اہلیہ، والدین، بچوں اور بہن بھائیوں کو ہوئی۔ یہ سب میرے ساتھ میری جدوجہد میں شریک تھے۔ ہم کوہ پیما جب کسی مہم پر جاتے ہیں تو ہمارے گھر والوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔ ہم لوگ تو چوٹی سر کر رہے ہوتے ہیں جبکہ وہ دن اور رات کا سکون کھو دیتے ہیں۔‘

’دس چوٹیاں سر کرنے کے بعد اب میں سمٹ 14 کی طرف جا رہا ہوں۔ یعنی میں اب دنیا میں موجود آٹھ ہزار میڑ سے بلند 14 چوٹیاں سر کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس میں میرے لیے ابھی چار باقی ہیں اور یہ کارنامہ اب تک دنیا میں صرف چالیس کوہ پیما انجام دے سکے ہیں۔‘

چھپ کر کیمپ ون اور ٹو تک کا سفر

سرباز خان کہتے ہیں کہ ’میرے والد کارپینٹر کے پیشے سے منسلک تھے۔ میری والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ میرا بچپن اسی طرح عام سا ہے جس طرح عام لوگوں کا ہوتا ہے۔ والد ہم تین بہن بھائیوں کی پرورش کے لیے سخت محنت کرتے۔ مگر میرے خواب کچھ اور ہی تھے۔‘

سرباز خان کہتے ہیں کہ ’میں بچپن ہی سے ایتھلیٹ ہوں۔ پاکستان کی والی بال ٹیم کا حصہ رہ چکا ہوں جبکہ گلگت بلتستان کی جانب سے نیٹ بال کھیلتا ہوں۔ مجھے بچپن ہی سے ان بلند وبالا پہاڑوں سے عشق ہے جبکہ ان پہاڑوں کو سر کرنے والے کوہ پیما میرے ہیرو تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتا تھا کہ کسی طرح میں بھی کوہ پیما بنوں۔ مگر کوئی راستہ سمجھ میں نہیں آتا تھا اور کچھ رہنمائی بھی دستیاب نہیں تھی۔ جب میں نویں کلاس میں تھا تو سیاحت سے منسلک ایک کمپنی میں کچن بوائے لگ گیا۔‘

سرباز خان کہتے ہیں کہ ’اس کے ساتھ میں پورٹر اور گائیڈ بھی بنا مگر زیادہ عرصے تک کچن بوائے کی خدمات انجام دی تھیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ کچن بوائے کی حیثیت سے دنیا کے مایہ ناز کوہ پیماوں کے قریب رہنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا تھا۔ ’میں اپنا کام بہت محنت سے کرتا تھا مگر کوہ پیما بننے کا عشق مجھے ہر وقت کچھ کرنے پر اکساتا تھا۔‘

سرباز خان کہتے ہیں کہ اسی عشق کی وجہ سے انھوں نے کئی مرتبہ جی ون، جی ٹو اور دیگر پہاڑوں جہاں پر وہ بیس کیمپ پر خدمات انجام دے رہے تھے، وہاں سے چھپ کر کیمپ ون اور ٹو کا بھی سفر کیا۔

’یہ انتہائی خطرناک سفر تھا۔ میں اب سختی سے نوجوانوں کو منع کرتا ہوں کہ وہ کبھی بھی ایسا نہ کریں یہ جان لیوا ہوسکتا ہے۔ ایک دو مرتبہ پکڑا گیا تو کمپنی سے ڈانٹ بھی پڑی تھی۔‘

’مگر میں تھا کہ باز آنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ میرا یہی جذبہ اور شوق کے ٹو کو سردیوں میں پہلی مرتبہ سر کرنے کا کارنامہ انجام دینے والے نیپالی کوہ پیما مینگما جی نے دیکھا تو مجھے انھوں نے کوہ پیما بننے کا مشورہ دیا تھا۔‘

2004 میں مینگما جی سے ملاقات

سرباز خان کہتے ہیں کہ یہ 2004 کا واقعہ ہے جب مینگما جی کے ٹو کو سر کرنے کے لیے پاکستان آئے تھے۔ ’میں اس وقت کے ٹو کے بیس کیمپ میں کچن بوائے کی خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس وقت کے ٹو کے بیس کیمپ پر دو مختلف گروپ تھے۔ ان گروپوں کو میں دوڑ دوڑ کر سروس فراہم کرہا تھا۔‘

’مینگما جی مجھے وہاں پر خدمات انجام کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے میرے بارے میں کہا کہ میں تو میں بنا بنایا شاندار کوہ پیما ہوں۔ انھوں نے کہا کہ سرباز تم کے ٹو کی پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر دوڑ دوڑ کر خدمات انجام دے رہے ہو۔ اس دوران تمھارا سانس بھی نہیں پھول رہا اور تم اتنی محنت کے بعد تاز دم بھی ہو۔‘

کوہ پیمائی کے لیے دو چیزیں لازمی ہیں ایک مضبوط پھیپڑے اور دوسرا دل۔ ’یہ دونوں تمھارے پاس ہیں۔ تمھیں کوہ پیما ہونا چاہیے نہ کہ کچن بوائے!‘

سرباز خان کہتے ہیں کہ اس بات نے میرا اور حوصلہ بڑھا دیا تھا۔ ’مگر مجھے 2004 کے بعد 2015/16 تک کوہ پیمائی کا کوئی موقع نہیں ملا تھا۔ میں کوشش کرتا رہا مگر بدقسمتی سے بات بن نہیں رہی تھی۔ اس وقت پاکستان میں نہ تو کوئی ایسے ادارے تھے اور نہ ہی کوئی مواقع فراہم کرتا تھا۔‘

’کوہ پیمائی کا پہلا موقع بھی مجھے مینگما جی ہی نے فراہم کیا تھا۔ جب یہ دوسری مرتبہ کے ٹو کو سر کرنے کے لیے آئے تو انھوں نے مجھے اپنی ٹیم میں بلندی پر پورٹر کی خدمات فراہم کرنے کے لیے شامل کرلیا تھا۔ جس بعد میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔‘

خزاں میں پہلی مرتبہ ناگا پربت سر کرنے کا کارنامہ

سرباز خان کہتے ہیں کہ ’اب مجھے علی سدپارہ کا ساتھ بھی حاصل ہوگیا تھا۔ عظیم کوہ پیما میرے استاد تھے۔ ان کے ساتھ آٹھ رکنی ٹیم میں میں نے 2017 میں دنیا کی خطرناک ترین چوٹی ناگا پربت کو خزاں میں سر کیا تھا۔ میرا شمار اس ٹیم میں ہوتا ہے جس نے پہلی مرتبہ خزاں میں ناگا پربت کو سر کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔‘

سرباز خان کہتے ہیں ’چوٹیاں سر کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے۔ اس کے لیے صرف مضبوط جسم ہی نہیں چاہیے بلکہ مضبوط دماغ ہونا بھی لازمی ہے۔ کوہ پیمائی میں کہا جاتا ہے کہ پہلا غلط قدم ہی موت کی طرف روانہ کردیتا ہے۔‘

’میرے ساتھ بھی کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ کئی مرتبہ موت کے منہ سے بال بال بچے ہیں۔ حالیہ اس مہم کے دوران بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ کینچن جونگا کو سر کرنے کی مہم میں ہماری رہنمائی مینگما جی کر رہے تھے۔ گذشتہ ماہ کی 27تاریخ کو ہماری پہلی مہم ناکام ہوئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلی مرتبہ ہم صرف چوٹی سے سو میٹر دور تھے تو مینگما جی نے فیصلہ کیا کہ ہم آگے نہیں بڑھیں گے۔ یہ میرے لیے انتہائی مایوس کن تھا۔ صرف سو میٹر کی دوری سے اپنی دسویں چوٹی سر کرنے سے رہ جانا پر افسوس کرہا تھا۔ مگر جیسا میں نے کہا کہ یہ صرف مضبوط جسم نہیں بلکہ دماغ کا بھی کھیل ہے۔‘

’مینگما جی نے واپسی کا فیصلہ اس لیے لیا کہ اگر ہم دو اڑھائی گھنٹے چوٹی کا مزید سفر کرتے تو واپسی کے لیے ہمارے پاس وقت کم تھا۔ اندھیرے اور برفباری میں کوئی نقصان ہوسکتا تھا۔ کوئی جان سے جا سکتا تھا۔ جس وجہ سے یہ فیصلہ لیا گیا اور پھر اندازہ ہوا کہ یہ فیصلہ ٹھیک ہے۔‘

سرباز خان کہتے ہیں کہ „جو لوگ منصوبہ بندی کے تحت سمٹ 10یا سمٹ 14 کرنا چاہتے ہیں وہ لوگ پہلے ناگا پربت اور کے ٹو جیسے خطرناک پہاڑ نہیں کرتے ہیں۔ مگر جب میں نے فیصلہ کیا کہ میں سمٹ 14 کروں گا تو میں نے پہلے ناگا پربت اور کے ٹو جیسے خطرناک پہاڑ سر کیے تھے۔ اب سمٹ 14 پورا کرنے کے لیے صرف چار چوٹیاں باقی ہیں۔ اس ماہ ہی میں مکالو چوٹی سر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جبکہ اس ہی سال میں گیشربرم ون بھی سر کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس کے بعد میں چو ایو اور شیش اپنگما کو سر کرنے کا سفر کروں گا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24072 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments