مدھیہ پردیش: آصف ساکشی کی محبت کی شادی، آصف کا گھر مسمار

نیاز فاروقی - بی بی سی، نئی دہلی


آصف اور ساکشی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

انھیں اس بات کا علم تو ہوگا کہ معاشرہ ان کی محبت کو قبول نہیں کرے گا۔ لیکن اس دوران انتظامیہ نے آصف کا گھر مسمار کر دیا۔ 8 اپریل کو مدھیہ پردیش انتظامیہ نے آصف کے گھر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایسا کیا۔

مقامی انتظامیہ نے اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

حالانکہ ریاست مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری ضلع کے کلکٹر نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ‘ایک طالبہ کے اغوا کیس میں ملزم آصف خان کی دکان اور گھر کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ ملزم آصف خان کی دکانوں سمیت ان کے غیر قانونی مکان پر دو دن سے کارروائی جاری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیئے

’لڑکیوں کے مذہب کی تبدیلی کے واقعات عشق نہیں ’لو جہاد‘ ہے‘

’لو جہاد‘ قانون کا پہلا شکار: ’میں بے گناہ ہوں، لڑکی سے کوئی تعلق نہیں‘

حالیہ مہینوں میں، مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے مکانات کو بغیر کسی معقول قانونی کارروائی کے کسی نا کسی بنیاد پر انتظامیہ کی جانب سے مسمار کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

لیکن آصف اور ساکشی کا معاملہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ ہندو تنظیمیں مسلم نوجوانوں کی ہندو لڑکیوں سے محبت کو ‘لو جہاد’ سے تعبیر کرتی ہیں۔

جس جگہ آصف کا گھر ہوا کرتا تھا، اب وہاں ملبے اور اینٹوں کا ڈھیر ہے۔

‘لڑکی واپس کردو، ہم پولیس کو رپورٹ نہیں کریں گے’

یہ معاملہ 3 اپریل کی صبح شروع ہوا تھا۔ آصف کے فون پر مختلف نمبروں سے فون آ رہے تھے۔ رمضان کی وجہ سے وہ اس دن دیر سے سوئے اور فون کالز کا جواب نہ دے سکے۔

آخر کار جب انھوں نے فون اٹھایا تو انھیں پتہ چلا کہ یہ ساکشی ہی تھیں جو ان سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ساکشی اپنے رشتہ دار کے گھر سے بھاگ کر دوسر شہر میں ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ انھوں نے ایک انجان شخص سے فون مانگ کر انھیں کال کی تھی۔

آصف فوراً اٹھے اور ساکشی کو لے کر کسی نا معلوم مقام پر چلے گئے۔

ساکشی اور آصف دونوں مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری ضلع کے ایک ہی گاؤں سے ہیں۔ ساکشی کے گھر والوں کو ان کے اور آصف کے رشتے کے بارے میں پہلے سے ہی علم تھا۔ انھیں خدشہ تھا کہ ہندوتوا تنظیمیں ان کے مختلف مذاہب کی وجہ سے اس رشتے کو قبول نہیں کریں گیں۔۔

انکا ڈر سچ ثابت ہوا۔

جب ساکشی گھر سے غائب ہوئیں تو یہ خبر چند ہی گھنٹوں میں پورے علاقے میں پھیل گئی۔ ہندو تنظیموں کے لوگ گاؤں میں جمع ہوئے جنہوں نے ہڑتال کا اعلان کر کے سڑک بند کر دی۔ انھوں نے آصف کے گھر اور دکان کو توڑ کر ساکشی کو واپس لانے کا مطالبہ کیا۔

آصف اور ساکشی تب تک دوسری ریاست میں چلے گئے تھے اور دونوں شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ایسے میں آصف کے والد حلیم خان پر انھیں واپس لانے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

ان کے مطابق ساکشی کے چچا نے سب سے پہلے انھیں فون کیا۔ انھوں نے کہا کہ ‘بچوں کی تلاش کرو یار، ہم رپورٹ نہیں کریں گے۔’

زیادہ پریشان کیا تو میں خود کشی کر لونگی’

حلیم کا کہنا ہے کہ ‘میں نے ان سے کہا کہ منو بھائی کیا کریں، میں نے ساکشی سے بات کی ہے اور وہ واپس آنے کو تیار نہیں ہے۔’

جب حلیم خان کو تھانے بلایا گیا تو انھوں نے پولیس کے سامنے آصف اور ساکشی سے بات کی۔ حلیم خان کا کہنا ہے کہ ‘سارا عملہ فون سن رہا تھا، ‘میں نے آصف سے کہا کہ تم بہت غلط کام کر رہے ہو، تمہاری جان کو خطرہ ہے، ہم تھانے میں ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ آصف نے کہا کہ میں وہی کروں گا جو ساکشی کہے گی۔ پھر حلیم خان نے ساکشی سے بات کی ‘میں نے کہا بیٹی تم واپس کیوں نہیں آ رہیں، یہاں کا ماحول خراب ہو رہا ہے، لوگ فساد برپا کر دیں گے، ضد نہ کرو۔ لیکن اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ نہیں آئے گی۔’

انھوں نے کہا کہ ‘وہ بالغ ہیں اور پڑھے لکھے ہیں، ایس ایچ او نے ساکشی کو سمجھایا بھی لیکن لڑکی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر اسے مزید ہراساں کیا گیا تو وہ خودکشی کر لے گی۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ساکشی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی سٹیشن انچارج سے بات ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘میں نے خود کہا تھا کہ میں نہیں آنا چاہتی، میں بہت پریشان ہو گئی ہوں، لیکن انھوں نے میری بات نہیں سنی۔’

وہ کہتی ہیں، ‘وہ مجھے وہاں (پولیس سٹیشن) آنے کے لیے کہہ رہے تھے، ہم وہاں کیسے جاتے، ہماری جان کو خطرہ تھا، معاشرے کے لوگ ہمیں نہیں چھوڑیں گے، میں انھیں (آصف) وہاں نہیں لےجانا چاہتی تھی۔ میں نے انھیں منع کیا کہ وہ وہاں نہ جائیں۔‘

آصف اور ساکشی کے انکار پر حلیم خان کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس دوران گاؤں میں مظاہروں میں شدت آگئی۔ آصف کے گھر والوں نے خوف کی وجہ سے اپنے رشتہ داروں کے پاس پناہ لے لی۔ 7 اپریل کو پولیس نے ان کی دکانوں اور اگلے دن ان کے گھر کو توڑ ڈالا۔

آصف اور ساکشی کا کہنا ہے کہ انھیں گھر اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کی خبر نہیں ملی کیونکہ انھوں نے لوکیشن کے ذریعے پکڑے جانے کے خوف سے اپنے موبائل فون پھینک دیے۔ انھیں اس بات کا علم اس وقت ہوا جب انھوں نے کسی سے فون مانگا اور یہ خبر دیکھی۔

‘میری محبت میری ہی میری طاقت ہےکا ذریعہ

گاؤں میں ساکشی کے بھائی اور ماں بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں میں شادی نہیں کرنا چاہتے۔ ایک ہی گاؤں سے ہونے کی وجہ سے دونوں خاندان پہلے ہی ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے لیکن اب وہ ایک دوسرے کے علاقے میں جانے سے بھی کتراتے ہیں۔

ساکشی کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے اور ان کی محبت تقریباً دس سال قبل سکول میں شروع ہوئی تھی۔ جب گھر والوں نے ساکشی کے لیے رشتہ ڈھونڈنا شروع کیا تو انھوں نے آصف کو گھر بلایا تاکہ وہ سب کے سامنے آصف سے اپنی شادی کی بات کر سکیں۔

ساکشی کا کہنا ہے کہ ‘ماں اور بھائی سے بات ہوئی تھی، میں نے ان سے کہا کہ میں انھیں چاہتی ہوں اور صرف انہی سے شادی کرنا چاہتی ہوں جس پر ماں نے کہا کہ آصف دوسرے مذہب سے ہے اور ان سے شادی نہیں ہو سکتی۔ میرے بھائی نے دھمکی بھی دی کہ کہ اگر ایسا ہوا تو ہندو مسلم فسادات ہو جائیں گے۔

ساکشی کہتی ہیں،’اس دن سے میں گھر میں قید کر دی گئی اور میری پڑھائی بھی بند ہوگئی۔ میں صرف بھگوان کے سامنے روتی تھی۔ میری ماں بھی میری تکلیف نہیں سمجھ سکی۔’

آصف کا کہنا ہے کہ ’ساکشی نے مجھے سنجیدگی سے کہا کہ اگر میں نے شادی نہ کی تو وہ خودکشی کر لیں گی اگر ایسا کچھ ہوتا تو میں پھنس جاتا۔ تب میں صرف مسلمان ہوتا، میں نے پوری کوشش کی کہ معاملہ ختم ہو جائے۔ سب کی رضامندی سے حاصل کیا جائے۔’

ساکشی کی ماں اور بھائی کسی بھی قیمت پر شادی کے لیے تیار نہیں تھے۔ ساکشی اور آصف بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔

ساکشی کو روکنے کے لیے ان کے گھر والوں نے مختلف طریقے اپنائے۔ ایک تانترک سے انکا علاج بھی کروایا گیا۔ بالآخر انھیں ایک رشتہ دار کے گھر بھیج دیا گیا کہ وہ انھیں آصف سے دور لے جائے۔

بیس دن کے بعد جب انھیں موقع ملا تو وہ فرار ہو گئیں۔ وہ کہتی ہیں، ‘یہ اوپر والے کی مہربانی تھی کہ میں بھاگنے میں کامیاب ہوئی، اوپر والا بھی یہی چاہتا تھا۔’

اس وقت آصف اور ساکشی ابھی چھپے ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے باہر کی ایک عدالت نے پولیس کو انھیں سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب حلیم خان بھی اپنا گاؤں چھوڑ کر بیوی کے ساتھ دوسرے علاقے میں اپنے سسرال چلے گئے ہیں۔ ان کا ایک بیٹا اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ میکے میں ہے جبکہ ان کا دوسرا بیٹا ایک رشتہ دار کے گھر میں ہے۔

‘باہر کے لوگوں نے ماحول خراب کیا’

حلیم خان کے مطابق 1992 میں پنچایت نے سب کی رضامندی سے انہیں یہ گھر الاٹ کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘جب مجھے چار دن بعد پولیس کی حراست سے رہا کیا گیا تو میں نے پڑوسیوں سے دریافت کیا کہ انھوں نے انتظامیہ کو ان کا گھر گرانے سے کیوں نہیں روکا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہر جگہ پولیس تعینات تھی اور کسی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔’

اس کے پڑوسی آن ریکارڈ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انھیں ڈر ہے کہ وہ انتظامیہ اور ہندوتوا تنظیموں کے نشانے پر بھی آسکتے ہیں۔

لیکن نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، وہ یہ بات دہراتے ہیں کہ پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

حلیم خان بار بار یہ بات فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ گاؤں کی ایک معزز شخصیت ہیں اور مقامی سیاست میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی گاؤں میں کوئی جھگڑا یا کشیدگی ہوتی تو انتظامیہ معاملہ حل کرنے کے لیے انھیں بلا لیتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ گاؤں کے باہر کے کچھ لوگوں نے یہاں کے لوگوں کو دھوکہ دے کر گاؤں کا ماحول خراب کر دیا ہے اور اب یہاں ان کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔

جب بی بی سی کی ٹیم ان سے ملی تو انھوں نے رات کے کھانے کے وقت ہمیں گاؤں کے ایک ڈھابے پر چلنے کی دعوت دی۔ ڈھابے پر انکے پہنچنے پر کچھ دیر کے لیے عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ ڈھابے کے مالک بہت پیار سے پیش آئے وہ بھی یہ بات دہراتے رہے کہ حلیم خان کا گھر غیر ضروری طور پر گرایا گیا۔

لیکن کھانے کے بعد حلیم خان اکیلے میں مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈھابے کا مالک بھی ان مظاہرین میں شامل تھا جو اس کا گھر گرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ہوٹل مالک ہماری گفتگو دور سے لیکن توجہ سے سنتے رہے۔ حلیم خان کے جانے کے فوراً بعد انھوں نے معافی مانگنے کے انداز میں کہا کہ کیا کرتے سماج کی سننی پڑتی ہے، لوگوں نے مجھے وہیں پکڑ کر بٹھا لیا تھا۔’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24790 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments