دنگا فساد بند کرو، معیشت سنبھالو


جو دہائیوں سے بویا گیا ہے، اس کی فصل تیار ہے۔ مفت خوری، کرایہ خوری، قرضہ خوری، دست نگری اور مانگے تانگے کی سلامتی داؤ پر ہے۔ جو نسخے پچھلی حکومتوں نے آزمائے جس میں عمران حکومت کی معاشی قلابازیاں سرفہرست ہیں، جنہیں وزیراعظم شہباز شریف بھی قلیل عرصہ میں مختلف نتائج کی غلط فہمی میں آزمانے جا رہے ہیں۔ اوپر سے پی ٹی آئی کے معاشی معاونین اپنے چھوڑے ہوئے ملبے کو اٹھائے جانے پر خوب بغلیں بجا رہے ہیں۔ ڈیڑھ ماہ کے تذبذب میں شہباز اسپیڈ بوکھلا کے رہ گئی۔

رہیں گے یا جائیں گے، رکیں گے تو کب تک؟ آخر رکنے کا فیصلہ کیا تو پھر سے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ عمران حکومت کے کیے معاہدے کی بحالی کے لیے پہلے ہی شرائط عائد ہوئیں جو شوکت ترین توڑ کر ماننے پر مجبور ہوئے اور پھر انگوٹھا لگا آئے لیکن عمران خان نے حکومت جاتی دیکھ کر اپنی بلا اتحادی حکومت کے سر منڈھ دی۔ کرتے ہیں تو سیاسی طور پر مرتے ہیں، نہیں کرتے تو ملک دیوالیہ ہوتا ہے۔

شہباز حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی راہ لے کر خود کو مصیبت میں پھنسانا قبول کیا۔ تیل کی قیمتوں میں 30 روپے کا اضافہ کیا ہوا، لوگ بلبلا اٹھے اور تحریک انصاف والوں نے خوب ٹھٹھے لگائے۔ ایسے بزرجمہروں کو کوئی کہے تو کیا؟ چھ فیصد کے قریب معاشی نمو کیا ہوئی، معاشی کارکردگی کے ڈھول پیٹے جانے لگے یہ بتائے بغیر کہ اس کا بڑا حصہ درآمدات اور کھپت کے زمرے میں آتا ہے۔ ذرا ان ہونقوں کو آئینہ دکھا دیا جائے جو ڈاکٹر حفیظ پاشا اور ڈاکٹر فرخ سلیم نے دکھایا ہے، جو عمران حکومت کے بڑے حامی رہے۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پاکستان کا بجٹ خسارہ 5600 ارب روپے یعنی کل محصولات کے تقریباً مساوی، گزشتہ 71 برس کا قرض 30 کھرب روپے اور ساڑھے تین برس کی حکومت کا قرض 21 کھرب جو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے دس برس میں لیے گئے قرض سے کہیں زیادہ ہے۔ 2018 میں پاکستان کا جی ڈی پی 315 ارب ڈالرز تھا جو 2020 میں کم ہو کر 262 ارب ڈالر رہ گیا۔ بجلی کا سرکلر خسارہ 2018 میں 1100 ارب روپے جو 2022 میں 2500 ارب روپے ہو گیا۔

گیس سیکٹر خسارہ 350 ارب روپے سے بڑھ کر 1500 ارب روپے ہو گیا۔ پاکستان سٹیٹ آئل کا خسارہ بڑھ کر 658 ارب روپے، پبلک سیکٹر کارپوریشنز کا خسارہ 2021 کے اختتام پر 2700 ارب روپے۔ صرف یہی خسارے 10,488 ارب روپے ہیں جبکہ کل قرضہ 51,000 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ تجارتی خسارہ بھی تاریخی طور پر بلند ترین سطح 50 ارب ڈالر اور بیرونی کھاتے کا خسارہ 31 ارب ڈالرز کی بیرونی رقوم نکال کر بھی یہ 19 ارب ڈالر ہے۔ امرا کی اس مفت خور معیشت میں ان کو حاصل مراعات 3400 ارب روپے یا 17 ارب ڈالرز ہیں جو ہمارے بیرونی کھاتے کے خسارے کے تقریباً مساوی ہے۔

شہری جائیدادوں اور اسٹیٹ بزنس والے اپنے حصے کا بہت ہی معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں جن کو عمران حکومت نے غیر برآمدی اور کرایہ خور شعبہ ہونے کے باوجود ٹیکس چھوٹیں دیں اور عام معافیاں دے کر خوب موٹا کیا۔ زرعی شعبہ میں 1000 ارب روپے ٹیکس وصول ہو سکتا ہے جبکہ اس شعبے سے صرف دو ارب روپے وصول ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ امدادی رقوم (Subsidies) بجلی ہو یا گیس، ہیلتھ کارڈ ہو یا راشن، پٹرول ہو یا ڈیزل، کھاد ہو یا درآمدی صنعتی خام مال و درمیانی اشیاء کا بہت بڑا حصہ، تجارتی پالیسی اور ٹیکسوں کی مراعات سب کی سب امرا کی جیبوں میں جاتی ہیں۔ جیسے پٹرول پر امدادی رقم کا 85 فیصد حصہ امرا کی پرتعیش گاڑیوں اور ان کے ٹرکوں پہ لگتا تھا جبکہ بالواسطہ یا عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ 85 فیصد ہے۔

نہ جانے شہباز شریف کون سے اقتصادی چارٹر پہ اتفاق رائے کی بار بار بات کرتے ہیں۔ پاکستان 1982 ء سے آئی ایم ایف کے پروگراموں میں رہا ہے جس میں تمام ملٹری، ڈکٹیٹرز پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز ہاتھ باندھ کر شامل رہی ہیں۔ آئی ایم ایف نیو لبرل اکنامکس کا مالیاتی ادارہ ہے جسے بطور بینک حقیقی پیداواری معیشت سے کوئی غرض نہیں بلکہ یہ معیشت کی اصل بیماری کی علامات بجٹ خسارہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور آزاد منڈی کے غیر مساوی مسابقت میں دلچسپی رکھتا ہے اور اپنے موکل کو قرض خوری کے نہ ختم ہونے والے پھندے میں پھنسا لیتا ہے۔

اس کا کنٹرول امریکہ اور مغربی ممالک کے پاس ہے جو عالمی منڈی پہ ایک غیر مساوی تبادلے اور اجارہ دارانہ کنٹرول رکھتے ہیں۔ ایسے میں عمران خان کے قومی خود مختاری کے نعرے مضحکہ خیز لگتے ہیں کہ وہ خود معاشی غلامی کی دوڑ میں پچھلی حکومتوں سے دو قدم آگے تھے۔ ان کے دور میں چار بار معاشی پالیسیاں اور تین بار وزیر خزانہ بدلے اور سب نے ایک دوسرے سے الٹ کام کیا اور اگلی حکومت کے لیے بڑی مالیاتی بارودی سرنگیں چھوڑ گئے۔ مانگ کے کھاؤ اور آزادی کی بڑھکیں لگاؤ ان کا موٹو لگتا ہے۔ اس وقت قرض کی افیون کی لت چھوڑنے کے لیے ترک افیون گولیوں کی ضرورت ہے جو افیون سے ہی بنتی ہیں۔

بہرکیف اس وقت چناؤ سیاسی عدم استحکام و معاشی دیوالیہ اور سیاسی تسلسل اور معاشی بحالی کے درمیان ہے۔ مفت کا لنچ کہیں نہیں ملتا جو ہم بہت کھا چکے۔ عالمی منڈی کی حالت بہت ابتر ہے اور قیمتیں اور افراط زر بڑھ رہا ہے۔ ابھی بھی ملک میں تیل کی قیمتیں عرب امارات، بھارت اور افغانستان سے کہیں کم ہیں۔ ہم کیوں نہیں ایران سے تیل و گیس درآمد کرتے، چین کے ذریعے روس کا تیل کیوں نہیں منگوا سکتے اور قطر سے تیل کے پرانے معاہدے کا حجم کیوں نہیں بڑھا سکتے؟

ہم زرعی و تجارتی و نوکرشاہی امرا پہ بھاری ٹیکس کیوں نہیں عائد کر سکتے، ہم تمام غیر ضروری درآمدات پر مکمل بندش کیوں عائد نہیں کر سکتے؟ ہم غیرپیداواری اخراجات پہ کیوں بڑی کٹوتی نہیں لگا سکتے؟ ہم ایک دیوہیکل سلامتی کی ریاست پر معیشت کے سائز کے مطابق کٹ کیوں نہیں لگا سکتے؟ یہ جو مراعات اعلیٰ سول و ملٹری بیوروکریسی کو حاصل ہیں انہیں آدھا کیوں نہیں کر سکتے اور غریب و متوسط طبقے کے پیشہ ور لوگوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی کیوں نہیں دے سکتے؟ ظاہر ہے یہ کام خواص کی اتحادی حکومت نہیں کر سکتی نہ ٹیکنو کریٹس کی عبوری حکومت، اب جب عمران خان کا فسادی مارچ ناکام ہو گیا ہے، لاڈلے کو کوئی یہ سمجھائے کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آئے اور مل کر بوجھ اٹھائے۔ یہ معیشت کو سنبھالنے کا وقت ہے، دنگا فساد کرنے کا نہیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 45 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments