افغانستان میں زلزلہ: ’آپ کو ہر گلی میں ماتم سنائی دیتا ہے‘

علی حمدانی اور تھوم پول - بی بی سی نیوز


افغانستان زلزلہ
’چند ہیلی کاپٹر مدد کو پہنچے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ لاشیں منتقل کرنے کے علاوہ اور کیا مدد کر سکتے ہیں۔‘

یہ الفاظ ہے ایک افغان شہری کے جو افغانستان میں منگل کی شب آنے والے شدید زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر اور صورتحال کو بیان کر رہے تھے۔

افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک میں آنے والے 6.1 شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق منگل کی شب آنے والے زلزلے سے 1000 افراد ہلاک اور 1500 زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

زلزلے سے افغانستان کا مشرقی صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں سے ملنے والی تصاویر میں تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ ان تصاویر میں زخمی افراد کو سٹریچرز پر دیکھا جا سکتا ہے جب کہ تباہ شدہ مکانوں کا ملبہ بھی نظر آ رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور دوردراز علاقوں میں زخمیوں اور لاشوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ تاہم ملک میں جاری موسلادار بارشوں اور ژالہ باری سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

افغانستان میں منگل کی شب آنے والے زلزلے سے متعدد مکانات منہدم ہو گئے اور ان میں سوئے ہوئے افراد ملبے تلے دب گئے۔

دیہی مشرقی افغانستان میں سفر کرنا آسان نہیں اور ایسے میں اگر امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہچنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو نامناسب حالات اور کم وسائل کے باعث وہ بہت سے علاقوں میں منہدم مکانات کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھدائی کر رہے ہیں۔

ایک مقامی متاثر شخص احمد نور کا کہنا تھا کہ ‘ رات تقریباً ڈیڑھ بجے کے کچھ دیر بعد زلزلہ آیا، میں خوفزدہ ہو گیا تھا، میں نے اپنے دوستوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے کچھ نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کھو دیا ہے۔ چند صحیح سلامت ہیں لیکن ان کے گھر تباہ ہو گئے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ کو ہر جگہ ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں سنائی دیں گی، میں نے لوگوں سے بات کی ہے وہ بہت زیادہ پریشان اور اضطراب کا شکار ہیں۔ انھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ وہ بہت ہی بری صورتحال میں ہیں۔’

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موجود عینی شاہدین ایک سنگین صورتحال بیان کرتے ہیں۔ وہاں موجود ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ‘آپ جس گلی میں بھی جاتے ہیں آپ کو وہاں لوگ اپنے پیاروں کی موت کا ماتم کرتے سنائی دیتے ہیں۔’

بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی ایک تصویر میں ایک تین، چار سالہ بچی مٹی و دھول میں لت پت اپنے جزوی طور پر منہدم گھر کے سامنے کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر پریشانی اور خوف کے آثار نمایاں ہیں۔ اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے باقی خاندان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بی بی سی ان کی خیریت کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان زلزلہ

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار ہو گئی، امدادی کارروائیاں جاری

جب 45 سیکنڈ میں پورا کوئٹہ شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا

پاکستان کے کون سے علاقے زلزلے کے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں؟

49 سالہ عالم وفا زلزلےسے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے پکتیکا پہنچے ہیں تاکہ وہاں پھنسے افراد کو نکال سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘وہ سرکاری سطح پر کوئی امدادی کارکن موجود نہیں ہیں، لیکن قریبی شہروں اور دیہات کے افراد یہاں لوگوں کی مدد کو پہنچے ہیں۔’ انھوں نے بتایا کہ ‘وہ آج صبح ہی یہاں پہنچے ہیں اور انھوں نے خود چالیس لاشوں کو اٹھایا ہے۔ جن میں سے زیادہ تر بچے، بہت چھوٹے بچے تھے۔’

افغان عوام پہلے ہی بہت سے مصائب اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں غربت اس وقت عروج پر ہے۔اور ملک کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ گذشتہ برس جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تو کئی ممالک نے ترقیاتی امداد بند کر دی تھی۔

اور ایسے میں یہاں موجود کم وسائل اور کمزور سہولیات اس تباہی کا مقابلہ کرنے اور اس میں مدد فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

افغانستان زلزلہ

ضوبہ پکتیکا کے ضلع گیان کے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ 'ڈاکٹر اور نرسیں خود اس زلزلے سے متاثرہ ہیں اور زخمیوں میں شامل ہیں۔ ہمارے پاس زلزلے سے پہلے ہی بہت کم لوگ اور سہولیات موجود تھی اور اب اس زلزلے نے ہمارے پاس موجود جو چند سہولیات تھی ان کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میرے کتنے ساتھی زندہ بچے ہیں۔'

امدادی ایجنسیاں متاثرہ افراد کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن مواصلات اور پانی کی فراہمی ایک چیلنج ہے اور امدادی سرگرمیوں میں مشکلات بڑھا رہی ہے۔ امدادی ادارے وہاں موجود متاثرہ افراد کے لیے خوراک، ادویات اور ہنگامی شیلٹر لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے نمائندہ سام مورٹ کا کہنا تھا کہ ‘ متاثرہ اضلاع میں ہماری موبائل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ٹیمیں موجود ہیں جو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے رہی ہیں۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمارے امدادی ٹرک بھی راستے میں ہیں جن میں متاثرہ افراد کے لیے حفظان صحت کی کٹس، کمبل، خیمے اور ترپالیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یقیناً یہ ان کے خلاف ہے جو بھوک سے مر رہے ہیں، غریب اور بیمار ہیں اور قحط سے متاثرہ ہیں۔ یہ ایک طاقتور اور دوبارہ ابھرنے کی صلاحیت رکھنے والی آبادی نہیں ہے۔’


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments