سرکاری نرخنامہ اور عوامی ریٹ


دو سال قبل ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا تھا آج سرکاری نرخ نامہ نظر سے گزرا تو واقع دوبارہ یاد آ گیا۔ میں آفس میں موجود تھا کہ میرے آفس میں کام کرنے والا آفس بوائے گھر کے لیے دو کلو بادام خرید کر لایا بادام بڑے اچھے تھے میں نے اس سے پوچھا کہ ریٹ کیا ہے؟ اس نے کہا سر بہت سستے ملے ہیں۔ کیا مطلب؟ سر میں ایسا کیا ہے ٹاؤن کمیٹی کے ایک آفس بوائے کو ساتھ لیا اور جا کر بادام کا ریٹ پوچھا دکاندار نے جو ریٹ بتایا وہ بہت زیادہ تھا لیکن کمیٹی کے آفس بوائے نے نرخ نامہ کے مطابق ریٹ بتا کر کہا کہ تمہارا کچھ علاج کرتے ہیں بس پھر کیا تھا اس نے بہت زیادہ کم ریٹ پر اچھے بادام دیے۔

پاکستان میں ہر تحصیل میں روزانہ صبح سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی نے اشیاء خورد و نوش کا سرکاری نرخ نامہ جاری کر کے شہر کے مختلف بڑے سٹورز اور اشیاء خورد و نوش کی مختلف دکانوں پر چسپاں، آویزاں کرنا ہوتا ہے۔ ہر دکاندار حکومت پاکستان کے حکم کے مطابق سرکاری نرخوں پر اشیاء فروخت کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

لیکن کیا پاکستان میں دکاندار حضرات سرکاری نرخ نامہ کے مطابق اشیا فروخت کر رہے ہیں؟

اگر آج کے ریٹ چیک کریں تو سرکاری نرخ نامہ میں چکن کا ریٹ 357 روپے جب کہ مارکیٹ میں عوامی ریٹ 420 روپے ہے، چھوٹا گوشت سرکاری نرخ پر ہزار روپے جبکہ عوامی ریٹ پر چودہ سو روپے، بڑا گوشت سرکاری نرخ نامہ پر پانچ سو روپے جبکہ عوامی ریٹ پر سات سو روپے مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے۔ انڈے فی درجن بڑا سائز 188 روپے اور چھوٹا سائز 178 روپے جبکہ عوامی ریٹ پر بڑا سائز 204 روپے اور چھوٹا سائز 192 روپے پر فروخت ہو رہے ہیں۔

اسی طرح اگر آپ سبزی، فروٹ اور دالوں کے ریٹ چیک کریں تو آپ کو حیران کن فرق نظر آئے گا۔ مثال کے طور پر اچھا کیلا سرکاری نرخ پر 100 سے 110 روپے جب کہ مارکیٹ میں دو سو روپے پر فروخت ہو رہا۔ آڑو سرکاری نرخوں پر 140 سے 145 روپے جبکہ دکانوں پر 200 سے 220 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سیب اور آم تقریباً ایک کلو 50 سے 80 روپے کے فرق کے ساتھ دکانوں پر فروخت ہو رہا ہے۔ سبزیوں میں ہر چیز تقریباً 30 سے 50 روپے فی کلو کے فرق کے ساتھ عوام کو حاصل ہے۔

اگر آپ کریانہ سٹور پر چلے جائیں تو آپ کو چینی، گھی سے لے کر ہر چیز میں سرکاری نرخ نامے اور عوامی ریٹ میں واضح فرق نظر آئے گا۔ گھی میں تو ایک سو سے ڈیڑھ سو روپے تک کا فرق ہے۔ ذمہ دار کون ہے؟ جب اس ضمن میں سکیرٹری مارکیٹ کمیٹی سے پوچھا گیا کہ سرکاری نرخ نامہ پر عمل کیوں نہیں کروایا جا رہا ہے تو سیکرٹری صاحب نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم نے نوٹ دیا ہوا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ کے فرق کی صورت اسٹیٹ کمشنر یا ٹال فری نمبر پر رابطہ کریں۔

ان کو کہا کہ آپ کو کیا یہ فرق مارکیٹ میں نظر نہیں آ رہا سیکرٹری صاحب نے کہا کہ جب شکایت موصول ہوگی تو کارروائی ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر پبلک شکایت نہیں کر رہی تو دکاندار بے شک سرکاری نرخ نامہ پر فروخت نہ کرے حکومت پاکستان کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ دکاندار حضرات کا اپنا الگ سے موقف ہے وہ کہتے ہیں حکومت سرکاری نرخ نامے جاری کر دیتی ہے لیکن ہمیں منڈی میں اشیاء سرکاری نرخ نامہ سے بھی مہنگی ملتی ہیں لہذا ہم کیسے سرکاری نرخ نامہ کے مطابق سیل کر سکتے ہیں۔

نہ پبلک اس بارے میں کوئی شکایت درج کروانے پر آمادہ ہے اور نہ حکومتی اہلکار اور حکومت اس پر کوئی ایکشن لینے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ یہ چلن کسی ایک تحصیل میں نہیں انیس بیس کے فرق کے ساتھ پورے پاکستان میں رائج ہے۔ میرے خیال کے مطابق حکومت پاکستان چونکہ مختلف مد میں حکومتی اخراجات کم کرنے کے بارے میں کوشش کرتی رہتی ہے تو سرکاری مارکیٹ کمیٹی حکومت پاکستان کے خزانے پر ایک اضافی بوجھ ہے حکومت پاکستان کو چاہیے اس کو ختم کر کے سرکاری نرخ نامہ جاری کرنا بند کر دے۔

آپ تصور کریں کہ یہ تو وہ اشیاء ہیں جو سرکاری نرخ نامہ جاری ہونے کے باوجود مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں جبکہ ان اشیاء مثلاً جوتے، کپڑے، جنرل سٹور، ہوٹل وغیرہ کے ریٹ میں عوام کو کس حد تک چونا لگایا جا رہا ہوں جس پر حکومت کا کوئی چیک اینڈ بیلنس ہی نہ ہے۔ مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے پیٹرول کی قیمتیں اور ڈالر کے ریٹ کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش پہلے ہی بہت زیادہ مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔

اوپر سے حکومت کا حکومتی نرخ نامہ پر عمل نہ کروانا حکومت کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ قصور عوام کا بھی ہے پیٹرول کے لئے، سستی چینی کے لیے لائن میں لگنا گوار کر لیتے ہیں لیکن عوامی مفاد کے لیے شکایت درج کروانے کے لیے کبھی سرکاری دفتر نہیں جاتے۔ ہم دکاندار سے رسید طلب نہیں کرتے۔ دکاندار چیز ایک تو مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے اوپر سے وہ حکومت کو ٹیکس بھی نہیں دے رہا۔ چھوٹے طبقے، مزدور اور چھوٹے ملازمین کو حکومت اور دکاندار مل کر چونا لگا رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد خاں ایڈووکیٹ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments