اسلامی بینکنگ سے متعلق چند سوالات جن کا مفتی تقی عثمانی جواب نہ دے پائے


یہ کوئی بیس سال پرانا قصہ ہے جب لاہور میں ایک عظیم الشان اسلامی بینکاری کانفرنس میں تقی عثمانی صاحب نے خشوع و خضوع کے ساتھ سود کے کاروبار کو ماں کے ساتھ بدکاری کے برابر قرار دینے کا فتویٰ ایک ضعیف ترین حدیث کے سر پر رکھ کر صادر کر دیا۔

ان دنوں مجھ پر ایک ماہر مالیات اور سابقہ بینکر ہونے کی تہمت تھی، اسی لیے اس کانفرنس میں مدعو تھا۔ سوال جواب کے سیشن میں خادم کی باری آئی تو میں نے چھ سوال کرنے کی جرات کی۔

1۔ اگر کل یہ ثابت ہو جائے کہ اسلامی بینکاری کی کسی ایک پراڈکٹ میں بھی سود کا شائبہ ہے جیسا کہ استثنا کے اسلامی اصول کا سہارا اس وقت بھی کچھ پراڈکٹس کے لیے لیا جا چکا تھا تو کیا یہی فتویٰ شریعہ بورڈ کے اراکین پر بھی لاگو ہو گا؟ اسی طرح کیا یہ فتویٰ محض کنزیومرز کے لیے ہیں یا ان بنکوں کے صدور کے لیے بھی جو بیک وقت اسلامی اور کنونشنل بینکنگ کر رہے ہیں اور جن کے بورڈ پر مفتی صاحب اس وقت بھی موجود ہیں؟

2۔ توپ کاپی میوزیم میں رکھی ہوئی مستند دستاویزات جو حضرت عمر کے دور میں ٹریڈ پر سرکاری کمرشل انٹرسٹ کی گواہ ہیں، ان کو مسترد کرنے کا مفتی صاحب کے پاس کیا جواز ہے؟

3۔ ربا اور سود کے اصول ساتویں صدی سے برآمد کیے گئے ہیں لیکن موجودہ نظام کاغذی کرنسی کی بنیاد پر ہے جو کہ گیارہویں صدی میں ایجاد ہوئی۔ ان میں تطبیق کیونکر ممکن ہے؟

4۔ اگر اسلامی معاشی نظام اتنا ہی جامع ہے تو مفتی صاحب ایک پراڈکٹ گنوا دیں جو اسلامی بینکاری میں indigenous ہو اور ”یہودی“ مالیاتی نظام کی کسی پراڈکٹ کا چربہ نہ ہو۔ اگر ایسی کوئی پراڈکٹ نہیں تو پھر ایک ”حرام“ نظام کی حلت قائم کرنے کا کھڑاگ کیا نرا فراڈ نہیں ہے؟

5۔ کیا جامع اسلامی معاشی پروٹوکول ایسا مالیاتی نظام قائم کرنے سے قاصر ہے جو عام بینکاری سے اتنا ہی مختلف اور متبادل ہو جیسا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مقابل اشتراکیت ہے؟ کیا ایسے نظام کے کوئی unique building blocks چودہ صدیوں میں فراہم کیے گئے ہیں؟

6۔ کیا وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد جج صاحبان اور ان کے خانوادے کی مختلف بنکوں کے شریعہ بورڈ پر تقرری اور لاکھوں کی تنخواہ کانفلکٹ آف انٹرسٹ کے زمرے میں نہیں آتی؟

ان سب سوالوں کو سن کر تقی عثمانی سخت آزردہ خاطر ہوئے اور ایک مختصر سی تقریر کی جس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ ہم جیسے لوگ مغرب سے مرعوب ہیں اور اسلام کی روح کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں اور یہ بھی کہ نیک لوگوں کی نیت پر شک کرنے والوں کے لیے سخت وعید ہے۔ اس مختصر تقریر میں البتہ چھ میں سے کسی ایک سوال کا جواب دینے کی بھی زحمت نہیں کی گئی۔

وہ دن، آج کا دن، تقی عثمانی صاحب سے بات چیت بوجوہ نہ ہو سکی۔

پس نوشت: ریفرنسز کا مطالعہ خود کیجیے۔ ریفرنسز یہ رہے۔

Abdurrahman al-Baghdadi. (1987).Serial Islamic Law. PT Alma Arif.Bandung. [2]Abu Yusuf. (1982).Kitab al-Kharaj. Maktabah as-Salafi.Cairo. [3]Adiwarman Azhar Karim.(2004).History of Islamic Economic Thought.PT. Grafindo Persada.Jakarta. [4]Ahmad Bello Dogarawa. (2011). “Role of hisbah (Ombudsmanship) Institution in Ensuring Ethical Business Practices: Implementing States Reflection forShari’ah in Nigeria”.Thesis S1. Ahmadu Bello University (ABU).Faculty of Administration.Department of Accounting. Zaria.Nigeria. [5]Ahmad Hidayat Buang. (2008). “Appreciation of Shariah Principles in Malaysia’s Property Management in Contemporary Society”.Shariah Journal. Vol. 16. SpecialEdition. Kuala Lumpur. [6]Al-Maqrizi. (1999).Ighathah bi Kashf al-Ummah al–Ghummah. Maktabah al-Usrah.Riyadh. [7]Badri Yatim. (1988).History of Islamic Civilization. PT. Pencil.Jakarta. [8]Deny Setiawan. (2010). “Islam Prepestif Regarding Tax: A Preliminary Study “.Journal of SocioEconomic Development. Year I.1stNovember. Riau. [9]Donald Stevenson Watson.(1960).Economic Policy:Business and Government.Houghton Mifflin. England. [10]Daisy Ebrinda Gustiani, Ascarya,andJaenal Effendi. (2010). “Analysis of SocialValuesto Total Islamic Money Demand in Indonesia”.Bulletin of Monetary Economics and Banking. Jakarta. [11]Eshrat Hussain Basri. (2011). “Economic Facilities for Non-Muslims in a Muslim Country inthe Light of Qur’an and Sunnah”.Journal of Humanity &Islam. Vol . 1. Issue 1. April Hatam Publishers. University of Education, Multan.Pakistan.

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 179 posts and counting.See all posts by hashir-irshad