بورس جانسن: برطانوی وزیرِ اعظم سے اپنی ہی جماعت کے اراکین کا استعفے کا مطالبہ، بات یہاں تک پہنچی کیسے؟


گوو
PA Media
برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے سنگین ہوتے سیاسی بحران اور استعفے کے بڑھتے مطالبوں کے درمیان لیولنگ اپ سیکریٹری مائیکل گوو کو کابینہ میں عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر میں موجود ذرائع کے مطابق: ‘آپ کسی سانپ کو ساتھ نہیں رکھ سکتے جو کسی بھی بڑی بحث میں آپ کا ساتھ نہ دے اور پھر خوشی خوشی میڈیا کو بتائے کے سربراہ کو جانا ہو گا۔‘

وزیرِ اعظم نے بدھ کی شام مائیکل گوو کو فون کر کے بتایا کہ انھیں برطرف کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب مائیکل گوو سمیت متعدد کابینہ ممبران بورس جانسن سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

تاہم بورس جانسن فی الحال اپنی ہی کابینہ میں بڑھتی بغاوت کا مقابلہ کرنے اور استعفے کے مطالبوں کو رد کرنے کی پالیسی پر کارفرما ہیں۔

انھوں نے کامنز لائزان کمیٹی کے سینیئر اراکین پارلیمان کو بتایا کہ ان کے لیے یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہو گا کہ وہ اس معاشی دباؤ اور یوکرین جنگ کے درمیان ‘عہدہ چھوڑ کر چلے جائیں۔’

ڈاؤننگ سٹریٹ سے ذرائع نے اس افواہ کی تردید کی کہ وزیرِ اعظم کچھ دیر میں استعفیٰ دے دیں گے۔

جن افراد نے وزیرِاعظم سے بات کی ہے ان میں سیکریٹری داخلہ پریٹی پٹیل، ایک سابق قریبی اتحادی، چیف وہپ کرس ہیٹن ہیرس، ٹرانسپورٹ سیکریٹری گرانٹ شاپس اور ویلش سیکریٹری سائمن ہارٹ شامل ہیں۔

سائمن ہارٹ نے بعد میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بورس جانسن کی مدد کرنا چاہتے تھے تاکہ ‘صورتحال تبدیل کی جا سکے’ لیکن ‘اب ایسا ممکن نہیں ہے۔’

بورس

بورس جانسن کا برطانیہ کے وزیرِ اعظم کے طور پر مستقبل اس وقت پہلے سے بھی زیادہ خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔

کئی ماہ کے سیاسی بھونچال کے بعد منگل کو سیکریٹری صحت اور چانسلر 10 منٹ کے اندر اندر وزیرِاعظم کی جانب سے کنزرویٹو رکنِ پارلیمان کے خلاف جنسی بدسلوکی کے الزامات پر ردِ عمل سے مایوس ہو کر مستعفی ہو گئے تھے۔

اس کے ساتھ استعفوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور صرف بدھ کے روز کم سے کم 44 وزرا اور مشیروں کی جانب سے استعفے دیے جا چکے ہیں۔

منگل کی شام سینیئر وزرا کے ایک گروپ نے ڈاؤننگ سٹریٹ جا کر وزیرِاعظم کو مستعفی ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم اب تک بورس جانسن بظاہر ڈٹے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ انھیں گذشتہ الیکشن میں ووٹرز نے ‘بھاری مینڈیٹ’ دیا تھا۔ کابینہ میں ان کے اتحدای جیکب ریس موگ نے بورس جانسن کے خلاف مہم کو ایک ‘طوفان’ سے تشبیہ دی۔

ٹوری جماعت کے رکنِ پارلیمان اینڈریو مچل نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘یہ راسپوتین کی موت کی طرح ہے۔ اسے زہر بھی دیا گیا، خنجر بھی مارا گیا، اسے گولی بھی ماری گئی اور پھر اسے ایک برفیلے دریا میں پھینک دیا گیا لیکن وہ پھر بھی زندہ ہے۔’

https://twitter.com/BBCNewsnight/status/1544442009179537408?s=20&t=Ai86hK-sFUCANYTQU0KDdA

کرس پنچر کا ایک شام ‘حد سے زیادہ شراب پینے’ کا معاملہ

گذشتہ جمعرات کو دی سن اخبار میں صرف چار روز قبل بطور پولیٹیکل رپورٹر نوکری کا آغاز کرنے والی 24 سالہ نوا ہافمین نے ایک خبر بریک کی کہ ایک کنزرویٹو رکنِ پارلیمان کرس پنچر نے بطور پارٹی وہپ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ انھوں نے کارلٹن پرائیویٹ ممبرز کلب میں شام کے وقت ‘بہت زیادہ’ شراب پی لی تھی۔

کرس پنچر نے وزیرِ اعظم کو اپنے استعفے میں بتایا کہ انھوں نے ‘حد سے زیادہ شراب پی لی تھی’ اور ‘خود کو لوگوں کے سامنے شرمندہ کروایا۔’

تاہم یہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے پرائیویٹ ممبرز کلب میں دو افراد ناشائستہ انداز میں چھوا۔

اس کے بعد دو پیش رفت ہوئیں۔ ایک یہ کہ حکومت نے میڈیا کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ پنچر نے اعتراف کر لیا ہے کہ ان کا رویہ غیر مناسب تھا اس لیے وہ بطور رکنِ پارلیمان اپنا کام جاری رکھیں گے اور ان کے خلاف مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔

تاہم اس ظاہری کارروائی کے پیچھے کنزرویٹو رکنِ پارلیمان شدید غصے میں تھے۔

اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ پنچر کے بارے میں ایسے ہی الزامات ماضی میں بھی لگائے گئے تھے۔ لیکن بورس جانسن کی جانب سے انھیں جماعت کا ڈپٹی چیف وہپ بنا دیا گیا تھا۔ اس عہدے پر موجود افراد کو اراکین پارلیمان کے ڈسپلن پر نظر رکھنے کے علاوہ ان کو ذاتی مسائل پر مشورے فراہم کرتے ہیں۔

بورس

سرکاری مؤقف کیسے تبدیل ہوا؟

تاہم اس کے کچھ ہی روز بعد تمام توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی کہ بورس جانسن کو پنچر کے بارے میں معلوم تھا اور ان کو اس بات کا کس وقت علم ہوا تھا۔

کئی روز تک وزرا اور بورس جانسن کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم کو پنچر کو ڈپٹی وہپ کا عہدہ دیتے ہوئے ان کے خلاف مخصوص الزامات کے بارے میں علم نہیں تھا۔

تاہم پیر کی رات اس بیانیہ اس وقت دم توڑ گیا جب سیاسی نامہ نگار آیون ویلز نے انکشاف کیا کہ بورس جانسن کو پنچر کے ‘نامناسب رویے’ کے بارے میں کی گئی ایک باضابطہ شکایت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا جب وہ

سنہ 2019-20 میں وزیرِ خارجہ تھے۔

منگل کو اس حوالے سے ایک ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب دفترِ خارجہ کے سابق سینیئر اہلکار سر سائمن مکڈونلڈ نے یہ انکشاف کیا کہ بورس جانسن کو مذکورہ شکایت کے بارے میں ذاتی طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ بورس جانسن کو اس بارے میں آگاہی تھی لیکن وہ ‘بھول گئے تھے۔’

منگل کی شام بورس جانسن نے تسلیم کیا کہ رواں سال کے آغاز میں پنچر کو ڈپٹی چیف وہپ کے عہدے پر لگانا ایک ‘بڑی غلطی’ تھی۔

تاہم تب تک جو نقصان ہونا تھا وہ چکا تھا۔

ڈرامائی استعفے

منگل کی شام چانسلر رشی سونک جو معیشت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے اور سیکریٹری صحت مستعفی ہو گئے۔

رشی سونک نے اپنے استعفے میں لکھا کہ عوام چاہتی تھی کہ حکومت کو ‘اہلیت، سنجیدگی اور احسن انداز’ میں چلایا جائے گا۔

پارلیمان میں بدھ کو دیے گئے ایک بیان میں ساجد جاوید نے بورس جانسن کی موجودگی میں کہا کہ مسئلہ ‘سربراہ سے شروع’ ہوتا ہے اور ‘اس بات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔’

منگل کی شام تک بورس جانسن اپنی باقی کابینہ سے یہ پوچھتے رہے کہ کون ان کے ساتھ اور کون مستعفی ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بورس جانسن حکومت کو نئے بحران کا سامنا، کابینہ کے دو سینیئر وزرا مستعفی

پارٹی میں بغاوت کے باوجود برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب

برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اور ان کے مسلمان آباؤ اجداد

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے فلیٹ کی تزئین و آرائش پر تنازع کیوں؟

بورس جانسن

PA
بورس جانسن کے پڑدادا کا شمار آخری مسلم خلافت ترک سلطنت عثمانیہ کے آخری دور کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے

کیا جانسن استعفیٰ دیں گے؟ یا نئے عام انتخابات کراوئیں گے؟

بدھ کو بورس جانسن ہاؤس آف کامنز میں رکنِ پارلیمان کے سامنے پیش ہوئے تو وہ اس طوفان کا مقابلہ کرنے کا عزم لے کر آئے تھے۔

ان سے جب ایک کنزرویٹو رکنِ پارلیمان نے پوچھا کہ وہ کون سے حالات ہوں گے جن میں وہ استعفیٰ دے سکتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ فی الحال ‘ڈٹے رہیں گے۔’

بورس جانسن نے سنہ 2019 کے انتخابات میں بھاری فتح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘ایک وزیرِ اعظم کا کام مشکل صورتحال میں کام کرتے رہنا ہوتا ہے، خاص کر جب آپ کو بھاری مینڈیٹ دیا گیا ہو اور میں یہی کر رہا ہوں۔’

تاہم بی بی سی کے کرس میسن کے مطابق بورس جونس کی اتھارٹی واضح کمی سنی، سونگھی اور محسوس کی جا سکتی تھی اور جب وہ پارلیمان سے نکلے تو اپوزیشن کے لیبر رکنِ پارلیمان انھیں ‘بائے بائے’ کہتے رہے۔

کابینہ کے اکثر وزیر جن میں سیکریٹری داخلہ پریٹی پٹیل اور چانسلر ندھیم زہاوی سمیت دیگر سینیئر عہدیدار بھی اب وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے کا کہہ رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم کو دوسرے اعتماد کے ووٹ کا سامنا اگلے ہفتے ہو سکتا ہے کیونکہ انھیں بااثر رکنِ پارلیمان یہ بتا چکے ہیں کہ وہ کنزرویٹو پارٹی قواعد کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

کچھ افراد یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا بورس جانسن نئے عام انتخابات بلا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتے ہیں۔

تاہم رائے عامہ کے ایک تجزیے یوگو کے مطابق منگل تک 69 فیصد برطانوی شہری یہ سمجھتے تھے کہ بورس جانسن کو استعفیٰ دے دینا چاہیے اور آدھے سے زیادہ کنزرویٹو ووٹرز کا بھی یہی خیال تھا۔

اس لیے فوری انتخابات بھی ان کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25940 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments