ملکی بقا میں صحافت کا کردار


سابق حکومت جب مہنگائی اور عوامی مسائل پر قابو پانے میں ناکام ہو رہی تھی۔ تو اس نے اپنی ناکامی کو تسلیم کر کے حکومت چھوڑنے کی بجائے ڈھٹائی سے اقتدار سے چمٹے رہنے کو ترجیح دی، اس وقت کی اپوزیشن اور آج کی حکومت میں شامل تمام سیاسی قوتیں مہنگائی کے خلاف تحریک چلا رہی تھیں اور پھر جب یہ تحریک غیر سیاسی قوتوں کی مدد سے کامیاب ہوئی اور اقتدار ان کے ہاتھ میں آیا تو ملکی معیشت مستحکم ہونے کی بجائے مزید تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان ڈیفالٹ کرنے والے ممالک کی فہرست میں صرف چوتھے نمبر پر ہے، اس صورتحال کے باوجود مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کرنے والی سیاسی جماعتیں اقتدار چھوڑنے کی بجائے محاذ آرائی پر اتر آئیں ہیں، عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ کرسی کی جنگ میں اداروں کو کمزور کرنا نہ صرف ریاست کی بقاء کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں یہ عوام کو 2 وقت کی روٹی کے حق سے بھی محروم کر سکتی ہے۔

سیاسی و آئینی بحران کی وجہ سے کم ہوتی روپے کی قدر نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو نگل لیا ہے۔ مختصر یہ کہ ملک اس غریب گھرانے کی مانند ہو چکا ہے جس کا سربراہ بھوک سے مجبور ہو کر گھر کے برتن تک بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے بیش قیمت قومی اثاثے تمام ملکی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

قابل رحم ہے پاکستانی قوم جو اپنے مفادات کے لئے لڑنے کی بجائے اقتدار کی ہوس میں مبتلا اشرافیہ کے پراپیگنڈہ کا حصہ بن چکی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں جاری اس جنگ نے قوم کو مستقبل کی فکر سے محروم کر کے تقسیم کر دیا ہے۔ اگرچہ اس وقت ریاست کے چاروں ستون اس تقسیم کی زد میں ہیں لیکن زیادہ افسوس صحافت کے کردار پر ہے جسے ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے، اصولی طور پر یہ ستون زیادہ مضبوط ہونا چاہیے کیونکہ یہ باقی ستونوں میں پڑنے والی دراڑوں کی نشاندہی کر کے بروقت اصلاح میں مدد کرتا ہے تاکہ ریاست کو مضبوطی کے ساتھ کھڑا رکھا جا سکے لیکن بد قسمتی سے یہ چوتھا ستون خود بھی انتہائی خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔

صحافت کے زوال اور بربادی کے پیچھے ملکی اداروں کا بڑا ہاتھ ہے، صحافت وہ گھوڑا نہیں جو کسی بادشاہ کو خود پر سوار کر کے اس کے اقتدار بچانے کی جنگ میں کود پڑے بلکہ یہ وہ سپاہی ہے جو طاقتور کے مقابلہ میں کمزور کی حمایت کرتا ہے، مظلوم کو ظالم سے نجات دلانے کا سبب بنتا ہے، معاشرے کے ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑنے میں مدد کرتا ہے، انصاف و عدل کا حامی، جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتا ہے، ایک ہی وقت میں تمام برائیوں سے برسر پیکار رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، صحافت وہ گھوڑا ہے جسے ریاست کی بقاء اور حق سچ کی سربلندی کے لئے ایک طویل سفر طے کرنا ہوتا ہے جس کے دوران اسے جھوٹ کی دلدل سے بچ کر بد عنوانی کے تپتے صحرا سے گزرنا پڑتا ہے، اس کٹھن راستے میں ظلم و ستم کے پہاڑوں کا بھی سامنا ہوتا ہے جسے وہ استقامت حوصلہ اور برداشت کی پگڈنڈیوں پر چل کر عبور کرتا ہے۔

تحریک آزادی کی پوری قیادت صحافیوں اور وکلاء پر مشتمل تھی، آزادی کی اس جنگ میں صحافیوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت، غلام رسول مہر، عبدالمجید سالک، حمید نظامی اور مجید نظامی جیسے صحافت کے سپہ سالاروں نے اخبارات اور جرائد کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کیا، انہیں آزادی کی نعمت سے روشناس کروایا، علامہ اقبال نے جدوجہد آزادی میں صحافت کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ظفر علی خاں کا قلم دین کے کسی مجاہد کی تلوار سے کم نہیں، فرنگی حکومت اگر کسی سے خائف تھی تو وہ صرف برصغیر کے صحافی تھے، اسی لئے انہیں ملک بدر کیا گیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔

دین و ملت کے ان مجاہدوں نے خون کے نذرانے بھی پیش کیے ۔ آزاد، نڈر اور مثبت صحافت کے داعی دنیا کے نقشے پر ارض وطن کے نمودار ہونے تک ایک دن چین سے نہیں بیٹھے، اس کے برعکس انیسویں صدی کے صلیبی اور صیہونی اخبارات و جرائد نے سازشی اور زرد صحافت کے ذریعے انتشار پیدا کر کے خلافت عثمانیہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

شہریوں کو آزادیٔ رائے اور غیر جانبدار صحافت کے نام پر یہودی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے، تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ یہودی 14 سو سال سے آزاد مسلم ریاستوں کو اپنے زیر تسلط رکھنے یا ختم کرنے کے لئے ایسی ہی سازشوں کا سہارا لیتی رہی ہے۔

آج ریاست پاکستان کو بھی ایسی ہی سازشوں کا سامنا ہے، ملکی سیاسی و اقتصادی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی صحافت کے ساتھ ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی جماعتوں میں موجود صہیونی طاقتوں کے الۂ کار سیاست دانوں کا محاسبہ کرے اور فکر ملت رکھنے والے سیاست دانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے باطل کو حق پر ترجیح نہ دیں۔ اکیسویں صدی کی پراپیگنڈا اور کی بورڈ وار میں صرف حق کا ساتھ دیں۔ یاد رکھیں زور زبردستی، دھونس، دھمکی اور لوٹی ہوئی دولت کے بل بوتے پر حکومت کرنے کے خواہاں سیاست دان عوام کے خیرخواہ نہیں بلکہ طاغوتی سامراج کے آلہ کار ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments