ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہو کر زندگی گزارنا کیسا ہوتا ہے؟

سوامی ناتھن نتاراجن - بی بی سی ورلڈ سروس


Lien Tran in Australia
Lien Tran
ہیپاٹائٹس بی کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے کے بعد لی این نے سوچا کہ وہ مر جائیں گی
’میں نے سوچا کہ میں مر جاؤں گی، میں بہت خوفزدہ اور افسردہ تھی۔‘

ویتنام سے تعلق رکھنے والی لی این ٹرین کو وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب ان کے ہیپاٹائٹس بی کے ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آیا تھا۔ وہ اس وقت 18 برس کی تھیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ویتنام میں ہیپاٹائٹس کو صرف جگر کی سوجن سمجھا جاتا ہے۔

’جب میں چھ برس کی تھی تو میری نانی کا جگر کے کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ نانی کی طرح میرا انجام بھی یہی ہو گا۔‘

لیکن اب 20 سال کے بعد صورتحال مختلف ہے اور لی این ہیپاٹائٹس کے بارے میں غیر حقیقی خیالات اور بدگمانیوں سے مقابلہ کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ کسی شخص میں ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہونے کا مطلب موت کا پروانہ نہیں جیسا کہ وہ پہلے سمجھتی تھیں۔

ہیپاٹائٹس کیا ہے؟

ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش کے بارے میں استعمال ہونے والی ایک متفرق اصطلاح ہے۔

ہیپاٹائٹس کی سب سے عام اقسام اے، بی، سی، ڈی اور ای ہیں جو مخصوص وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس بی اور سی کے انفیکشن اگر بگڑ جائیں تو وہ جگر کے کینسر میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس کتنے وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق وائرل ہیپاٹائٹس سے دنیا میں ہر 30 سیکنڈ میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر سال اس مرض سے 10 لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

یہ تعداد مشترکہ طور پر ایچ آئی وی اور ملیریا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ پچاس لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام میں مبتلا ہیں۔

دا ورلڈ ہیپاٹائٹس الائنس کے سربراہ کیری جیمز بتاتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا 29 کروڑ ساٹھ لاکھ مریضوں کی اکثریت ایشیا اور افریقہ میں رہتی ہے جبکہ ایک کروڑ 40 لاکھ مریض یورپ میں اور 50 لاکھ مریض شمالی اور جنوبی امریکہ میں رہتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس

آپ ہیپاٹائٹس کا شکار کیسے ہو سکتے ہیں؟ علامات کیا ہیں؟

ہیپاٹائٹس اکثر وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن کچھ کیمیکلز، الکوحل، منشیات اور ایک مخصوص جنیاتی خرابی کی وجہ سے بھی یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

لی این کی طرح زیادہ تر مریضوں میں فوری علامات نہیں ہوتیں۔ زیادہ تر مریضوں میں برسوں بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے کئی علامات کے بارے میں بتاتے ہیں جو اس بیماری میں مبتلا کسی بھی شخص میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔

ان علامات میں بخار، تھکاوٹ، بھوک میں کمی، ابکائی، قے، پیٹ میں درد، گہرے رنگ کا پیشاب، ہلکے رنگ کا پاخانہ، جوڑوں میں درد اور یرقان شامل ہیں۔

سماجی مسائل

لی این ویتنام کے دارالحکومت ہینوئی کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انھیں بائیولوجی پڑھنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔

گریجوشن کے بعد انھیں یورپ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکالرشپ مل گئی لیکن ملک سے باہر جانے کے لیے جب انھوں نے کچھ ضروری میڈیکل ٹیسٹ کروائے تو معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں ہیپاٹائٹس کا وائرس موجود ہے۔ یہ جان کر انھیں بہت صدمہ ہوا۔

’ڈاکٹر نے مجھ سے کہا کہ ہیپاٹائٹس کی وجہ سے میں بیرونِ ملک نہیں جا سکتی۔‘

لی این اس بارے میں کسی کو بتانا نہیں چاہتی تھیں۔ انھوں نے حکام سے کہا کہ اپنے خاندانی سے متعلق وجوہات کی بنا پر وہ یہ سکالرشپ نہیں حاصل کرنا چاہتیں۔

Lien Tran with her mum and children

Lien Tran
لی این (اوپر دائیں جانب) اپنی والدہ اور بیٹیوں کے ساتھ

انھوں نے بتایا کہ ’ویتنام میں ہیپاٹائٹس سے امتیاز اور بدنامی جڑی ہوئی ہے۔ ہیپاٹائٹس کو ایک گندی چیز کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ لوگ اسے ایچ آئی وی اور ایڈز کے ساتھ جوڑتے ہیں۔‘

ہیپاٹائٹس جنسی عمل کے ذریعے آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ جب لی این میں اس کی تشخیص ہوئی تو اس وقت وہ غیر شادی شدہ تھیں۔ وہ جس معاشرے میں رہتی تھیں وہاں شادی سے پہلے سیکس کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔

’مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں یہ بتا دوں گی کہ مجھے ہیپاٹائٹس ہے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جائے گا۔ اس لیے میں نے کسی کو نہ بتانے کا فیصلہ کیا۔‘

لی این نے کہا کہ وہ اپنے ڈاکٹر کے طبی مشورے سے مطمئن نہیں تھیں۔ وہ ہینوئی میں انٹرنیٹ کیفے گئیں تاکہ ہیپاٹائٹس کے بارے میں تحقیق کر کے زیادہ معلومات حاصل کر سکیں۔

ہیپاٹائٹس کا علاج کیا ہے؟

اپنی گریجویشن کے بعد لی این کو ایک اچھی نوکری مل گئی اور انھوں نے اپنی والدہ کا بھی ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا اور وہی ہوا جس کا انھیں خوف تھا۔ ان کی والدہ کے ٹیسٹ کا نتیجہ بھی مثبت آیا۔

’جب میں نے انھیں ٹیسٹ کے نتائج کے بارے میں بتایا تو انھوں نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ انھیں پہلے ہی معلوم تھا۔ میرے خیال میں جب میں پیدا ہونے والی تھی اور ان کا ٹیسٹ ہوا ہو گا تو وہ مثبت آیا ہو گا۔‘

لی این کے ساتھ تو یہ نہیں ہوا لیکن ان کی والدہ کو ہر روز اینٹی وائرل گولیاں کھانا پڑتی ہیں اور ہر کچھ عرصے بعد چیک اپ کروانا پڑتا ہے۔

A child being vaccinated with hepatitis B in Togo.

ویکسین ہیپاٹائٹس کو ماں سے بچوں میں منتقل ہونے سے روکتی ہے

ہیپاٹائٹس کتنا متعدی ہوتا ہے؟

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ کھانے اور پانی سے پھیلتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی، سی اور ڈی عام طور پر جسمانی رطوبتوں سے ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔

ان کے منتقل ہونے اور پھیلنے کے عام ذرائع میں آلودہ خون یا خون کی مصنوعات لینا اور آپریشن کے دوران آلودہ آلاتِ جراحی کا استعمال شامل ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی پیدائش کے وقت ماں سے بچے میں منتقل ہوتا ہے اور خاندان کے کسی فرد سے بھی بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ سیکس بھی ایک انسان سے دوسرے انسان میں اس وائرس کے منتقل ہونے کا ذریعہ ہے۔

اپنی شادی سے پہلے لی این نے اپنے منگیتر کو بتا دیا تھا کہ انھیں ہیپاٹائٹس بی ہے۔ لی این نے بتایا کہ ان کے منگیتر کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ دونوں کی شادی ہو گئی اور وہ جلد ہی والدین بن گئے۔

’مجھے معلوم تھا کہ وائرس ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ میں نے اپنی بیٹیوں کو حفاظتی ٹیکے لگوا دیے۔ اب دونوں کے ٹیسٹ کے نتائج منفی آ چکے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ چار ٹیسٹ جو شادی سے پہلے کروانا ضروری ہیں

ہیپاٹائٹس سی کا وائرس دریافت کرنے والے سائنسدانوں کے لیے نوبیل انعام

برطانوی ڈاکٹروں نے جگر کی پراسرار بیماری کا پتہ چلا لیا جو 35 ممالک میں بچوں کو متاثر کر رہی ہے

ہیپاٹائٹس

کیا ہیپاٹائٹس کی کوئی ویکسین ہے؟

دنیا بھر میں 29 کروڑ ساٹھ لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہیں اور ان میں سے زیادہ تر افراد کو ہیپاٹائٹس ہونے کی وجہ ماں سے بچے کو وائرس منتقل ہونا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے تخمینے کے مطابق صرف سنہ 2019 میں ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے آٹھ لاکھ بیس ہزار اموات ہوئیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ویکسین ہیپاٹائٹس کے خلاف 98 سے 100 فیصد تک تحفط فراہم کرتی ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی ویکسین نہیں جو ہیپاٹائٹس ڈی کو روک سکے۔

لیکن ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین مستقبل میں ہیپاٹائٹس ڈی کے ممکنہ انفیکشن سے بچاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین بھی موجود ہے۔

ابھی تک ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین موجود نہیں تاہم کچھ اینٹی وائرل ادویات ہیپاٹائٹس سی کے خلاف بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں اور اس کے شکار 90 فیصد افراد میں انفیکشن کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہیں۔

جہاں تک ہیپاٹائٹس ای کا تعلق ہے تو چین دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اس کی نئی ویکسین کا لائسنس جاری کر دیا ہے۔

لی این نے اپنی ہر بیٹی کی ویکسین کے لیے 100 ڈالر ادا کیے ہیں۔ یہ رقم ایشیا اور افریقہ میں لاکھوں خاندانوں کی ماہانہ بچت سے زیادہ ہے۔

کیری جیمز کہتے ہیں کہ ’ہمارے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بچوں کو پیدائش کے وقت ویکسین لگانے سے ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ماں سے وائرس منتقل ہونے کا خطرہ 10 سے 30 فیصد کم ہو جاتا ہے۔

Students celebrating hepatitis day in Kolkata

سنہ 2022 میں ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کا نعرہ ہے ’میں انتظار نہیں کر سکتا‘

آگاہی کی مہم

اس حقیقت کے باوجود کہ اس بیماری سے کروڑوں افراد متاثر ہوتے ہیں، ہیپاٹائٹس کی جانب کم توجہ دی گئی ہے۔

کیری جیمز کہتے ہیں کہ اس حقیقت کی وجہ سے کہ ہیپاٹائٹس کے وائرس کے ساتھ پیدا ہونے والے افراد کو اگر وائرس نقصان پہنچاتا بھی ہے تو بہت آگے چل کر، حکام اس معاملے میں جلدی فیصلے اور اقدامات نہیں کرتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہیپاٹائٹس کی جانب کم توجہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مرض میں مبتلا زیادہ تر افراد کا تعلق دنیا کے غریب علاقوں سے ہے۔

لی این کے معاملے میں ایسا ہوا کہ جب وہ صحتِ عامہ میں اپنی ماسٹرز کی ڈگری کے لیے آسٹریلیا کی میلبورن یونیورسٹی گئیں تو انھوں نے وہاں اس بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے زیادہ کام کیا۔

وہاں اپنے ابتدائی دنوں میں ان کی ملاقات لا ٹروب یونیورسٹی کے ایک تحقیق کار سے ہوئی جو ہیپاٹائٹس بی کے بارے میں ان سے انٹرویو کرنا چاہتا تھا۔

اس ملاقات کے نتیجے میں ان کا تعارف ایسی تنظیموں سے ہوا جو آگہی پھیلانے کے لیے ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

Lien Tran closeup photo

Lien Tran

وہ اب اپنی کہانی سناتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں با اختیار محسوس کرتی ہوں۔ میں ہیپاٹائٹس کے بارے میں بات کر کے خوشی محسوس کرتی ہوں۔ میں کھل کر بات کرتی ہوں اور کچھ چھپاتی نہیں۔‘

’میرے خیال میں میں آزادی محسوس کرتی ہوں۔‘

لی این اب 38 برس کی ہیں اور ان کے پاس ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لیے ایک پیغام ہے۔

’یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ آپ ہیپاٹائٹس کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ آپ اب بھی پیشہ وارانہ اور ذاتی دونوں لحاظ سے ایک مکمل زندگی گزار سکتے ہیں۔‘

’ہیپاٹائٹس کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور اگر ضرورت ہے تو دوائیں استعمال کریں۔ یہ بہت اچھی، مؤثر اور محفوظ ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25380 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments