پارلیمانی نظام یا صدارتی مگر وسائل تو وہی ہیں


موجودہ سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں ان دنوں یہ بحث زوروں پر ہے کہ صدارتی نظام حکومت نافذ ہونا چاہیے۔ صدارتی نظام پہلے بھی اس ملک میں رہا ہے اور اس کے آ جانے میں کوئی ہرج بھی نہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر بشیر خان کا نام ڈالر خان رکھ دیا جائے تو کیا وہ خوشحال بھی ہو جائے گا۔ نظام حکومت کوئی بھی ہو، وسائل تو وہی ہیں جس کے بارے میں ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔ ملکی قرضہ بھی 127 ہزار ارب ہی رہے گا۔

دواؤں، تیل، گیس اور بجلی کے ریٹ بھی ہواؤں سے باتیں کرتے رہیں گے۔ سرمایہ کاری بھی گرتی رہے گی، سٹاک ایکسچینج کی مندی بھی برقرار رہے گی۔ سرکاری ملازمین بھی سر پیٹتے رہیں گے۔ آخر صدارتی نظام میں کیا چمتکار ہے کہ آناً فاناً سب کچھ بدل جائے گا اور ہم زمین سے آسمان پر چلے جائیں گے۔ بات پھر وہی ہے۔ قیادت مضبوط ہو، ملکی معیشت کو اندرونی، بیرونی قرضوں کے بجائے بہترین حکمت عملی سے مستحکم کیا جائے کیونکہ ملک اچھی سوچ سے چلتے ہیں، پیسوں سے نہیں۔

ہماری یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ہم حکمت عملی کی بجائے نوٹوں کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی بات موجودہ حکومت میں بھی نظر آئی۔ آتے ہی کاسہ اٹھایا اور چین، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی یاترہ شروع کردی۔ کیا ایک لمحے کے لئے بھی ملکی وسائل کو بڑھانے کے لئے حکمت عملی بنائی گئی۔ کرپشن کا داغ اپنی جگہ مگر سابقہ حکومت بڑے اعتماد سے آگے بڑھ رہی تھی اور ملک میں آج کی طرح کی افراتفری کا عالم ہرگز نہ تھا۔

اس حکومت نے غیر ضروری سچ بولا اور ملک کو ایک بھکاری کے انداز میں پیش کر کے ملکی وقار کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ عوام کو غیرت مندی کے لمبے لمبے لیکچر دے کر ”دے جا سخیا راہ خدا تیری اللہ ہی آس پجائے گا“ کا نعرہ لگا۔ نہ صرف یہ کہ پارٹی ورکرز کو شرمسار کیا گیا بلکہ ہر پاکستانی کا سر بھی شرم سے جھکا دیا گیا۔ آصف زرداری پر لگائے گئے الزامات کے پیسے بنا کر ان کو دو سے بھی ضرب دی جائے تو وہ دس ارب سے زیادہ نہیں بنتے۔

اس کا مطلب سیدھا سیدھا یہ ہوا کہ 127 ہزار ارب کے قرضوں میں سے 29 ہزار نو سو نوے ارب روپے اس ملک پر ہی لگے ہیں۔ قرض لینا جرم نہیں، قرض نہ لوٹانا جرم ہے۔ قرض کے اثرات یقیناً بہت برے ہوتے ہیں اور ان اثرات کا ہم بھی شکار ہیں۔ قرض معمول کے مطابق واپس بھی ہو رہا ہے، زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی وسائل بڑھانے پر توجہ دی جائے نہ کہ قرض لے کر ڈنگ ٹپاؤ مہم چلا کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جائے۔ جرمنی، جاپان قبرستان بننے کے باوجود بہت جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے تھے اس کی وجہ قرض نہیں تھا، بہترین معاشی پالیسیاں تھیں۔

صدارتی نظام نہ تو بہترین انتخاب ہے اور نہ ہی اس کے نفاذ کا کوئی چانس ہے کیونکہ بقول بابر اعوان نہ دو تہائی اکثریت اس حکومت کے پاس ہے اور نہ ہی مستقبل میں دو تہائی اکثریت ملنے کے چانس ہیں، چاہے نئے الیکشن ہی کیوں نہ ہوجائیں، لیکن ابھی پاکستان کے موجود سیاسی حالات پر نظر ڈالیں تو کسی طرف سے بھی نئے الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments