تیجس: انڈیا کی 18 لڑاکا طیارے ملائیشیا کو فروخت کرنے کی پیشکش، مگر اس لڑاکا طیارے کی خصوصیات کیا ہیں؟


تیجس، انڈیا
انڈیا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے اپنے 18 لائٹ کامبیٹ ایئر کرافٹ ’تیجس‘ ملائیشیا کو فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے۔ وزارت دفاع کا مزید کہنا ہے کہ اس سنگل انجن لڑاکا طیارے کو خریدنے میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، مصر، امریکہ، انڈونیشیا اور فلپائن نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ سال انڈین حکومت نے سرکاری کمپنی ’ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ‘ کو 83 تیجس جیٹ بنانے کا کنٹریکٹ دیا تھا، ان طیاروں کو مقامی سطح پر تیار کیا جانا ہے۔ ان لڑاکا طیاروں کی ڈلیوری سنہ 2023 کے قریب شروع ہو گی۔

انڈیا چار دہائیاں قبل یعنی سنہ 1983 سے تیجس طیاروں کو بنا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی غیر ملکی دفاعی سامان پر ملک کا انحصار کم کرنا چاہتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ انڈین ساختہ طیاروں کو دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ تیجس طیاروں کا منصوبہ اپنے ڈیزائن اور دیگر چیلنجز کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔ ماضی میں تیجس طیاروں کو اس کے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے اور ایک مرتبہ انڈین بحریہ نے ان طیاروں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ بہت زیادہ بھاری ہیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں انڈین وزارت دفاع نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ ہندوستان ایئروناٹکس نے ملائیشیا کی رائل ایئر فورس کی درخواست پر 18 تیجس طیاروں کی فروخت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ انھوں نے اس منصوبے میں دو سیٹوں والے تیجس طیاروں کی پیشکش کی تھی۔

انڈیا کے جونیئر وزیر دفاع آجے بھٹ نے پارلیمان کو دیے جواب میں کہا کہ ’دیگر ممالک جنھوں نے ان طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی ان میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، مصر، امریکہ، انڈونیشیا اور فلپائن شامل ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انڈیا سٹیلتھ فائٹر جیٹ (ایسی طیارے جو ریڈار پر ظاہر نہیں ہوتے) بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔ تاہم انھوں نے سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر اس بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا۔

برطانیہ نے اپریل میں کہا تھا کہ وہ انڈیا کے فائٹر جیٹ بنانے کے مقاصد کی حمایت کریں گے۔ فی الحال انڈیا کے پاس روسی، برطانوی اور فرانسیسی لڑاکا طیارے ہیں۔

انڈین اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق 2025 تک سوویت دور کے تمام روسی مِگ-21 طیارے گراؤنڈ کر دیے جائیں گے، جن کی وجہ سے کئی جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں۔

انڈیا کے لڑاکا تیجس طیاروں کی خصوصیات کیا ہیں؟

’تیجس‘ انڈیا کا پہلا مکمل طور پر دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ ہے جو سنگل انجن ہے، اور جس میں لگائے گئے پچاس فیصد سے زیادہ حصے انڈیا میں تیار کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ سنہ 2024 تک یہ انڈین فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس طیارے میں مقامی سطح پر تیار کیا گیا ریڈار نصب ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ طیارہ وزن میں ہلکا ہے اور اس کی انجن پاور بھی اچھی ہے۔ نیز یہ کہ یہ ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے جو آٹھ سے نو ٹن وزن لے جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ 52 ہزار فٹ کی بلندی پر بھی یہ طیارہ آواز کی رفتار سے 1.6 سے 1.8 گنا تیزی سے سفر کرتا ہے۔

انڈیا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 83 ہلکے جنگی طیاروں کا آرڈر دیا گیا تھا اور اس پوری کھیپ کی مالیت 45،696 کروڑ روپے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین فضائیہ چین اور پاکستان کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کتنی تیار ہے؟

پاکستان فضائیہ کے وہ پولش افسر جنھیں پولینڈ اپنا جاسوس نہ بنا سکا

پاکستانی جے ایف 17 یا انڈین تیجس، کون سا طیارہ زیادہ خطرناک

پاکستان کو ’بحیرہ عرب میں سبقت دلوانے والے‘ جے 10 سی طیارے کن خصوصیات کے حامل ہیں؟

دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا کا کہنا ہے کہ پوری کھیپ کی تیاری تک اس میں دیسی حصوں کی شرح 60 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

تیجس میں جو نئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ ’ایکٹیو الیکٹرانک سکین ریڈار‘ یعنی برقی طور پر سکیننگ کرنے والا ریڈار ہے اور یہ ’کریٹیکل آپریشن کی اہلیت‘ رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ یہ طیارہ ’ویژوئل رینج‘ سے دور بھی میزائل کو سکین کر سکتا ہے۔

تیجس میں الیکٹرانک وار فیئر ’سویٹ‘ اور ’ایئر ٹو ایئر ری فیولنگ‘ کا بھی انتظام ہے۔

یہ طیارہ دور دراز سے دشمن کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اس میں دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دینے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔ یہ طیارہ زیادہ وزن کے ساتھ سخوئی طیارے جتنے ہتھیار اور میزائل لے کر پرواز کر سکتا ہے۔

شکلا کے مطابق تیجس مارک 1 اے لڑاکا طیارے کی لاگت قریب 550 کروڑ روپے ہے، جو سخوئی 30 ایم کے آئی لڑاکا طیارے سے 120 کروڑ روپے زیادہ ہے۔

انڈین فضائیہ کے ریٹائرڈ ونگ کمانڈر کیٹی سبسٹین کہتے ہیں کہ تیجس مارک 1 اے سخوئی 30 ایم کے آئی لڑاکا طیارے سے زیادہ مہنگا ہے کیونکہ اسرائیل میں تیار کردہ ریڈار جیسے بہت سارے جدید آلات اس میں شامل کیے گئے ہیں۔

’اس طیارے میں مقامی سطح پر تیار کیا گیا ریڈار نصب کیا گیا ہے۔ یہ طیارہ ہلکا ہے اور اس کی انجن پاور بہتر ہے۔ یہ ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے۔‘

ایئر مارشل باربورا کا خیال ہے کہ انڈیا میں بنایا گیا تیجس ایک اچھا طیارہ ہے لیکن رینج، قوت برداشت اور ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے لحاظ سے یہ سخوئی یا رفال طیاروں سے کم صلاحیت رکھتا ہے۔

ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل منموہن بہادر کے مطابق تیجس طیارے کے اس منصوبے کی بنیاد سنہ 1983 میں رکھی گئی تھی اور اس وقت اس کی کل لاگت صرف 560 کروڑ تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25940 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments