آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج میں تازہ جھڑپیں، آرمینیا کے 49 فوجی ہلاک


File photo of Azerbaijan soldiers in position in the Tartar region in 2016
سنہ 2016 کی جنگ کے دوران آذربائیجان کے فوجی تاتار میں مورچوں پر پوزیشن لیے ہوئے (فوٹو لائیبریری)۔
وسطی ایشیا کے دو ہمسایہ ممالک آرمینیا اور آدر بائیجان کے درمیان گزشتہ شب تصادم میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

آرمینیا کے وزیرِ اعظم نِکول پیشین یان نے کہا ہے کہ رات کے تصادم میں ان کے ملک کے 49 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ دونوں ممالک گزشتہ تین دہائیوں میں دو جنگیں لڑ چکے ہیں اور ان کے فوجیوں کے درمیان اکثر و بیشتر چھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

روس کا دعویٰ ہے کہ اُس نے متحاربین کے درمیان آخری جنگ کو ختم کرانے کے لیے ایک معاہدہ کرایا تھا – لیکن آرمینیا کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں صرف جنگ میں کمی واقع ہوئی تھی، نہ کہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہوا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی اصل وجہ نگورنو-کراباخ کا خطہ ہے۔ بین الاقوامی طور پر اس خطے کو آذربائیجان کے حصے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ،تاہم اس میں آبادی نسلی طور پر آرمینیائی ہے۔

ان ممالک میں آبادی کی تقسیم صرف نسلی اور ثقافتی طور پر ہی نہیں ہے بلکہ یہ لوگ مذہبی طور پر بھی منقسم ہیں۔ آرمینیا ایک مسیحی ملک ہے، جبکہ آذربائیجان میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔

اس تنازعے کے نتیجے میں ان دونوں ممالک کے درمیان اسّی اور نوّے کی دہائیوں میں دو بھر پور قسم کی جنگیں ہو چکی ہیں۔ سنہ 2020 میں چھ ہفتوں کے لیے ایک جنگ ہوئی، لیکن دونوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

آذربائیجان اور آرمینیا میں ایک بار پھر لڑائی چھڑ گئی

آذربائیجان، آرمینیا امن معاہدے پر کہیں جشن، کہیں مظاہرے

’آذربائیجان نے جنگ بندی لاگو ہونے کے چار منٹ بعد خلاف ورزی کی‘، آرمینیا کا الزام

تازہ جھڑپوں کے لیے دونوں ہی ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھرا رہے ہیں۔

آرمینیا نے الزام عائد کیا ہے کہ اُس کے ہمسائے نے اس کے درجنوں سرحدی دیہاتوں پر گولہ باری کی، اور اس اشتعال انگیزی کے جواب نے اُس کی فوج نے بھی جوابی کارروائی کی۔ تاہم آذربائیجان کا کہنا ہے کہ اُس کے مورچے گولہ باری کا پہلے نشانہ بنے تھے۔

سوموار کی رات بھر دونوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ روس نے مداخلت کرکے منگل کی صبح فوری طور پر جنگ بندی کرائی۔

تاہم آرمینیا کے وزیرِ اعظم نِکول پیشین یان نے کہا کہ ‘جھڑپوں کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن آذربائیجان کا ایک یا دو محاذوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔’

آذربائیجان کے متعلق کہا جاتا کہ اُسے بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن اُس کی جانب سے ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

آرمینیا آذربائیجان تنازعہ

سنہ 2021 میں بھی جنگ بندی کے باوجود آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سرحدی جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں جس کے دوران متحاربین نے ایک دوسرے کی پوزیشنوں پر گولہ باری کی گئی (فوٹو لائیبریری)۔

اِن جھڑپوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے اور امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلِنکِن نے کہا ہے کہ ‘اس تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا ہے۔’

روس جو کہ تاریخی طور پر آرمینیا کا قریبی حلیف ہے، نے کہا ہے کہ اس تنازعے کا ‘سفارتکاری کے ذریعے پرامن سیاسی حل ڈھونڈنا چاہیے۔’

اس نے متحاربین سے کہا کہ انھیں ‘صبر و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔’

ترکی کے آذربائیجان کے ساتھ گہرے مراسم ہیں اور وہ آذربائیجان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ میولت چاؤشوغلو نے کہا کہ ‘آرمینیا اشتعال انگیزیاں بند کرے اور پر امن مذاکرات کی جانب توجہ دے۔’

سوموار کو ہونے والی جھڑپوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ سنہ 2020 میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد بد ترین تصادم تھا۔ سنہ 2020 کی جنگ میں متحاربین کے ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔ اس جنگ کا خاتمہ روس کی کوششوں سے ہونے والے معاہدے کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں آرمینیا کی فوج کو نگورنو-کاراباغ کے قبضے سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔

اس جنگ بندی کو موثر کرنے کے لیے روس نے 2000 فوجیوں پر مشتمل ایک امن فوج کا دستہ دونوں ممالک کے درمیان تعینات کیا تھا، یہ دستہ آج بھی وہیں موجود ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26869 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments